سیاستہندوستان

اٹل بہاری واجپئی: میری یادیں، ان کی باتیں

محمد اویس سنبھلی

 میرے پیارے دوست اقبال اشہر نے ایک سچاشعر اٹل بہاری واجپئی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے گذشتہ روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا  ؎

الگ نہ ہوں گے یہ کردار داستاں سے کبھی

عظیم لوگ گزرتے نہیں جہاں سے کبھی

         اٹل بہاری واجپئی کے انتقال کی خبر سے پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ وہ ایک عظیم سیاستداں، بہترین مقرر اور اچھے کوی اور شاعر تھے۔محترم پرویز ملک زادہ نے کل اٹل جی کی ایک مختصر نظم واٹس ایپ پرپوسٹ کی تھی جو شاید اٹل جی نے خاص اِسی دن کے لئے کہی تھی۔۔۔۔۔۔

جو کل تھے

وہ آج نہیں ہیں

جو آج ہیں

وہ کل نہیں ہوں گے

ہونے، نہ ہونے کا کِرم

اسی طرح چلتا رہے گا

ہم ہیں، ہم رہیں گے

یہ بھرم بھی سدا پلتا رہے گا۔

٭٭٭

ہم جس زمانے میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کررہے تھے، یہ زمانہ ہندوستانی سیاست میں اٹل جی کے عروج کا زمانہ تھا۔ ۱۳؍دن اور ۱۳ مہینے کے لئے وہ وزیراعظم بن چکے تھے۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے لئے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان زور آزمائی چل رہی تھی۔ لکھنؤ سے اٹل جی الیکشن لڑ رہے تھے اور کانگریس نے کرن سنگھ کو میدان میں اتارا تھا۔ میری زندگی کا یہ بڑا دلچسپ الیکشن تھا۔ اٹل جی یہ الیکشن جیت تو گئے تھے لیکن ووٹوں کی گنتی جس وقت اپنے آخری مرحلہ میں تھی کہ کرن سنگھ کی جیت کی خبر آنے لگی۔ ایک کے بعد ایک خبروں کا بازار گرم ہونے لگا۔ جس میں سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ایڈمنسٹریشن نے زبردستی یا آپسی رضامندی سے اٹل جی کا الیکشن میں جیت کا اعلان کردیا۔ اب اس میں کتنی سچائی تھی اور کتنا جھوٹ اس کا کم از کم ہمیں تو کوئی علم نہیں۔ ہمیں تو صرف اس زمانے میں اٹل جی کے بولنے اور ان کے تقریر کرنے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا اور اس کا ہم پر اتنا اثر تھا کہ ہم نعمت اللہ بلڈنگ کے جس کمرے میں رہا کرتے تھے، رات میں اکثر اسی انداز میں تقریر کرنے یا یوں کہئے کہ اٹل جی کی نقل کیا کرتے تھے۔دوستوں اور عزیزوں میں بھی اس کا خوب تذکرہ رہتا تھا۔۱۶؍مئی ۱۹۹۷ ء کو اٹل جی نے پہلی مرتبہ بطور وزیر اعظم حلف لیا تھا اور محض ۱۳؍دن میں حکومت گرگئی تھی۔ اس وقت پارلیمنٹ میں جو تقریر اٹل جی نے کی تھی اس کے یہ جملے آج تک ہمیں یاد ہیں :’’میں ابھی پردھان منتری ہوں، کچھ دیر میں نہیں رہوں گا۔ لیکن اس سے میرے من کو کوئی پیڑا نہیں، کوئی شوک نہیں ہوگا۔ ستّا کا کھیل تو چلتا رہے گا، سرکاریں آئیں گی، جائیں گی۔ پارٹیاں بنیں گی، بگڑیں گی۔ مگر یہ دیش رہنا چاہئے۔ اس دیش کا لوک تنتر امر رہنا چاہئے۔‘‘ اٹل جی کے ان جملوں کی ہم خوب نقل کیا کرتے تھے۔

 بہرحال اٹل جی تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بنے۔ اٹل جی واحد غیر کانگریسی لیڈر تھے، جنھوں نے۲۴؍پارٹیوں کو ساتھ لے کر بنا کسی دشواری کے بطور وزیر اعظم اپنے پانچ سال مکمل کئے۔اس کے بعد ہندوستان پاکستان دوستی کے لئے ان کی کوششوں کو بھی ہم نے دیکھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کے سلسلہ میں اٹل جی کا زبردست کردار رہا۔ وہ ہمیشہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے رشتوں کے قائل تھے، حالانکہ ان کا بنیادی تعلق سنگھ سے تھا لیکن بحیثیت وزیراعظم ہند ان کی فکر میں زبردست تبدیلی اس وقت دیکھنے کو ملی۔ وہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوشاں تھے۔ اس کے لئے انھوں نے متعدد اقدامات بھی کئے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف جمہوریت اور انسانیت سے نکالا جاسکتا ہے۔اور اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لئے انھوں نے اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے مل کر کوشش بھی کی تھی اور کسی نتیجے تک بھی پہنچ گئے تھے لیکن حکومت ہی میں شامل بعض افراد مسئلہ کشمیر کو حل ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے، ان سب کا گہرا تعلق سنگھ سے تھا۔ ان سب نے اس موقع پر ایسا ماحول بنا دیا کہ جنرل پرویز مشرف ناراض ہوکر آگرہ ہی سے واپس پاکستان چلے گئے اور معاملہ بنتے بنتے بگڑ گیا۔

  اٹل جی صرف سیاست کے مرد میدان نہ تھے بلکہ ایک اچھے شاعر اور کوی بھی تھے اور اپنی فکر کو اکثر کویتائوں اور شاعری کے ذریعہ بیان کرتے تھے۔ شاعری اور کویتا ان کی سیاست اور ان کے فیصلوں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہی۔ انھوں نے سیاست میں ادب اور ادب میں سیاست کی روش کو اختیار کیا۔ وہ اپنے بڑے سے بڑے فیصلوں اور فکرو ں کو شاعری کے ذریعہ بیان کردیا کرتے تھے۔یہاں مثال کے لئے ہندوستان پاکستان کے رشتوں کو لے کر اٹل جی کی ایک نظم’’جنگ نہ ہونے دیں گے‘‘ پیش خدمت ہے  ؎

جنگ نہ ہونے دیں گے

ہم جنگ نہ ہونے دیں گے

وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے

کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی

کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی

آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا

ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا

ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا

منھ میں شانتی بغل میں ہم، دکھوکے کا پھیرا

کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر

دنیا جان گئی ہے ان کا اصل چہرہ

کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے

جنگ نہ ہونے دیں گے

ہمیں چاہئے شانتی، زندگی ہم کو پیاری

ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے

آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری

ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے

جنگ نہ ہونے دیں گے

بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے

پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے

تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا

روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے

جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے

جنگ نہ ہونے دیں گے

٭٭٭

ملک کی راجدھانی دہلی کی بھاگ دوڑ وا لی زندگی، آلودگی اور ایک دوسرے کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ جانے کی فکراور ان تمام حالات کی منظر کشی کرتی اٹل جی کی یہ نظم ’’میں سوچنے لگتا ہوں ‘‘۔

تیرز رفتار سے دوڑتی بسیں

بسوں کے پیچھے بھاگتے لوگ

بچے سنبھالتی عورتیں

سڑکوں پر اتنی دھول اڑتی ہے

کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا

میں سوچنے لگتا ہوں

پُرکھے سوچنے کے لئے آنکھیں بند کرتے تھے

میں آنکھیں بند ہونے پر سوچتا ہوں

بسیں ٹھکانوں پر کیوں نہیں ٹھہرتیں ؟

لوگ لائن میں کیوں نہیں لگتے؟

آخر یہ بھاگ دوڑ کب تک چلے گی؟

دیش کی راجدھانی میں

سنسد کے سامنے

دھول کب تک اڑے گی؟

میری آنکھیں بند ہیں

مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا

میں سوچنے لگتا ہوں !

٭٭٭

ستمبر ۲۰۰۳ء میں پارلیمنٹ میں زبردست اجلاس چل رہا تھا۔ کرپشن پر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھار کررہے تھے۔ کانگریس دلیپ سنگھ جودیو کا مدعا اُٹھا رہی تھی تو بی جے پی اجیت جوگی کا۔ ایک دوسرے پر زبردست تنقید کی جارہی تھی کہ اٹل جی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے بڑی بے باکی کے ساتھ اپنی بات یہاں سے شروع کی ’’ بے نقاب چہرے ہیں ؍داغ بڑے گہرے ہیں ؍ٹوٹتا طلسم آج؍سچ سے بھئے کھاتا ہوں ؍گیت نہیں گاتا ہوں ‘‘۔ یہ پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا ’’ جودیو اور جوگی کے کرپشن کا پرکرن لوک تنتر کے ماتھے پر کلنک ہے، بھارت آگے بڑھ رہا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہورہا ہے۔‘‘ کئی اور موقعوں پر بھی اٹل جی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنی پارٹی سے الگ رائے رکھی۔

  بحیثیت وزیر اعظم اٹل جی کی خدمات کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ وہ ایک ایسے ماہر سیاست داں تھے جو نرم روی کے ساتھ مشکل سے مشکل مسائل حل کر لیا کرتے تھے۔ اور اسی لئے ہر طبقہ فکر میں یکساں مقبولیت رکھتے تھے۔ ملک کو فرقہ پرستی کے دلدل سے نکالنے کے لئے وہ ہمیشہ کوشش کرتے رہے۔ یہ الگ بات کہ ۲۰۰۲ء میں گجرات فسادات کے سلسلہ میں ان کا کردار شک کے دائرے میں رہا۔ انھوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ ’’مودی‘‘ کو ’’راج دھرم کے پالن‘‘ کرنے کا حکم تو دیا لیکن نہ تو وہ اس پرہی عمل کراسکے اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی بڑا قدم اُٹھایا۔ اس کی بھی ایک بڑی وجہ وہی لوگ تھے جنھوں نے مسئلہ کشمیر کو حل ہونے سے روک دیا تھا۔گجرات کے فساد میں ہزاروں بے گناہوں کی جان گئی، ماں کے پیٹ میں تلوار ڈال کر بچے کو مار ڈالا گیا، گھروں کو نذر آتش کردیا گیا۔گجرات کا فساد اٹل جی کے دامن پر لگا ایسا دھبا ہے جسے وہ دنیا سے رخصت ہونے تک صاف نہ کرسکے، اور اپنے ساتھ لے گئے۔ بحیثیت وزیر اعظم گجرات فساد ان کی سب سے بڑی ناکامی تھی۔اس کے علاوہ کرگل کی جنگ کے درمیان کا کفن اور تابوت گھوٹالا بھی ان کی زندگی پر بدنما داہیں۔

  وزیر اعظم بننے سے پہلے اٹل جی پکے ’’سنگھی ‘‘ تھے۔ بابری مسجد شہید ہونے سے ایک دن پہلے یعنی ۵؍دسمبر ۱۹۹۲ کو لکھنؤ میں انھوں نے اپنی تقریر میں ’’زمین کو سمتل‘‘ کرنے کا نعرہ دیا تھا اور کارسیوکوں کے دلوں میں ایسا زہر بھرا جسکا نتیجہ ۶؍دسمبر کو نظر آیا۔جو شاید ہندوستان کی تاریخ کا سب سے سیاہ دن ہے۔وزیر اعظم بننے کے بعد اٹل جی نے ’’جے جوان، جے کسان کے ساتھ جے وگیان‘‘ کا بھی نعرہ دیا لیکن یہی اٹل جی تھے جنہوں نے راجیو گاندھی کے ’’کمپوٹر رِولیوشن‘‘ کی زبردست مخالفت کی تھی۔۱۹۹۰ میں جب اقلیت کے لئے ’’منڈل‘‘ کو نافض کرنے کا اعلان کیا گیا تو اٹل جی نے اس کی پُرزور مخالفت کی حتکہ وی پی سنگھ حکومت گرگئی جبکہ الیکشن دونوں نے ساتھ مل کر لڑا تھا۔

 اب اٹل جی ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن بحیثیت وزیر اعظم یا اپوزیشن لیڈر ان سے وابستہ بہت سی کھٹی میٹھی یادیں اور باتیں ہم لوگوں کے ذہنوں میں ہیں۔ اٹل جی بی جے پی کا ایک قیمتی چہرہ تھے، جو اب نہیں رہا۔اٹل جی نے ایک کویتا لکھی تھی ’’ موت سے ٹھن گئی‘‘۔ اسی کویتا پر اپنی بات ختم کرتا ہوں  ؎

جوجھنے کا میرا ارادہ نہ تھا

موڑ پر ملیں گے اس کا وعدہ نہ تھا

راستہ روک کر وہ کھڑی ہوگئی

یوں لگا زندگی سے بڑی ہوگئی

موت کی عمر کیا ہے؟ دو پل بھی نہیں

زندگی سلسلہ، آج کل کی نہیں

میں جی بھر جیا، میں من سے مروں

لوٹ کر آئوں گا، کوچ سے کیوں ڈروں ؟

تو دبے پائوں، چوری چھپے سے نہ آ

سامنے وار کر پھر مجھے آزماں

موت سے بے خبر، زندگی کا سفر

شام ہر سرمئی، رات بنسی کا سُوَر

بات ایسی نہیں کہ کوئی غم ہی نہیں

درد اپنے پرائے کچھ کم بھی نہیں

پیار اتنا پرایوں سے مجھ کو ملا

نہ اپنوں سے باقی ہے کوئی گلہ

ہر چنوتی سے دو ہاتھ میں نے کئے

آندھیوں میں جلائے ہیں بجھتے دئیے

آج جھک جھورتا تیز طوفان ہے

ناو بھنوروں کی بانہوں میں مہمان ہے

پار پانے کا قائم مگر حوصلہ

دیکھ تیور طوفاں کا، تیوری تن گئی

موت سے ٹھن گئی !

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close