اردو زبان وادب کی خدمت کے لئے سب انجمنیں مل کر کام کریں!

 شہاب الدین احمد

دوحہ قطر میں تعمیری ادب کے فروغ کے لئے ايک عرصہ سے سرگرمِ عمل تنظیم حلقۂ ادبِ اسلامی قطركى جانب سےحسبِ روايت مہينہ كى دوسرى جمعراتمؤرخہ 13 جولائى 2017م كى شب حلقہء رفقاءِ ہند. قطر کے مرکزی ہال (جنوبی مدینہ خلیفہ, شہرِ دوحہ رياستِ قطر) میں ایک پُر وقار ادبی اجلاس و مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس كى صدارتعامر عثمانىشكيب (صدرِ حلقہ) نےكى, مہمانِ خصوصى محترم سيد فہيم الدين (چيرمين باكستان ايسوسيشن قطر PAQ) اور مہمانِ اعزازى محترم شہاب الدين احمد (چيرمين بزمِ صدف انٹرناشنل) رہے۔ اجلاس كا آغاز اسكول كے طالبِ علم حافظ فضيل بن فياض احمد فلاحى كى تلاوتِ كلامِ پاک سے ہوا، برادرم نےخليج كى صورتِ حال كو مدّ نظر ركهتے ہوے سورهء حجرات كى5 تا 10 آيات تلاوت مع ترجمہ پيش كيا: (اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ (6)…. (یاد رکھو) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (10)

اجلاس ومشاعرہ کی نظامت حلقہ کے پُرجوش ومتحرک ركن اور ادبِ اسلامی کے نوجوان شاعر افتخار راغبؔ نے انجام ديا.

حافظ خبيب فلاحى نے تمام حاضرين كا پُرتپاکاستقبال كيا اور شہ نشيں پر موجود مہمانوں كا مختصر وجامع تعارف كروايا.

سلسلہء تعارف كى ابتدا كرتے ہوےموصوف نے صدرِ اجلاس عامر عثمانى شكيب كے بارےمیں كہا كہ وه ہندوستان كى رياستِ كرناٹک كے شہرِ شيموگہ سے تعلق ركهتےہيں , جنوبى ہند كے مشہور مدرسے ” جامعہ دار السلام عمرآباد” سے 1989 ميں سند فراغت حاصل كى، بعدازاں 1992 ميں معاش كے سلسلہ ميں آپ کادوحہ قطر آنا ہوا, حلقہء ادب اسلامى- قطر كى رواں ميقات ميں بطورِصدر منتخب ہوے, موصوف نے 2015 سے باقاعده شعر و شاعرى كے ميدان ميں قدم ركها.

مہمانِ خصوصى محترم سيد فہيم الدين صاحب كے بارے ميں حاضرين كو يہ جانكارى دىكہ آپ كا تعلق پاكستان كى رياستِ پنجاب كے شہر رحيم يار خان سےہے ,موصوف”BSc  اور MBA”اسناد كے حامل ہيں , دوحہ قطر ميں ” قطري ٹيكنيكل ٹريننگ– آئل انڈگيس كمپنى”  ميں ٹريننگ انـچارج كے طور پر خدمت انجام دے رہےہيں .

اردو ادب كے حوالے سےيہبات آئى كہ” آپ كو بجپن ہى سے شعر گوئى ميں خوب دلچسپى رہى، جب كہ نثر نگارى ميں بھى آپ پيچهے نہيں رہے،نتيجتاًيہ ديكهنےميں آيا كہ اب تک آپ كى نثر اور نظم ميں جملہ 8 كتابيں منظر عام پر آچكىہيں ,آپ كىشخصيت كى اہميت كا اندازه اس بات سےبھى لگايا جا سكتا ہے كہ اردو يونيورسٹى طلبہ نے اب تک دو عناوين(1)”سيد فہيم الدين كى ادبى حيات” (2) “سيد فہيم الدين كى نثرى خدمات”  كے تحت آپپر ايم فيل بھىكرچکےہیں , فہيم صاحب دوحہ قطر کی تمام فعال ادبى انجمنوں كے نزديکمعروفہيں ,آپپاكستان اسوسيشن قطر PAQكے بانى اور جيرمين بھىہيں .

اجلاس كے مہمانِ اعزازى محترم شہاب الدين احمد كا تعارف پيش كرتےہوے برادرم فلاحى نےكہا كہ آپہندوستان كى رياستِ بہار كے شہرمظفر پور سے تعلق ركهتے ہيں , تعليم MSc تک حاصل كى ہے, 2008 مين دوحہ قطر آنا ہوا تھا, اور فى الحال”قطر اسٹيل كمپنى” ميں ايک كليدى درجہ پر خدمات انجام د رہےہيں .

اردو ادب كے حوالہ سےبتايا كہ آپ كا خانواده ادب کے حوالہ سے معروف ہے اس كا اندازه اس بات سے لگايا جا سكتا ہے كہ آپ كے والد پروفيسرناز قادرىدنيا‎ۓ اردو ادب كى ايک معروف شخصيت ہيں , اس كے علاوه محترم شہاب الدين صاحب بزمِ صدف انٹرنياشنل كے بانى وچيرمين بھى ہيں , بزمِ صدف ایک ایسی تنظيم ہے جسكے تحت دنيا كے مختلف ممالک ميں بين الأقوامى ادبى سيمنار, بين الاقوامى ايوارڈس كى تقسيم اور بين الأقوامى مشاعرےہوا كرتےہيں , بزم كے تحت صدف كے نام سے ايک سہ ماہىادبى رسالہ بھى جارى كيا گیاہے.

برادرم خبيب صاحب كے استقبال اور مہمانوں كے تعارفكےبعد ناظمِ اجلاس نےپروگرام كے باقاعدهآغاز كا اعلان كيا.

حلقہء ادبِ اسلامی قطر کی ابتداء سے یہ روایت رہی ہے کہ یہا ں ادب کی دونو ں اصناف ” نثر ونظم ” کو متواتر پیش کیا جاتا رہا ہے اور یہ قدیم روایت حلقہ میں آج تک عملاً برقرار ہے ولله الحمد،اجلاس كے نثرى حصہ ميں تين مختلف مضامين پيش ہوے:

ابتداء عامر عثمانى شكيب سےہوى جنهوں نے”سوشيل ميڈيا پر عيد كے انوكهےپيغامات” كے عنوان پر تين بہترين پيغامات پڑهـ كر سنائے جس ميں ايکطويل پيغام خود ان كا اپنا تحرير كردہ تھا, جس كو انہو ں نے خليج كى موجوده صورتِ حال كو سامنے ركهتےہوئے بہت ہى مؤثر اور دلگداز اسلوب ميں اپنے احساسات كوسپردِ قرطاس كيا تھاپیغام کے آخر ميں يہ سوال درجتھا كہ”ايسے درد ناک حالات كےہوتےہوۓ ميں كس دل سےآپكو عيد كى مباركباد پيش كروں ؟”

حاضرين نے اس انوكهے اندا زكو خوب سراہا اور صاحبِ مضمون كى خوب پذيرائى كى.

نثرى سلسلہ كى دوسرى كڑى كے طور پر اجلاس كےمہمانِ خصوصى محترم سيد فہيم الدين صاحب نے اپنى كتاب”لفظ در لفظ”سے بعض منتخب اور خوبصورت شہپارےپيش كئے جو بظاہرچھوٹے جملوں کی شکل میں تهے مگر وه عام انسانى معاشرتى زندگى كو سنوارنے والے قيمتى اصولوں سے عبارت تھےگويا معانى ومفاہيم كا ايک سمندر اس میں بھر ديا گيا تھا، سامعين نے اس منفرد طرز كو خوب سراہا اور صاحبِ تخليق كى دل كهول كرحوصلہ افزائى كى.

نثرى حصہ میں ڈاكٹر عطاء الرحمن ندوى نے ايک وقيع مضمون بعنوان: فلسفہء موت وحيات اور شعراء كرام”پیش کیا، جس كو موصوف نے متقدمين كلاسيكل شعراء جیسے غالب، اقبال, ذوق، مير، سودا, مصحفى، ظفر, مجذوب، اور انشاکے علاوہ ماضى قريب كے مشہور شعراء كے كلام سے استدلال كرتے ہوے مضمون کو آراستہ كيا تھا درميان ميں قرآنى آيات واحاديث نبوى سے اقتباسات شامل فرما كر محترم نے اپنے مضمون پر چار چاند لگادیۓ, طوالت كے على الرغم مضمون کااسلوبِ نگارش, ندرتِ الفاظ، اور بہترين بيشكش نے سامعين كو اپنے ساتھ باندهے ركها, باريک بينى اور عرق ريزى سے تيار كرده اس مضمون كو محفل نےبیحد پسندكيا اور صاحبِ مضمون كو خوب دعاؤں سے نوازا-

مشاعرے کے اختتام پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مہمانِ اعزازی محترم شهاب الدين احمد صاحب نے کافی مسرت کا اظہار کیا اور حلقہ کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک خاص بات یہ دیکھنے کو ملی کہ تمام ہی شعراء نے اسلامی اور تعمیری فکر کی نمایندگی کی اور عمدہ کلام پیش کیے۔ آپ نے حلقۂ ادبِ اسلامی قطر میں اپنی شرکت کو باعثِ عزت اور اس ادبی تقریب کے معیار کو اردو حلقوں کے لیے نمونہ قرار دیا, اوراس بات کی امید ظاہر کی کہ اردو زبان وادب کی خدمت کے لئے یہاں کی سب انجمنیں مل جل کر کام کو آگے بڑھائیں گی، اس ضمن میں اپنی جانب سے بزم صدف کے تعاون کی یقین دہانی کرائی.

محترم سيدفہيم الدين صاحبنے اپنى تاثراتى گفتگو میں كچھ اس طرح سے اظھار خيال فرمايا:حلقہء ادبِ اسلامی دوحہ’ قطر” دوحہ  قطر کی نمایاں اور قدیم اردو ادبی تنظیموں میں حلقہ ادبِ اسلامی ایک متوازن ‘ مستقل مزاجی سے اردو تقریبات کا اہتمام کرنے والی ایسی مذہبی ادبی تنظیم ہے جو ادب کو اصلاحِ معاشرہ کے لیے رگِ باسلیق سمجھتی ہے۔ہر طرح کی قومی ‘ علاقائی ‘ فرقہ ورانہ ‘ معاصرانہ اور ادبی چشمک سے پاک یہ تنظیم اردو کی تقریبات کے انعقاد میں تعداد اور تسلسل میں سب سے آگے ہے۔ مجھے جو ان کی خوب صورت تنظیمی بات لگتی ہے کہ ان کے انتخابات حقیقی جمہوری انداز میں ہوتے ہیں جس میں جونیر اراکین کو سامنے لایا جاتا ہے اور پھر بھرپور طریقے سے اس كو کامیاب منتظم بنایا جاتا ہے۔ یہ ادبی تنظیم نہ کسی امیرِ شہر کی بالادستی قبول کرتى ہے اور نہ ہی کسی سیاسی سماجی “نمبردار” دولت مند کو خود پر حاوی ہونے دیتی ہے۔ہم خالصتاً اردو ادب کے خیرخواہ کا دعوٰی کرنے والے منتظمین کو اپنے ان مذہبی ادبی دوستوں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ان کی تقریبات کا حصہ بنتا رہتا ہوں ۔

موصوف کے اس خوبصورت اظهارِ خيال کے بعدصدرِ اجلاس نے مہمانِ اعزازی اورمہمانِ خصوصی کے مثبت اظهارِ خيال اور تاثراتكا شكريہ ادا کیا, اجلاس ميں پيش كرده تخليقات كى توصيف كى اورآج کے کامیاب اجلاس و مشاعرے کے انعقاد پر حلقہء ادبِ اسلامی قطر کے ذمہ داران کو مبارک باد پیش کى.

اجلاس کے شعری حصے میں جملہ 14 شعراء نے اپنی تخلیقات پیش کیں ، جن میں سے عتيق انظر, شوكت على ناز اور عامر شكيب نے اپنی نظمیں پیش کیں ، اشفاق ديشمكهـ نے مزاحیہ کلام سے محفل کو روغن زار کیا، سيد فهيم الدين، افتخار راغب, اعجاز حيدر، منصور اعظمى، سعادت على سعادت, وزير احمد وزير،راقم اعظمى، ظريف بلوچ, شاهد اعظمى اور شميم محمد نے اپنے سنجیدہ اور معیاری غزلوں سے محفل کو آراستہ کیا.

  آج کے اجلاس میں دوحہ کی مختلف تنظیموں سےہر بار كى طرح سامعين میں بھی معقول نمائندگی رہی۔آخر میں ركنِ مجلسِ عاملہ محترم افتخار راغبؔ نے تمام مہمانان و شعراء و ادباء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا –

تبصرے بند ہیں۔