تزکیہ نفس اور رمضان!

آج معاشرہ انتہائی نفسا نفسی کا شکار ہوچکا ہے، حقیقت میں غربت نہیں بڑھ رہی بلکہ ہماری ضروریات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم اپنی عملی زندگیوں میں تبدلی کو یقینی بنانے کا تہیہ کرلیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے ایک دوسرے کیلئے آسانی پیدا کریں۔

اب وہ وقت نہیں ہے!

اگر سب معاملات توازن میں چلینگے تو کسی کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اب وہ وقت نہیں رہا۔اس جملے سے جان چھڑانے کی کوشش کر کے دیکھ لیں ، بہت مشکل ہے کہ یہ ساتھ چھوڑ دے۔ایسے بہت سارے معاملات ہم نے اپنے اور لادے ہوئے ہیں جسکی ناکوئی مذہبی…

انسانیت بقاء کی تلاش میں

آج دھیان ہٹ گیا ہے پہلے ایک پھر دوسرا پھر تیسرا ایسے بے تکے کاموں کی ایک فہرست ہماری زندگیوں سے چپک گئی ہیں(سماجی میڈیا اسکا سب سے بڑا محرک ہے ) اور اس فہرست میں سب کچھ ہے مگر دھیان دینے کیلئے کچھ بھی نہیں۔  شائد ہمارا دھیان بسترِ مرگ پر…

نجات کی راہ نہیں ملتی!

میں اگراپنی نسلوں کو قدروں کو بچانا ہے تو ہمیں ان جیسی (سماجی میڈیا) چیزوں سے جان چھڑانا ہوگی یا پھر مخصوص اوقات طے کرنے ہونگے۔ نجات کی تمام راہیں کھلیں ہیں اللہ ادھر ادھر بھٹکنے سے ہمیں بچائے اور ان سیدھی اور سچی جو نجات کی راہیں ہیں پر…

مستقل ذہنی کیفیت

بڑے مزے کی بات ہے کہ ایک لفظ جب انگریزی میں پڑھا جاتا ہے تو بہت وزنی سنائی دیتا ہے اور سامعین مرعوب ہوتے دیکھائی دیتے ہیں۔ جب یہی لفظ اپنی قومی زبان اردو میں گوش گزار کیا جاتا ہے تو ذہن میں چلنے والے خیالات توقف کئے بغیر چلتے رہتے ہیں، اس…

رہ گئی اذاں روح بلالیؓ نا رہی!

اس ایک تلخ حقیقت پر سے پردہ اٹھاؤنگا کہ ناہی والدین اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح سے نبہا رہے ہیں اور انکی دیکھادیکھی اساتذہ بھی خانہ پوری کر کے اپنی نوکریاں کر رہے ہیں۔ معاشرے کی بگاڑ کی رہی سہی کثر جنسی ہراسگی نے پوری کر دی ہے۔

گیارہ سالہ حبیب اللہ نے خودکشی کیوں کی؟

کسی پر الزام تراشی سے کہیں بہتر ہے کہ برداشت اور تحمل سے کام لیں اور ان عوامل سے معاشرے کو پاک کریں جن کی وجہ سے حبیب اللہ نے اپنی جان دے دی۔آئیں ہم سب مل کر اب کسی حبیب اللہ کو خود کشی کا سوچنے بھی نہیں دینگے۔ 

روٹی بندہ کھا جاندی اے!

ہمارا رب ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے تو وہ ہمیں بھوکا چھوڑ ہی نہیں سکتا لیکن ہم ہیں کہ سمجھ کر ہی نہیں دیتے دنیا کی اس دلدل میں اترتے جاتے ہیں ایک روٹی کی تلاش میں اتنا دوڑتے ہیں کہ ہماری سانس بند ہونے کو پہنچ جاتی ہے۔ اس مصرعے کو…

عوام اور با اثر افراد

یہ جتنے بھی عارضی بااثر لوگ ہیں جو جھاگ کو حقیقت سمجھ بیٹھے ہوئے ہیں یہ ان کے لئے ہے کہ موت سے کوئی بچ نہیں پاتا اور اصل زندگی تو مرنے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے یہ زندگی تو دی ہی اسی لئے گئی ہے کہ اس زندگی کیلئے آسائشیں جمع کرلیں ورنہ بڑے…

مطلب ختم تعلق ختم!

ہماری حالیہ نئی حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے کہ امریکہ مطلب ختم تعلق ختم والی حکمت عملی پر روابط قائم کرتا ہے، اسے امریکہ کی بد قسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان سے مطلب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ ہر روز بڑھتا ہی جا رہا…

پہلا سول پیشہ ور (پروفیشنل) وزیر اعظم

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے سوائے فوجی حکمرانوں کہ کبھی کسی سول انتظامیہ نے ملکی امور پیشہ ورانہ طرز پر نہیں چلائیں ہیں(شائد اسکی وجہ ابتک نسل در نسل سیاسی گھرانوں کا حکومت یا اقتدار کے ایوانوں میں رہنا ہے)، پیشہ ور لوگ سیاست سے باز ہی رہے…

برداشت کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں!

اسکولوں میں کالجوں میں غرض یہ کہ ہر ادارے میں برداشت کی تربیت کا عملی مظاہرہ ہونا چاہئے، دور حاضر میں یہ ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی اہم عمل ہے جسکا تکازہ ہمارا دین بھی کرتا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کی تعلیمات بھی ہمیں برداشت کرنے کا درس دیتی ہیں۔…

ہارنے والوں کے نام!

تقریباً دنیا کے اکثر ممالک میں انتخابات ہوتے ہیں اور جیتنے والے ایوانوں کی راہ لیتے ہیں اور شکست کھانے والے نئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر کام کرنا شروع کرتے ہیں اپنے منشور میں اپنے کردار میں اور بہتری لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے کسی…

توقعات سے تکمیل کا سفر!

عمران خان کے متعارف کرائے جانے والے پروگرام کو امید کی آخری کرن قرار دینے والے پاکستان کے مایوس لوگ ہیں جبکہ یہ پروگرام پاکستان کی آخری نہیں بلکہ یہ پہلی کرن ہے اور مکمل اجالے کیلئے ایسی بے تحاشہ کرنیں پھوٹیں گی اور انشاء اللہ پاکستان بقعہ…

عوامی فیصلہ اور جمہوریت کے علم بردار!

پاکستان ہم سب سے نئی بنیادیں رکھنے کو کہہ رہا ہے، اگست کا مہینہ شروع ہوچکا ہے ستر سال بعد پاکستان صحیح معنوں میں جشن آزادی منانے کی تیاری کرنے جا رہا ہے۔ افہام و تفہیم پر مبنی سیاست کو فروغ دیجئے اور معاشرے کو حقیقی جمہوریت کو سمجھنے کا…

بلدیاتی نظام کی بحالی، بنیادی ضرورت!

نئی حکومت کی ترجیحات میں بلدیاتی نظام کی بااختیار بحالی اول نمبر پر ہونی چاہئے اس عمل کی بدولت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بڑے معاملات پر دھیان دینے کا بھرپور موقع فراہم ہوسکے گا۔ ہمارے قلم سے جہاد کرنے والی برادری سے بھی درخواست ہے کہ…

قوم نے فیصلہ سنا دیا!

ابھی انتخابات کے نتائج مکمل ہونے ہیں جس کے بعد اکثریتی جماعت کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دی جائے گی۔ ملک میں اس وقت ہر طرف سے ایک ہی صدا گونجتی سنائی دے رہی ہے اور وہ ہے تبدیلی آگئی ہے۔ اس تبدیلی کے چاہنے والوں کو اب بہت صبر اور تحمل کا…

ووٹ کو بیچنا مت!

پاکستان کی جمہوریت کو معلوم ہے کیوں استحکام نہیں ملا ؟کیوں کہ پاکستانیوں کے گھروں میں جلنے والے چولوں کو مکمل طور سے جلنا میسر نہیں آیا۔ اگر یہ چولے بدستور جلتے رہتے ان چولوں کے آس پاس بیٹھے لوگوں کو چولہے پر پکنے والے کھانے سے پیٹ بھر…

ڈیم بنائیں، پاکستان بچائیں!

ملک میں انتہائی اہل، قابل، صحت من اور سب سے بڑھ کر ملک سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں جو معاشی اعتبار سے بھی مستحکم ہیں۔ ہر صوبے اور شہر سے ایسے لوگوں کو بذریعہ اشتہار آؤ ڈیم بنائیں، پاکستان بچائیں جمع کریں۔ ۔ ان لوگوں کو انکی قابلیت اور…

جو ترک نہیں کرتا جیت اسی کی ہوتی ہے!

کہتے ہیں زندگی سفر ہے لیکن یہ ایسا سفر ہے جو ہمسفر کے ٹہرجانے سے بھی نہیں ٹہرتا اسکا کام چلتے رہنا ہے، یہ عاری اور سفاک بھی ہے اسکو بس گزرنے سے غرض ہے آپ چلیں یا رکیں یہ گھسیٹنا شروع کردیتا ہے، زندگی اگر سفر ہے تو یہ آسان نہیں ہے۔

کیا یہ ممکن تھا؟

کیا یہ ممکن تھا کہ نواز شریف کا احتساب ہوگا یا اس احتساب کا نتیجہ بھی نکلے گا، کیا آپ اب یہ نہیں سوچ رہے کہ سندھ میں کی گئیں بدعنوانیوں سے بھی بہت جلد پردہ اٹھنے والا ہے۔ کیا قدرت کی دی ہوئی صلاحیتوں کا یقین کیساتھ مثبت استعمال ناممکن کو…

پتھر کیوں برس پڑے؟

ازراہ تکلف صرف اتنا تذکرہ کردینا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کہیں اور ہونے والی خشک سالی کا تو علم نہیں ہے لیکن پاکستان کے ایک علاقہ تھر ہے جہاں جاکر خشک سالی کے اثرات باآسانی دیکھے جاسکتے ہیں، وہاں کے لوگ جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں کہ زندگی…

ناکام ریاست کے کامیاب لوگ!

اب ریاست کے کامیاب ہونے کا وقت آن پہنچا ہے اب عوام کی کامیابی کا ڈنکا بجنے والا ہے لیکن اسکے لئے ضروری ہے ہم عوام اپنا ووٹ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے والوں کو دیں ناکہ تاریکی میں بھٹکانے والوں کو دیں۔ فیصلہ جو بھی ہوگا ہمارا ہی ہوگا۔ اب…

عوامی نمائندوں کی عوامی حیثیت!

امید کی جارہی ہے کہ پاکستان کی عوام گزشتہ کئی سالوں سے تلخ حالات کی آگ میں جل جل کر کندن بن چکے ہیں اوراپنی آنکھوں پر بندھی مختلف رنگ کی پٹیاں جن میں لسانیت کی پٹی، فرقہ واریت کی پٹی، علاقائی تقسیم کی پٹی، حقوق پر قبضوں کی پٹی، ظلم اور…