سر سید احمد خاں کا جدید تصور تعلیم اور اصلاح ہندستانی تہذیب و معاشرہ

Download PC Cleaner Pro 14.0.26 Crack With License Key [Latest] 2021 Free

ڈاکٹر صالحہ صدیقی

سر سید احمد خاں کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے،جنھوں نے اپنے افکار و نظریات، اپنی علمیت، اپنی فراست، اپنی محنت و لگن اور اپنی اولوالعزمی سے اپنی شخصی جاذبیت سے، اپنے مشاہدات و تجربات سے مسلمانوں کو ایک نیا افکار و نظریات عطا کیا۔ برسوں سے گمراہی و لاعلمی کی زندگی گزار رہے مسلمانوں کی سوچ کی دھارا انھوں ننے موڑ کر رکھ دی۔اس طرح مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کر انھیں حقیقت سے روشناس کرانے انھیں جدیدتعلیم سے واقف کرانے کے لیے عملی کوششیں کرنے والوں میں سر سید احمد خاں کو ممتاز حیثیت حاصل ہیں۔ جنھوں نے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی اصلاح، فلاح و بہبود اور شعور کی بیداری کا بیڑا اٹھایا۔ مایوس و یاس و گمراہ میں بھٹکنے والے مسلمانوں میں ایک نیا جوش وولولہ پیدا کیا۔ ان کی لافانی خدمات آج تک ترو تازہ ہے انھوں نے سماج کے ان بنیادی مسائل کو اپنا مقصد حیات چنا جس کا برسوں سے ہندوستان شکار رہاہے یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد نہ جانے کتنی تحریکیں آئی اور گئی لیکن ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی سرسید کی تحریک پرانی نہیں ہوئی بلکہ آج اکیسویں صدی کے حالات پر بھی صادق آتی ہے۔

جن کو مٹا سکے نہ کوئی دور انقلاب

کچھ ایسے نقش بھی تو بناتے ہوئے چلو

سر سید کی بے لوث خدمات سے ان کے افکار و نظریات سے جہاں ایک طرف مسلمان طبقہ مستفید ہو رہا تھا، ان کی زندگی میں ایک نیا آفتاب طلوع ہورہاتھا،سرسید کی خدمات کا اعتراف اور حمایت کرنے والوں کا ایک بڑا حلقہ تھا تو دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ ان کی شخصیت متنازعہ فیہ بھی رہی مذہبی عقائد کے نقطۂ نظر سے علمائے وقت نے انھیں کافر وملحد کی صف میں کھڑا کیا تو دوسری طرف روشن خیال طبقے نے انھیں ’’مجتہدالعصر‘‘ اور ’’امام زمانہ ‘‘کے نام سے یاد کیا۔سرسید کے تعلیمی افکار کو جہاں دقیانوسی طبقے نے انھیں اسلام کش اور انگریزوں کا ہم نوا قرار دیا تو دوسری طرف ماہرین علم وفن اور دانشوروں نے انھیں زمانہ شناس، دور اندیش کے خطاب سے نوازا۔سیاسی میدان میں جہاں انھیں ابن الوقت کہا تو دوسری طرف سیاسی دانشواران نے ان کی ذہانت و متانت ان کی دور بینی کے سبب انھیں مصلح قوم کے نام سے یاد کیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اہل علم و نقد و نظر حتیٰ کہ ان کے مخالفین بھی فکری و نظریاتی اختلاف کے باوجود اس بات پر متفق نظر آتے ہے کہ سر سید احمد خاں کی شخصیت ایک سماجی، سیاسی، تمدنی، ثقافتی اور تہذیبی اداریے اور انجمن کی سی ہے جس نے مسلمانوں کی زندگی اور ان کی زندگی سے متعلق مختلف گوشوں کے رخ موڑنے، اس میں نئے امکانات روشن کرنے، زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے میں اپنی ذات سے بلند تر ہوکر مسلسل کوشش کرنے کی طرح ڈالی۔ آج مسلمانوں کی جو ترقی پسندانہ سوچ ہے ان میں جو بھی جدید تبدیلیاں، جو فکر و تحریک نظر آرہی ہے اس کی بنیاد برسوں پہلے سرسید احمد خاں نے ہی رکھی تھی، سر سید نے جو بیج برسوں پہلے بویا تھا آج تناور درخت کے مانند ہم سب کے سامنے ہے۔ سرسید کوبہت پہلے ہی یہ احساس ہوگیا تھا کہ اگر مسلمان نہیں سنبھلے اور وقت کے ساتھ آگے نہیں بڑھے تو ان کو تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شاید اسی لیے اقبال نے بھی کہا تھا کہ :

نظم ’’تصویر درد ‘‘

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوں !

تمھاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے

جو ہے راہ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے

سر سید احمد خاں نے علم حاصل کرنے پر سب سے زیادہ زودیا، خصوصا جدید تعلیم کو اولیت دیں۔ جس کے لیے انھوں نے شعر و ادب کو نئے زاویے سے پیش کیا۔۱۸۵۷ء کا انقلاب کئی معنوں میں ہندوستان کی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ اہم موڑ ہے جس نے قوم و ملت کے لیے فکر مند افراد کو غوروفکر کرنے پر مجبور کردیا۔سیاسی نظام کی تبدیلی نے بدلتے حالات کے بدلتے تقاضوں بدلتی قدروں کا احساس دلایا۔ مسلمانوں کی زبوں حالی اور ان کے معاشرے کی بدحالی کا ان میں پنپ رہی خامیوں کا احساس نہ ہونے کے باعث حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔ جس کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ سیاسی زوال کے باعث مسلمان اپنا وقار کھو رہے تھے۔ حکومت، عہدے، جاگیر، منصب، جو ان کے معاشی برتری اور اقتصادی خوش حالی کا اہم ذریعہ تھی سب کچھ ان سے چھن چکا تھا۔ فاتح قوم مسلمانوں کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے کہ کہیں یہ اپنا وقار واپس حاصل کرنے کے لیے دوبارا نہ اٹھ کھڑے ہو اس لیے انھوں نے 1857کے ہنگامے کا سارا ذمہ مسلمانوں کے سر پر ڈال دیا۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کو اس اذیت سے گزرنا پڑا جس کا اثر آج تک کہیں نہ کہیں موجود ہے۔یہ مسلمانوں کی لیے ایک لمحۂ فکریہ تھا۔جس نے فکرمند افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، ان میں ایک اہم نام سرسید احمد خاں کا بھی ہے۔ جو اس طبقے کے سر براہ تھے۔انھوں نے اپنی پوری زندگی مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ان کی اصلاح کے لیے وقف کر دی۔ اخبار، سائنٹفک سوسائٹی کے اداریوں اور تہذیب الاخلاق کے مضامین سے پتہ چلتاہے کہ سر سید ایک ماہر نباض کی طرح مسلمانوں کی دکھتی رگوں کو پہچان گئے تھے وہ لکھتے ہیں:

          ’’اس ملک میں ہماری قوم کا حال نہایت ابتر ہے اگر ہماری قوم میں صرف جہالت ہی ہوتی تو چنداں مشکل نہ تھی۔ مشکل تو یہ ہے کہ قوم کی قوم جہل مرکب میں مبتلا ہے۔

علوم جن کا رواج ہماری قوم میں تھا، یا ہے اور جس کے تکبر و غرور سے ہر ایک پھولا ہوا ہے دین و دنیا میں بکا ر آمد نہیں۔ علم ادب و انشا ء کی خوبی صرف لفظوں کے جمع کرنے اور ہم وزن کلموں تک ملانے اور دورازکار خیالاات بیان کرنے اور مبالغہ آمیز باتوں کے لکھنے پر منحصر ہے۔ فن شاعری جیسا ہمارے زمانے میں خراب اور ناقص ہے اس سے زیادہ کوئی چیز بری نہ ہوگی۔ علم دین توو وہ خراب ہوا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ اس معصوم، سیدھے سادے، سچے اور نیک طبیعت والے پیغمبر ؐنے جو خدا کے احکام بہت سادگی، صفائی اور بے تکلفی سے جاہل، ان پڑھ اور بادیہ نشین عرب کی قوم کو پہنچائے تھے ااس میں وہ نکتہ چینیاں اور باریکیاں پیدا کیں اور وہ مسائل فلسفہ اور دلائل منطقہ ملائی گئی کہ اس میں اس سچائی، صفائی اور سادگی کا مطلق اثر نہیں رہا۔ مجبوری لوگوں کو اصلی احکام کو جو قرآن اور متعمد حدیثوں میں تھے چھوڑنا پڑا،اور زید و عمر و کے بنائے ہوئے اصول کی پیروی کرنی پڑی۔ علم مجلس اور اخلاق اور برتاؤ دوستی کا ایک طریقہ پر پڑ گیا ہے جو نفاق سے بھی بدتر ہے۔

امیروں کا حال دیکھوں تو ان کو دن رات بٹیر لڑانے، مرغ لڑانے، کبوتر اڑانے اور اس طرح تما م لغویات میں زندگی بسر کرنے کے سوا اور کچھ کام نہیں تھا اور مذہبی طبقہ کا یہ حال کہ کینہ و نخوت اور اپنے تقدس و بزرگی اور خدا پرست ہونے کا گھمنڈ مقدس لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا پاؤگے، اور اگر دنیا میں شیطان کو ڈھونڈتے پھرو تو بجز مقدسین کے جبہ و دستار مبارک کے اور کہیں پتہ نہ ملے گا۔ ‘‘(بحوالہ :ملک فضل الدین (مرتب ) سرسید کے مضامین تہذیب الاخلاق (لاہور، ۱۳۲۳ھ)،ص۴۵۱)

 ۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں ہر جگہ انگریزی تعلیم ترقی کر چکی تھی، لیکن جیسا کہ الفریڈ کرافٹ کی تعلیمی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حالت تعلیمی اعتبار سے انتہائی پسماندہ تھی، پورے ملک میں مسلمان گریجویٹ کی تعداد بیس(20) تھی جن میں سترہ (17)بی۔اے اور تین (3) ایم۔ اے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بھی مسلمانوں کو اپنی پسماندگی کا احساس نہیں تھا جیسا کہ درج بالا اقتباس کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان طبقہ غفلت و گمراہی کے اندھیروں میں پوری طرح غرق تھا۔وہ اپنے قدیم علوم پر فخر کیا کرتے تھے، جدید علوم کی ناواقفیت سے وہ بے روزگاری اورافلاس میں مبتلا ہو چکے تھے پھر بھی انھیں اس کا احساس نہیں تھا، سرسید اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ :

’’ جو علوم مسلمانوں میں مروج ہے وہ بلا شبہ غیر مفید ہے اور حسب احتیاج وقت نہیں ہے اور یہی باعث ان کی مفلسی کا اصل سبب جہل ہے اور غیر مفید علوم کا عالم اور جاہل دونوں  برابر ہیں اس لیے ان سے نہ لوگوں کو کچھ فائدہ پہنچا ہے اور نہ وہ خودکچھ اپنا بھلا کر سکتے ہیں جو تعلیم کہ حسب احتیاج وقت لوگوں کی تعلیم و تربیت نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اول مفلس اور محتاج ااور پھر نالائو اور کاہل اور پھر ذلیل و خوار اور پھر چور و بدمعاش ہوجاتے ہیں۔ ‘‘(بحوالہ : سر راس مسعود (مرتب) خطوط سرسید، بدایوں 1922، ص39 )

سرسید کے نزدیک معاشرتی اصلاح کے لیے تعلیم یافتہ ہونا انتہائی اہم ہے، یہی وجہ تھی کہ سرسید فکر مند رہتے تھے کہ مسلمان تعلیم کی اہمیت کو سمجھے اور اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنے بچوں کوتعلیم دے۔، انھوں نے اسی بیداری کو لانے کے لیے رسالہ تہذیب الاخلاق میں متعدد مضامین بھی لکھے 26مئی 1873کو پٹنہ میں تقریر کرتے ہوئے سر سید نے کہا :

’’ جس وقت اولاد کی تربیت کا ذکر آتا ہے تو رئیسوں اور دولتمندوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی اولاد کی تعلیم خاص اپنے اہتمام سے اور ہر ایک علم کے عالم نو کر رکھ کر بخوبی کرسکتے ہیں۔ بعضوں کے دل میں یہ خیال پیداا ہوتا ہے کہ ہم کو اپنی ہی اولاد کی تعلیم و تربیت کرنی کافی ہے مگر یہ ایک بڑی غلطی ہے اور خود اپنی اولاد کے ساتھ دشمنی کرنے ہے۔ جہالت اور ناتربیتی و باکی مانند ہوتی ہے جب تک تمام شہر اس بدہوا سے پاک نہ ہو کوئی ایک گھر اپنے تئیں اس سے بچ نہیں سکتا۔ ‘‘  (بحوالہ :ملک فضل الدین (مرتب ) سرسید کے مضامین تہذیب الاخلاق (لاہور، ۱۳۲۳ھ)،ص429)

مسلمانوں کی زبوں حالی کا واحد سبب جو سرسید نے محسوس کیا وہ تھاجدیدتعلیم سے بے بہرہ ہونا۔ سرسید نے تعلیم خصوصا جدید تعلیم کو اولیت دی۔ان کے نزدیک جدید تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہیں جس کے ذریعہ مسلمان قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہیں اگر ہم اس عہد کے تعلیمی نظام پر نظر ڈالیں توپاتے ہے کہ مسلم عہد حکومت میں تعلیم کا ایک مخصوص نظام تھا ابتدائی تعلیم مکتبوں میں دی جاتی تھی جب کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مدارس تھے، اور یہ مدارس و مکاتب مسجدوں میں قائم ہوتے تھے جہاں صرف دینی تعلیم ہی دی جاتی تھی۔لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے قائم ہونے کے بعد ایک نیا انقلاب برپا ہوا۔ لیکن جدید تعلیم کی واقفیت سے مسلمان اس وقت بھڑکتے تھے۔ ایسے حالات میں سر سید کا مقصد تعلیم تھا کہ تعلیم یافتہ طبقہ ہر اعتبار سے قوم کے لیے مفید ہو اور ایک ایسے ترقی پذیر معاشرے کی تعمیر میں اپنا فرض انجام دے سکے۔ انھوں نے اس سلسلے میں اپنا نظریہ یوں بیان کیا :

’’ میں اپنی قوم میں ہزاروں نیکیاں دیکھتا ہوں پر نا شائستہ۔ ان میں نہایت دلیری اور جرأت پاتا ہوں پر خوفناک۔ ان میں نہایت قوی استدلال دیکھتا ہوں پر بے ڈھنگا،ان کو نہایت دانا اور عقلمند پاتا ہوں پر اکثر مکر و فریب اور زور سے ملے ہوئے۔ ان میں صبر و قناعت بھی اعلا  درجہ کی ہے مگر غیر مفید اور بے موقع پس میرا دل جلتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ اگر یہی ان کی عمدہ صفتیں عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو جائیں تو دین اور دنیا دونوں کے لیے کیسی کچھ مفید ہوں۔ ‘‘(بحوالہ : مجلہ تہذیب الاخلاق،علی گڑھ،جلد سوم، یکم شوال 1289ھ،ص،174)

سرسید اس بات سے بھی بخوبی واقف تھے کہ صرف چند کتابوں کا مطالعہ کر لینے سے یاسبق رٹ لینے کو تعلیم نہیں کہتے۔ ان نزدیک یہ اہم تھا کہ بچے کو ایسا ماحول ملنا چاہیے جہاں اس میں اچھی عادتیں پیدا ہو، سرسید کی اس سوچ کے پیچھے بھی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج یوونیورسٹی میں جو نظام تعلیم د یکھا تھا اس سے وہ کافی متاثر تھے، اسی لیے انھوں نے ماحول ملنے کی بات پر اہمیت دی وہ ایک جگہ یوں رقم طراز ہیں کہ :

’’ یہ جدا جدا وہ چیزیں ہیں جو کچھ انسان میں ہے اس کو باہر نکالنا انسان کو تعلیم دینا ہے اور اس کو کسی کام کے لائق کرنا اس کا تربیت کرنا ہے جوو قوتیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہیں ان کو تحریک دینا اور شگفتہ و شاداب کرنا انسان کی تعلیم ہے اور اس کو کسی بات کا مخزن اور مرکز بنانااس کی تربیت ہے۔ انسان کوو تعلیم دینادراصل کسی چیز کا باہر سے اس میں ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس کے دل کے سوتوں کو کھولنا اور اندر کے سر چشمہ کے پانی کو باہر نکالنا ہے جو صرف اندرونی قویٰ کو حرکت میں لانے اور شگفتہ و شاداب کرنے سے نکلتا ہے، اور جو انسان کی تربیت کرنا اس کے لیے سامان کو مہیا کرنا اور اس سے کام لینا ہے جیسے کہ حوض بنانے کے بعد اس میں پانی کا بھرنا۔‘‘(بحوالہ : ملک فضل الدین ’’مرتب ‘‘ سر سید کے مضامین تہذیب الاخلاق 1323ھ، لاہور، ص 56 )

سرسید کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد ایک بہتر انسان بنانا بھی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ بچہ اس قابل ہو جائے کہ وہ معاشی مضبوط ہو تاکہ وہ ایک بہتر زندگی بسر کر سکے۔ اس لیے ان کا خیال تھا کہ بچہ یا طالب علم اس لائق بنے کہ وہ یہ فیصلہ خود لے سکیں کہ مجھے زندگی میں کیا بننا ہے، اس مسئلہ کے سلسلے میں وہ رقم طراز ہیں کہ :

’’ تمام سویلائزڈ ملکوں میں ایک عام رواج ہے کہ جب بچہ تعلیم پانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے مربی اس امر کا فیصلہ کرتے ہیں اور اس فیصلہ کے مطابق اس کی تعلیم وتربیت کا بندوبست کرتے ہے۔ ایک طالب علم جو ابتدائی تعلیم شروع کرتا ہے جب تک وہ اس کا فیصلہ نہ کرے کہ میں کیا ہوں گا اور کیا کروں گا اس وقت تک اس کو تعلیم میں کبھی کامیابی نہیں ہوتی۔‘‘ (بحوالہ : ملک فضل الدین ’’مرتب ‘‘ سر سید کے مضامین تہذیب الاخلاق 1323ھ، لاہور، ص 460 )

جہاں سرسید جدید تعلیم کو اہم مانتے تھے وہی وہ مذہبی تعلیم کو بھی اہم مانتے تھے۔ سرسید اس سلسلے میں مغربی مفکرین سے متفق نہیں تھے،کیونکہ انگریز مذہبی تعلیم کو باہمی اختلاف کا ذریعہ تصور کرتے ہیں مگر وہ جانتے تھے کہ ہندوہو یا مسلمان، سکھ ہو یا عیسائی وہ ایسے نظام تعلیم کو قبول کرنے کو ہر گز تیار نہ تھے جو مذہب سے بے نیاز ہو، اس لیے سر سید ہندوستانی طالب علموں کے سلسلے میں یہ سوچتے تھے کہ ان کو جدید علوم و فنون کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی دی جائے، سرسید مذہبی تعلیم میں روایتی قسم کے مذہبی تعلیم کو کافی نہیں سمجھتے تھے ان کے نزدیک روایتی مذہبی تعلیم میں بھی بعض اصطلاحات ضروری ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں ایک مقام پر یوں رقم طراز ہیں:

’’ سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ اول فہمیدہ فہمیدہ، ذی علم اور ذی عقل لوگ جمع ہوں اور بعد بحث و گفتگو کے یہ بات قرار دیں کہ اب سلسلہ ٔ تعلیم بہ نظرِ حالات زمانہ اور بہ لحاظ ِ علوم و فنون جدید کے کس پر قائم ہونا چاہیے اور ہماری پرانی اور دقیانوسی تعلیم کے سلسلے میں کیا کیا تبدیلی کرنی چاہیے اور ہماراسلسلہ تعلیم کا بہ لحاظ مقاصد مذہبی ک طرح پر قائم ہو۔‘‘ (بحوالہ : ملک فضل الدین، ’’مرتب ‘‘ سر سید کے مضامین تہذیب الاخلاق 1323ھ، لاہور، ص 148 )

سرسید کا مذہبی تعلیم کے سلسلے میں یہ بھی خیال تھا کہ مذہبی تعلیم کا بار حکومت پر ڈالنا مناسب نہیں، اس لیے ان کی رائے تھی کہ اہل ہند اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام خود کریں، اس سلسلے میں اپنے خیال کااظہارکرتے ہوئے امرتسر کی ایک طویل تقریر میں انھوں نے کہا تھا جس کا لب و لباب یہ تھا کہ :

’’گورمنٹ ہر فرقہ کی مذہبی تعلیم کے قضیہ میں نہیں پڑ سکتی وہ عام تعلیم کی پالیسی اختیار کرے گی۔ مسلمان مذہبی تعلیم دینا لازمی تصور کرتے ہیں اور ان کا فرض ہیں کہ وہ خود مذہبی تعلیم کا انتظام کریں۔ جب تک تمہارے جسم میں جان ہے تم مذہبی تعلیم کو ہرگزنہ چھوڑو۔ گورمنٹ ہماری مدد کر سکتی ہے لیکن ہماری یہ غرض خود متوجہ ہوئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی جب تک ہم اپنے بچوں کی تعلیم اپنے ہاتھ میں نہ لیں ہم ان کو دونوں طرح کی تعلیم نہیں دلا سکتے۔ ‘‘(بحوالہ : سید اقبال علی، (مرتب ) سفر نامہ ٔ پنجاب (سید احمد خاں )، علی گڑھ 1884،ص13-14)

اس طرح سر سید نے علی گڑھ تحریک کے ذریعہ جو سلسلہ شروع کیا اس سے پورے ہندوستان میں ایک نیا انقلاب آیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے مخالفین بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کے لیے مجبور ہوگئے۔ سر سید کے کارناموں کو دیکھ یہ بار باد ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے کہ :

میں اکیلا ہی چلا تھا جابن منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

سر سید کو جتنی اہمیت جدید تعلیم کی تھی اتنی ہی محبت اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی وراثت سے بھی تھی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خلیق انجم رقم طراز ہیں کہ :

’’ سر سید کی بیشتر کتابیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنے ماضی سے ذبردسست عشق تھا لیکن چونکہ وہ برطانوی حکومت کے ملازم رہے تھے اور انہیں انگریزوں سے قریب رہنے کا اتفاق ہوا تھا یہی نہیں بلکہ انھوں نے لندن کا سفر بھی کیا تھا اس لیے ان کی دور رس نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اگر مسلمان جدید تعلیم حاصل نہیں کریں گے تو وہ تعلیمی اور سماجی اعتبارسے ہندوستان کے دوسرے مذہبی گروہوں کے مقابلے میں پسماندہ رہ جائیں گے۔ اس لیے سر سید نے ایک طرف تو مصلح قوم کا رول ادا کرنا شرع کیا اور دوسری طرف مسلمانوں کو جدید تعلیم کی برکتوں سے واقف کرایا۔ ‘‘(بحوالہ : علی گڑھ تحریک، مظہر حسین، ص، ۱۲)

زندہ رہنا ہے تو پھر خود کو مٹانا سیکھو

گھٹ کے مرتے ہیں صدا جان بچانے والے

بہر حال سر سید کے طویل کارناموں اور ان کی تعبیرات کو چند صفحات میں سمیٹناممکن نہیں۔ سر سید احمد خاں نے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا وہ یہی تھی کہ اگر کسی چیز میں مسلمانوں کی بقاء و سلامتی پوشیدہ ہے تو وہصرف نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے میں ہے جس کا انھوں نے عملی نمونہ بھی پیش کیا۔ سر سید کامسلمانوں کے لیے کی گئی طویل جدو جہد کو اقبال نے خراج تحسیں پیش کرتے ہوئے ایک نظم ’’سید کی لوح تربت ‘‘ لکھی۔ میں اپنی باتوں کو ان کے اس نظم کے اشعار پر ختم کرنا چاہونگی کہ :

سنگ تربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھ

چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ

مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیں

ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں

وانہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں

چھپ کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے

دیکھ ! کوئی دل نہ دکھ جائے تیری تقریر سے

محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ

رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ

2 تبصرے
  1. صالحہ صدیقی کہتے ہیں

    Bhut shukriya..

  2. صالحہ صدیقی کہتے ہیں

    سر سید کی یوم پیدائش پر میرے مضمون کو شائع کرنے کا شکریہ۔۔۔

تبصرے بند ہیں۔