دنیا بھر میں مزدوروں کا حال اور یوم مزدور

جاوید اختر بھارتی

ہر سال یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے اس موقع پر گھڑ یالی آنسو بہائے جاتے ہیں، شامیانے لگائے جاتے ہیں، مائک اور اسپیکر نصب کئے جاتے ہیں، کسی مشہور شخصیت کی آمد ہوتی ہے، پھر ان کا خطاب ہوتا ہے، تالیاں بجائی جاتی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس آج سے مزدوروں کے حالات بدل جائیں گے، سارے مزدور خود کفیل ہو جائیں گے اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر بھی کسی اصلی مزدور کو پروگرام کے ارد گرد بھٹکنے نہیں دیا جاتا اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یوم مزدور کے نام سے تقاریب کا انعقاد کرنے کرانے والوں کے سینے میں مزدوروں کا کتنا درد ہے-

حقیقت یہ ہے کہ سفید پوش شخصیات کو معلوم ہوتا ہے کہ آج یوم مزدور ہے ، آج ہمیں کہیں جانا ہے، روائتی انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہانا ہے، اپنے نام کا نعرہ لگوانا ہے، فوٹوگرافی کرانا ہے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے شہرت حاصل کرنا ہے ،، دوسرے پہلو پر نظر دوڑائی جائے تو مزدور کو خود نہیں معلوم ہوتا ہے کہ آج یوم مزدور ہے اور وہ زمین کی کھدائی، پتھر کی توڑائی، کھیت کی کوڑائی، فصلوں کی بوائی و روپائی، ہوٹلوں اور ڈھابوں پر برتنوں کی صاف صفائی، چلچلاتی دھوپ میں چھتوں کی ڈھلائی، بھٹوں پر اینٹوں کی پتھائی اور پکائی میں مصروف رہتا ہے کیونکہ یہی ایک مزدور کا مقدر ہوتا ہے-

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مزدوروں کے حالات نہیں بدل تے تو پھر یوم مزدور کے نام پر دنیا بھر میں کروڑوں روپے پانی کی بہانے سے کیا فائدہ؟ آخر یہ مزدوروں کے جزبات کے ساتھ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے؟ مزدوروں کی مصیبت و غربت کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟ اس بات میں سو فیصد سچائی ہے کہ مزدور کل بھی مظلوم تھا اور آج بھی مظلوم ہے وہ اس لیے کہ مزدوروں کے روشن مستقبل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے-

ہر سال کی طرح امسال بھی یکم مئی کو یوم مزدور منایا گیا اور سوشل میڈیا پر خوب تصاویر اور تقاریر وائرل ہوئیں، دنیا بھر میں اسٹیج بنے اور نمائشی انداز کا مظاہرہ کیا گیا اور مزدوروں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا ڈھڈورا پیٹا گیا اور مزدور بیچارہ روزانہ کی طرح لو کے تھپیڑے کھاتا رہا، سر سے پاؤں تک پسینہ بہاتا رہا، دھوپ گرمی تپش کی مار جھیلتا رہا اور دو وقت کی روٹی کے لیے اور اپنے بچوں کی بھوک پیاس کو مٹانے و بجھانے کے لیے بیرون ملک میں بکریاں چراتا رہا، جنگلوں اور پہاڑوں کے درمیان اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا رہا، سات سمندر پار سکالوں اور ٹاور کرینوں پر چڑھ کر زندگی اور موت کے درمیان دن گزارتا رہا کہ کہیں دہاڑی نہ ٹوٹ جائے، کہیں تنخواہوں میں کٹوتی نہ ہوجائے ہاتھوں میں چھالے پڑے رہے، پیروں میں بیوائی پھٹی رہی، چہرہ گرد آلود رہا اسے پتہ بھی نہیں رہا کہ آج یوم مزدور ہے، اور پھر جب یوم مزدور ہے تو اسے مزدوروں کو منانا چاہیے نہ کہ بڑے بڑے رؤساء و امراء اور وزراء و سیاستدانوں کو منانا چاہیے؟

یوم مزدور کے موقع پر اگر مزدوروں کو بلایا جاتا ان کے دکھ درد کو خود ان کی زبانی بیان کرنے کا موقع دیا جاتا اور مزدوروں کی طرف سے آنے والی تجاویز پر غور کیا جاتا اور اسی کے مطابق پالیسی بنائی جاتی تو مزدوروں کو بھی معلوم ہوتا کہ آج یوم مزدور ہے آج ہمارے حق میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا مگر آج تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا صرف یکم مئی کو یوم مزدور کا نام دیا گیا اور یوم مزدور منایا گیا اور بڑے بڑے سرمایہ داروں و پونجی پتیوں نے اس میں شرکت کی آج تک شائد ان سے کسی نے سوال بھی نہیں کیا ہوگا کہ مزدور تو آج بھی پتھر توڑ رہے ہیں، سکالے پر لٹکے ہوئے ہیں، کنکریٹ کی دیوار و چھت ڈھال رہے ہیں، چلچلاتی دھوپ میں سڑک بنارہے ہیں، ہوٹلوں اور ڈھابوں پر ڈانٹ پھٹکار سن رہے ہیں، سروں کے بال سے پاوں کے ناخن تک پسینے میں شرابور ہیں، زیر تعمیر بلڈنگوں کی اونچائی پر بیلٹ لگاکر ٹنگے ہوئے ہیں اور اپنی قسمت پر اپنی آنکھوں سے آنسو بہارہے ہیں اور آپ لوگ مہنگی مہنگی کاروں میں سفر کرتے ہیں اور مہنگے مہنگے لباسوں میں ملبوس ہوکر یوم مزدور منارہے ہیں جبکہ کسی مزدور بات چیت نہیں، کسی مزدور سے سلام و کلام اور مصافحہ بھی نہیں تو آخر اس کا مقصد کیا ہے اس کا پیغام کیا ہے؟

اور یہ بھی ایک بہت بڑا سوال ہے کہ عالمی سطح پر مزدوروں کا درد اقوام متحدہ نہیں محسوس کرے گا تو پھر کون کرے گا اور ملکی سطح پر حاکم وقت مزدوروں کے حالات سے روشناس نہیں ہوگا ان کے دکھ درد کو محسوس نہیں کرے گا تو کون کرے گا آخر یوم مزدور منالینا ، اس میں تالیاں بجوا لینا اس سے تو مزدوروں کا بھلا نہیں ہوسکتا،، مزدوروں کا درد محسوس کیا تھا امیر المومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب خلیفۃ المسلمین مقرر ہوئے تو ان کی ماہانہ تنخواہ کا معاملہ آیا تو خود حضرت صدیق اکبر نے کہا کہ مدینہ منورہ میں پورا دن کام کرنے والے ایک مزدور کی ماہانہ تنخواہ جتنی ہے یا ایک دن کی مزدوری جتنی ہے اتنی ہی میری تنخواہ رکھ دیا جائے لوگوں نے کہا کہ اے أمیر المؤمنین کیا اس سے آپ کا خرچ پورا ہوجائے گا اور آپ کا کام چل جائے گا تو أمیر المؤمنین نے کہا کہ جب ایک مزدور کا کام اتنے میں چل سکتا ہے تو میرا بھی چل جائے گا اور اگر نہیں چلا تو میں مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کردوں گا،، قربان جائیے کام نہ چلنے کی صورت میں اپنی تنخواہ بڑھانے کی بات نہیں کہی بلکہ مزدوروں کا دکھ درد سمجھا اور مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافے کی بات کہی کیونکہ مذہب اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مزدوروں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری ادا کرو اور آج تو لوگ مزدوروں کا خون چوسنے پر تلے ہوئے ہیں وہ تو اللہ ربّ العالمین نے زندگی اور موت، عزت و ذلت اور أولاد دینا رزق دینا یہ عظیم ترین خصوصی پاور و اختیار خود اپنے پاس رکھا ہے ورنہ انسانوں کے بس کی بات ہوتی تو جو مزدوری وقت پر پوری پوری ادا نہ کرے بلکہ مزدوری کی ادائیگی میں حق مارے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ رزق کیسے دے سکتا ہے اور نہیں تو بے حیائ پر آمادہ چلے ہیں دنیا بھر میں یوم مزدور منانے اور مزدوروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے یہ ایک رسم ہے، ایک نمائش ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا