تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

کلیم الحفیظ

بھارت کی پانچ ریاستوں میں انتخابی مہم چل رہی ہے۔ سب کی نگاہیں اتر پردیش کے الیکش پر ٹکی ہیں، اس لیے کہ یہاں من جملہ دیگر پارٹیوں کے مجلس اتحاد المسلمین بھی میدان میں ہے۔ کووڈ کی وجہ سے انتخابی تشہیر اس طرح تو نہیں ہورہی جس طرح ہوا کرتی تھی پھر بھی ورچوئل ریلیاں ہورہی ہیں، سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجے جارہے ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے سہارے اپنی بات پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اتر پردیش میںحکمراں جماعت کے بڑے بڑے لیڈران گھر گھر جاکر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ حکمراں جماعت جس نے شہروں اور اسٹیشنوں کے نام بدلنے، شہریوں کے درمیان نفرت بڑھانے اور مندر مسجد کی سیاست کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ہے، اسے مغربی اتر پردیش میں سخت مخالفت کا سامنا ہے، کئی گائوں اور شہروں میں بینر لگے ہیں کہ یہاں بی جے پی کے لیڈروں کا آنا منع ہے۔ ملک کے بھاری بھرکم وزیر داخلہ امت شاہ جاٹ لیڈران کو منانے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ ہر طرح ڈورے ڈالے جارہے ہیں۔ کوئی مظفر نگر دنگوں کی یاد دلاکر گرمی ٹھنڈی کرنے کی بات کہہ رہا ہے۔ اسی درمیان ایک بندۂ خدا جس کا نام اسد الدین اویسی ہے اپنی قوم اور مظلوموں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اس بندہ ٔ خدا کا کہنا ہے کہ آزادی کے بعد پچھلے چوہتر سال سے ہم غیر مذہب کے لوگوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ ان کی دریاں بچھاتے رہے ہیں، ان کی جوتیاں سیدھی کرتے رہے ہیں۔ مگر بدلے میں ہمیں انھوں نے ہمارا حق نہیں دیا۔ ہم سے وعدے کرتے رہے مگر وہ وعدے کبھی وفا نہیں کیے۔ اس بندہ ٔ خدا کی یہ بات سو فیصد درست ہے۔ اتر پردیش کے کسی گوشے میں بھی مسلمانوں کو ان کا جائز حق نہیں ملا۔ تعلیم،صحت،روزگار،تحفظ،کسی بھی شعبے میں انھیں ترقی نہیں ملی۔ سرکاری اسکیموں سے وہ محروم رہے۔ البتہ جھوٹے الزامات لگاکر ناجائز مقدمات میں جیلوں میں بند کردیا گیا۔ یوگی سرکار مسلمانوں پر ظلم کرتی رہی اور سب خاموش تماشا دیکھتے رہے۔ اب تو کم از کم اتر پردیش کے مسلمانوں کو آنکھیں کھولنی چاہیے۔ لیکن ابھی بھی جو صورت حال ہے وہ افسوس ناک ہے۔ سگے بھائی کی ذرا سی بات پر اس سے ناطہ توڑنے والا مسلمان، اکھلیش کی زیادتیوں کو بھولنے کو تیار ہے۔ ایک بار پھر مسلمانوں کو بی جے پی کا خوف دلایا جارہا ہے۔ جتنے مسلمانوں سے میری بات ہوئی ان کا کہنا ہے کہ ایک بار اور سماج وادی کو ووٹ کرنا ہے اگر اس نے اب دھوکا دیا تو اگلی بار اویسی صاحب کو ہی ووٹ دیں گے۔ یہ کتنا حماقت بھرا جواب ہے، یعنی جان بوجھ کر کنویں میں کودنے کا ارادہ ہے، سوچ سمجھ کر زہر کا پیالہ پیا جارہا ہے۔ ایک بار پھر ان لوگوں پر اعتماد کیا جارہا ہے جنھوں نے ہمارے خون کی ہولیاں کھیلی ہیں، فرقہ وارانہ فسادات میں اہم رول ادا کرنے والوں کو ٹکٹ دیے۔ جس نے مقتول ڈی ایس پی ضیاء الحق کے قاتلوں کو اپنا امید وار بنایا۔ جس نے مغربی اتر پردیش کو اس دَل کے حوالے کردیا جو کسی وقت بھی بی جے پی سے ہاتھ ملا سکتا ہے۔ جس نے اعظم خاں جیسے قدآور لیڈر کی کوئی خبر نہیں لی۔

آخر ایسی کونسی مجبوری ہے کہ ہم سماج وادی کو ووٹ کریں۔ یوگی جی کے پانچ سال میں مسلمانوں کے خلاف جو قانون بنے کیا آپ سمجھتے ہیں وہ واپس ہوجائیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا۔ جو قانون بن چکے ہیں وہ باقی رہیں گے یہی سماج وادی تھی جس نے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو18فیصد رزرویشن دیں گے۔ اس نے کہا تھا بے گناہوں کو جیل سے باہر لائیں گے، اس کے اس وعدے پر یقین کرکے مسلمانوں نے ووٹ دیا اور اکھلیش بھیا وزیر اعلیٰ بن گئے، مگر پورے پانچ سال گزرگئے رزرویشن کی بات بھی نہیں ہوئی، وہ بے گناہوں کو جیل سے تو آزاد نہ کراسکے بلکہ خالد مجاہد کوپولس نے شہید کرکے دنیا سے آزاد کردیا،مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کا دم بھرنے والوں کے زمانے میں تقریباً دودرجن سے زیادہ فرقہ وارانہ فساد ہوئے۔ امت مسلمہ کاقوت حافظہ اتنا کمزور کیوں ہوگیا ؟وہ کسی کے خوف سے گھبرا کر اپنے قاتلوں کو کیوں بھول گئے ؟اگر اس الیکشن میں پھر وہی غلطی دہرائی گئی جو 2017میں دہرائی گئی تھی تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔

بی جے پی سے گھبرانے کی کیا ضرورت ہے،اللہ سے ڈرنے والے بتوں کے بندوں سے کیوں ڈرنے لگے۔ اللہ نے ہر شر میں خیر کے پہلو رکھے ہیں۔ بی جے پی کے مظالم ہمیں بیدار کرنے میں معاون ہیں، وہ طلاق کا قانون لائے تو لوگوں نے اسلام کے قانون طلاق کو سمجھا، وہ لو جہاد پر قانون لائے تو جہاد پر گفتگو کا موقع ملا،وہ تبدیلی مذہب قانون لائے تو شہریوں کے بنیادی حقوق زیر بحث آگئے، ان ظالموں کی وجہ سے مسلمانوں کے صفوں میں اتحاد کے آثار دکھائی دیے، مجھے یاد نہیں کہ پچھلے پانچ سال میں شیعہ سنی، یا بریلوی اور دیوبندیوں کے درمیان کوئی فساد ہوا ہو۔ اگر انھوں نے ہم پر تعلیم کے دروازے بند کیے تو ہم نے اپنے ادارے کھولنے پر توجہ دی،اگر انھوں نے ہماری مسجد کی جگہ رام مندر بنایا تو مسلمانوں کو اپنی مساجد کے قانونی حفاظت کا خیال آیا۔ اس لیے کسی قسم کی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہونا ہے۔ آپ کی فلاح اور کامیابی اسی میں ہے کہ آپ اپنی قیادت کو مضبوط کریں۔ اویسی صاحب گلی گلی اور گائوں گائوں جاکر آپ کو جگا رہے ہیں، آپ بھی ان سے بہت محبت کرتے ہیں، اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ان پر اعتماد بھی کریں۔ ان کے نمائندوں کو ووٹ دیں، چاہے ان کا نمائندہ ہار جائے لیکن آپ اپنے ووٹوں کی گنتی ضرور کرادیجیے۔ آپ دوسروں کو جو ووٹ کرتے ہیں اس کی طاقت کو کوئی تسلیم نہیں کرتا، لیکن اویسی صاحب کو ڈالا جانے ایک ایک ووٹ بہت قیمتی ہے، اس کی طاقت کا شاید آپ کا اندازہ نہیں۔

فرقہ پرست سیاست جس انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ جس ملک میں تعلیم اور صحت کی بگڑتی صورت حال،بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ،انسانی خون کی ارزانی کے بجائے گائے اورمندرکی بات ہو،جہاں طلاق ثلاثہ اور محرم کے بغیر سفر حج کو سرکار کے عظیم اور گرانقدر کارنامے شمار کیے جاتے ہوں۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ میری مجلس کے ذمہ داران اور کارکنان سے گزارش ہے کہ وہ قوم کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ امت مسلمہ نے آج تک اتنے دھوکے کھائے ہیں کہ وہ اب مزید دھوکے کو برداشت نہیں کرسکتی۔ وہ اپنی قیادت کے نام پربھی دھوکا کھا چکی ہے۔ اس لیے اب مزید کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہیے کہ امت کے نصیب میں پھر دھوکا آجائے۔ اس کے لیے مجلس کے وابستگان کو اپنے جذبات کی قربانی دینا ہوگی، ہوسکتا ہے کہ مجلس کے قومی ذمہ داران ان کی رائے کے خلاف کسی کو امیدوار بنادیں، ان کی مرضی بھی معلوم نہ کریں،اس وقت آپ کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اگر آپ بیرسٹر صاحب کو اپنا قائد تسلیم کرچکے ہیں تو پھر ان کے فیصلوں کو بھی تسلیم کیجیے، اگر آپ کی نظرمیں کوئی فیصلہ نامناسب ہے تب بھی کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی جائیے۔ اس لیے کہ آپ کا انتشار مخالفین کے حوصلوں کو طاقت دیتا ہے اور عام مسلمانوں کو بدگمان کردیتا ہے،میرے عزیزو! مجلس ہندی مسلمانوں کی امید کا آخری چراغ ہے،اسے اپنا خون دے کر بھی روشن رکھیے۔ یاد رکھیے، مسلمانوں کو اگر اپنے مسائل حل کرنے ہیں تو انھیں سیاسی طور پر اپنے جھنڈے کے نیچے متحد ہونا ہی ہوگا۔ ورنہ بقول علامہ اقبال ؒ

نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندی مسلمانوں

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔