گھر گھر اَلکھ جگائیں گے ہم

جہاں تک کام شروع کرنے کی بات ہے، تو اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کی قطعی ضرورت نہیں. ہر گاؤں اور ہر قصبہ میں اتنی خالی زمین اور جگہ تو ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس میں اس طرح کے فکری امور انجام دے سکیں، اور یہ جو ہمارا ذہن بن گیا ہے کہ کسی کام کو…

یہ اہل جنوں بتلائیں گے، کیا ہم نے دیا ہے عالم کو

دارالعلوم نے دیوبند کی جس سرزمین پر علم و حکمت کا چشمہ جاری کیا تھا، اس نے کسی ایک گاؤں، کسی ایک مکتبہ فکر و مذہب کو سیراب و آباد نہیں کیا، بلکہ اس کے انواروبرکات سے پوری دینا یکساں مستفید ہوئی۔ متعدد فکر وجماعت اور ملک کے لوگوں نے یہاں…

آستانۂ رحمت پر اغیار کی خندہ پیشانیاں

اسلام نے آکر بادشاہت کے نظام کو بدل دیا، معاشرتی نظام میں انقلاب برپا کردیا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا نظامِ زندگی پیش کیاجو صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے سارے انسانوں کے لیے رحمت ثابت ہوا اور یہ وہ خوبیاں تھیں جن کے سامنے نہ…

کسے کہیں ہم اپنا اور جائیں کدھر؟

اس حقیقت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں کہ قائدین کے تعلق سے ہماری اسی بے باکی اور جرات مندی کی ہماری تاریخ رہی ہے. نیز اپنے قائدین و رہنماؤں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے رہنا خود ان پر ہمارا احسان اور ان کے تئیں ہماری محبت اور اظہارِ…

جمہوریت: ایک طلسماتی دنیا

 عشرت جہاں کو کہاں تک کامیابی ملی،یا اس کی آڑ میں بی جے پی کہاں تک ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہی،یہ ایک ا لگ موضوع ِ بحث ہے،تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد عشرت جہاں کی شخصیت لوگوں کی نظروں میں کسی طلسماتی دنیا کی ٹوائے…

جسم جسم لہو لہان، بستی بستی آگ کا شعلہ

ان ناگفتہ بہ حالات میں  ترکی اور اردوگان حکومت نے جو پیش رفت کی ہیں ان کا کارنامہ یقیناً قابل ستائش ہے؛لیکن صرف روٹی کپڑا اور مکان ہی ان مظلوم اور ستم زدہ بھائیوں کا غم بھلانے کے لیے کافی نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے آگے جن لاکھوں جانوں…

زبان کی کھجلی

کمبخت یہ بیماری ہی ایسی ہے کہ نہ نگلتے بنتی ہے اور نہ اگلتے ہی بنتی ہے.یہ بھگوائیوں اور بجرنگیوں کی نوازش ہی کہیے کہ ان کے مرض کی شناخت ہوگئی ہے،ورنہ تو ہزاروں لوگ اسی بھرم میں مرجاتے کہ بھلا اس بیماری کا منھ سے کیا تعلق؟

کتنا دل سوز ہے، یہ سلسلۂ مرگ وحیات!

گذشتہ تین چار سالوں سے ہندوآستھا،بالخصوص گئو رکشااورگئو بھکتی کے نام پراقلیتوں پرظلم وستم کے جوپہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ،اس کی نظیر کم از کم گذشتہ ساٹھ سالوں میں نہیں ملتی.ٹائمس آف انڈیا کے ایک حالیہ تجزیہ کے مطابق گئو بھگتی کے نام پر انسانی…

یہ محل سراؤں کے باسی،قاتل ہیں سبھی اپنے یاروں !

حقیقت ہے کہ مودی اور ڈھونگی کو گائے سے کیا سروکار،وہ تو آرایس آرایس کے دلہ اورچمچہ ہیں ،انہیں تو برہمنواد کو ستہ میں باقی رکھنے کے لیے استعمال کیاجارہاہے.کاش کہ ملک کے بھگت جن اس کو سمجھ لیتے کہ سیاسی بھگتی کے نشے میں ڈوب کر وہ جن لوگوں کا…

کوئی توہے جو میرے نخل تمنا پر ثمر آنے نہیں دیتا!

یہ چند لوگوں کے دھرنے ،جنتر منتر پر جے بھیم کے نعروں سے کیا کچھ بات بن سکتی ہے ؟نہیں ،بلکہ پورے ملک میں اتحادواتفاق کی فضاقائم کرنی ہوگی ،دلتوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ مل کر یوگی اور مودی مکت بھارت نہیں ،بلکہ بھگوامکت بھارت کا خواب دل میں…

اس خرابے کوالٰہی کوئی معمار ملے

یوپی کے مجموعی ووٹروں کی تعدادتقریباً14.05 کروڑ ہے، جن میں تقریباً بیس فیصد مسلمان ہیں اور یہ ہمیشہ ہوتا آرہا ہے کہ مسلمان جس کی حمایت کرتے ہیں، جیت اس کی ہوتی ہے، مگراس الیکشن میں ایسا کہناتقریباً بے وقوفی ہوگی، اس لیے کہ مسلمانوں…

کاروانِ اردوقطرکے زیر اہتمام دوحہ میں عظیم الشان ادبی تقریب

یادگار ’جشنِ منوررانا‘ اور عالمی مشاعرہ 2016رپورٹ: رمیض احمد تقی(نائب میڈیا سکریٹری )دوحہ کی ممتاز اورمعتبر ادبی تنظیم ’کاروانِ اردوقطر‘ کے زیر اہتمام ڈی پی ایس ایم آئی ایس اسکول، الوکرہ( دوحہ) کے کشادہ اور جدید طرز پر آراستہ…

شہرکاشہر ہی سوگیاہے جگائیں کس کو

رمیض احمد تقی یہ عہد مسلمانوں کے ہمہ گیر زوال کا عہد ہے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہرطرف سے انسان نما بھیڑیے مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں 195 ممالک ہیں جن میں تقریباً 51 ممالک میں مسلمانی اور…

مگرمچھ کے آنسو

رمیض احمد تقی گذشتہ ڈھائی سالوں میں ہمارا ملک جن مشکل ترین حالات سے دو چار ہواہے،انہیں دیکھ دیکھ اور سن سن ایک انصاف پسند انسان اس کے سوا کیا اندازہ لگا سکتا ہے کہ ملک میں معاشرتی اور معاشی سطح پر انسانی اقدارپرمردنی چھاگئی ہے۔ عام لوگوں…

ٹوٹے کسی پہ کوہِ اَلَم تم کو اس سے کیا

رمیض احمد تقی ہندوستان کے بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ 77-1975کی طرح پھر سے ملک میں ہنگامی حالت برپا ہے۔ سبھی مذہب وملت اور مکتبۂ فکر کے اعتدال پسند لوگ،ہرایک انصاف پسندسیاست داں اور تمام انسانیت نواز پولیس افسران…

ٹوٹے کسی پہ کوہِ اَلَم تم کو اس سے کیا

رمیض احمد تقی ہندوستان کے بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ 77-1975 کی طرح پھر سے ملک میں ہنگامی حالت برپا ہے۔ سبھی مذہب وملت اور مکتبۂ فکر کے اعتدال پسند لوگ،ہرایک انصاف پسندسیاست داں اور تمام انسانیت نواز پولیس…

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط(19) وفادار یا غدار

رمیض احمد تقی دوسری جنگِ عظیم کے دوران یورپی دائیں بازوکی جماعتوں سے متأثر ہوکر ڈاکٹر کیشَوبلیرام ہیڈگیوار نے 1925 میں ایک ہندو تنظیم’آر ایس ایس ‘کی بنیاد رکھی۔ بظاہر اس کا مقصد ہندؤں کی مذہبی تربیت اور ان کی صفوں میں اتحادپیدا کرناتھا،…

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط-(18) دورَنگ مسیحا

رمیض احمد تقی راہ چلتے اگر کوئی کسی کے مال واسباب لوٹ لے، اس کی عفت وعصمت کا سودا کردے اوراس کی امیدوں کا گلا دبادے،تو ایسے شخص کو آپ کیا کہیں گے؟ راہ زن،  ڈاکواور لٹیرا ہی نا! پھر وہ شخص جو اپنے ہنر کو لوگوں پر اس لیے آزماتا ہے ، تاکہ اس…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط(17) گوشت خور

رمیض احمد تقی اب تو تقریباً یہ سن سن کر ہمارادل بھی پتھر ہوگیا ہے کہ فلاں شہر میں ایک مسلمان کو گائے کا گوشت پکانے کے جرم میں لوگوں نے اس کو پتھر مار مار کر مار ڈالا ،تو فلاں اسٹیشن پر ایک مسلم خاتون گائے کے گوشت کے ساتھ پکڑی گئی اور لوگوں…

 کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (16) – خونِ شہیداں

رمیض احمد تقی               قصۂ آزادی اگربہت دل دوز ہے، تو بہت زیادہ پیچیدہ بھی ہے، کیونکہ قلم کاروں اور تاریخ نویسوں نے ہمارے سامنے اس کی  بڑی ہی گنجلک داستان پیش کی ہیں ؛کوئی خونِ شہیداں کو عصبیت کی ترازو میں تولتاہے، تو کوئی سرے سے ہی…

مومن خاں مومن: شاعرانہ امتیازکی چندجھلکیاں

رمیض احمد تقی                   اردو شاعری میں جس طرح اقبال وغالب آفتاب وماہتاب سمجھے جاتے ہیں، اسی طرح مومن خاں مومن بھی وہ نیرِ تاباں تھے، جس کی روشنی سے اردوشاعری آج بھی روشن و منورہے، ان کی رباعی، واسوخت، غزل اور مثنویات میں ایک الگ…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (15) – تاریخ کی بھول

رمیض احمد تقی  آج ہمارے ملک ہندوستان میں اکثر لوگ حقیقت سے پرے افواہوں اور ہفوات پر زیادہ کان دھرتے ہیں، بلکہ جس قوم اور شخص کے خلاف آتشِ بھگوائی روشن کی جاتی ہے، لوگ اسے نورِ یزدانی سمجھ کر اس کے آگے اپنی جبینِ نیازخم کردیتے ہیں، ہندوستان…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (14) مملکتِ خداداد

رمیض احمد تقی این جی اوز،ٹرسٹ اور سوسائٹی یہ ہمارے معاشرے کے وہ دلکش اور دلفریب نام ہیں،جن کا غربا ومساکین کی خدمت ونصرت کے نام پر آج پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں جال بچھا ہواہے، مگر طرفہ کی بات یہ ہے کہ، جو تنگ حالی وتنگ دستی،لاچارگی…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (13) – نیم حکیم

رمیض احمد تقی قوم کی رفعت وعظمت کا تصور اس کے قائد سے ہوتا ہے اور کامیابی وکامرانی کا پیمانہ علم وعمل ہے،چنانچہ جس قوم کا قائد ورہبر ناخواندہ ہو اور اس کی عوام زیورِ علم سے آراستہ نہ ہو،تواس کی تعمیروترقی کا آفتاب بے نور ہونے لگتا ہے،…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (12) – مظلوم بہشت

برفانی چوٹیوں سے گھرا ہوا،دولاکھ بائیس ہزار دوسو چھتیس مربع کلومیٹر پرمحیط وادیِ گل پوش ’’کشمیر‘‘خدائی دست کاری کابہترین مظہر ہے ، جس کو’ بہشتِ ارضی‘بھی کہا جاتا ہے؛ہر طرف سرسبز باغات، لہلہاتے پیڑ پودے،قوسِ قزح کے ہفت رنگوں میں رنگا رنگ…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (11) – جاں باز یا دغاباز

رمیض احمد تقی ایک ایسا نظام جو لوگوں کو داخلی اور خارجی فتنوں سے محفوظ رکھے ، ان کی جان ، مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کرے اورملک میں امن وسلامتی کاضامن ہو،اسے پولیس سے تعبیر کرتے ہیں؛ ماہرِ لسانیات جرمی بینتھم (Jeremy Bentham ) نے پولیس کی…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط(10) -تاریخی پس منظر

ہندوستان کی تاریخ بہت قدیم ہے؛ بلکہ حضرتِ انسان نے اس کار گہہِ حیات میں جس سرزمین پر اپنی آنکھیں کھولی تھیں ، وہ ہندوستان ہی تھا، دنیا کا یہ ایک ایساواحد ملک ہے ، جو روزِ آفرینش سے اب تک مسلسل تاریخ کی نظروں کا طالب رہا ہے ، تاریخ نے اس…

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط (9)- ہندی ،ہندو، ہندوستان

رمیض احمد تقی ہمارا ملک ہند وستا ن اپنے روزِ اول ہی سے نقادوں،نکتہ چینوں اور حرف گیروں کے سوالات کی زد میں رہا ہے، چنانچہ کسی کو یہ خیال ہوا کہ جب ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، تو اس کا نام بھی جمہوری ہی ہونا چاہیے ، نہ کہ ہندؤوں کے نام…

کہانی اپنے ہندوستان کی:قسط (8)-اسیرِ بت گراں

رمیض احمد تقی اس حقیقت سے کسی کو مجالِ انکار نہیں کہ ہندوستان دنیائے جمہوریت کاسب سے عظیم جمہوری ملک ہے،مگر کیا ہر ہندوستانی کو مکمل جمہوری حقوق حاصل ہیں؟ کیاملک میں اقلیت و اکثریت کو برابر کے حقوق دیے جاتے ہیں؟ کیا قانون کی ترازو میں دونوں…

کہانی اپنے ہندوستان کی: قسط (7)- بے چارے دہشت گرد

رمیض احمد تقی تقریباًگذشتہ ایک صدی سے پوری دنیا میں سب زیادہ استعمال کیا جانے والا لفظ ’’دہشت گرداور دہشت گردی‘‘ ہے، انقلابِ فرانس کے بعد اٹھارہویں صدی کے اخیر میں پہلی مرتبہ اس لفظ کا استعمال ہوااورچونکہ اس انقلاب میں دو لاکھ سے زائد…