کشن گنج سے اخترا لایمان کی کامیابی کیوں ضروری ہے؟

0

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

      کشن گنج کے امیدوار اخترالایمان بلا شبہ ایک بے حد ایماندار، مخلص، متحرک، فعال اور ملّت کا درد رکھنے والی شخصیت کا نام ہے۔ انھوں نے اپنی تقاریر، بیانات اور مختلف وقتوں میں کئی اہم کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں۔ یہ سب ان کی سیاسی بصیرت اور فعال ہونے کے بہترین نمونے ہیں۔ اس لئے اس بار کے لوک سبھا کے عام انتخاب میں انھیں کامیاب بنانا نہایت ضروری ہے۔

      یہ سچ ہے کہ گزشتہ 2015 ء کے بہار اسمبلی کے عام انتخاب میں ان کی امیدواری پر توجہ نہیں دی گئی تھی، بلکہ ان کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی اور نیتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا اتحادبی جے پی کو شکست دینے لئے کھڑا کیا گیا تھا اور اس اتحاد کو کسی بھی قیمت پر کمزور نہیں کرنا تھا۔ اس لئے اس وقت اسمبلی انتخاب کے لئے نہایت ضروری تھا کہ اس اتحاد کے مقابلے، کسی  دوسری  پارٹی کوحمایت دی جاتی۔ اس لئے اس وقت کے حالات کے مد نظر جہاں ان کی پارٹی کو  جہاں حاشیہ پر ڈالنا ضروری تھا، ٹھیک اسی طرح اس وقت کے لوک سبھا کے عام انتخاب میں وقت اور حالات کا یہ تقاضہ ہے کہ اخترالایمان کو کشن گنج کے رائے دہندگان پوری امّت مسلمہ کے مفاد میں ہر قیمت پر انھیں ووٹوں کی اتنی بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں کہ پورے ملک میں ایک ریکارڈ بنے۔

      یوں بھی جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے امیدواروں کے مقابلے، اخترالایمان کئی لحاظ سے ایک باوقار، تعلیم یافتہ، دور اندیش اور سیاسی بصیرت رکھنے والے امید وار ہیں۔ جہاں تک جے ڈی یو کے امیدوار کا سوال ہے، ممکن ہے شخصی طور پر ایک بہتر شخص ہوں، لیکن ذرا تصور کیجئے کہ اگر یہ امیدوار کشن گنج پارلیمانی حلقہ سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو پارلیامنٹ پہنچ کر وہ اپنی پارٹی جے ڈی یو کی حلیف اور اتحادی پارٹی  بی جے پی، جس کی مسلم دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے، وہ اتحاد کے باعث نہ چاہتے ہوئے بھی ہر قیمت پر نریندر مودی، امت شاہ، گری راج سنگھ اور مینکا سنگھ وغیرہ جیسی متعصب اور مسلم مخالف لوگوں کی پارٹیوں کی حمایت میں ووٹ دینے کے لئے مجبور ہونگے یعنی مسلم مخالف بل پر بھی حمایت دینا ان کی مجبوری ہوگی۔ یہ ان کی اپنی جے ڈی یو پارٹی کے تئیں وفاداری کے لئے ضروری ہوگا۔ اس لئے اس پارٹی کے امیدوار کو اپنے قیمتی ووٹوں سے کامیاب بنانا، نہ صرف سیمانچل کے لئے بلکہ پورے ملک کے مسلمانوں کے لئے بھاری نقصان  دہ ثابت ہوگا۔ جو میرا خیال ہے کہ سیمانچل کے دانش مند اور بالیدہ سیاسی شعور رکھنے والے رائے دہنددگان کسی قیمت پر بھی ہونے نہیں دینگے۔ اب جہاں تک اس علاقے سے کھڑے ہونے والے مہاگٹھبندھن کے امیدوار کا سوال ہے تو یہ امیدوار اپنی سابقہ سیاسی روئیوں سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ اخترالایمان کے مقابلے ان کے اندر سیاسی شعور اور فہم و ادراک کی کارفرمائی ہے اور نہ امّت مسلمہ کی کسی بڑی تحریک میں ان کا اہم رول رہا ہے۔ اسمبلی کی حد تک ان کی امیدواری قابل قبول ہو سکتی ہے، لیکن اس وقت ملک کے اندر جس طرح کی منافرت  پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے اور ہندوتوا ایجڈے کونافذ کرنے کا منظم منصوبہ چل رہا ہے، ایسے ناگفتہ بہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ پارلیامنٹ میں ایسی کوششوں کے خلاف تیز آواز بلند کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔

       میں آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ایسے عمل سے ہمیشہ معترض رہا ہوں کہ وہ اپنی پارٹی کے امیدوار خاص طور پر ایسے مسلم علاقوں سے کھڑا کر دیا کرتے ہیں، جہاں ان کے امیدوار کی وجہ سے مسلمانوں کے ووٹوں کا بٹوارہ ہو جاتا ہے ، جس کی بنا پر اس علاقے کے مسلم امیدوار کی شکست ہو جاتی ہے۔ مہاراشٹر ا اور دوسری کئی ریاستوں کے انتخابات میں آئی ایم آئی ایم کے ایسے غیر دانشمندانہ عمل  سیاسی شعور  کی کمی سے بڑے پیمانے پر مسلم امیدواروں کی شکست ہوئی ہے اور مہاراشٹر میں تو ان کی وجہ کر ہی پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہی بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پارٹی کو لوگ ووٹ کٹوا پارٹی کہنے پر مجبور ہوئے۔ اس لئے اخترالایمان کو آئی ایم آئی ایم کے امیدوار کی حیثیت سے نہیں بلکہ اخترالایمان کو ان کی اپنی مقناطیسی شخصیت اور ملک و ملّت کے مفادات کے تئیں ہمیشہ مخلص اور ایماندار اور کوشاں رہنے والے اور اپنی سحر انگیز تقاریر کے لئے مشہور ومقبول امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنانے کی کشن گنج کے لوگ ضرور سرگرم عمل ہونگے، اس کا مجھے یقین ہے۔ کشن گنج کے لوگوں کی ایسی مثبت کوشش کا اثر صرف کشن گنج تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے شاندار مثبت اثرات اور نتائج بھی پوری ملت کو دیکھنے کوملینگے اور لوگ کشن گنج کے لوگوں کے تئیں یقینی طور پر شکر گزار ہونگے کہ ان لوگوں نے ایک ایسی شخصیت کو پارلیامنٹ میں بھیجا ہے، جس کی آواز میں صداقت کی گھن گرج کے ساتھ ساتھ دشمن کو لا جواب کر دینے کی صلاحیت ہے، ورنہ ایسے نمائندوں سے تو دن بدن پارلیامنٹ خالی ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جس کے ذمّہ دار دوسرا کوئی نہیں ہم ہی زیادہ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے