ہندوستان میں عدل و انصاف اور مساوات کوبالائے طاق رکھ دیا گیا

جاوید جمال الدین

ہندوستان میں جو حالات پیدا ہوگئے ہیں ،اس سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ  عدل وانصاف اور مساوات کو بالائے طاق رکھ دیاگیاہے،بلکہ ان کاخاتمہ ہوگیاہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی اور خاموشی کے راز پر پردہ پڑاہے،انتظامیہ اور محکمہ پولیس حق وانصاف کو درکنار کرتے ہوئے ڈکٹیٹرشپ پراترے ہوئے ہیں،پھر بھی عدلیہ میں ہلکی سی سانس باقی  ہے اورایک  امید کی کرن نظرآتی ہے۔ایک فلم میں  جولی ایل ایل بی میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جج صاحب کا مکالمہ یاد آتا ہے کہ "عدلیہ کی جوبھی حالت ہو،پھر میں ملک ایک عام آدمی کواس سے امیدیں وابستہ رہتی ہے،کیونکہ عام طورپرمدعی  کسی پڑوسی اور رشتہ دار سے تنازع کے سبب یہ کہتا نظرآتا ہے کہ آپ کو عدالت میں دیکھ لیں گے” اسی جذبہ نے نظام عدلیہ وانصاف کوکچھ حد تک مضبوط کررکھاہے۔

دراصل حال میں دومعاملوں میں ملک کی سپریم کورٹ نے پولیس اور انتظامیہ کوآڑے ہاتھوں لیا ہے،دہلی کے جہانگیر پوری میں تشدد کے بعد ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنانے اور ان کے گھر اور دکانوں کو منہدم کرنے کے معاملہ میں عدالت نے نہ صرف اسٹے دیا ہے بلکہ عدالتی حکم کے باوجود انہدامی کارروائی کرنے پر قصور واروں کے خلاف نوٹس بھی جاری کیا ہے۔جبکہ دوسرے معاملے میں  دہلی میں ہندو یووا واہنی کی تقریب کے دوران اشتعال انگیزتقریروں اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور  ہر قیمت پر ’ہندو راشٹر‘ قائم کرنے کا مطالبہ کیے جانے کے باوجود دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر کے ہندوواہنی کو”  کلین چٹ”دے دی تھی،اور کہا کہ  جلسہ میں  کوئی نفرت انگیز تقریریں نہیں ہوئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے حلف نامہ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ حکومت ایک بہتر حلف نامہ داخل کرے۔

ایسے تو دنیا میں عدل وانصاف کی بہت سی کہانی وقصے مشہور ہیں ،لیکن خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق کاذکر سب سے پہلے تاریخ میں کیاجاتا ہے۔حضرت عمررض نے لاکھوں مربع میل کے علاقے پر حکمرانی کی اور ایک جامع نظام حکومت قائم کیا، جن کے عدل وانصاف کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ایسے کئی واقعات کاکتابوں میں ملتا ہے کہ جمہوریت ،عدل وانصاف اور مساوات کا یہ عالم تھا کہ عام رعایا نے بھری محفل میں اور ممبر تک پرخلیفہ دوم کو چیلنج کیااور سوال وجواب کادور بھی پیش آیا،لیکن حضرت عمر فاروق کے چہرے پر شکن تک نہیں آتی تھی۔آپ نے جونظام حکومت رائج کیا ،اس میں عدل وانصاف کے شعبے کو سب سے زیادہ ترجیح دی اور مضبوط رکھا تھا۔

یہ سچ ہے کہ گزشتہ دو تین صدیوں میں دنیا نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور نصف صدی کے دوران تو دنیاکارنگ وروپ اور شکل بدل چکی ہے،انصاف تقاضوں کو پورا کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔عام آدمی کی مشکلات،غربت کے خاتمہ اور مساوات کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔خصوصی طورپر خواتین واطفال کے ساتھ انصاف کو اولیت دیئے جانے کے دعووں کوپیش کیا جاتاہے،لیکن ان دوتین عشرے میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جومظالم ڈھائے گئے ہیں،کئی ممالک کو تباہ کردیاگیا اور انصاف کی دھائی دینے والوں نے کچھ ہاتھ نہ لگنے یااپنامقصد پورا ہونے کے بعد ہاتھ جھٹک دیئے ہیں۔روس کے ذریعے یوکرین پر حملہ پر چیخ وپکار کرنے والے یورپ اور امریکہ اس درمیان  فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں پر خاموش تماشائی بنے ہیں۔یہ ایک مثال دینی تھی،اصل میں ہم ہندوستان میں حکومت کی جانبداری اور عدلیہ کی ایک حد تک انصاف پسندی کاذکر کررہے ہیں۔

  سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ 2014 سے عدل وانصاف کے پیمانے بدل چکے ہیں،بھائی چارہ،برابری اور مساوات کی باتیں دور دور تک نظر نہیں آرہی ہیں۔

  دوچار سال سے  یعنی بابری مسجد کے متعلق فیصلے کے بعد سے شرپسندوں اور قوم پرستوں کے حوصلے بلند نظرارہے ہیں، یہ لوگ کسی کوخاطر میں نہیں لاتے ہیں۔

یہ عناصر وہی سنناااور دیکھنا چاہتے ہیں جوان کادل چاہتاہے،ملک میں عدل وانصاف کا حال انتہائی خستہ ہے، اقلیتی فرقےکو نشانہ بنانے کے لیے "بلڈوزرٹیکنک” کااستعمال کرتے  ہوئے ظلم کی انتہا کردی گئی ہے،اس سے حکمراں جماعت اور اس کے ہمنوا ذرائع ابلاغ نے چشم۔پوشی کی ہوئی ہے۔بلکہ دہلی کے جہانگیر پوری میں میونسپل انتظامیہ اور پولیس نے قانون کو بالائے طاق رکھ دیا، ماضی میں وزیراعلی اور کابینی وزراء کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے عہدوں پر فائز افسران  فرقہ وارانہ معاملات،ذات پات اور متنازع معاملات سے  دور رہتے تھے،لیکن موجودہ دور میں یہ بے لگام ہیں اور  ایسی کوئی پابندی نظر نہیں آرہی ہے،ان عناصرکو درپردہ سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔

جہاں تک دہلی پولیس کا معاملہ ہے ،جہانگیرپوری کے تشدد اوردوسال قبل ہونے والے فسادمیں اس کی جانبداری اور یکطرفہ کارروائی اظہرمن الشمس ہے۔اس بات کا پہلے ذکر کیاگیاہے کہ حال میں دہلی دھرم سنسد معاملہ میں سپریم کورٹ میں دہلی پولیس کی جانب سے گزشتہ ہفتہ حلف نامہ داخل کیا گیا تھا۔ اس حلف نامہ میں پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 19 دسمبر کو دہلی میں منعقد ہونے والی دھرم سنسد کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر نہیں کی گئی تھی۔  دھرم سنسد کی ویڈیو اور دیگر مواد کی گہرائی سے جانچ کی گئی ہے اور اس میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی بھی فرقہ کے خلاف نفرت انگیز بیان نہیں دئے گئے۔ وہیں سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بہتر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے حلف نامہ پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ صرف تفتیشی افسر کی رپورٹ ہے یا پھر پولیس کمشنر اور ڈی سی پی کا بھی یہی موقف ہے؟حالانکہ کپل سبل نے دہلی پولیس کے اس بیان پر نکتہ چینی کی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’دھرم سنسد کے مقررین کا مقصد سماج کی اخلاقیات کا دفاع کرنا تھا۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ ’’اس بیان کا کیا مطلب تھا؟‘‘کپل سبل نے بھی دہلی پولیس کے حلف نامہ پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ تحقیقات ہو چکی ہے اور انہوں نے کلین چٹ دے دی ہے۔ تفتیش کی گئی اور کوئی جرم نہیں پایا گیا۔ گووند پوری میں نفرت انگیز تقریر کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ایسے الفاظ کا کوئی استعمال نہیں کیاگیاہے، جن کی تشہیر کی جا سکتی ہے کہ بیان میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات کی گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ دہلی کے گووند پوری میں منعقد دھرم سنسد میں سدرشن نیوز ٹی وی کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے نے لوگوں سے حلف لینے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ہندو راشٹر کے لیے لڑیں گے، مریں گے اور ضرورت پڑی تو ماریں گے‘‘۔

ملک میں ماہ رمضان کے دوران ایک اور فتنہ پیدا کیاگیا اور حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ  تشویش ناک ہیں، اقلیتی فرقے نے برداشت،صبروتحمل نہ کیا ہوتا تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کرلیتی تھی،کیونکہ  گزشتہ کئی ہفتوں سے لاؤڈ اسپیکر کو لے کر ریاست کی سیاست کافی گرم ہے۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے 3 مئی تک مساجد پر نصب لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا الٹی میٹم دیاہے۔  مہاراشٹر حکومت اور  محکمہ داخلہ کاموقف سمجھ سے بالاترہے۔ کیونکہ ناسک کے کمشنر کی طرف سے جاری کیا گئے، اس  فرمان کے بعدکہ اذان سے پہلے اور بعد میں 15 منٹ تک لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسہ یا بھجن نہ بجانے دیاجائیگا اور مسجدکے سومیٹر کے دائرے میں  اس کی اجازت نہیں دی جائے گی،اس کے بعد حکم دینے والے پولیس  کمشنر دیپک پانڈے کاتبادلہ کردیاگیا۔حکومت مہاراشٹر کارویہ سمجھنے کاہے،نہ سمجھانے کا ۔

 عجیب بات یہ ہے کہ ملک کے سخت گیر عناصر کو بوکوحرام اور طالبان کہے جانے سے  ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ان کی سرگرمیاں مذکورہ تنظیموں سے بھی بدتر ہیں۔ فی الحال ملک میں  وزیراعظم نریندر مودی کانعرہ” سب کاساتھ سب کاوکاس اور سب کاوشواس "فی الحال کھوکھلا نظرآرہاہے،ملک کے حالات پر ایک تجزیاتی نظر دوڑائی جائے تو محسوس ہوگاکہ عدل و انصاف کو بالائے طاق رکھ دیاگیاہے اور مستقبل میں کچھ بھی ٹھیک ٹھاک نہیں نظرآرہاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا