تقابل ادیانمذہب

کیا اسلام مانی کی تعلیمات سے متاثر ہوا ہے؟

ملحدین کا اعتراض اور اس کا آثار قدیمہ سے تفصیلی جواب

ڈاکٹر احید حسن

مذہب مانی یا منشور مانی  (جدید فارسی میں آئین مانی) ایک  مذہبی تحریک تھی جو ایرانی فرد مانی کی طرف سے قائم کی گئی تھی (مانی 216-276 ء ساسانی سلطنت)[1]  مانی کا مذہب کائنات کی خدا کی ذات کی طرف سے تخلیق پہ ایمان رکھنے والا مذہب تھا جس کا تعلق عہد عتیق یعنی تیسری اور 8 ویں صدی عیسوی کے درمیان سے تھا۔کبھی یہ مذہب وسیع پیمانے پر موجود تھا لیکن اب مٹ چکا ہے۔ مانی فارسی بابل میں سیلوشیا کے مقام پہ یا اس کے قریب پیدا ہوا تھا [2 ]۔مانی کا والد پاتک [3] اکباتانہ[4] موجودہ ہمدان ایران میں پیدا ہوا،وہ السیسایوں کے ایک  یہودی عیسائی فرقے کا ایک رکن تھا۔ اس کی والدہ ایرانی النسل تھی۔

قانون مانی چھ تصنیفات پہ مشتمل تھا جس میں چھ کتابیں شامی اور ایک،شپرغان، فارسی میں تھی۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی کتاب مکمل شکل میں نہیں بچی ہے، لیکن ان  سے بہت سے تراشے اور منقولیات موجود ہیں، بشمول ایک لمبے شامی زبان میں موجود لڑکےاور  ساتھ ساتھ قبطی،  زبانوں میں موجود بڑا مواد شامل ہے۔ ابتدائی شامی تصانیف موجود نہیں ہیں لیکن ان کے صرف نام موجود ہیں[5]  ملحد محققین کا دعوی ہے کہ اسلام اور عیسائییت مانی مذہب سے کافی مشابہت رکھتے ہیں اور اس طرح اسلام نعوذ بااللہ مانی مذہب  سے متاثر ہوا اور اس سے نقل کیا گیا تھا۔ کیا یہ سچ ہے؟ ہم اس مضمون میں تجزیہ کریں گے۔

12 اور 24 سال کی عمر میں، مانی کو ایک تصوراتی تجربہ ہوا جس میں اس نے اپنے "آسمانی جڑواں” کو دیکھا جس نے اسے اپنے باپ کے مذہب کو چھوڑنے اور مسیح کے سچے پیغام کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ اپنی عمر کے دوسرے عشرے کے وسط میں مانی نے فیصلہ کیا کہ نجات مثبت تعلیم،  ,روزے رکھنے، اپنی ذات کی تردید اور پاکدامنی میں ہے۔ ,مانی نے دعوی کیا کہ عہد نامہ جدید میں مذکور آخری   پیغمبر وہ خود ہے(اس میں اس نے عہد نامہ جدید میں موجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب اس پیشین گوئی کو اپنی ذات سے منسوب کیا جو کہ اس وقت تک مبعوث نہیں ہوئے تھے)۔ مانی نے اپنے آپ کو یسوع مسیح کا رسول قرار دیا[11]، اور  مانی مذہب کی موجوداکثر شاعری میں یسوع اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہاالسلام کو سب سے زیادہ تعظیم کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ مانی ازم کی مختلف روایات میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ مانی  مختلف مذاہب کی دیگر مقدس شخصیات زرتشت، بدھا، کرشنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا جنم ہے [6]۔ جب کہ اسلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی دوسرے پیغمبر کے بارے میں یہ نہیں کہتا۔مانی ازم نے زرتشت مذہب کی طرح ایک وسیع دو الٰہی فلسفے کی تعلیم پیش کی جس میں ایک اچھی اور روحانی منور دنیا کی ایک دوسری برائی اور تاریکی کی دنیا کی دنیا کے درمیان جدوجہد کو پیش کیا گیا ہے [7]۔ مانی ازم میں دنیا کو شیطانوں کی قید گاہ قرار دیا گیا ہے۔ مانی کا خیال تھا کہ بدھا، زرتشت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات نامکمل تھیں جب کہ اس کی اپنی تعلیمات پوری دنیا کے لئے تھیں،اور وہ اپنے مذہب کو روشنی کا مذہب قرار دیتا تھا۔[8]

مانی نے ابتدائی عمر میں تبلیغ شروع کردی اور ممکنہ طور پر معاصر بابلی،آرامی تحریکوں جیسا کہ صبائیت اور یہودیوں کی الہامی کتابوں کے آرامی تراجم (جیسے کہ انکوچھریٹریٹ کی کتاب)، اور شامی دو الٰہی فلسفے کے مصنف بردیسان (جو مانی سے ایک  نسل پہلے گزرا) سے متاثر ہوا۔ ,مانی کے مخطوطوں کی دریافت کے ساتھ یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ وہ یہودی عیسائی مغتسلہ فرقے، ایلسیسائیوں میں پروان چڑھا اور ان کی تحریروں سے بھی متاثر ہوا۔ ,ابن الندیم اور فارسی عالم و سائنسدان البیرونی کی طرف سے محفوظ کی گئی سوانح حیات کے مطابق، مانی نے  ایک نوجوان کے طور پر ایک ایک روح سے وحی حاصل کی، جس کو اس نے اپنا جڑواں، حفاظتی فرشتہ یا خود الٰہی قرار دیا۔[9] اس صورت میں مانی کی تعلیمات اسلام سے ٹکراتی ہیں کیونکہ اسلام کبھی بھی کسی پیغمبر یا شخصیت کو اللٰہ تعالٰی کا ہمسر قرار نہیں دیتا۔

مانی ازم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین الگ طرح سے شناخت ہے (1) پر نور عیسیٰ علیہ السلام (2) مسیحا عیسیٰ علیہ السلام (3) عیسیٰ علیہ السلام پیٹیبلس یا تکلیف زدہ عیسیٰ علیہ السلام۔مانی ازم کی نظر میں پرنور  یسوع عیسی علیہ السلام کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنیادی کردار رہنمائی تھا اور یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام تھا جس نے آدم کو نیند سے جگایا اور ان کو خدائی تعلیمات عطا کیں۔ اس میں بھی مانی ازم کی تعلیمات اسلام سے ٹکراتی ہیں کیونکہ اسلام کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نہیں بلکہ اللٰہ تعالٰی نے نیند سے جگایا اور ان کو خدائی تعلیمات عطا کیں۔جب کہ مانی ازم کے مطابق مسیحا عیسیٰ علیہ السلام ایک تاریخی شخصیت تھے جو یہودیوں کے نبی تھے اور مانی کے پیشرو تھے۔تاہم مانی ازم کے پیروکاروں کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکمل طور پر خدائی وجود رکھتے تھے اور ان کی کبھی بھی جسمانی پیدائش نہیں ہوئی اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کنوارہ حضرت مریم علیہاالسلام کے ہاں پیدائش کو غلط تصور کرتے تھے۔یہاں بھی مانی ازم کی تعلیمات اسلام سے ٹکراتی ہیں کیونکہ اسلام کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام خدائی نہیں بلکہ جسمانی وجود رکھتے تھے اور وہ کنواری حضرت مریم علیہاالسلام کے ہاں پیدا ہوئے۔مانی ازم کی مذہبی علامت یعنی روشنی کی صوفیانہ صلیب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک درد ناک علامت کے طور پہ پیش کیا گیا ہے جو انسانی گناہوں کا اس مصلوب ہوکر کفارہ ادا کر رہے ہیں[10] جب کہ یہاں بھی مانی ازم کی تعلیمات اسلام سے ٹکراتی ہیں کیونکہ اسلام کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے بلکہ اللٰہ تعالٰی کی قدرت سے آسمان پہ زندہ اٹھا لیے گئے۔

مانی ازم نے اپنی روایات میں غالب مذہبی روایات کے نظریات اور علامات کو شامل کرنے کے علاوہ مقامی روایات کی علامات اور دیوتاوں کو بھی شامل کیا، خاص طور پر ہندو دیوتا گنیز کو جیسا کہ جاکم کلیمکیٹ کے مضمون Manichaean Art and Calligraphy میں پیش کردہ تصاویر میں واضح کیا گیا ہے۔ ان کے تجزیہ میں ہیننگ نے لکھا: مانی ازم نے دعوٰی کیا کہ اس کی تعلیم پہلے سے موجود مقدس شخصیات جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام، زرتشت، بدھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کی اصلاحی شکل ہے جو کہ ناپید ہوچکی ہیں جب کہ قرآن و حدیث میں کیں بھی زرتشت مذہب کا دفاع نہیں کیا گیا۔مانی کے مطابق شیطان دیوتا جس نے دنیا کو پیدا کیا وہ نعوذ بااللہ یہودی مذہب کا خدا یہوواہ تھا۔ مانی نے کہایہ خدا نعوذ بااللہ اندھیرے کا شہزادہ ہے جو حضرت موسی علیہ السلامٰ، یہودیوں اور ان کے برگزیدہ لوگوں سے ہم کلام ہوا۔ اس کے مطابق اس طرح مسیحی، یہودی اور مظاہر پرست ایک ہی غلطی کا شکار ہیں جب وہ اس خدا کی عبادت کرتے ہیں۔[12]یہاں بھی مانی کی تعلیمات اسلام سے ٹکراتی ہیں۔ اس صورت میں مانی کے خیالات اسلام کی تعلیمات سے بالکل متصادم ہیں اور مانی کو پیغمبری کا دعویدار ایک گمراہ شخص ثابت کرتی ہیں جس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ اسلام اور مانی ازم کے درمیان بہت سے وہ اختلافات ین جن کو ملحد محققین سراسر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دعوٰی کرتے ہیں کہ اسلام مانی ازم سے نقل کیا گیا ہے۔ یہ ان ملحد محققین کی مذہب کے خلاف نفرت اور تنگ ذہنیت کا عالم ہے۔ مانی ازم کے بارے میں اوپر مذکور تفصیلات پر غور کریں۔ پڑھنے کے بعد یہ واضح ہے کہ مانی ازم پر عیسائیت کی تعلیمات اثر انداز تھیں اور وہ بھی اس شدت کی حد تک کہ مانی خود کو یسوع مسیح کا رسول اور ان کا دوسرا جنم سمجھتا تھا، اور مانی ازم کی تعلیمات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیہاالسلام کو وہی عظیم مرتبہ حاصل تھا جو کہ  عیسائییت میں ہے۔ اس ساری تفصیل پہ غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر مانی ازم اور اسلام کے درمیان کچھ مشابہت ہے بھی سہی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام  مانی ازم سے متاثر ہوا بلکہ بذات خود مانی ازم ان ابراہیمی مذاہب یہودیت اور عیسائیت سے متاثر ہوا جو اسی خدا کی طرف سے تھے جس خدا کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اسلام کی تعلیمات بھیجی گئی ہیں اور جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے تو ایرانی ساسانی اور روما سلطنت کی طرف سے انسانیت سوز ظلم و ستم کی وجہ سے مانی مذہب ناپید ہوچکا تھا اور مانی ازم کی بنیادی کتب جو کہ فارسی،قبطی، اطالوی اور شامی زبانوں میں تھیں ان کا ایک بھی عربی ترجمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت یا وفات تک مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں دستیاب نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی رسمی تعلیم نہیں تھی۔ پھر کس طرح اسلام مانی ازم سے متاثر ہوسکتا ہے۔ مانی ازم کی بنیادی کتابوں کا ایک بھی عربی ترجمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں مکہ یا مدینہ منورہ میں ملحدین ثابت نہیں کر سکتے جس سے اسلام نقل کیا گیا ہو۔ ہماری طرف سے چیلنج ہے۔

ایک بھی ثبوت نہیں ہونے کے باوجود سبط حسن اور علی عباس جلال پوری جیسے ملحد محققین  لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام مانی ازم سے نقل کیا گیا تھا اور تمام تعریف اللہ تعالی رب العالمین کے لیے ہے اوروہی خدا ہی سب سے بہتر جانتا ہے۔

حوالہ جات:

1:”Manichaeism”۔ Encyclopædia Britannica۔ Retrieved 4 September 2013۔
2:Taraporewala, I۔J۔S۔, Manichaeism, Iran Chamber Society, retrieved 2015-01-12
3:N۔ MacKenzie۔ A Concise Pahlavi Dictionary۔ Routledge Curzon, 2005۔
4:Encyclopædia Britannica۔ Mani (Iranian religious leader) (2011)
5:Middle Persian Sources: D۔ N۔ MacKenzie,Mani’s Šābuhragān, pt۔ 1 (text and translation), BSOAS 42/3, 1979, pp۔ 500–34, pt۔ 2 (glossary and plates), BSOAS 43/2, 1980, pp۔ 288–310۔
6:al-Biruni, Muhammad ibn Ahmad; Eduard Sachau ed۔; The Chronology of Ancient Nation 190; W۔ H۔ Allen & Co۔; London: 1879
7:”COSMOGONY AND COSMOLOGY iii۔ In Manicheism”۔ Encyclopædia Iranica۔ Retrieved 2018-02-24۔
8:John Kevin Coyle (15 September 2009)۔Manichaeism and Its Legacy۔ BRILL۔ pp۔ 13–۔ISBN 978-90-04-17574-7۔ Retrieved 27 August 2012۔
9:Lutkemeyer, Lawrence J۔ "THE ROLE OF THE PARACLETE (Jn۔ 16:7-15)”۔ The Catholic Biblical Quarterly۔ Catholic Biblical Association۔ 8 (02): 220۔ JSTOR 43719890۔
10:Lieu, Samuel N۔ C۔ (1992-01-01)۔Manichaeism in the Later Roman Empire and Medieval China۔ ISBN 9783161458200۔
11:The Manichean Debate, by Saint Augustine (Bishop of Hippo)۔ Books۔google۔com۔ 2006۔ISBN 9781565482470۔ Retrieved 2012-08-18۔
12:”Classical Texts: Acta Archelai of Mani”(PDF)۔ Iranian Studies at Harvard University۔ p۔ 76۔d

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close