اقوام متحدہ: چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

ڈاکٹر سلیم خان

اقوام متحدہ  کی جنرل اسمبلی کا31دسمبر2020 کو ایک اہم اجلاس  منعقد ہوا۔ اس کے اندر عالمی سطح پر نسل پرستی، نسلی امتیاز، زینوفوبیا اور متعلقہ عدم رواداری کے خاتمے کی خاطر ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔  زینو فوبیا دراصل اجنبی یا غیر ملکی سے خوف و نفرت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے جو مظلوم تارکین وطن  کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک پر من و عن صادق آتی ہے۔ اس کی مثال  یوروپ میں شامی مہاجرین اور ہندوستان میں روہنگیا پر مظالم ہیں ۔  یہ قوم پرستی کی ہی ایک شکل ہے۔ عصرِ حاضر میں ہر ملک اس کا کلمہ  ہر کوئی پڑھتا  ہے اور یہ وباء کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہوچکی ہے۔ فی الحال اقوام متحدہ میں ارکان ممالک کی تعداد193  ہے۔ ان میں سے29 کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے جو اپنے آپ میں ایک امتیازی سلوک ہے۔ اس کے برعکس دوسرا امتیازی معاملہ پانچ کو ویٹو کا حق دے دیا گیا ہے یعنی ان میں سے ہر ایک  تمام ممالک کی متفقہ تجویز کو بہ یک جنبش بلاتکلف  مسترد کرسکتا ہے۔خیر    مذکورہ قرارداد کا مقصد اس قدر مقدس اور  پاکیزہ تھا کہ اسے اتفاق رائے سے منظور ہوجانا  چاہیے تھا لیکن  44ممالک نے اپنے آپ کو اس سے دور رکھا۔ اس مطلب یہ ہے کہ وہ اس کی مخالفت کرنا چاہتے تھے لیکن بدنامی کے ڈر سے اس کی جرأت نہیں کرسکے  لیکن 14ممالک اس قدر  ڈھیٹ تھے کہ انہوں  کسی  لعنت  وملامت کی پرواہ کیے بغیر اس    کی مخالفت کرکے یوروپ کے خونی پنجے کو بے نقاب کردیا۔

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو

ہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے

رائے شماری کے نتائج جاننے سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فی الحال دنیا کو  دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ایک ترقی یافتہ  اور  دوسرے پسماندہ۔ یہ پسماندہ ممالک  مزید دوحصوں میں منقسم ہیں۔ ایک ترقی پذیر اور دوسرے غیر ترقی پذیر  یعنی حقیقی ناقابلِ اصلاح  پسماندہ۔  ترقی پذیر گویا  وہ پسماندہ ممالک ہیں جو بتدریج اپنی پسماندگی کو دور کرکے ترقی کررہے ہیں اور باقی لوگ  اپنی پسماندگی پر مطمئن ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک  مالی اعتبار سے آسودہ حال ہیں۔ ان کی آسودگی کی دوتاریخی  وجوہات ہیں۔ اول تو یوروپی  ممالک نے نشاۃ الثانیہ کے بعد بزورِ قوت  دنیا بھرکے ملکوں میں اپنی نوآبادیا ت قائم کیں۔ وہاں کی صنعتوں کو تباہ کیا جیسے ہندوستان  میں  ریشم کے کارخانے جن کا ساری دنیا میں غلبہ تھا۔ وہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹ کر اپنے ملک میں لے جانے کے لیے   ریل کا جال بچھایا  اس کی مثال بھی انڈین ریلوے ہے اور اس لوٹ کھسوٹ سے اپنے ملک خوشحال  کو بنایا اور اپنے حریفوں کو  تباہ وبرباد کردیا۔

بیکاری و عریانی و میخواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات؟

اس کی دوسری  تاریخی وجہ امریکہ جیسے ممالک میں جاکر وہاں کے مقامی لوگوں کا قتل عام کرکے انہیں  ختم  یا کمزور کردینا ہے۔ اس کے بعد افریقہ جیسے غریب ممالک سے  لوگوں کو وہاں لے جاکر غلام کی حیثیت سے غیر انسانی استحصال ہے۔ آگے چل کر ان کے حقوق بحال کیے گئے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ آج بھی سفید فام نسل ان کو حقیر سمجھتی ہے اور ان  پر  وقتاً فوقتاً ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ ماضی میں مغربی گدھ  طاقت کے زور پر لوٹ مار اور استحصال کیا کرتے تھے فی الحال ایک استحصالی  عالمی معاشی نظام کی مدد سے  یہ کام ہورہا  ہے۔  عالمی بنک نے  ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کو رشوت دے کر اپنے قرض کے جال میں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ  ان کے ذریعہ نادانستہ  طورپر  عام  لوگوں کو معاشی جبر استحصال کی  چکی میں پیسا جاتا ہے۔۔ ان کو برضا و رغبت  غیر ضروری اسلحہ، منشیات  اور ٹکنالوجی کی  فروخت کرکے   اپنے جال میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے۔

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے

سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات

اس ’نسل پرستی، نسلی امتیاز، زینوفوبیا اور متعلقہ عدم رواداری‘ کی  گھناونی تاریخ پر پردہ ڈالنے   کے لیے خوشنما نظریات کا جال  پھیلایا گیا۔ ساری دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ  مغربی تہذیب و تمدن، عادات و اطوار اور  اقدار  ونظریات کے سبب یہ ترقی ممکن ہوسکی۔  مغرب کے سیاسی نظریہ جمہوریت کو متبرک و مقدس بناکر پیش کرنے کی خاطر   دنیا کی ہر خوبی کو اس سے منسوب کردیا گیا۔ اظہار رائے کی آزادی، مساوات  اور انصاف پسندی وغیرہ  کو اس کی  جاگیر بنادیا گیاحالانکہ  آج بھی جمہوریت نواز ممالک ان اقدار کے معاملے میں تفریق و امتیازی کا شکار ہیں  اور حسبِ ضرورت  انہیں پامال کیا  جاتا ہے لیکن جمہوریت خوشنما چادر اس جبر و استبداد  کو ڈھانپ دیتی ہے۔  اس  نظریہ پر سوال اٹھانے والوں یا اسے چیلنج  کرنے والوں  کو عدم رواداری کا علمبردار، انتہا پسندی کا شکار اور دہشت گرد کے پیروکار جیسے القاب سے نوازہ  جاتا ہے جو اپنے آپ میں عدم رواداری کا  اظہار  ہے۔ اس سحر کا ذکر علامہ نے یوں کیا تھا؎

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سُلا دیتی ہے اُس کو حُکمراں کی ساحری

کسی بھی فرد یا قوم کی حقیقت  کا اظہار اس کے بلند بانگ دعووں سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتا ہے اس لیے کہ  زبان بہ آسانی  جھوٹ بولتی ہے مگر عمل دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیتا ہے ویسے  کے قلب میں پوشیدہ  عزائم پھر بھی عیاں نہیں ہوتے  اس کے باوجود عمل  زیادہ قابلِ اعتبار ہے۔ اقوام متحدہ کے مذکورہ اجلاس میں رائے شماری نے مغرب کی قلعی کھول  دی اور  بلی بے ساختہ تھیلی سے  کود کر باہر آگئی۔ مغرب کی ترقی یافتہ جمہوری ممالک سے توقع تھی کہ وہ ’نسل پرستی، نسلی امتیاز، زینوفوبیا اور متعلقہ عدم رواداری کے خاتمے کی خاطر ٹھوس کارروائی‘ میں پیش پیش ہوں گے مگر الٹا ہوگیا۔ ان کے اندر چھپے وحشی درندے نے ازخود اپنی نقاب نوچ کر پھینک دی اور اصلی چہرہ ظاہر  کردیا۔ اس کی مخالفت کرنے والوں میں نام نہادترقی یافتہ مغربی جمہوریت کے سرخیل  امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، نیدرلینڈ،  آسٹریلیا، کناڈا اور اسرائیل شامل تھے۔ اس طرح  وہ علامہ کے اس شعر کی عملی تفسیر بن گئے۔

تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام

چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

مغرب  کے نام نہاد ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ  مشرقی یوروپ کے کچھ ممالکاورافریقہ کے  دوچار باجگذار نیزچند نامعلوم جزیروں کو ملا کر ایک درجن سے زیادہ لوگوں نے اپنی مخالفت درج کرائی۔ اس کا مطلب ہے  کہ  یہ ممالک’ عالمی سطح پر نسل پرستی، نسلی امتیاز، زینوفوبیا اور متعلقہ عدم رواداری کے خاتمے کی خاطر ٹھوس کارروائی‘ کے حق میں نہیں ہیں اور نہیں  چاہتے  کہ ان برائیوں سے عالمِ انسانیت پاک  ہو۔  اس فہرست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کا سفید فام ہو یا جرمنی و فرانس کا۔ برطانیہ  اور آسٹریلیا کا جمہوریت نواز ہو یا نیدرلینڈ و کناڈا  کا بظاہر یہ بہت  مختلف نظر آتے ہیں مگر ان کے اندر ایک ہی روح کارفرما ہے۔  وہ 44ممالک  جنھوں نے شرما حضوری میں مخالفت تو نہیں کی مگر غیر حاضر  رہے ان میں سے بھی بیشتر  کا تعلق اور یوروپ  کی ترقی یافتہ برادری سے ہے۔ ان کی جمہوری اقدار انہیں نسل پرستی  کے خاتمہ کی خاطر جدوجہد کرنے پر آمادہ نہیں کرسکی اور تعجب ہے کہ  ان میں نیوزی لینڈ بھی شامل ہے۔

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی

یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزه کاری ہے

اقوام متحدہ کی مذکورہ تجویز کے خلاف رائے دینے والے یا غیر حاضر رہنے والوں  میں چند   مفاد پرست افریقی ممالک نے بھی اس کا ساتھ دیا جبکہ وہ نسلی امتیاز کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس اسلامی دنیا کو بدنام کرنے کے لیے مغرب کے دانشورا ٓسمان اور زمین کے قلابے ملادیتا ہے اس میں سے  کوئی غیر حاضر نہیں تھا اور کسی نے مخالفت نہیں کی۔ یہ حسن اتفاق نہیں بلکہ اس گئی گزری حالت میں بھی  اپنی دینی اقدار کا پاس و لحاظ ہے کہ مخالفین اور منافقین کی صف  میں ایک بھی مسلم ملک نہیں تھا۔ اس کے باوجود عالمی میڈیا  کی نظر میں وہ  وحشی اور غیر تہذیب یافتہ پسماندہ  ہیں ۔ مغرب کا دوغلاپن اور اس کے بلند بانگ دعووں کی  یہ حقیقت ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی نے ان کی اندھی عقیدت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنارکھا ہے اور دن رات اس کی  تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہتا ہے ایسے  لوگوں کا علاج لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ سچ تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر رائے شماری نے مغربی ممالک اور ان کے اقدار و نظریات کو پوری طرح بے نقاب کردیا ہے۔ ویسے حکیم الامت نے برسوں پہلے یہ نقاب کشائی کردی تھی لیکن ان کے اشعار کا استعمال   بھی  سمجھنے سمجھانے اور عملدرآمد کے بجائے زیب داستاں کے لیے زیادہ  ہوتا ہے؎

یورپ میں بہت، روشنی علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔