کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ…..!

عامر مجیبی ندوی

(عصری دانش گاہوں میں فضلائے مدارس کے لئے چند غیرروایتی تعلیمی امکانات؛  ایک دستک)

 ایک انگریز مفکر نے کہا ہے کہ؛

”EVERY ONE WANTS TO ACHIVE SUCCESS BUT VERY FEW ARE WILLING TO PAY THE PRICE”.

(ہرشخص کی تمنا ہوتی ہے کہ کامیابی اس کے قدم چومے ،لیکن بہت کم لوگ اس کی قیمت اداکرپاتے ہیں )۔

مدارس اسلامیہ میں دو طرح کے طلبہ ہوتے ہیں ، نمبر ایک وہ جنہوں نے مکمل ارادہ کرلیا ہوتا ہے کہ قناعت، توکل اور خداپر بھروسہ کرکے انہیں فراغت کے بعد کسی دینی ادارے میں خدمات انجام دینی ہیں ، ہم ان کے جذبے کو سلام کرتے ہیں اورشاید مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی مقصد یہی ہے۔ نمبردو وہ طلبہ جن کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ علوم اسلامیہ کی تکمیل کے بعد انہیں عصری دانش گاہوں سے بھی سیرابی کرنی ہے اورمستقبل میں ایک کامیاب کیریر، سرکاری ملازمت یا کوئی اعلی عہدہ حاصل کرناہے، شرعی نقطہ نظر سے اس فکر میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے، حصول علم اورتلاش معاش دونوں کی ترغیب ہمیں اسلامی تعلیمات میں ملتی ہیں ۔ ہماری اس تحریر کا مخاطب دوسرے طبقے کے فضلاہیں ۔

 فضلائے مدارس کو یونیورسٹی سسٹم میں پیش آنے والی مشکلات:  

   مدارس اسلامیہ اور عصری تعلیم گاہوں کے نظام دو مختلف نظام ہیں ، دونوں میں کسی طرح کی کوئی نسبت نہیں ہے، جس کی وجہ سے دونوں اداروں سے پڑھنے والے ایک دوسرے کے لئے اتنے ہی اجنبی ہیں جتنا اہل مغرب اہل مشرق کے لئے ، الایہ کہ ایک نظام والا دسرے کا حصہ بن جائے۔اسی وجہ سے فضلائے مدارس کو یونیورسٹی سسٹم اور اس کی نزاکتوں کو سمجھنے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، کچھ پریشانیاں عارضی اور ظاہری ہوتی ہیں جو تھوڑی سی مشقت اور کوشش کے بعد حل ہوجاتی ہیں لیکن کچھ پریشانیاں دائمی اور پوشیدہ ہوتی ہیں ، ان کا علم یونیورسٹی کے ابتدائی مراحل میں نہیں ہوتا بلکہ طالب علم جب تمام کورسز مکمل کرچکا ہوتا ہے اور عملی زندگی کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتاہے، پانچ، آٹھ برس جب وہ یونیورسٹی میں گذار لیتاہے اور اب اپنی محنت کاصلہ چاہتا ہے تو اس وقت ایسی تکنیکی پریشانیاں ٹوٹ پڑتی ہیں جو لاعلاج ہوتی ہیں ، زندگی کے اس مرحلے میں وہ ان پریشانیوں کے حل کاسامان نہیں کرپاتا اور نتیجۃََ پی، ایچ، ڈی، کی سب سے اعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسے اس کے شایان شان جا ب نہیں مل پاتی اور بے چارے کو کسی کا ل سینٹرمیں یا کہیں ترجمان کی حیثیت سے نوکری کرنی پڑتی ہے، سرکار ی ملازمت یااعلی اور باوقارعہدہ حاصل کرنے کا اس کاخواب سراب ہی رہ جاتاہے۔ مثال کے طور پرفر ض کیجئے ایک فاضل مدرسہ نے اپنی عالمیت یا فضیلت کی سند کی بنیاد پر ایم، اے میں داخلہ لے لیا، اس کے بعد نیٹNET(یونیورسٹی میں استاد بننے کا اہلیتی امتحان) کے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرلی، پھر پی، ایچ، ڈی، کی ڈگری سے بھی سرفرازہوگیا، اب جب وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اسے کوئی سرکاری ملازمت حاصل ہوجائے یا یونیورسٹی میں بحیثیت استاد وہ اپنی خدمات انجام دے سکے تو اسے یہ کہہ کر نااہل قراردے دیا جاتا ہے کہ آ پ کے پاس  بی، اے، بارہویں اور دسویں کی ڈگریاں نہیں ہیں ، لہذاآپ اس عہدے کے لئے نااہل ہیں ، بے چارہ لاکھ جواب دیتا ہے کہ میرے مدرسے کی ڈگری ان تمام کورسزس کے مساوی ہے ، اسی بنیاد پر مجھے سینٹرل یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا ، لیکن اس کی ایک نہیں سنی جاتی اور دنیا بھر کے قوانین وضوابط کی ایک فہرست اسے تھمادی جاتی ہے، اس کے خوابوں کا شیش محل لمحوں میں چکنا چور ہوکر زمیں بوس ہوجاتاہے، اور پانچ ، چھہ برس کی انتھک کوشش، پی، ایچ، ڈی، کی ڈگری اور نیٹ جیسے باوقار اعزازات حاصل کرنے کے باوجودوہ کسی کال سینٹر ، یا کہیں ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے پر مجبورہوجاتاہے،جو کام وہ مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی ذراسی محنت کے بعد کرسکتا تھاپانچ، چھہ برس بعد اسے وہی کرنا پڑتاہے۔

 چندمفید مشورے: 

 اس وقت قانونی بحث، مدارس اور یونیورسٹی کی تکنیکی خرابیوں کو چھیڑنا بے محل ہوگا، اس موضوع پر مستقل لکھنے کی ضرورت ہے ۔مختصر میں اتنا کہتا چلوں کہ اس مسئلے میں مدارس اور یونیورسٹی انتظامیہ دونوں کسی حد تک ذمہ دار ہیں ، ان کی انتظامی کمی کا خمیازہ طالب علم کو بھگتنا پڑتاہے ، فی الحال اس بحث میں پڑنا لاحاصل ہے کیوں کہ اس کا نتیجہ صفر ہے۔ ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر فضلائے مدارس کو چند مفید مشورے دینا چاہتے ہیں ، اگر انہوں نے اس پر عمل کرلیا تو مذکورہ بالا پریشانیوں کا حل نکل سکتاہے، عام طور سے نوعمر فارغین مدارس اپنے سینئر ساتھیوں کے مشورے قبول نہیں کرتے اور ان کی ناپختہ عقل میں جو آتا ہے وہی کرتے ہیں ، دراصل یہ عمر ہی ایسی کچی ہوتی ہے کہ طالب علم اپنے آپ کو افلاطون سے کم نہیں سمجھتا، لیکن اس کو اپنی غلطی کا احساس تعلیمی سفر کی آخری منزل میں ہوتا ہے ، اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، اور تلافی مافات کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، کف افسوس ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ،لیکن؛    ع

     ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

فضلائے مدارس کویو نیورسٹی کے نظام میں بنیادی طور پر دوطرح کے مسائل سامنا ہوتا ہے؛

الف)   کورس کا انتخاب

ب)    کورس کی ترتیب ،یعنی کس ترتیب سے یونیورسٹی میں داخلہ لیا جائے اور کس کے بعد کون سا کورس کیا جائے؟

ایک بات بہت اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ آج کل یہ بالکل بے معنی ہوچکا ہے کہ آپ کون سا کورس کر رہے ہیں بلکہ اصل چیز مہارت اور کمال ہے، ہرجگہ expert شخص کی ڈمانڈہے ، مارکیٹ میں مہارت والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے ،کوئی کورس خراب یا کم اہمیت والا نہیں ہوتا، آپ جس کورس کا بھی انتخاب کریں اس میں مہارت تامہ حاصل کریں ، کامیابی آپ کو خود ڈھونڈھ لے گی۔ عام طور سے ہمارے دوستوں کے لئے انتخاب کورس ہی سب سے بڑا اور مشکل مسئلہ ہوتا ہے، کورس کی ترتیب کی نزاکت کو تو طلبہ کی اکثریت جانتی ہی نہیں بعض جانتے ہیں تو اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے اور بہت کم ایسے ہوتے ہیں جوصحیح فیصلہ لیتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک سب سے اہم مسئلہ ترتیب کا ہے، کیوں کی اگر ترتیب صحیح اور مکمل نہ ہو تو ساری محنت اکارت ہوجاتی ہے اور سب کچھ کرکے بھی آدمی صفر رہتاہے۔

مستقبل کا تعین:  

    فضلائے مدارس سے میرا مشورہ ہے کہ مدرسے کے ابتدائی برسوں میں ہی یہ فیصلہ کرلیں کہ انہیں مستقبل میں کیا کرناہے، کس نظام میں جانا ہے؟ دینی نظام میں رہ کر خدمات انجام دینی ہیں یا عصری تعلیم گاہوں میں دستک دینی ہے؟ اگر یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا ارادہ ہو تو کسی بھی سرکاری بورڈ سے دسویں اور بارہویں کے امتحانات مدرسے کے دوران قیام ہی پاس کرلیں ، فراغت کے بعد کسی بھی سرکاری یونیورسٹی سے مستقل طرزتعلیم میں گریجویشن میں داخلہ لیں اور یونیورسٹی کییمپس میں رہ کر گریجویشن مکمل کریں ، کوشش کریں کہ کسی سینٹرل یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے، جیسے ؛جے، این ،یو۔ اے، ایم ، یو۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ڈی، یو، وغیرہ ۔ اس سلسلے میں ایک بات نہایت ضروری ہے، اسے ہر طالب علم گانٹھ باندھ لے کہ کسی صورت میں فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت کوئی ڈگری کورس نہ کرے، بس ایک صورت میں فاصلاتی کورسز کیے جاسکتے ہیں کہ جب مقصد جاب کرنا نہ ہو، بالعموم دیکھا گیا ہے، اور سینکڑوں مثالیں موجودہیں کہ انٹرویو کے موقع پر فاصلاتی طرز تعلیم کے تحت پڑھنے والے کے مقابلے میں مستقل طرزتعلیم کے تحت پڑھنے والے کو ترجیح دی جاتی ہے، اور بہت سی جگہ تو بحالی کے اعلان میں ہی یہ وضاحت ہوتی ہے کہ فاصلا تی تعلیم والے فارم بھرنے کی زحمت نہ کریں ۔لہذا تاکید ا عرض کردوں کہ جاب حاصل کرنے کے مقصد سے فاصلاتی کورس کرنے سے بہتر ہے کہ نہ کیاجائے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کیمپس میں رہ کرتعلیم حاصل کرنے سے وہاں کا نظام، طریقہ تعلیم، طرز معاشرت، بود وباش ، ماحول اور پوراتعلیمی ڈھانچہ سمجھ میں آتاہے، طالب علم کی شخصیت سنورتی ہے اور اس میں خوداعتمادی پیداہوتی ہے ۔

لہذا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مدرسے سے فارغ ہونے سے پہلے ، مدرسے کے قیام کے دوران ہی کسی بھی سرکاری بورڈ سے دسویں اور بارہویں کرلیں ، اس کے بعد کسی سرکاری یونیورسٹی سے مستقل طور پر (ریگولر) گریجویشن کرلیں ، پھر طالب علم خود یونیورسٹی کے نظام کا حصہ بن جاتا ہے اورمختلف کورسز کے متعلق اسے بہت کچھ سمجھ میں آجاتاہے، اب وہ خود بھی فیصلہ کرسکتاہے کہ آگے کس کورس میں جائے اور کیا کرے؟ گریجویشن کے بعد کوشش کریں کہ کسی پروفیشنل کورس میں داخلہ مل جائے تاکہ اچھی نوکری کا ملنا یقینی ہوجائے۔آج کل بعض یونیورسٹیز نے ’’برج کورس ‘‘کے نام سے طلبائے مدارس کے لئے ایک نیا کورس شروع کیا ہے ، یہ بہت مفید اور کارآمد ہے ،اس میں تعلیم حاصل کرکے طلبہ مختلف اہم کورسز میں داخلہ لے ر ہیں ، جیسے؛ لا(وکالت)، انگریزی زبان وادب، اکنامکس، تاریخ ، ماس کام ،وغیرہ، لیکن پھر یاد دلادوں کہ دسویں اور بارہویں بہر حال ضروری ہے، ہوسکتا ہے اس کے بغیرمذکورہ مختلف شعبوں میں داخلہ بھی مل جائے لیکن نوکری کے وقت لازمی طور پر دسویں اور بارہویں کے اسناد مانگے جاتے ہیں ، اس لئے ان امتحانات کو پاس کئے بغیر آگے چھلانگ لگانے کی غلطی ہر گز نہ کیجئے گا۔

 چند اہم باتیں :

یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ سرکاری یونیورسٹیز میں داخلہ صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، پیسوں اور فیس کی بنیاد پر نہیں ، تعلیمی فیس انتہائی معمولی ہوتی ہے، یہ بات بالکل ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ ہم بہت غریب ہیں ،کیسے اتنی اعلی یونیورسٹی میں پڑھیں گے؟ لطف تو یہ ہے کہ جتنی اعلی یونیورسٹی ہوتی ہے فیس اتنی ہی کم ہوتی ہے، ماہانہ اسکالرشپ کی رقم الگ ملتی ہے، سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ اہلیتی امتحانات کی بنیاد پر ہوتا ہے، ہر یونیورسٹی کے امتحان لینے کا طریقہ مختلف ہوتاہے، وہ اپنے سالانہ PROSPECTUS(تعلیمی ہدایت نامہ) میں تفصیلات درج کردیتی ہے۔ ایک اہم بات اور عرض دوں کہ جو طلبہ او، بی، سی ہوں وہ اپنے تمام ضروری کاغزات بنوالیں ، اس کی بنیاد پر سرکاری اداروں میں داخلے سے لے کر نوکری ملنے تک ہر سطح پر رعایت ملتی ہے، ایسے طلبہ کا داخلہ نسبتا بآسانی ہوجاتاہے۔

 فضلائے مدارس کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے کہ اب انہیں مختلف پروفیشنل کورسز میں داخلہ کے لئے انگریزی میں بہت زیادہ کمال پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اب انگریزی سے ڈرنے اورخوف کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، انجینیرینگ، ماس کام، کمپوٹر سائنس، ایم، بی، اے، باٹنی،زوولوجی وغیرہ جیسے خالص پروفیشنل اورسائنسی مضامین کو اردو میں پڑھاجاسکتاہے اور سینٹرل یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے حیدرآبادمیں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، ہندوستان کا واحد ایسا ادارہ ہے جو اردو میڈیم میں تمام کورسز پڑھاتاہے، طلبائے مدارس کو اگر کوئی پرفیشنل کورس کرنا ہوتو ان کے لئے اس سے بہتر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے، لیکن اس کا ہر گز مطلب نہیں ہے کہ انگریزی کوپس پشت ڈال دیا جائے اور اس میں مہارت پیدا نہ کی جائے، اس واقت انگریزی کے بغیر کسی جاب کا ملنا تقریبا ناممکن ہے، لہذا انگریزی میں کمال پیدا کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

انتخاب کورس کے سلسلے میں چند غیر روایتی امکانات:  

 اب ہم انتخاب کورس کے سلسلے میں کچھ گفتگو کریں گے، عام طور سے ہمارے فضلائے مدارس کو اپنی صلاحیت کا علم نہیں ہوتاجس کی وجہ سے وہ مرعوبیت کا شکار ہوجاتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اردو، عربی اور فارسی کے علاوہ کسی اور کورس میں داخلہ لینے کے اہل ہی نہیں ہیں ، لہذا ان کی نگاہ انتخاب ان ہی کورسز کے اردگرد گھومتی رہتی ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی کورس میں تمام مدارس کے فضلا آجاتے ہیں اور ان کے ارد گردوہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ مدرسے میں چھوڑکر آئے تھے،لہذا کچھ نیا سیکھنے کے بجائے وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں ، نہ انگریزی سیکھ پاتے ہیں اورنہ ہی یونیورسٹی کے نظام کو سمجھ پاتے ہیں ، میں عمومی بات بتارہاہوں ، یقینا بہت سے استثنائات مل جائیں گے لیکن اکثریت کاحال یہی ہوتاہے، عام طور سے مدرسے والے مدرسے والوں کے ساتھ ہی تعلقات رکھتے ہیں ، گویا یونیورسٹی کے اندر ایک مدرسہ بنالیتے ہیں ، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جیسے آئے تھے ویسے ہی رخصت ہوجاتے ہیں ، حالانکہ شخصیت کی بھرپور تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دوستوں میں تنوع پیدا کریں ، مختلف مضامین کے طلبہ سے دوستیاں کریں ، ان کے سبجیکٹ کے بارے میں معلومات حاصل کریں ، اپنی معلومات سے انہیں مستفید کریں ، ایسے طلبہ سے دوستی کریں جنہیں ہندی اور اردو نہ آتی ہوتاکہ لامحالہ انگریزی میں گفتگو کرنے کی عادت پڑجائے، مختلف مذاہب ، افکارو نظریات،اورآئی ڈیالوجیزکے ماننے والوں سے ملنا جلنا چاہئے تاکہ ایک دوسرے کوسمجھنے کے مواقع ملیں ۔ خیر یہ جملہ معترضہ آگیا تھا، فضلائے مدارس کو اپنے اس ڈر اور خام خیالی سے باہر آنا چاہیے کہ وہ آئی، اے، ایس ، ڈاکٹر، لایر،نیوز اینکراورآرٹسٹ وغیرہ نہیں بن سکتے، یہ خیال اب روایتی ہوگیا ہے، عملی زندگی میں بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ طلبائے مدارس نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کردیاہے اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیت کا جھنڈانصب کردیاہے۔

لہذا سب سے پہلے اپنے اندرخوداعتمادی پیداکیجئے، انتھک کوشش کرنے کا عزم کیجئے اور اپنے مزاج اور مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے کورس متعین کیجئے، کامیابی ضرورآپ کے قدم چومے گی۔ صرف دوشعبے ایسے ہیں جن میں طلبائے مدارس کو داخلہ لینے میں بے انتہا محنت کرنا پڑے گی، اگرچہ ناممکن وہ بھی نہیں ہے، ایک میڈیکل دوسرے انجینیرینگ، لیکن ان کورسز میں بھی فضلائے مدارس نے داخلہ لے کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا لیاہے۔ انتخاب کورس میں اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کہ ایسا کورس نہ لیں جس کی طرف طبعی میلان نہ ہو، ماہرین تعلیم کابھی یہی ماننا ہے کہ ایسا مضمون اختیار کرنا چاہیے جس کی طرف آپ کا طبعی میلان ہو خواہ بظاہر وہ مضمون کتنا ہی معمولی تصور کیا جاتاہو۔ آرگھیا بے نرجی جنہوں نے آئی ، آئی، ٹی اور آئی، آئی، ایم، جیسے باوقار اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے، ان کے مطابق ان تعلیم گاہوں سے عالمی سطح کی ایجادات نہیں ہورہی ہیں ، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بتائی کہ طلبہ ان اداروں میں اپنے سرپرستوں کے دبائو میں آتے ہیں نہ کہ اپنی مرضی کے مطابق، ان کو اچھی نوکری تو مل جاتی ہے لیکن وہ کوئی قابل قدرانکشاف یا ایجاد نہیں کرپاتے۔

طلبائے مدارس کوصلاحیت کے اعتبار سے تین خانو ں میں تقسیم کیا جاسکتاہے؛

1)     انتہائی ذہین طلبہ

2)     دوسرے درجے کی صلاحیت والے طلبہ۔

3)     وہ طلبہ جو نسبتا کم صلاحیت مند تصور کئے جاتے ہیں ۔

 تینوں طبقات کے لئے الگ الگ کورسز کے انتخاب کا مشورہ دیا جاسکتاہے۔ جوطلبہ انتہائی ذہین ہیں ، مدارس میں پندرہ ، بیس گھنٹے پڑھنے کا معمول تھا، اپنے ساتھیوں میں بہت نمایاں تھے، حدیث، اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ وغیرہ میں مہارت رکھتے ہیں ، حافظہ انتہائی قوی ہے اور محنت کرنے کے عادی ہیں ، ان کے لئے مندرجہ ذیل کورسز کا مشورہ دیا جاسکتاہے؛  آئی، اے، ایس۔ ایم بی، بی،ایس۔ بی، اے ،ایل، ایل، بی۔ وغیرہ مذکورہ بالا کورسز بہت زیادہ باوقاراور اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں اورسب سے زیادہ سماجی و معاشی ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ بالترتیب ، آئی ، اے، ایس۔ ایم،بی، بی، ایس اور بی، اے، ایل ، ایل ، بی کے امتحانات مشکل ہوتے ہیں ۔ آئی ، اے، ایس، ملک کا مشکل ترین امتحان سمجھا جاتا ہے، تین مراحل سے گذر کر اس میں کامیا حاصل کی جاتی ہے، اس کے امتحان میں داخلہ کی اہلیت عربی کے علاوہ کسی بھی مضمون میں گریجویشن کی ڈگری ہے۔ اس کا کوئی باضابطہ کورس نہیں ہوتا، بلکہ مختلف مضامین میں مہارت پیدا کرنی پڑتی ہے ،جیسے؛ سائنس، حساب، جغرافیہ، پولیٹکل سائنس، لاجک، ریزنگ، جنرل نالج وغیرہ، مذکورہ مختلف مضا مین سے سوالات آتے ہیں ، اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انٹریو ہوتا ہے جس میں طالب علم کی برجستگی اور غیرمعمولی ذہانت کو جانچاجاتاہے، گریجویشن کے بعد دو، تین سال کی انتھک محنت کرکے اس امتحان کو پاس کیا جاسکتا ہے، کئی فضلائے مدارس نے اس میں کامیابی صل کرکے ثابت کردیا ہے کہ یہ کوئی ناممکن نہیں ہے۔

 ایم، بی، بی، ایس۔اس کورس کومکمل کرکے طالب علم میڈکل پریکٹس کرنے کا اہل ہوجاتاہے، اس کی مدت پانچ سال ہے، اس کورس کوکرنے سے پہلے سائنس، فیزکس، بایولوجی وغیرہ مضامین سے بارہویں کا امتحان پاس کرنا ہوتاہے، ہرسال قومی سطح پرNEETکا اہلیتی امتحان ہوتا ہے،جس میں کامیاب ہونے کے بعد نمبرات کی ترتیب کے اعتبار سے کالج میں داخلہ ملتاہے۔ طلبائے مدارس تین، چار سال سنجیدہ محنت کر کے اس میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ،کئی فضلائے مدارس نے اس میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔

 بی، اے، ایل ،ایل ،بی، میں نسبتا مذکورہ دونوں کورسز کے مقابلے میں داخلہ لینا آسان ہے، یہ بھی پانچ سال کا کورس ہوتا ہے، بارہویں کے بعد اس میں داخلہ ملتاہے، ہر یونیورسٹی اپنا خود مختار امتحان لیتی ہے اس کے بعد انٹرویو لے کر داخلہ دیتی ہے ۔ اس کور س کو کرنے کے بعد ایک اہلیتی امتحان پاس کرکے طالب علم وکالت کرنے کا اہل ہوجاتاہے، یہ شعبہ سماجی اور معاشی دونوں اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ملک کے حالات کے اعتبار سے اس وقت قوم و ملت کو اچھے مسلم وکلا کی شدید ضرورت ہے، ہمارے فضلائے مدارس کو اس شعبے میں آنا چاہیے ، بطور خاص وہ طلبہ جو اصول پر گرفت ، مطقی ذہن ، مناظرانہ صلاحیت اور اچھے حافظے کے حامل ہوں ، ان کو اس شعبے میں دلچسپی لینی چاہیے، انگریزی پر خوب محنت کرکے اس شعبے میں کمال پیدا کیا جاسکتاہے۔ ڈاکٹرمحمدحمید اللہ فاضل مدرسہ ہی تھے ،آپ بین الاقوامی قانون کے عالمی سطح کے ماہرین میں شمار کئے جاتے ہیں۔

 اب ہم دوسرے درجے کے طلبہ کے لئے چند اہم مضامین کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ، جنہیں وہ گریجویشن میں اختیارکرسکتے ہیں، اگر ذہن ان مضامین کی طرف چلے تو ضرور اختیار کریں بشرطیکہ محنت کرنے کا عزم ہو؛  اسلامک اسٹڈیز، اکنامکس، تاریخ، عربی زبان وادب، انگریزی زبان وادب،بی، ایڈ۔بی یو، ایم ایس۔ منجمینٹ، جغرافیہ، سوشیولوجی، سوشل ورک، ماس کام۔بی، لب۔ بی ،فارما۔ ویمنس اسٹڈیز، فائن آرٹس، مختلف مغربی اورمشرقی زبانیں ، فرنچ، جرمن، عبرانی، چائنیز، جاپانیز، روسی وغیرہ، اس کے علاوہ جو طلبہ کھیل میں بہت اچھے ہوں ان کو اس میدان میں اپنا کریربنانا چاہئے، جیسے؛ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، تیراندازی، کبڈی،کشتی، تیراکی وغیرہ، لیکن اس کے لئے انہیں پروفیشنل طریقے سے ٹریننگ لینی چاہیے، تقریبا ہر یونیورسٹی میں اسپورٹس کا اچھا نظم ہوتاہے، علی گڑھ اور جامعہ کا خصوصی طور پر نام لیا جاسکتاہے، آج کل اس میدان میں سب سے اچھا اورقابل فخرکریر ہے، قومی اور بین الاقوامی سطح پر دنیا میں سب سے زیادہ اگر کسی شعبے میں معاشی اورسماجی حیثیت کے امکانات ہیں ، تو اسی شعبہ میں ہیں ۔مذکورہ تمام مضامین میں داخلہ لے نے کے لئے اکثر اداروں میں اہلیتی امتحانات ہوتے ہیں ، جوہر یونیورسٹی اپنے طور پر لیتی ہے، بارہویں کے بعد ایک آدھ سال کی اچھی محنت کرلینے سے انشااللہ ان کورسز میں داخلہ لیا جاسکتاہے۔ان تمام مضامین کا مستقبل بہت شاندار اورکامیاب ہے۔

تیسرے درجے میں وہ طلبہ ہیں جو عام طور سے زیادہ ذہین تصور نہیں کئے جاتے ہیں ،ان کے لئے بھی بہت سے ایسے کورسز اور ہنر ہیں جن کوسیکھ لینے کے بعد وہ ایک باوقاراورکامیاب زندگی گذار سکتے ہیں ۔ بارہویں کے بعد آئی، ٹی، آئی، کا کورس ہوتا ہے جس میں مختلف فنی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں ، یہ کورس بہت سے نجی اور سرکاری اداروں میں سکھائے جاتے ہیں ، اسی طرح سیفٹی انجنینئرنگ، کا ایک اہم کورس ہوتا ہے، جس کو کرنے کے بعد اچھے مواقع مل سکتے ہیں ۔ اگر یہ طلبہ تھوڑی سی محنت کرلیں، انگریزی ،عربی یا کمپیوٹر کے کورسز کرکے مہارت پیدا کرلیں تو کافی مواقع مل سکتے ہیں ، اسی طرح کمپوٹراورموبائل رپیرنگ کے کچھ کورسز ہوتے ہیں ان کو کرلینے سے بھی معاشی مسائل کو دورکیا جاسکتاہے۔

 اہم گذارش:   

مدارس کے اپنے ساتھیوں سے انتہائی دردمندانہ گذارش ہے کہ اپنی صلاحت کسی سے کم نہ سمجھیں اور یونیورسٹی کے ماحول سے ذرامتاثرنہ ہوں ، تجربہ یہ ہے کہ عام طور سے مدرسے کے طلبہ یونیورسٹی کے عام طلبہ سے زیادہ محنت کرتے ہیں ، لیکن چوں کہ انگریزی میں بالعموم کمزور ہوتے ہیں اور مختلف النوع کورسز میں داخلے نہیں لیتے اس لئے ان کی صلاحیت منجمدہوجاتی ہے اور شخصیت میں تنوع پیدا نہیں ہوپاتا۔ اپنے آپ کو کسی سے کم نہ سمجھیں ، ہر نئی چیز کو سیکھنے اور سمجھنے کی عادت ڈالئے، دامن بچانے کے بجائے اس میں کود پڑیے، شرم وحیا اتار پھینکئے کہ علم کی دنیا میں یہ جائز نہیں ، خوداعتمادی پیدا کیجئے، اپنے سینیرساتھیوں سے مشورہ کیجئے ،خاص طورسے جدید فارغین سے جو یونیورسٹی کے آخری مراحل یاجاب میں ہوں اور آپ کے تئیں مخلص بھی ہوں ، خداراایسے کسی بھی دانشمند یا صرف عصری تعلیم یافتہ شخص سے مشورہ مت کیجئے جو مدرسے سے پڑھا ہوا نہیں ہے ،خواہ وہ کتنا ہی بڑا انٹلیکچول کیوں نہ ہو وہ آپ کی صحیح تشخیص نہیں کرسکتا، کیوں کے وہ آپ کے امراض سے و اقف نہیں ہے ، البتہ گریجویشن کرنے کے بعد آپ آزاد ہیں جس سے چاہیں مشورہ لیں ، بلکہ آپ خود بھی فیصلہ لے سکتے ہیں کہ آگے کس فیلڈ میں کیریر بنائیں ۔یونیورسٹی کے ماحول سے متاثرہونے کے بجائے اپنی خوش اخلاقی اور حسن سیرت سے دوسروں کو متاثر کردیجئے، آپ مدرسہ سے جو آب حیات لائے ہیں اس سے ان تشنہ لبوں کو سیراب کردیجئے ،اور جان توڑ محنت کیجئے کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں ترے دور کاآغازہے  

(علامہ اقبال)

تبصرے بند ہیں۔