سیاستہندوستان

کیا مودی کی طاقتِ گفتار سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا؟

عبدالعزیز

وزیر اعظم نریندر مودی کا نام پہلے پہل رام مندر تحریک کیلئے ان کے استاد محترم ایل کے ایڈوانی کے رتھ یاترا کے موقع پر اخباروں میں آیا کہ وہ یاترا کے ناظم اعلیٰ ہیں ، اس کے بعد اچانک انھیں کیشو بھائی پٹیل کو سبکدوش کرکے دہلی سے بلاکر گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ 2002ء کے گجرات فساد میں مسلمانوں کے قتل عام سے مودی مودی ہوگئے، فرقہ پرستوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ گجرات میں جب الیکشن ہوا تو مودی کی دھواں دھار تقریریں شروع ہوئیں ۔ مسلمانوں پر طرح طرح سے حملے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے ان کی مقبولیت اور شہرت میں اضافہ ہوگیا۔ الیکشن میں زبردست کامیابی ہوئی۔ طاقت گفتار اور تقاریر نے جسے لفاظی کہنا درست ہوگا ان کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ فرقہ پرستوں کی نظر پہلے سے ہی ان پر جمی ہوئی تھی۔ لوک سبھا کے الیکشن 2014ء کیلئے وہ وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے امیدوار کے طور پر نامزد کر دیئے گئے۔

مودی جی نے الیکشن سے پہلے 15 اگست کے موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی لال قلعہ والی تقریر کا جواب دینے کیلئے گجرات ہی میں خاص طور پر ایک جلسہ کا انعقاد کیا جسے فرقہ پرستوں نے خوب سراہا حالانکہ ایسے موقع پر جب کہ یوم آزادی کا موقع ہو تو میل ملاپ، خوشی و مسرت کی باتیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ اگر سچ کہا جائے تو ہندستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ الفاظ یا تقریر و گفتار کے زورپر کوئی شخص اپنی پارٹی میں اور ملک پر حکمرانی کر رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ Man is governed by words (آدمی پر الفاظ کے ذریعہ حکمرانی کی جاتی ہے)۔ ممکن ہے جواہر لال نہرو نے الفاظ کے حسن و تاثیر کیلئے ایسے جملے کا استعمال کیا ہو کیونکہ پنڈت جی اپنی گفتار سے کہیں زیادہ کردار سے پہچانے جاتے تھے وہ گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی تھے۔ ان کا شمار ہندستان کے اچھے مدبروں میں ہوتا ہے۔ مدبر کے علاوہ اچھے مصنف بھی تھے۔ وہ بہت سی خوبیوں سے متصف تھے۔مودی جی نہرو کے بجائے سردار پٹیل کے عقیدتمند اور پیروکار ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پنڈت جی ہی نے انھیں اپنی کابینہ کا وزیر داخلہ بنایا تھا اور آزادی سے انھیں کام کرنے کی سہولت دی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سردار پٹیل پنڈت جی سے بعض معاملات میں اختلاف بھی کرتے تھے جسے پنڈت جی خوشدلی سے برداشت کرتے تھے اور اپنی جمہوریت پسندی کا بھرپور ثبوت دیتے تھے۔ مودی جی کو شاید یہ بھی معلوم ہو کہ سردار پٹیل ہی نے گاندھی جی کے قتل کے واقعہ کی وجہ سے آر ایس ایس سے لکھوالیا تھا کہ وہ کبھی بھی سیاست میں حصہ نہیں لے گی۔ ان سب کے باوجود سردار پٹیل سنگھ پریوار کے پیارے ہوگئے اور پنڈت نہرو سنگھ پریوار کیلئے معتوب۔

مودی جی کو نہرو کی شخصیت سے جو بھی دشمنی اورلڑائی ہو مگر ان سے بہت کچھ سیکھنا چاہئے۔ کبھی کبھی اپنی پارلیمانی تقریروں میں وہ ضرور پنڈت جی کے بیانات اور تقریروں کا حوالہ دیتے ہیں مگر ان پر ذرا بھی عمل پیرا نہیں ہوتے۔ ایسا لگتا ہے کہ پنڈت جی کے مذکورہ جملے کے سطحی معنی مودی جی نے لیا ہے اور وہ الفاظ اور جملوں کی جادوگری ملک کو دکھا رہے ہیں۔

70ویں یوم آزادی کے موقع پر مودی جی نے دل کو موہ لینے والی تقریر کی کہ عقیدہ اور مذہب کے نام پر دہشت اور تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے۔ کشمیر کے بارے میں کیا خوب کہاکہ کشمیر کا مسئلہ نہ گولی سے سلجھے گا نہ گالی سے بلکہ گلے لگانے سے سلجھے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے بھی اسی طرح کی بات کی تھی کہ کشمیر کا مسئلہ نہ بندوق سے نہ گولی سے بلکہ بولی سے طے ہوگا۔ دونوں مفتی اور مودی کا ڈائیلاگ بالکل فلمی دنیا کا ڈائیلاگ معلوم ہوتا ہے کیونکہ دونوں کے مکالمے میں مصنوعیت کا عنصر ہی ہے، حقیقت بالکل نہیں ہے۔ مفتی اور محبوبہ کے وزارت عظمیٰ کا دور کشمیریوں کیلئے سب سے خراب دور کہا جائے گا۔ کشمیر کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہوگیا ہے۔ کشمیری آپے سے باہر ہوگئے ہیں ۔ آئے دن خون خرابے کی وارداتیں ہوتی ہیں ۔ ایک طرح سے کشمیر میں انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ ظاہر ہے خوبصورت اور حسین مکالموں یا باتوں سے بات بنتی نظر نہیں آتی۔ بنے گی آخر کیسے کیونکہ زبان پر کچھ ہے دل میں کچھ ہے۔

نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے راجیہ سبھا کے ٹی وی چینل پر اینکر تھاپر کو جو انٹرویو دیا تھا جس میں ہندستان کے موجودہ حالات پر صاف صاف باتیں کہی تھیں اسے مودی جی برداشت نہ کرسکے۔ حامد انصاری کی الوداعیہ تقریب کے موقع پر اس انٹرویو کو بھول نہیں سکے جبکہ الوداعیہ کے موقع پروداعی دینے والے تو عام طور پر خوش کرنے کا ہوتا ہے۔ مودی جی نے اس موقع پر حامد انصاری جیسی ہمہ گیر شخصیت کو مسلم فرقہ سے جوڑنے اور ایک خاص دائرہ میں سوچنے والا انسان بتاکر کہ اپنی بھوک مٹائی اور ان پر یہ کہہ کر جارحانہ حملہ کیا کہ ’’دس سالہ دور یعنی نائب صدر کے زمانہ میں بندھے ہوئے تھے۔ اب اپنی مسلم سوچ یا محدود سوچ کو بیان کرنے پر آزاد ہیں ‘‘ سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی تعریف کرنی ہوگی کہ مودی کی تقریر یا باتوں کا انھوں نے کوئی اثر نہیں لیا بلکہ انھیں ان کی پارٹی کو ایسا آئینہ دکھایا کہ پارٹی کے سارے لوگ تلملا گئے۔ کسی نے انھیں صلاح دی کہ جہاں انھیں تحفظ ملے وہاں چلے جائیں ۔ کسی نے کہاکہ وہ ہندستان کو بدنام (Defame) کرنا چاہتے ہیں ۔ کسی نے یہ طعنہ دیا کہ وہ اب مسلم سیاست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اس طرح مودی سے لے کر ان کی پارٹی کے نیچے درجے تک کے لوگوں نے حامد انصاری پر الزام تراشی اور دشنام طرازی سے کام لیا ایک اعلیٰ منصب پر فائز مسلمان کو جس نے ملک کیلئے نمایاں خدمات انجام دی ہوں اس کو مودی جی اور ان کے لوگ گالیوں کی بوچھاڑ کرنے سے نہیں چوکتے تو ایسے لوگوں کے منہ سے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ نہ گولی سے نہ گالی سے بلکہ مسئلہ حل ہوگا گلے لگانے سے۔ کیا حامد انصاری کو مودی اور ان کے لوگ گلے لگا رہے ہیں یا گالیوں سے نواز رہے ہیں ۔ جب حامد انصاری صاحب جیسے خوش طبع شخص کو مودی اور ان کے لوگ اظہار خیال کے اختلاف کی وجہ سے نہیں بخش سکتے تو بھلا جو لوگ بندوق اٹھا چکے ہیں اور تشدد پر آمادہ ہیں انھیں گلے لگانے پر ایسے متشدد افراد کیسے تیار ہوں گے جو پورے ملک میں دلتوں اور مسلم اقلیت کے لوگوں کا جینا حرام کرچکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

بہت سے صحافیوں اور دانشوروں نے حامد انصاری کی تقریر اور انٹرویو پر زعفرانی تبصرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ حامد انصاری نے جو کچھ اپنے انٹرویو اورتقریر میں کہا تھا کہ مسلمان عدم تحفظ اور خوف و ہراس کے شکار ہیں، سنگھ پریوار والے اپنے تبصروں سے اس کا بین ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ سنگھ پریوار والے اس قدر اندھے پن اور نادانی کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ اتنا بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اب دنیا گاؤں اور محلہ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ معمولی سے معمولی واقعہ کو بھی اب آسانی سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ ساری دنیا رات دن دیکھ رہی ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟  نائب صدر جمہوریہ سے پہلے سابق صدر جمہوریہ نے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ہندستان کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی تھی مگر بی جے پی یا سنگھ پریوار کے کسی شخص نے بھی الٹی سیدھی باتیں نہیں کیں مگر حامد انصاری نہایت خوبصورت ڈھنگ سے جو صاف صاف باتیں کیں تو فرقہ پرست آپے سے باہر ہوگئے۔ مودی جی بھی اپنی من کی بات کہنے سے باز نہیں آئے۔ یہ ہے زعفرانیوں کا عدم تحمل اور تشدد کابین ثبوت جبکہ وہ گلے لگانے کی باتیں کر رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close