بھارت میں منافرت اور تقسیم کے بڑھتے وائرس پر تشویش

 ڈاکٹر سیّد احمد قادری

 گزشتہ چند دنوں کے اندر رام نومی اور ہنومان جینتی کے نام پر ملک کے مختلف علاقوں میںجس طرح مذہب کے نام پر ملک کے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نازیبا جملوں کا استعمال کیا گیا، مساجد، درگاہ کی بے حرمتی کی گئی انھیں نذر آتش کیا گیا،مسلمانوں کو زدو کوب کیا گیا، ناکردہ گناہوں پر ان ہی مظلوموں کو رمضان جیسے مقدس ماہ میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ سب پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی میں ہوا۔ دھرم سنسد اور دوسری کئی فرقہ پرست تنظیموں نے ایسا ماحول بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ جس کے بارے میں دلی پولیس نے سپریم کورٹ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے دھرم سنسد میں متنازعہ اور نفرت انگیز تقاریر نہ ہونے کا حلف نامہ  داخل کیا ہے۔اس سفید جھوٹ پر سپریم کورٹ نے سخت سرزنش کرتے ہوئے دلی پولیس کو دوبارہ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ دھرم سنسد کے اسی پروگرام میں سدرشن چینل کے اینکر چوہانکے نے ہندو راشٹر کے قیام کے لیے پروگرام میں موجود لوگوں کومسلمانوں کے قتل عام کا حلف دلایا تھا۔اس ویڈیو کی کلپ کو کپل سبل نے سپریم کورٹ میں ثبوت کے طور پر داخل کیا ہے۔ رام نومی اور ہنومان جینتی کی آڑ میں پورے ملک نفرت اور خوف و دہشت کا ماحول بنانے کے بعد جہانگیر پوری میں جس طرح غیر آئینی اور غیر انسانی واقعات دانستہ طور پر برسر اقتدار حکومت کی سرپرستی میںرونما ہوئے۔ انتظامیہ کے ذریعہ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور مسجد پر جس طرح بلڈوزر چلا کر  آئین اور قوانین کو روندا گیا۔ ان سانحات اور واقعات نے پوری دنیا کے سامنے صدیوں سے اپنی گنگا جمنی تہذیب اور جمہوری ملک کی پہچان رکھنے والے ملک کی شبیہ کو کریہہ کیا ہے۔ اس پر جتنا بھی افسوس اورمذمت کیا جائے وہ کم ہے۔

      ان منصوبہ بند اور منظم فرقہ واریت اور منافرت سے بھری سازش، سانحات اور واقعات پر ایک عمومی جائزہ لیا جائے تواندازہ ہوگا کہ جیسے جیسے عوام کی بنیادی ضروریات اور سہولیات کے محاذ پر حکومت کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور عوام ا لناس کی خفگی، احتجاج اور مظاہرے آئے دن دیکھنے کو مل رہے ہیں اور ان کا صبر و تحمل ختم ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے پچاس برسوں تک اقتدار میں رہنے اور اپنے مفادات پورا کرنے کا خواب انھیں چکنا چور ہوتا نظر آ رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ حکومت کے کرشمائی وزیر اعظم کے سارے دل لبھاونے وعدے، دعوے، نعرے اور مستقبل کے سنہری خواب کی حقیقت بھی سامنے آ گئی۔ کسی عفریت کی طرح منھ کھولے کروڑوں نوجوانوں کی بے روزگاری، غربت و افلاس کے اندھیرے میں ڈوبتی زندگی اور آسمان چھوتی مہنگائی نے انسان کی زندگی کو مایوسیوں اور گھٹن میں بدل دیا ہے۔ان بڑھتے بنیادی مسائل اور بے قابو ہوتے حالات میں موجودہ حکومت کے پاس ملک کے اندر منافرت، تشدد، ظلم و ستم، مذہبی جنون، عداوت، عدم رواداری، عدم تحمل کی فضا تیار کراصل مسائل سے لوگوں کے ذہن کو بھٹکانے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا ہے۔ حالانکہ حکومت، آر ایس ایس اور ان کی ذیلی تنظیموں کی ایسی غیر انسانی اور غیر آئینی کوششوں کو عام طور پر عوامی حمایت حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔گویا مذہب کی افیم چٹانے کی کوشش بھی ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ آج کا نوجوان مذہب کے ساتھ ساتھ اچھی اور خوشحال زندگی کا متمنی ہے۔ لیکن افسوس کہ ان نوجوانوں کی بڑھتی بے روزگاری، ذہنی انتشار اور مایوسیوں کو دور کرنے کے بجائے ان کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

        ملک کے عوام الناس کو پانچ ٹریلین کا خواب دکھانے والے کی حقیقت یہ ہے کہ ملک اس وقت 139 لاکھ کروڑ تک کے قرض میں گردن میں ڈوب گیا ہے۔ ورلڈ بینک نے ہندوستان کو ترقی پزیر ملک کا ٹیگ ہٹا کر پاکستان، گھانا اور زمبیا جیسے ممالک کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔ جو اس ملک کے لیے بہت زیادہ شرمناک اور مایوس کن ہے کہ اب بھارت لوور مڈل انکم کیٹگری میں شمار ہوگا۔ غور کیجئے کہ جو ملک وشو گرو بننے کا خواب دیکھ اور دکھا رہا تھا۔ اس کی معیشت اور ترقی گرتے گرتے گھانا اور زمبیا جیسے بہت چھوٹے غیر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے۔ بے روزگاری، بھوک مری اور کرپشن کے اعداد شمار میں عالمی سطح پر یہ ملک پہلے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کمار وشواس نے طنزیہ کہا کہ بن گیا نہ ہمارا ملک نمبر ون۔ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ ہندوستان میں اقلیت مخالف شبیہ سے ملک کی معیشت کو بڑا نقصان ہانے کا اندیشہ ہے۔ ادھر کرناٹک میں اگلے سال انتخاب جیتنے کی ہوڑ میںفرقہ واریت اور منافرت کی مسموم فضا تیار کرنے کے لیے حجاب، حلال اور اذان جیسے مدعوں کو اٹھا کر پوری ریاست میں اس طرح انتشار، بد نظمی اور لا قانونیت کو ہوا دی جا رہی ہے کہ اس ریاست کی بہت ساری ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اس پراگندہ ماحول سے نکل جانے میں ہی عافیت سمجھا۔ حکومت کرناٹک کے ذریعہ یہاں کے مسلمانوں پر کئے جا رہے مظالم پر کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدورپّا نے بھی سخت الفاظ میں مذّمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہاںکے مسلمانوں کو شانتی اور عزّت سے جینے دو۔ ‘ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی (بظاہر) اس قدر ہوڑ لگی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک سری لنکا، نیپال وغیرہ کا حال دیکھ کر بھی سبق نہیں لے رہا ہے۔ در حقیقت ملک کے سربراہ کو نہ ہی ہندو مذہب سے اتنی عقیدت ہے اور نہ ہی ہندو راشٹر اور نہ ہی ملک کی ترقی و بہبود سے ہے۔ فرقہ پرستی کی فضاپھیلا کر یہ لوگ ہندو مذہب اور ہندوراشٹر کے نام پر لمبی مدت کے لیے اقتدار پر قابض رہنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جو نہیں کرنا چاہیے، خواہ ملک کی سا  لمیت خطرہ میں پڑجائے۔ ملک کے لوگ تعلیم، صحت عامّہ، بے روزگاری، آسمان چھوتی مہنگائی، بڑھتی غربت و افلاس، پینے کا صاف پانی، جیسے بنیادی مسئلے سے دوچار ہوں تو ہوں۔ لیکن حکومت اپنی ناعاقبت اندیشی اور فرقہ واریت کو کامیابی کی پتوار سمجھ کر آگے نکلنے کی ہر کوشش کر رہی ہے۔ پورے ملک میں بد امنی اور منافرت کا زہر پھیلا نے میں وہ بے روزگار نوجوانوں کی بے روزگاری اور ان کی پیسے کی ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں پورے نوجوان نسل کو تباہ و برباد کر رہی ہے۔ انھیں کچھ پیسوں کے عوض مذہبی نعرے لگانے، مسلمانوں کوگالی گلوچ کرنے اور یتی نرسنگھا نند،بجرنگ منی اور کپل مشرا   جیسے مجرمانہ کردار والے فرقہ پرست،مذہب کے نام پراوراپنے مفادات پورا کرنے کے لیے مسلم عورتوں کے ساتھ زنا کرنے، مسلمانوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے، مسلمانوں کو چن چن کر قتل کرنے کی ترغیب پولیس اور انتظامیہ کے سامنے دے کر اپنی نفرت بھری جوشیلی تقریر سے تالیاں بجوانے کا کام لیتی ہیں۔ یہ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ چونکہ سرکردہ قیادت کی انھیں سرپرستی حاصل ہے اس لیے ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ جو بہت ہی واضح طور گزشتہ دنوں رام نومی اور ہنومان جینتی کے موقع پر ملک کی کئی ریاستوں میں دیکھنے کو ملا۔ مجرمین کے خلاف بیان دینے سے بھی پولیس مکر گئی اور انھیں بے قصور ثابت کرنے میں ہر حربہ استعمال کیا۔ ایسے ہی حالات سے متاثر ہو کر کسی شاعر نے کہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔

وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھرے

 اقربأ میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر

           منافرت کے بڑھتے شعلوں میں گھرے امن و مان اور یکجہتی کے لیے پہچان رکھنے والے ملک کی ایسی سنگین حالات کو دیکھتے ہوئے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی تشویش کا برملا اظہار کیا جارہا ہے۔ شیو سینا کے سنجئے راوت نے تو بہت ہی واضح طور یہ کہا ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے ملک کو توڑنے پر آمادہ ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی سمیت ملک کی تیرہ حزب مخالف سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ملک کے اندر فرقہ پرستی، ظلم و زیادتی، تشدد، بربریت، عدم رواداری، مذہبی اختلافات کے بڑھتے سنگین حالات پر ان کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے خورد و نوش، لباس، عقاعد، تہوار، اور زبان کی بنیاد پر پولرائزیشن کی کوششوں پر غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔ اس مشترکہ بیان میں سونیا گاندھی کے علاوہ این سی پی کے شرد پوار، ٹی ایم سی کی سربراہ ممتا بنرجی، ڈی ایم کے، کے سربراہ ایم کے اسٹالن، سی پی آئی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری، جھامو کے شیبو سورین، راجد کے تیجسوی یادو کے ساتھ ساتھ ڈی راجا، دیپانکر بھٹاچاریہ وغیرہ نے ملک میں بڑھتی منافرت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم سے ایسے ماحول بنا کر ملک کا نقصان کرنے والوں کے خلاف بولنے اور کاروائی کرنے کی گزارش کی ہے۔ اپوزیشن کے اس سوال پر وزیر اعظم کی اب تک خاموشی تو نہیں ٹوٹی لیکن انھیں پریشان تو ضرور کر دیا ہے کہ اب تک اتنی پُر زور طریقے سے پہلی بار ان سے سوال کیا گیا ہے ورنہ پہلے تو ایسے فرقہ وارانہ تشدد پر حزب مخالف ٹک ٹک دیدم کی تصویر بنا رہتا تھا۔ ملک کے طول وعرض میں جس طرح مذہبی جلوس نے بد امنی پھیلائی اور ملک کے امن و امان کو تار تار کیا، اس کے بعد پورے ملک سے مذہبی جلوس پر پابندی عاید کئے جانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ راشٹریہ سیکولر منچ کے آرگنائزر اور پرگتی شیل لیکھک سنگھ کے جنرل سکریٹری شیلندر شیلی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انھوں نے اپنی کتاب ’’ فرقہ ورانہ فساد آزادی کے بعد ‘‘ میں کئی دنگوں کی تفصیلات دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی جلوس خواہ کسی کا بھی ہو اس پر پابندی ضروری ہے۔ مشہور مؤرخ رام چندر گوہا نے بھی ملک کے اندر پھیلائی جا رہی بد امنی کی مذمت کی ہے۔ معروف ماہر معاشیات اور کانگریس رہنما پی چندمبرم نے ایسے حالات پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ کارکردگی کے نام پر ان کے پاس کچھ نہیں اس لیے مذہبی جنون کو ہوا دے کر اپنے مفادات پورا کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ امریکی کانگریس ممبر نے ہمارے وزیر اعظم کا موازنہ چلی کے تانا شاہ پی نوشے سے کیاہے۔ جس کے دور حکومت میں جنتا کے ساتھ سفّاکانہ سلوک کیا گیا۔ اپنے ٹویئٹ میں سوامی نے بتایا کہ ’مودی کو نیا پی نوشے قرار دینے کے بعد ان پر تنقید کرنے والے امریکی کانگریس کے ممبر جس طرح ہنسے، وہ کتنی بھیانک بے عزتی ہے۔ جئے شنکر کو اس بیان کی مخالفت کرنا چاہیے۔ حال ہی میں امریکہ کے دورہ پر گئے ملک کے وزیر خارجہ جئے شنکر اور وزیر دفاع کو اس وقت کافی خفّت اٹھانی پڑی جب امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے بھارت میں مسلسل انسانی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کے اس براہ راست انتباہ کو ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل امریکی قانون ساز الہان عمر جو پوری دنیا میں حقوق انسانی کے مسائل اٹھاتی رہتی ہیں انھوں نے بھی بھارت میںمسلمانوں کے حوالے سے مودی حکومت کی سخت تنقیدکی ہے اور کہا ہے کہ مودی کی حکومت میں وہاں کے مسلمانوںکے ساتھ حقوق انسانی کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ بین الا قوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مدھیہ پردیش کے کھر گون میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی مذمّت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کاروائی اجتمائی سزا دینے کے مترادف ہے جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دیگر کئی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حکومت ہند کی سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ ہو ری تفریق پر گہری تشویش کا اظہار اور احتجاج کیا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ اب ملک کے سپریم کورٹ کے جسٹس ارون مشرا نے بھی حکومت پر سخت الفاظ میں اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا ملک میں کوئی قانون نہیں بچا ہے۔ مجھے اب اس ملک میں کام نہیں کرنا چاہیے۔ کیا سپریم کورٹ کی اب کوئی قیمت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بند کر دیتے ہیں ملک چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر کی اتنے سخت ریمارکس کے بعد بھی اگر حکومت سوئی ہے تو اسے اس کی بے حسی یا بے بسی ہی کہا جاسکتا ہے۔

           حقیقت یہ ہے اس وقت ملک بہت ہی دشوار گزار مراحل سے گزر رہا ہے۔ ملک کا ہر طبقہ پریشان حال ہے۔ مسائل کے بوجھ سے لوگ کراہ رہے ہیں۔ ایسے میں لوگوں کو مذہبی جنون میں مبتلا کران کے ذہن کو بھٹکانے میں (وقتی)عافیت محسوس کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے سیاسی اور ذاتی مقاصد پورا کرنے اور حکومت چلانے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ان لوگوں نے تمام تر شکایات، مذمت، انتباہ، احتجاج اور مظاہروں کر در کنار کرتے ہوئے نہ صرف ملک کے وقار کو ختم کر دیا بلکہ اس کی سا  لمیت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات پر رفیع الدین راز کا ایک شعر برجستہ یاد آ رہا ہے۔

  بصارت ہے تو اک ایک منظر دیکھ سکتے ہو 

جو پتھر میں ہے پوشیدہ وہ ٹھوکردیکھ سکتے ہو

 ٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


1 تبصرہ
  1. سید احمد قادری کہتے ہیں

    مضمون کی شمولیت کے لیے بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا