اشعارِ غالبؔ میں سائنس کے تابندہ ذرّات

غالبؔ کہتا ہے کہ شوق مجھے ایسے دشت میں دوڑا رہا ہے جہاں راستہ تصویر کی آنکھ کی نگہ سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ تصویر کی آنکھ کی کوئی نگہ نہیں ہوتی۔ یہاں الیکٹران اپنا رونا رو رہا ہے کہ نیوکلیئس کی محبت مجھے ایسے مداروں میں دوڑا رہی…