ناقص تعلیم اور مسلم لڑکیوں کے رشتہ ازدواج کا مسئلہ 

ڈاکٹر احمد علی جوہر

آج ہمارے ہندوستانی معاشرہ میں مسلم لڑکیاں تعلیم کی طرف متوجہ ہورہی ہیں، یہ انتہائی خوش آئند پہلو ہے۔ تعلیم کی کئی سطحیں ہیں۔ کچھ مسلم لڑکیاں انٹرمیڈیٹ یا بہت سے بہت گریجویشن تک کی تعلیم پر اکتفا کرتی ہیں، کچھ ہائر ایجوکیشن کی طرف جاتی ہیں۔ تعلیم ہمیشہ سے اچھی چیز رہی ہے اور رہے گی لیکن عملی زندگی میں اس تعلیم کا کتنا اثر ہوتا ہے یا ہم تعلیم کو اپنی زندگی کے لیے کتنی مفید بناتے ہیں، یہ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں پر منحصر ہے۔ آج کے سرمایہ دارانہ اور بازاری ماحول میں تعلیم کا مطلب بھی بدلتا جارہا ہے۔ ہمارے ہندوستانی معاشرہ میں تعلیم کا مطلب، ملازمت پانا اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنا ہوگیا ہے۔ بقول اکبر الہ آبادی:

کیا بتاؤں احباب کیا کار نمایاں کرگئے 

بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مرگئے 

اگر آپ کتنے ہی دانشور ہوں، اگر ملازمت نہیں ملی تو معاشرہ میں لوگ جینا دوبھر کردیتے ہیں، ظاہر سی بات ہے یہ تعلیم کا انتہائی غلط مطلب ہے۔ جب معاشرہ میں تعلیم کا مطلب پیسہ کمانا ہوگا تو وہاں تعلیم کے مثبت اثرات کیسے مرتب ہوسکتے ہیں۔ تعلیم عقل و شعور کو بیدار کرنے کا نام ہے۔ تعلیم اچھے برے کی تمیز پیدا کرنے کا نام ہے۔ تعلیم زندگی کو مثبت اثرات سے مزین کرنے اور معاشرہ میں انسایت و محبت کا ماحول پیدا کرنے کا نام ہے۔ لیکن آج اس کے برعکس نظر آرہا ہے۔ تعلیم یافتہ طبقوں میں بھی اب پہلے جیسی بات نظر نہیں آرہی ہے تو پتہ چلا کہ اب تعلیم کو بھی مارکیٹ سے جوڑ دیا گیا ہے اور تعلیم کا ایک انتہائی اہم پارٹ یعنی اخلاقیات کو سرے سے غائب کردیا گیا ہے۔ ایسے میں تعلیم کا مثبت اثر ہونے کے بجائے معاشرہ میں اس کا الٹا اثر دکھ رہا ہے۔ اب ہر آدمی شکوہ سنج ہے کہ تعلیم انسانوں میں انسانیت و محبت کیوں نہیں پیدا کررہی ہے۔ لوگ جتنے زیادہ تعلیم یافتہ ہورہے ہیں، سماج سے اتنا زیادہ کٹتے جارہے ہیں۔ مجھے یہاں پر ایک شعر یاد آرہا ہے۔

مریض عشق پہ رحمت خدا کی 

مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی 

تعلیم کے اس منفی اثر سے تعلیم کو کبھی بھی برا نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ آج کے سرمایہ دارانہ اور بازاری ماحول نے تعلیم کے مقصد پہ پردہ ڈال دیا ہے۔ آج تعلیم سے تربیت اور اخلاقیات غائب ہے۔ ایسی تعلیم کا جو سائڈ افکٹس ہونا چاہیے، وہ پوری طرح نظر آرہا ہے۔ لڑکیوں کو تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے۔ بغیر تعلیم کے انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے، لیکن اگر تعلیم انسان کو انسان بنانے میں معاون نہ ہو تو ہمیں پھر سوچنا اور غور کرنا ہوگا کہ آخر کمی کہاں ہے۔

یہ باتیں اس وجہ سے لکھی جارہی ہیں کہ آج ہمارے معاشرے میں اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کی شادی ایک بہت بڑا مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ ایک تو اس رینک کے لڑکے نہیں مل پاتے ہیں اور جو ہیں تو وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں، ایسے میں کچھ مسلم لڑکیاں اپنے رینک کے لڑکوں کی تلاش میں غیر مسلم لڑکوں کی طرف ہجرت کرجاتی ہیں۔ لیکن ان کی زندگی بھی آگے چل کر بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ بہت سے لڑکے اعلی تعلیم یافتہ ہیں لیکن وہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں سے شادی کرنا نہیں چاہتے۔ ان کی شکایت ہوتی ہے کہ بیشتر اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں نیو کلیر فیملی پسند کرتی ہیں، وہ ساس سسر، دیور یعنی جوائنٹ فیملی میں رہنا بالکل نہیں چاہتی۔ ان کی اور بھی کئی شکایتیں ہیں۔ مثلا بیشتر اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے عاری ہوتی ہیں، وہ کھانا بنانا، شوہر کی خدمت کرنا نہیں چاہتیں، وہ اپنی من مرضی کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں، وہ ریسٹورنٹ اور ہوٹلوں میں کھانا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ شاید اکبر الہ آبادی نے ایسی ہی خواتین کو پیش نظر رکھ کر یہ شعر کہا تھا:

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا 

کٹی عمر ہوٹلوں میں، مرے اسپتال جاکر

آخر ہمیں سوچنا ہوگا کہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے تعلق سے درج بالا شکایتیں کیا صحیح ہیں؟ حد تو یہ ہے کہ اب معمولی پڑھی لکھی لڑکی بھی ساس سسر، دیور یعنی جوائنٹ فیملی کے جھمیلے سے آزاد رہنا چاہتی ہے۔ اب لڑکیوں کے خواب بڑے ہوتے جارہے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں زندگی بھر انتظار کرتی رہ جاتی ہیں، انہیں اپنے من پسند کا لڑکا نہیں مل پاتا ہے۔ یعنی ایسا لڑکا جس کے پاس اپنا مکان، بہترین کاروبار، اپنی گاڑی ہو۔ یا اعلی ملازمت میں ہو۔ بہت سے لڑکے بھی بڑے بڑے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ انہیں پڑھی لکھی لڑکی کے ساتھ ساتھ انتہائی خوبصورت لڑکی بھی چاہیے، پھر جہیز کے طور پر مال و دولت بھی۔ اس کشمکش میں ازدواجی بحران پیدا ہوتا جارہا ہے۔ نہ لڑکے کو اپنے خواب کے مطابق لڑکی ملتی ہے، نہ لڑکی کو اپنے خواب کے مطابق لڑکا۔ پتہ چلا کہ یہ دنیا ہے، جنت نہیں جہاں اپنی خواہش کے مطابق ہر چیز ملے۔ ورنہ مرزا غالب کو یہ کیوں کہنا پڑتا کہ:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے 

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے 

دنیا میں اپنی خواہش کے مطابق نہ دنیا ملتی ہے، نہ کوئی اور چیز۔ دنیا میں ہم مصالحت کرکے ہی جی سکتے ہیں،  زندگی نام ہی ہے مصالحت کرکے جینے کا۔ جو لوگ مصالحت نہیں کرتے ہیں، اکثر ایسے ہی لوگ خودکشی کرتے ہیں۔ اب ہمارے معاشرے میں لڑکیاں اگر دن میں خواب دیکھنے لگیں تو اس کا جو مناسب علاج ہو، وہ تجویز کرنی چاہیے۔ ویسے جس قوم پر زوال آتا ہے تو پہلے اس قوم کی عقل اور فکر مار دی جاتی ہے یعنی سلب کر لی جاتی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ غیر مسلم لڑکیاں، صبح سویرے بیدار ہوتی ہیں، اپنے شوہر، ساس سسر کے لیے ناشتہ تیار کرتی ہیں، پھر ملازمت بھی کرتی ہیں، اس کے برعکس مسلم لڑکیاں منحوس کی طرح سات آٹھ بجے تک سوتی ہیں، وہ کیا شوہر اور ساس سسر کے لیے ناشتہ بنائیں گی، الٹے جھگڑا اور زبان درازی کرتی ہیں اور اپنے برے سلوک اور کردار سے پورے گھر کا ماحول خراب کرتی ہے۔

 غیر مسلم لڑکیوں میں جو اعتدال و توازن پایا جاتا ہے، مسلم لڑکیوں میں اس کا فقدان ہے۔ مسلمانوں میں پدرم سلطان بود کا نشہ بہت پایا جاتا ہے۔ اب آپ سوچئے کہ ہندوستان، یورپ یا امریکہ تو ہے نہیں جہاں ہم خاندان سے الگ ہوکر زندگی گزارنے کا سوچیں۔ جب غیر مسلم قوم اتنے بیدار مغز ہونے کے باوجود اپنے ماں باپ کو ساتھ رکھتے ہیں، گھر پریوار کو لے کر چلتے ہیں تو مسلم لڑکیوں کو تو بدرجہ اولی ان کاموں کو انجام دینا چاہیے،  کہا جاتا ہے کہ جیسا دیس، ویسا بھیس،۔ جہاں، جس معاشرہ میں جو چلن ہے، اس سے ہٹ کر زندگی گزارنا خاصا دشوار ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں میں دقیانوسیت کی بات نہیں کررہا ہوں۔ کچھ رسم و رواج اچھے بھی ہوتے، کچھ برے بھی۔ برے رسم و رواج سے بچنا چاہیے اور اچھے رسم و رواج کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ملک کا سب اعلی امتحان یو پی ایس سی کا ہوتا ہے، اس میں ملک کا جغرافیہ بھی پڑھنا لازمی ہوتا ہے، ظاہر سی بات ہے اگر ہم اپنے آس پاس کے جغرافیائی حالات سے باخبر نہ ہوں گے تو ہمیں زندگی گزارنے میں پریشانی پیش آئے گی۔ اسی طرح ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے بھی میاں، بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے تمدن اور تہذیب و ثقافت سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے۔ ہندوستانی معاشرہ میں چاہے وہ غیر مسلم ہو یا مسلم، لڑکی کو شادی کے بعد شوہر، ساس، سسر اور جوائنٹ فیملی کو کھانا پکا کر کھلانے کا رواج ہے۔ بیوی شوہر کے کپڑے بھی دھلتی ہے، گھر کی صفائی، ستھرائی کا بھی خیال رکھتی ہے، جو لڑکی ایسا نہیں کرتی ہے، وہ معیوب سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ملازمت یافتہ اور اعلی تعلیم یافتہ خواتین کو بھی یہ کام کرنے پڑتے ہیں۔ برصغیر ہند و پاک، بنگلہ دیش میں خدمت گزار خواتین کو بیوی کی حیثیت سے قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ اب ایسے میں جو خواتین خدمت گزار نہیں ہوتی ہیں، ان کا گھر پریوار اکثر تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور ایسی ہی جگہوں پر کبھی کبھی بھیانک واردات بھی پیش آتے ہیں۔ برصغیر ہند و پاک اور بنگلہ دیش میں نک چڑھی بیوی کو خفیہ طریقے سے راستے سے ہٹانے کا بھی رجحان رہا ہے۔ ابھی ہندوستانی معاشرہ میں اکثر اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادی ہونے میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں کیونکہ وہ تعلیم یافتہ تو ہیں لیکن تربیت یافتہ نہیں ہیں اور اخلاقیات سے بھی عاری ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں مصالحت کرنا نہیں چاہتی ہیں، اس کے لیے اسے لیو ان ریلیشن میں رہنا پڑے، وہ منظور ہے۔ دینی تعلیم اور دینی ماحول کا بھی اثر ختم ہوتا جارہا ہے۔ یہاں غور کرنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ کتنی مصیبت و مشقت جھیل کر اپنے بیٹے کو تعلیم دیتے ہیں، اور اسے اعلی تعلیم یافتہ بناکر اس کے لیے اعلی ملازمتوں کی راہ ہموار کرتے ہیں، والدین جب اپنے بیٹے کے لیے قربانیاں دیتے ہیں تو ان کی بھی اپنے بیٹے سے کچھ امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ اب کوئی بھی آدمی اپنے آپ کو اس جگہ رکھ کر سوچے کہ وہ اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا کر اعلی ملازمتوں کے لائن بنائے اور کوئی لڑکی والا اس سے یہ کہے کہ میری بیٹی سے شادی کر لو اور ماں باپ سے الگ رہو، تو اس وقت کسی بھی ماں باپ کو کیسا لگے گا اور خود اگر لڑکا باضمیر ہو تو اس کے دل پر کیا گزرے گا؟ جس مذہب اسلام نے تعلیم دی ہے کہ کوئی بھی اولاد اپنے ماں باپ کا حق ادا نہیں کرسکتی چاہے وہ کتنی ہی خدمت کرلے۔ افسوس صد افسوس آج مذہب اسلام کی نام لیوا لڑکیاں اپنے شوہر کو اپنے ماں باپ سے الگ رہنے کے لیے کہتی ہیں۔ ہندوستانی معاشرہ میں بیشتر اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کو دیکھ کر یہ محاورہ زبان پر آتا ہے:

کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھول گیا

ہندوستانی معاشرہ میں جوائنٹ فیملی کا تصور بہت ہی توانا ہے۔ جو لڑکیاں اس تصور کے حدود کو لانگھنا چاہتی ہیں، انہیں منہ کی کھانی پڑ رہی ہے، یعنی ایسی لڑکیوں کی جلدی شادی نہیں ہورہی ہے، اگر ہورہی ہے تو بہت جلد علیحدگی ہورہی ہے۔ کیونکہ وہ ہندوستانی سماج کی فطرت سے بغاوت کررہی ہیں،  فطرت سے بغاوت ہی اکثر موت کا بھی سبب بنتی ہے۔ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ شہر میں پڑھائی کرتی ہیں اور گاؤں میں ان کے لیے رہنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا جارہا ہے، اب کوئی ضروری نہیں ہے کہ لڑکا شہر ہی میں ملے۔ ایسے میں گاؤں کے لڑکے کو لڑکیاں مسترد کردیتی ہیں، چاہے وہ اس کے رینک کا ہو۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہر کی لڑکیاں شہر ہی میں رہ سکتی ہیں، دیہات میں نہیں رہ سکتی ہیں، جبکہ دیہات کی لڑکیاں دیہات کے ساتھ شہر اور دوسرے ممالک میں جہاں چاہیں، وہاں رہ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہات کی لڑکیوں کی شادی میں اتنی دقتیں اور دشواریاں نہیں ہیں جتنی شہر کی لڑکیوں کی شادی میں ہیں۔

آج جو تعلیم کا مطلب سرمایہ دار اور بازاری بننا ہوگیا ہے، اس کی وجہ سے سماجی، معاشرتی، معاشی اور انسانی سطح پر بڑے مسائل و مصائب پیش آرہے ہیں۔ تعلیم کے مقصد کو سدھارنا ہوگا، تعلیم کا جو جوہر ہے، اس سے مزین کئے بنا ہم ایک معتدل و متوازن معاشرہ کی توقع نہیں کرسکتے ہیں۔ خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، اسے تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تربیت اور اخلاقیات کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا، اسے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لیے بتانا ہوگا، اس کے اندر اعتدال و توازن پیدا کرنا ہوگا۔ تبھی مسلم معاشرے کی دشواریاں دور ہوں گی۔ اور شادی بیاہ میں دقتیں نہیں آئیں گی۔ آج تعلیم یافتہ لوگ ہی سب سے زیادہ جھوٹی شان و شوکت، نام نہاد سماجی مرتبہ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ آج زندگی کو غیر ضروری لوازمات میں مقید کردیا گیا ہے اور اسے اتنا پرتکلف بنادیا گیا ہے کہ زندگی خود اپنے وجود سے سہم گئی ہے۔ ورنہ سادگی سے پر زندگی میں کوئی دقت نہیں ہے اور لطف ہی لطف ہے۔ آج ہندوستانی معاشرہ میں اگر اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادی میں دشواریاں پیش آرہی ہیں تو یہ تعلیم کا قصور نہیں ہے بلکہ ان کے ناقص شعور کی غلطی ہے جو کسی بھی صورت میں مصالحت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہر لڑکی کو آئی اے ایس، آئی پی ایس، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر لڑکا تو نہیں مل سکتا، اور نہیں ملنے کی صورت میں مصالحت کرکے زندگی کو ہموار نہ بنانا کسی طرح کی بھی دانشمندی نہیں ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ آج تعلیم کے نام پر کہیں کھلواڑ تو نہیں ہورہا ہے یا بگاڑ تو نہیں پیدا ہورہا ہے۔ آج ہندوستانی معاشرہ میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ علیحدگی کی زندگی گزارنے والی اعلی تعلیم یافتہ خواتین ہی ہیں کیونکہ وہ تعلیم یافتہ ضرور ہیں لیکن تربیت یافتہ نہیں ہیں اور وہ جس طرح کی زندگی گزارنا چاہتی ہیں، وہ ہندوستانی سماج میں قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے  ہندوستانی سماج میں جو قابل قبول زندگی ہے، اسی کو اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں ترجیح دیں تو زیادہ بہتر ہے اور اس کے لیے انہیں مصالحت کرنی پڑے گی۔ آج تعلیم کا اصل مقصد کہیں فوت ہوگیا ہے اور زندگی پر سرمایہ داری اور بازاری پن حاوی ہوگیا ہے۔ ایسی ہی آدھی ادھوری تعلیم انسان کے لیے گمراہی کا موجب بنتی ہے۔ اکبر الہ آبادی نے بہت پہلے کہا تھا:

طفل میں بو کیا آئے ماں باپ کے اطوار کی 

دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی 

اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادی کے مسئلہ کو آسان بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحیح نہج پر ان کی پرورش کی جائے، انہیں تعلیم کے ساتھ تربیت دی جائے، اخلاقیات کے زیور سے آراستہ کیا جائے، اسلامی اور دینی سمجھ بوجھ پیدا کی جائے، ہندوستانی سماج کے مطابق انہیں رہنے سہنے کا طریقہ اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا جائے، زندگی کے نشیب و فراز سے سمجھوتہ کرنا سکھایا جائے اور غلط تربیت، جھوٹی شان و شوکت، نام نہاد سماجی مرتبہ اور تکبر و غرور سے بچنے کے لیے کہا جائے۔ ہندوستانی معاشرہ کے مسلم لڑکوں کو بھی چاہیے کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرے،  ان کا ساتھ دینے کی کوشش کرے۔ جب تک اعتدال و توازن نہیں ہوگا تو زندگی مزید دوبھر ہوتی جائے گی۔ اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ زندگی کو کیسے جینا چاہتے ہیں، سانس تو ہر جاندار لیتا ہے لیکن زندگی کچھ ہی انسان جیتے ہیں کیونکہ زندگی جینا ایک بہت بڑی فنکاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا