نفرت کی سیاست اورملک کے سوسال پیچھے لوٹتے قدم

جاویدجمال الدین

راشٹریہ سیویم سیوک سنگھ (آراایس ایس) کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے شاید ملک کے ایک بڑے طبقے اور ملک کی ہم آہنگی واتحاد کے حامی سیاستدانوں اور دیگر دانشوروں کی تشویش کو بھانپ لیاہے کہ حال میں ملک بھر میں چل رہی نفرت کی تحریکوں  پر انہیں کچھ واضح بیان دینا ہی پڑا،لیکن کچھ گول۔مول باتیں بھی شامل ہیں،جیسے  سنگھ  روزمرہ کی مساجد پر نئے دور کے تنازعہ کے حق میں نہیں ہے اور مندر کے مسئلہ پر کسی تحریک کا حصہ بھی نہیں بنے گا،البتہ وارانسی میں  گیا نوا پی مسجد کے تنازعہ پر باہمی معاہدے کے ذریعے راستہ تلاش کرنے کے حق میں بات کرتے نظر آئے ۔ ملک کی ایک تاریخ ہے جسے ہم بدل نہیں سکتے ۔ آج کے ہندو اور مسلمانوں نے تاریخ کو نہیں لکھاہے اور وہ  ہر مسجد میں شیولنگ کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کا تعلق اسی ملک سے ہے۔اس بات کا کوئی پتہ نہیں نہیں کہ بھاگوت نے گیا۔ واپی کے تنازع کے دوران اس طرح کا بیان کیسے دے دیا۔

دراصل ملک کے موجودہ حالات پر پرایک باشعور کوتشویش لاحق ہے،دراصل اس سے قبل تلنگانہ کے نویں یوم تاسیس کے موقع پر ریاست کے وزیراعلی کے چندر شیکھر راؤ نے  تلنگانہ کے ترقی کے ماڈل کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ملک کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔کیونکہ  ملک میں نفرت کی سیاست چل رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک سو سال پیچھے جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف نفرت کی سیاست کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آنا بند ہو سکتی ہے۔ جو سرمایہ کاری آئی ہے، اس کے واپس آنے کا خوف رہے گا۔یہ بیان انتہائی حساس ہے، یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے، ہمیں نفرت کی سیاست کے خلاف لڑنا ہوگا۔ اگر فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگڑتی رہی تو اس کی سخت مخالفت کرنی ہوگی۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے کئی ممالک اب سپر پاور بن رہے ہیں، لیکن ہم ذات پات اور مذہب کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ملک سو سال پیچھے چلا جائے گا۔ نفرت کی سیاست بڑھی تو ملک کو اس سے نکلنے میں سو سال لگ جائیں گے۔

سویم سیوک سنگھ ( آرایس ایس ) کے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ صاف کردیا کہ وہ  روزمرہ کی مساجد پر نئے دور کے تنازعہ کے حق میں نہیں ہیں،یہ کچھ عجیب سا لگ رہا ہے اور اس طرح کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش نظرآرہی ہے ،کیونکہ انہوں نے ایک بار پھر گیان واپی کے معاملہ کو استھایا عقیدت سے جوڑ دیا ہے۔بھاگوت نے تاریخ کو بدلنے انکار کیا ہے،لیکن ہمیشہ سے مسلمانوں کے بارے میں دو طرح کے بیان دیتے رہے  ہیں،یعنی حملہ آور بھی قرار دیتے ہیں اور ان کی جڑیں بھی یہیں سے بتاتے ہیں۔

بھاگوت کے مطابق اسلام حملہ آوروں کے ذریعے ہندوستان میں آیا تو ہندوستان کی آزادی کے خواہشمندلوگوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے ہزاروں مندروں کو گرادیا گیا اور پھر اچانک کہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کے خلاف نہیں سوچتا بلکہ محسوس کرتا ہے کہ انہیں زندہ کیا جانا چاہیے ۔ اجودھیا میں رام مندر کے فیصلہ بعد ہم رام مندر کے بعد کوئی تحریک نہیں چلائیں گے ۔ لیکن اگر وہ ذہن میں ہوں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔اگر ایسا ہے تومل کر اس مسئلہ کوتلاش کرنا ہوگا۔

حالانکہ موہن بھگوت کامذکورہ بیان دورخی ہے،اس لیے انہیں چاہئیے کہ بیان کی بجائے عملی اقدام کریں۔ یہ عام خیال ہے کہ  آرایس ایس فی الحال ارباب اقتدار کے تعاون کی وجہ سے ایک طاقتور ترین تنظیم بن گئی  ہے ،اسی لیے سربراہ موہن بھگوت کو بیان دینے کے بجائے گیان واپی تنازع اور نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ اس سے نفرت میں اضافہ ہوا ہےاگر موہن بھاگوت اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کوئی ہدایت جاری کرتے ہیں تو اس  تعلق سےوزیراعظم بھی انکار نہیں کرسکتے ہیں اس لیے  موہن بھگوت سے یہ  درخواست کی جاسکتی ہے کہ اس ملک میں گیان واپی جیسے نفرت بھرے مدعے اور مندر مسجد تنازع کو ختم کرنا ضروری ہے اور وہ اس میں اپنا موقف واضح کریں۔جہاں تک  گیان واپی میں مسجد کا معاملہ ہے،ملک میں عبادتگاہوں کے تحفظ کا قانون نافذ العمل ہے اس کے باوجود اس مسئلہ کو عدالت میں لایا گیا ہے آزادی کے بعد سے مذہبی اداروں و عبادتگاہوں کا تشخص برقرار رکھنے کا قانون ملک کی پارلیمنٹ نےمنظور کیا ہے ،لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے۔

موہن بھاگوت کے تازہ بیان میں  ملک میں فرقہ پرستی ختم کرنا وقت کا تقاضہ ہے،اگر بابری مسجد کو صرف استھا کےنام پر اکثریتی فرقہ کےحوالے کر دیا گیا تو گیان واپی میں تو مسجد ہے ایسے میں ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی  ہے موہن بھاگوت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےقیام کی کوشش کرنی چاہیے اور اس طرح کے مسائل کو حل کرنا چاہیے ۔ بابری مسجد کے مقدمہ میں آخر تک عدالت نے یہ تسلیم کیا ہے بابری  مسجد میں مندر کےنشانات نہیں پائے گئے ہیں ،لیکن پھر بھی عدالت نے اکثریت کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے یہ زمین مندر کو دیدی اور مسلمانوں نے بھی اس فیصلہ کو تسلیم کیان پھر ایک مرتبہ مسجدوں پر نشانہ لگایا جارہا ہے اور ملک میں نفرت پیدا کی جارہی ہےاس ملک میں اگر نفرت کو ختم کرنا ہےتو موہن بھاگوت کواس مسئلہ کا تصفیہ کر نے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو ملک کے نقص امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ موہن بھاگوت کو بیان کے بجائےعملی اقدام کی ضرورت ہے وہ وزیر اعظم کو ہدایت دے کر اس ملک سے نفرت کے مدعا اور مندر اور مسجد کا تنازع ختم کیا جائےتبھی ملک پرامن رہے گا۔ویسے بھی مودی حکومت کو آٹھ سال مکمل ہونے پر کابینی وزراء اور بی جے پی کے عہدیداران نے بڑے بڑے دعوے کردیئے ہیں، جبکہ خود وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں ایسا کوئی کام نہیں کیا ہے کہ عوام شرمندہ ہوں،محترم وزیراعظم ایک طویل فہرست ہے،جس کے ذریعے شرمندگی محسوس ہونے کے بارے میں بحث کی جاسکتی ہے ۔

دراصل مہنگائی،افراتفری اور عوامی بے چینی کو دبانے کے لیے  نفرت کے کھیل کو کھیلاجارہاہے جبکہ آٹھ سال پر زیادہ ہی شور مچایا جارہا ہے ،یہی سبب ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے آٹھ سال مکمل ہونے پرکہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب عوام پر مرکوز ہو گئی ہے، جو ملک کی سلامتی، تعاون، ثقافت اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے ساتھ عالمی سطح پرہندوستان کو اونچا مقام دلانے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسی سفارت کاری کہی جاسکتی جو ہماری ترقی، سلامتی اور تہذیب کے لیے وقف ہے۔وہیں وزیر داخلہ امت شاہ۔فرماتے ہیں کہ ہم غریبوں اورمحرموں کو حقوق دلا کر جمہوریت میں اعتماد پیدا کرپائے ہیں، مودی نے اقتدار کو خدمت کا ذریعہ بنا کر کسانوں، غریبوں اور محرموں کو حقوق دلا کر جمہوریت میں ان کا اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔اب دیکھئیے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاہے کہ مودی کی قیادت میں ہندوستان کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی  ہے اورملک مضبوط قیادت والے ملک کے طور پر ابھرا ہے ۔ان آٹھ کامیاب برسوں میں ہندوستان کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی ہے ۔ آج ہندوستان کو پوری دنیا میں ایک خوددار اور مضبوط قیادت والے ملک کے طور پر پہچانا جا رہا ہے ۔ اس بڑی تبدیلی کا سہرا ہمارے کامیاب وزیر اعظم نریندر مودی کے سربندھتا ہے،اوران کی موثر قیادت اوران کے عزم کی قوت کو جاتا ہے ۔یہ دعویٰ بھی انہوں نے کہاکہ  گزشتہ آٹھ برسوں میں کی گئی کوششوں سے آج بہترنتائج برآمد ہو رہے ہیں ۔ آج ہندوستان میں نظام بدلا ہے ، گڈ گورننس قائم ہو چکی ہے۔ غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے دیانتداری اور صداقت کے ساتھ کام کیا گیا ہے جس کا فائدہ معاشرے کے ہر طبقے کو پہنچ رہا ہے۔
مذکورہ بیانات میں سب سے زیادہ سینہ  بی جے پی کے صدر جگت پرکاش نڈا نےٹھونک کردعوی کیا ہے  کہ مودی حکومت کے 8 سال، ذات پات، خاندان، بدعنوانی، خوشامد کی سیاست پر ترقی کی جیت ہے اور ملک کی ترقی کی فتح کا سفر مسلسل جاری ہے۔ یہ ملک کی جمہوریت کو مضبوطی فراہم کرتے ہوئے غریبوں، پسماندہ افراد، دلتوں، قبائلیوں، خواتین، نوجوانوں اور سماج کے ہر پسماندہ فرد کو بااختیار بنانے اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کا سفر ہے۔لیکن یہ تمام دعوےاس وقت خاک میں مل جاتے ہیں ،جب امریکی دفتر خارجہ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آتی  ہے،جس نے مودی حکومت کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے،مگراس کا مدلل جواب دینے کے بجائے ،مودی سرکار نے رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ نے پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق اپنی سالانہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ 2021 میں ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کے ارکان پر سال بھر حملے ہوۓ ہیں  ، جن میں قتل اور دھمکیاں بھی شامل ہیں، محکمہ خارجہ کے فوگی باٹم ہیڈ کوارٹر میں وزیر خارجہ  انٹونی بلنکن کی طرف سے جاری کی گئی ،مذکورہ رپورٹ دنیا بھر میں مذہبی آزادی اور خلاف ورزیوں کی حالت پر اپنا نقطہ نظر پیش کرتی ہے اور اس میں ہر ملک کے لیے الگ الگ باب ہیں ۔ ہندوستان نے اس سے قبل امریکی مذہبی آزادی کی رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا کہ اسے کسی غیر ملکی حکومت کے ذریعے اپنے شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ حقوق کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔

امریکی رپورٹ کے ہندوستانی سیکشن میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال پر کوئی راۓ دینے سے گریز کرتا ہے ، لیکن اس کے مختلف پہلوؤں پر دستاویز پیش کرتا ہے ، رپورٹ میں آزادانہ طور پر مختلف غیر منافع بخش تنظیموں اور اقلیتی اداروں کی جانب سے ان پر حملوں کے الزامات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ، لیکن زیادہ تر وقت حکام کی جانب سےتحقیقات کے نتائج پر حکومتی ردعمل پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ رپورٹ کے انڈیاسیکشن میں کہاگیا ہے کہ مذہبی اقلیتی برادریوں کے ارکان پر حملے ، بشمول حملہ اور دھمکیاں ، سال بھر جاری رہے ۔ ان میں گاۓ ذبیحہ یا گاۓ کے گوشت کی تجارت کے الزامات کی بنیاد پر غیر ہندوؤں کے خلاف  گاۓ کی حفاظت کے واقعات شامل تھے ۔ اس میں آر ایس ایس کے سر براہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہی ہے اور انہیں مذہب کی بنیاد پر الگ نہیں کیا جانا چاہیے ۔ دریں اثناء ہندوستان نے امریکہ کی مذہبی آزادی کی رپورٹ پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ وزارت خارجہ نے اسے بین الاقوامی ووٹ بینک کی سیاست قرار دیتے ہوئے مسترد کردیاہے۔

اس پس منظر میں جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی لیڈرشپ کس راہ پر گامزن ہے اور درپردہ شرارتی عناصر کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے۔کیونکہ اعلی لیڈران نے شرپسندگی کرنے والوں اور نفرتوں کا کھیل کھیلنے والوں پر خاموشی تماشائی بنے رہنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔لیکن وہ تلنگانہ کے وزیراعلی چندرشیکھر راؤ کو ہرگز ہرگز ہلکے میں نہ لیں کہ نفرت کی سیاست ملک کو سوسال پیچھے لے جائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔