خصوصیسائنس و ٹکنالوجیشخصیاتنظریات

اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (آخری قسط)

ایک معقول انسان کے لیے ایک ہی راستہ باقی ہے کہ وہ قادر مطلق، خالقِ حقیقی، خدائے وحدہ لاشریک کے وجود پر ایمان لے آئے۔

پروفیسر محمد رفعت

ہاکنگ کے عام افکار

سائنسی تحقیق اور سائنس کے مقبول عام تعارف پر مشتمل کتابوں کی تصنیف کے علاوہ ہاکنگ نے کائنات کی ابتدا اور خدا اور کائنات کے تعلق پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ سائنس دانوں کے مابین کائنات کی ابتدا کے سلسلے میں دو نظریات مقبول تھے، جوبیسویں صدی میں پیش کیے گئے: ایک نظریہ یہ تھا کہ کائنات کی ابتدا ایک دھماکے سے ہوئی۔ اس خیال کو بگ بینگ تھیوری(Big Bang theory) کہا جاتا ہے۔ گویا کائنات کا آغاز ایک نقطے سے ہوا۔ پوری کائنات کا مادہ جمع تھا، پھرکائنات پھیلنا شروع ہوئی۔ ابتدائے کائنات سے متعلق دوسرا تصور وہ تھا جس کو ہبل(Hubble) نے پیش کیا۔ وہ تصور یہ ہے کہ کائنات پھیل نہیں رہی، بلکہ اس میں تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے۔ بظاہر ہمیں کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن نئی تخلیق کے تسلسل کی بنا پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کائنات کا آغاز ایک نقطے سے ہوا۔

بقول اقبال؎

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آرہی ہے دما دم، صدائے کن فیکوں

جہاں تک مشاہدے کا تعلق ہے، شواہد پہلے تصور کے حق میں ہیں۔ تخلیقِ مسلسل کے نظریے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے برعکس جب دور کی کسی کہکشاں Galaxyکا مشاہدہ کیا جائے تو کائنات کا پھیلنا ایک حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

 پہلے تصور، یعنی ایک نقطے سے کائنات کے آغاز کواہلِ تحقیق نے عام طور پر تسلیم کیا۔ ہاکنگ بھی اس کو تسلیم کرتا ہے، یعنی کائنات کی ابتدا ایک نقطے سے اور ایک دھماکے کے ساتھ ہوئی اور اب وہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس نے کائنات کے ارتقاء کے مختلف مراحل بھی بیان کیے ہیں۔ کتاب Brief History of Time میں ان مراحل کا تذکرہ ہے۔ تدریجاًکائنات میں کیا تبدیلیاں ہوئیں ؟ اور کس طرح ارتقاء ہوا؟ اس کو ہاکنگ نے بیان کیا ہے۔

تخلیق کائنات کے تذکرے کے بعد ہاکنگ خدا کے بارے میں گفتگو کرتا ہے۔ جو باتیں اس نے کہی ہیں وہ اسی قسم کی ہیں جیسی عام طور پر ملحدین کہتے ہیں۔ مثلاً ایک بات اس نے یہ کہی ہے کہ ہمیں خدا کے تصور کی ضرورت اس وقت تھی جب سائنس نے ترقی نہیں کی تھی اور ہم کائنات کی توجیہ کے لیے خدا کے تصور کا سہارا لیتے تھے۔ اب ہم سائنس کے حقائق و نظریات کو جانتے ہیں، اس لیے ہمیں خدا کے تصور کی ضرورت نہیں ہے۔ ملحدین کا یہ قول بالکل بچکانہ ہے۔ غور کرنا چاہیے کہ کائنات کی سائنسی تشریح اصلاً اس سوال کا جواب ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کس طریقے اور کس ڈھنگ سے ہو رہا ہے؟ اس میں کارفرما قوانین کیا ہیں ؟ اس کے برعکس جب ہم خدا کے وجود کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ سوال ایک دوسری نوعیت کا ہوتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ان فطری قوانین کا بنانے والا کون ہے؟ ان قوانین کو کام میں لاکر کائنات میں حسن، ترتیب اور تناسب کو قائم کرنے والا کون ہے؟

ملحدین کا قول

وجود خدا وندی کے بارے میں مذکورہ بالا بات، جو ہاکنگ نے پیش کی ہے، ملحدین عموماًاس کو دہراتے رہتے ہیں۔ وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ اس گفتگو میں دو مختلف سوالات زیرِ بحث ہیں۔ ایک سوال مظاہر کائنات کے بیان (Description) سے متعلق ہے، جب کہ دوسراسوال کائنات کی تعبیر (Meaning) سے متعلق ہے۔ کہنے والا یہ تو کہہ سکتا ہے کہ سائنس کی ترقی نے کائنات میں نظر آنے والے مظاہر فطرت کا(مبنی بر مشاہدات) بیان ہمارے سامنے پیش کر دیا، مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ سائنس نے کائنات میں حسن اور توازن کی موجودگی کی توجیہ بھی پیش کر دی ہے۔بہر حال ہاکنگ کا ایک قول تو یہ ہے کہ ہمیں خدا کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اب سائنس ترقی کر چکی ہے۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ خدا تعالیٰ نے کائنات کے قوانین کو وجود بخشا ہے۔ غالباً یہ تصور صحیح ہے(یہ اسی طرح کی بات ہے جو نیوٹن نے پیش کی تھی کہ قوانین فطرت خدا کے بنائے ہوئے ہیں۔ ) البتہ ہاکنگ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ براہ راست مداخلت کرکے (اپنے بنائے ہوئے) قوانینِ فطرت میں تبدیلی نہیں کرتا، یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ قوانین بنادینے کے بعد پھر وہ کائنات کے ارتقاء میں (بطور مدبّر) مداخلت کرے اور مداخلت کی صورت یہ ہو کہ کائنات میں نافذ قوانین میں تبدیلی ہو جائے۔ یہ ہاکنگ کا قول ہے۔

ملحدین کا ناقص فہم

مذکورہ بالا بات بہت سے ملحدین کہتے ہیں۔ اس قول کا ایک پس منظر ہے۔ ریاضی داں لیپ لاس کا خیال یہ تھا کہ خدا نے کائنات کی ابتدا کر دی۔ اس کے بعد کائنات میں اس کا رول ختم ہو گیا۔ اس کے برعکس ایک خدا پرست کے نزدیک کائنات کی درست تصویر یہ ہے کہ تخلیق کی ابتدا کے بعد حاکم حقیقی کا کردار ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ ہر آن کائنات کی تدبیر کر رہا ہے۔ وہ زندہ ٔجاوید ہے، محض خالق نہیں، بلکہ وہ مدبر اور حاکم بھی ہے اور اس کا حکم مسلسل کائنات میں جاری ہے۔ اگر کوئی خدا پر ایمان رکھنے والا کائنات کی یہ تصویر پیش کرے تو ملحدین اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا اعتراض یہ ہے کہ خدا کی تدبیر ِمسلسل کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ قوانین فطرت میں تبدیلی کا امکان تسلیم کر لیا گیا۔ ملحدین کا فہم یہ ہے کہ خدا پرستوں کے نزدیک قوانین فطرت بدل سکتے ہیں۔ پھروہ یہ کہتے ہیں کہ ہم قوانینِ فطرت کی تبدیلی کے امکان کو نہیں مانتے۔ چنانچہ خدا کو بھی نہیں مان سکتے۔ ملحدین کے تصور کے مطابق حاکم حقیقی کی جانب سے تدبیر کائنات کی ایک ہی ممکن صورت ہے، یعنی قوانینِ فطرت میں تبدیلی۔

مغرب کا فکری جمود

ملحدین کا فہم اور استدلال دونوں درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب مغرب میں فلسفۂ سائنس کا ارتقاء رک گیا ہے۔ سائنس کا ارتقاء تو بیسویں صدی میں ہوا اور اب بھی جاری ہے۔ مگر فلسفۂ سائنس پر جمود طاری ہو گیا۔ اس لیے ملحدین درست طرز پر فلسفیانہ غور و فکر کر کے زیر بحث سوال کا معقول جواب نہیں پاسکے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کو مان لیں تو پھر کائنات میں ہر آن واقع ہونے والی تبدیلیوں سے خدا کا کیا تعلق ہے؟ اس سوال کا مدلل فلسفیانہ جواب ملنا چاہیے تھا۔صحیح جواب فراہم کرنا اصلاً اہل ایمان کی ذمہ داری تھی۔ ہم اہل کتاب کو بھی اس صف میں شامل کر سکتے ہیں۔ بہر حال مغربی دنیا نے اس سوال سے بحث نہیں کی۔ وہ خدا اور کائنات کا سادہ لوحی کے ساتھ تذکرہ کرتے رہے۔ ان کے نزدیک محض قوانینِ فطرت میں تبدیلی کے ذریعے، تدبیر کائنات میں خدائی مداخلت ممکن ہے۔بہر حال ان کا یہ فہم صحیح نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوانینِ فطرت کے علاوہ کائنات کے دوسرے پہلو بھی ہیں۔ مثلاً انسان جب کائنات کی اشیاء کو استعمال کرتا ہے، تو محض فطری قوانین کو نہیں، بلکہ اپنے آزاد ارادے کو بھی استعمال کرتا ہے اور اسباب کو اپنے پیش نظر نقشے کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ پھر قوانین فطرت کے مطابق متوقع نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ انسان کے اس عمل کی بنا پر کائنات میں نافذقوانین نہیں بدلتے۔ اسی طرح مشیت الٰہی بھی کائنات میں کار فرما ہے اور مشیت الٰہی کا وجود اور کائنات میں اُس کی کار فرمائی، قوانینِ فطرت میں تبدیلی کی متقاضی نہیں۔

قوانینِ فطرت انسانی ارادے، مشیت الٰہی  اور حوادثِ کائنات کے مابین صحیح تعلق کی جامع تعبیر و تفہیم درکار ہے۔ یہ موضوع تشریح طلب ہے۔ اس لیے یہاں صِرف اشارتاً اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ کسی اور موقع پر اس نکتے پر تفصیلی اظہار خیال کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

کائنات میں کارفرما عظیم منصوبہ

مندرجہ بالا بحث میں ہاکنگ کے دو اقوال کا تذکرہ کیا گیا۔ اس موضوع پرہاکنگ کا تیسرا بیان ۲۰۱۰ء کی اس کی کتاب میں سامنے آتا ہے۔اس کتاب کا نام ہے The Grand Design۔ (عظیم منصوبہ) یہ عام فہم زبان میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس میں ہاکنگ نے گلیلیو(م ۱۶۴۲) کی سائنسی کاوشوں سے آغاز کرکے بیسویں صدی تک کی سائنس کا جائزہ لیا ہے اور اہم تصورات کا تعارف کرایا ہے۔ آخر میں اس نے چند بنیادی سوالات پر بحث کی ہے۔ ایک سوال جان داروں کی دنیا کے بارے میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جان داروں کی دنیا میں جو ترتیب، حسن، توازن اور باہمی توافق پایا جاتا ہے، اس کی توجیہ کیا ہے؟ خدا پرستوں کے نزدیک اس مظہر کی توجیہ خدا کا وجود اور اس کی تدبیر ہے اور کائنات کا یہ شعبہ مصورِ حقیقی کی مصوری کا شاہ کار ہے، مگر ملحدین اس اعتدال و تناسب کی توجیہ نظریۂ ارتقاء کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ ہاکنگ نے اس ضمن میں کوئی خاص بات نہیں پیش کی ہے۔ مغرب کے ملحدین عموماًیہی کہتے ہیں۔

 اس کے بعد ہاکنگ دوسرا سوال قائم کرتا ہے، جو نظام شمسی (Solar system)سے متعلق ہے، یعنی جان داروں کی دنیا سے باہر آئیے اور(بطور مثال) سورج اور زمین کے تعلق پر غور کیجیے۔ یہاں بھی بے مثال توافق اورتوازن نظر آتا ہے۔ گویا ایک عظیم منصوبہ کے خدّو خال نظر آتے ہیں۔ ہم تصور کریں کہ اگر زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ کم یا زیادہ ہوتا تو ہمارا حساب بتاتا ہے کہ زمین پر انسانی زندگی کا امکان ختم ہوجاتا۔ اسی طرح زمین پر بارش کا نظام اور ہوا کا نظام انتہائی موزوں صورت میں موجود ہے۔ بہت سی اور مناسبتیں بھی ہیں، جن کا شمار مشکل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نظام شمسی انسان کے لیے انتہائی سازگار ہے۔ اس موزونیت اور سازگاری کی کیا توجیہ ہے، اگر خالق کو نہ مانا جائے؟ ہاکنگ کا جواب یہ ہے (اور دوسرے ملحدین اس جواب میں شریک ہیں )کہ کائنات میں تنہا یہی ایک نظام شمسی تو نہیں ہے، دنیا میں ایسے بہت سے نظام موجود ہیں (ان کی تعداد بتانے کے لیے  لاکھوں کروڑوں کی گنتیاں بھی چھوٹی ہیں۔ ) تو ان سب میں اتفاق سے ایک ایسا نظام شمسی ہے جس کے حالات انسانی زندگی کے ظہور اور بقا کے لیے سازگار ہیں۔ شمسی نظاموں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی کی بنا پر اتفاق سے ایسا ہو جانا غیر متوقع نہیں ہے۔ یہ جواب پہلے ڈاکنس Dawkinsنے دیا، جو حیاتیات (Biology) کا ماہر ہے۔ ہاکنگ نے اس کو نقل کیا ہے۔

اب اس کے بعد تیسرا چیلنج ملحدین کے سامنے آتا ہے۔ محض حیاتیات (بائیلوجی) سے واقف اہلِ سائنس اس چیلنج کو جانتے بھی نہیں ہیں، لیکن فزکس کے طالب علم جانتے ہیں۔ اس کو ہاکنگ نے بیان کیا ہے ( اور دوسرے مصنفین بھی)  وہ چیلنج خود قوانین فطرت کی نوعیت سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر زمین اور سورج کے نظام میں موجود توازن کا ایک سبب باہمی کششِ ثقل ہے۔ اب اس کشش کی نوعیت پر غور کیجیے۔ یہ محض سورج اور زمین کے درمیان ہی نہیں، بلکہ ہر دو اجرام کے درمیان موجود ہے۔(یعنی آفاقی ہے۔) جو قانونِ ثقل ہمیں معلوم ہے وہ یہ ہے کہ دو اجرام کا درمیانی فاصلہ دو گنا ہو جائے تو ان کے مابین کشش کم ہو کر محض ایک چوتھائی رہ جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر قانون ِ ثقل کچھ اور ہوتا، مثلاً قوتِ کشش(باہمی فاصلہ دوگنا ہوجانے پر) ایک تہائی ہو جاتی تو کائنات کیسی ہوتی؟

الحاد کی شکست

واضح رہے کہ مذکورہ بالا سوال کائنات میں اشیاء کی موجودگی، ترتیب، تعامل اور توافق سے متعلق نہیں ہے۔ یعنی اشیاء کیا ہیں اورکیسی ہیں ؟ بلکہ یہ اس سے مختلف سوال ہے۔ سوال یہ ہے کہ کائنات میں جو قوانینِ فطرت کار فرما ہیں، ان کی نوعیت کیسی ہے؟ ہمارے اب تک کے علم کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ قوانین، انسانی زندگی سے گہری مطابقت رکھتے ہیں اور اس کے تسلسل و بقا کے لیے موزوں و ساز گار ہیں۔ اگر ایسی دنیا کا تصور کیا جائے جہاں قوانین کچھ اور ہوں (مثلاً کشش ثقل کا قانون، اس سے مختلف ہو جو ہمیں معلوم ہے۔) تو انسانی زندگی نا ممکن ہو جائے گی۔ یہ صورتِ حال عظیم ترین چیلنج ہے، جو ملحدین کے سامنے ہے۔ اگر خدا کو نہ مانیں تو اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا کہ قوانین فطرت کے اندر موزونیت کیوں ہے؟ یعنی وہ انسان کے لیے ساز گار کیوں ہیں ؟ گرانڈ ڈیزائن کا منصوبہ کہاں سے آیا؟

اس سوال کا نادر جواب ہاکنگ نے فراہم کیا ہے۔وہ جواب یہ ہے کہ کائنات بھی محض ایک نہیں ہے، بلکہ متعدد ہیں۔ جیسے نظام شمسی بہت سے ہیں، اسی طرح کائنات بھی بہت سی ہیں۔ وہ ہمیں نظر نہیں آتیں اور کبھی نظر آئیں گی بھی نہیں۔ ہاکنگ کہتا ہے کہ ہر کائنات میں کار فرما قوانین الگ الگ ہیں۔ کہیں اجرام کے درمیان کشش ہے، جو انھیں قریب لاتی ہے تو کہیں ایسی کائنات بھی ہوگی جہاں اجرامِ فلکی قریب آنے کے بجائے ایک دوسرے کو دور بھگاتے ہوں گے۔ ان متعدد کائناتی نظاموں میں اتفاقاً ایک کائنات ایسی ہے جس کے قوانین ہمارے لیے (یعنی انسانوں کے لیے اور انسانی زندگی کی بقا کے لیے) ساز گار ہیں۔ اسی کائنات میں ہم رہتے ہیں۔ یہی ہم کو نظر آتی ہے، چنانچہ اسی سے واقف ہیں۔ کوئی اور کائنات ہمیں نظر نہیں آتی (اگرچہ موجود ہے) اور کبھی نظر نہیں آئے گی۔ ہاکنگ کا یہ جواب سُن کر پری اور بھوت کے قصے یاد آجاتے ہیں، جو انسانی خیال آرائی کی معراج ہیں، مگر حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔

ہاکنگ کا یہ جواب عوامی ابلاغ (سوشل میڈیا) کے ذریعے عام ہوا ہے۔اس جواب پر بعض تبصرے سامنے آئے۔ سات (۷) تبصرے اس کے حق میں ہیں اور اس سے دوگنے تبصرے اس  کے جواب کی تردید میں ہیں۔ تردید کرنے والوں کا کہنا یہ ہے کہ’’ اگر نظر نہ آنے والی کائنات کا وجود ہی تسلیم کرنا ہے(اور وہ بھی ایک نہیں، بلکہ    ان گنت) تو اس کے مقابلے میں خدا کو ماننا زیادہ آسان ہے۔‘‘ گویا ملحد یہ کہتے ہیں کہ ’’عالم وجود میں ان گنت کائناتیں موجود ہیں۔ بغیر مشاہدہ کیے ان کی موجودگی پر ایمان لاؤ، جو ہمیں نظر نہیں آتیں اور کبھی نظر نہیں آئیں گی۔ ‘‘ملحدین کے اس قول کو سننے کے بعد غور کرنا چاہیے کہ’’ خدا بھی نظر نہیں آتا تو اس کے وجود کو مان لینا زیادہ آسان ہے   بہ نسبت اس کے کہ بلا دلیل متعدد عالَم مان لیے جائیں۔ ‘‘ واقعہ یہ ہے کہ عظیم منصوبے(Grand Design) کا ادراک الحاد کی حتمی شکست ہے۔ متعدد عالَموں کا جو افسانہ تصنیف کیا گیا ہے، بتاتا ہے کہ ملحدین نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ اب ان کے پاس کوئی استدلال باقی نہیں رہا، جسے وہ الحاد کی تائید میں پیش کر سکیں۔ اب ایک معقول انسان کے لیے ایک ہی راستہ باقی ہے کہ وہ قادر مطلق، خالقِ حقیقی، خدائے وحدہ لاشریک کے وجود پر ایمان لے آئے۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close