بھارتیہ جنتا پارٹی کا یونی ورسٹی تعلیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع

۱۹۷۴ء میں جس طرح جے پرکاش نارائن کی قیادت میں یونی ورسٹی کے لڑکوں نے تحریک چلائی تھی؛ اگر ایسی کوئی منظّم تحریک نہ چلی تو بھارتیہ جنتا پارٹی امبانی اور اڈانی کے ساتھ ساتھ دیگرمفادپرستوں سے ملک کے ہر کام اور ادارے کا سودا کریں گے اور…

نہ اُن کی جیت نئی ہے، نہ اپنی ہار نئی

نریندر مودی چاہیں تو خود کو بدل کر ان کے تاثرات کی اصلاح کر سکتے ہیں۔بہت کھیل تماشے انتخاب کے دوران ہوئے مگر اب پانچ برس نئے سرے سے ملک کو چلانے کی ذمہ داری ایک سنجیدہ کام ہے۔ نریندر مودی کو پورے طور پر خود کو بدل کر اس چیلینج کا استقبال…

 روڈ شو : سیاسی طاقت کا فاتحانہ اظہار یا طوفانِ بدتمیزی

        خدا کرے آخری مرحلہ قتل و خون اور کسی بڑے تنازعے کو پیدا کیے بغیر انجام کو پہنچے۔ بھاجپا سے اس رسّہ کشی میں ممتا بنرجی کی شناخت بڑھی ہے اور اگر تیسرے محاذ میں غیر کانگریسی قیادت کامعاملہ سامنے آیا تو ممکن ہے ممتا بنرجی مایاوتی پر…

ملک کا عمومی انتخاب کب اور کتنے دنوں میں مکمل ہو نا چاہیے؟

اب یہ وقت آگیا ہے کہ جمہوریت کی بقا کے لیے سابق نوکر شاہوں کے اس ہاتھی کے دکھانے والے دانت کو نئی صورت بخشی جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ چند مہینو ں کے لیے ہی سہی مگر کیاوہ اپنی آزادہ روی سے جمہوریت کو بچانے میں کامیاب ہو پائے گا؟ اگلی…

موجودہ انتخاب میں کانگریس کس کس محاذ پر پچھڑ رہی ہے؟

کانگریس کو ایسے موقعے سے اپنے مستقبل شناس ہو نے کا ثبوت دیتے ہو ئے یہ ہوش مندی دکھانی چاہیے کہ سر برہی چھوڑ کر آنے والے پانچ برسوں میں ملک کے ایک ایک گاؤں میں تنظیمی ڈھانچے کو پھر سے قائم کرنے میں لگ جائیں۔

امیدواروں کے انتخاب میں کسی سیاسی پارٹی میں سنجیدگی نہیں: پارلیا منٹ کو شو پیس ہی رہنا ہے

سیاسی جماعتوں کے سامنے عوا م کی طرف سے اب ایسے سوالات بھی سامنے آنے لگے ہیں کہ کیااب کارپوریٹ دفتروں سے ہی ہماری سرکاریں بھی چلنے لگیں گی؟ تب آئین، پارلیامنٹ اور جدّ و جہد آزادی کے اصول و ضوابط کیا معنی رکھتے ہیں ؟ یہ ایک طرح سے نئی…

ہندستانی اقلیت کا قاید کون؟ نوجوان کس کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں!

بیگو سرائے میں لوگ تنویر حسن جو چوبیس برس تک کانسل کے رکن رہ چکے ہیں، ان کے مقابلے نوجوان کنہیا کمار کو صرف اس بات کے لیے ووٹ دینے  کے درپے ہیں کیوں کہ گونگی قیادتوں کے مقابلے غیر کی طرف سے ہی اگر پارلیمنٹ میں ہماری آواز سنائی دے تو اس میں…

پہلے مرحلے کے انتخاب کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی بوکھلاہت میں اضافہ

یہ توقع کرنی چاہیے کہ الیکش کے اگلے مراحل میں ان جمہوری بالغ نظری میں مزید بال وپر جڑیں گے اور ساتویں مرحلے کے انجام تک ہندستانی جمہوریت ایک نئی کروٹ لے لے گی۔ اس تبدیلی کے بغیرنئی نسل اور نئے ووٹروں کا مستقبل روشن نہیں ہو گا۔

کانگریس کا عالمانہ انتخابی منشور: مگر حکومت کیسے بنے گی؟

اب بھی یہ وقت ہے کہ کانگریس اپنی انفرادی طاقت کے بجاے علاقائی پارٹیوں کی اہمیت کو پہچانے اور روادارانہ سلوک کے ساتھ میدان میں اترے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اسی انداز سے بغیر کسی اضافی جھمیلے میں پڑے اپنی سیٹیں بڑھانے کی کوشش میں لگی ہو ئی ہے۔

کیا ہندستان کا پارلیمانی انتخاب وزیر اعظم صرف پاکستان کے سوالوں پر جیتنا چاہتے ہیں؟

حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا ہمیشہ نوٹنکی نہیں ہے۔ یہ سنجیدہ اور ایمان دارانہ کوشش کے بغیر خالی ڈھول کی طرح ہوجاتی ہے۔ باہر سے آوازیں مگر اندر سے خالی۔ اب زیادہ وقت نہیں، مئی کے اواخر تک عوام اپنا حساب کتاب ان شاء اللہ برابر کرلیں گے۔

نیوزی لینڈ کے واقعے سے برصغیر کو کیا سیکھنا چاہیے؟

نیوزی لینڈ کی حکومت اور اس کی سلجھی ہوئی وزیر اعظم کی کامیابی یہ ہے کہ انھوں نے اس مسئلے کا عوامی حل نکال لیا اور مسلمانوں پر حملے کے ایک واقعے کے ردعمل کے طور پر ہزاروں طرف داروں اور انسانیت نوازوں کو منظرِ عام پر لادیا۔ اس سے نیوزی لینڈ…

بابری مسجد کے مقدمے میں مصالحت سے شاید ہی کوئی قابلِ قبول نتیجہ برآمد ہو!

ہمارا اندازہ ہے کہ بابری مسجد کے سلسلے سے مصالحت کی کوشش میں آنے والے وقتوں میں اعتدال اور انصاف کا دامن چھوٹے گا جس کے نتیجے میں مذہبی نفاق کا اضافہ ہوگا اور ہماری مشکلیں کسی طور پر بھی کم نہیں ہوں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت مصالحت کی…

خبردار! آیندہ پارلیامنٹ انتخاب تک آر ایس ایس کے نشانے پر پورا ملک رہے گا

عوام کو ایسے مرحلے میں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور انسانیت اور ضمیر کی آواز کو سمجھتے ہوئے اپنے فیصلے لینے چاہیے۔ اپریل اور مئی میں پارلیامنٹ کے انتخابات میں عوام کو غلط کو راندۂ درگاہ کرنا چاہیے اور نئی حکومت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کرنی…

اعلا تعلیمی ادارو ں کا قاتل کون: ملک کو جواب چاہیے؟

نئے ہندستان کی تعمیر و تشکیل کے لیے یونی ورسٹیوں کے طلبا اور اساتذہ کو ہاتھ پر ہاتھ رکھے اور زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ انگریزی میں بوٹ آئوٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے لیے یہی وقت آگیا ہے۔

ریزرویشن کا نیا قانون: سماجی نفرت کا آخری کھیل

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ یہ انتخابی جملہ سے آگے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دس فی صد کو ریزرویشن دے کر پچاس فی صد کی مخالفت آسان نہیں۔ ٹی وی چینلوں پر بھی اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے پرچارک ہارتے نظر آرہے ہیں…

انگریزی اور دوسری زبان کے لفظوں کو اردو میں کیسے لکھا جائے؟

اب املا کے لیے جو بھی طریقۂ کار آزمایا جائے،  وہاں اپنی زبان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر دوسری زبانوں کے املائی مسائل کو بھی سامنے رکھتے ہوئے نتائج اخذ کیے جائیں تو ہم زیادہ سائنسی،  جمہوری اور علمی نقطۂ نظر کو فروغ دے سکتے ہیں۔

اردو املا کی اصلاح: آغاز کہاں سے ہو گا؟(2)

 املا کے سلسلے سے پرانی بحث میں عربی اور فارسی سے گریز یا رجوع پر خوب خوب توجّہ دی گئی ہے۔ ان مباحث میں دلیل کے طور پر بار بار قدیم دواوین اور لغات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو گی جو سو برس کے اندر لکھی گئی ہو۔ سوال…

اردو زبان اور اِملا کی معیار سازی کی پہل کون کرے گا؟(1)

اصلاحِ زبان کے نام پر اردو میں باضابطہ طور پر دلی اور لکھنؤ دونوں جگہوں پر تحریکیں چل چکی ہیں۔ مظہر جان جاناں کو اس بات کی فکر دامن گیر تھی کہ ولی اور دکن کے ادبی اثرات کہیں اردو کا لازمی حصہ نہ بن جائیں اس لیے اصلاح کی کوششیں تو ہوئیں مگر…

28؍دسمبر 2018ء کو دوحہ قطر میں بین الاقوامی سمینار: ایوارڈ تقریب اور مشاعرے کا انعقاد ہوگا

اردو زبان سے اپنی دیوانہ وار وابستگی کی وجہ سے دوبئی میں اس زبان کی مقبولیت اور عام لوگوں تک اس کے پروگرام کی پہنچ قائم کر نے کے لیے فلم سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مدعو کر کے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اسی لیے بزمِ صدف نے ریحان خاں کو…

اردو کے نام پر جشن در جشن کیوں ہونا چاہیے؟

جشن لاکھوں اور کروڑوں خرچ کرکے ہوتے ہیں مگر اتنا تو ہونا ہی چاہیے کہ لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ سامعین اور تماش بین کی صفوں میں موجود ہوں۔ جشنِ ریختہ یا دہلی اردو اکادمی کا چشنِ وراثتِ اردو یا مہاراشٹر کے تعلیمی میلوں کو چھوڑ دیں تو ابھی ہم…

طرح طرح کے جھوٹ پر کھڑی ہے مرکزی سرکار

جی۔ ایس۔ ٹی۔ بھی ظاہر کے کھیل اور باطن کے کھیل میں الگ الگ تماشے دکھا رہی ہے۔ اس پوری مہم میں مہنگائی بڑھی اور عام آدمی پر مالی بوجھ بڑھا۔ سرکار کو یہ ہندستان کی ترقی نظر آتی ہے۔ آنکھ والا اگر دن میں ستارے دیکھنے لگے تو اسے خواب بھی…

اے آب رود گنگا، وہ دن ہے یاد تجھ کو

جسٹس کاٹجو نے تو کئی درجن شہروں کے نام پیش کردیے جن پر نام تبدیلی کی گنجائشیں قائم ہوسکتی ہیں۔ خدا کرے اترپردیش کی حکومت کو ہوش آجائے اور دوسرے ترقیاتی کاموں میں وہ مستعد ہو، نفرت کے اصولوں سے چلنے کی مہم پر وہ خود ہی بریک لگائے۔ نہیں تو…

رافیل ڈیل: مودی حکومت کے لیے دوسرا بوفورس حادثہ نہ بن جائے

اگر ایک بار وہ سیاسی پارٹی کے ارکان کی طرح پورے ملک کی غیر فرقہ واریت کی آواز بن کر راہل گاندھی کے ساتھ آئیں اور باقی صوبائی حکومت اور صوبائی لیڈروں کو اعتماد میں لے کر دس گیارہ مہینے کے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے میدان میں اتر آئیں تو یہ…

ریزرویشن مخالفت کی تحریک میں ہندستانی سیاست اور سماج کا غیر روادارانہ چہرہ سامنے آگیا

مساوات صرف کتابوں میں لکھا لفظ نہیں ہے، اسے زندگی میں اتارنا ہوگا اور جو اپنے انسانی حقوق سے محروم رہے افراد ہیں، ان کی طرف داری اور ان کی ترقی کے وسائل پیدا کیے بغیر ہم بربریت اور ظالم سماج سے اپنے کو الگ نہیں کر سکتے۔

محمد مختار وفا نہیں رہے!

یکم اگست ۲۰۱۸ء کو میں اٹلی کے شہر میلان میں تھا۔ واٹس ایپ پر محمد مختار وفا کا تفصیل سے لکھا ہوا مسیج ملا جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ دو دن قبل وہ بتیا سے پٹنہ تشریف لائے تھے، مجھے فون کیا اور جواب نہ ملنے کی صورت میں ہمارے فلیٹ پر تشریف…

پیرس: پُرانے انقلابیوں، مصوّروں اور شاعروں کا شہر

فرانسیسیوں کی اپنی زبان اور تہذیب سے محبت کے قصّے تو سنے تھے مگر پیرس کی خاک چھانتے ہوئے اُن کے ایمان اور اعتماد پر رشک آنے لگا۔ عوامی اجتماعات کی ہر جگہ پر صرف فرانسیسی زبان میں ہی نوٹس لگے ہوئے ملیں گے۔ دکانوں کے نام، سڑکوں کے تختے،…

بہار کی یونیورسٹیوں میں اردو تحقیق: عروج سے زوال کا سفر

اگر اساتذہ نئے نئے موضوعات پر کام کرنے کے لیے خود کو تیار نہ کرنا چاہیں تو یوجی سی سر پیٹتی رہے، یونی ورسٹیاں چلّاتی رہیں اور قوم آہ و بکا کرتی رہے؛ ہمارے اساتذہ کا کیا بگڑتا ہے۔ شاعر پہلے ہی کہہ چکا ہے: وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی، وہ…

رویت ہلال تنازعہ: سوال در سوال سے عوام پریشان

 سوشل سائٹ کے زمانے کی دنیا میں ہر کس و ناکس کے پاس زبان ہے اور وہ ہر معاملے میں اپنی بات پیش کرنا چاہتاہے۔ سب سے زیادہ دشواری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب چاند کے سلسلے سے مذہبی اور جغرافیائی پیچیدگیوں سے بے خبر قوم ایسے مسئلوں پر اپنی بات کہنے…

سر سید کا دو صد سالہ جشن: ملک و قوم نے کیا پایا، کیا کھویا؟

سر سید کی پیدائش کے دو صد سالہ جشن کا آغاز ہوتے ہی یہ نظر آنے لگا کہ کبھی امریکہ اور انگلینڈ، کبھی عرب کے ریگ زار اور کبھی آسٹریلیائی ٹاپو اخبارات و رسائل میں سر سید کا جشن پیدائش کے دو سو سال مکمل ہونے پر اپنے محسن کو یاد کرنے کا انداز بڑا…