آئینۂ عالمنقطہ نظر

مشرق وسطیٰ میں تیسری اور آخری عالمی جنگ

شاہدؔکمال لکھنؤ

        کسی بھی مسئلہ کے آخری اور حتمی فیصلے کو جنگ پر ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔ چونکہ جنگ سے برآمدہونے والا نتیجہ ہمارے انسانی سماجیات کے نفسیات پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے دو عالمی جنگوں کی ہولناک صورت حال سے پوری دنیا دوچار ہوچکی ہے۔ لیکن انسان کا اجتماعی حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے،اس لئے وہ ماضی کے عبرتناک واقعات کو بہت جلد فروگزاشت کردیتا ہے۔ اورنئے مسقتبل کے معمار سازوقت کی گرتی ہوئی دیوار پر اپنی خواہشات کے ایسے محل تیار کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں جس کا منطقی انجام سوائے تاسف کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ استعماری طاقتوں کابنیادی ایجنڈا عالمی معاشرت کی بیخ کنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے، ایشا ئی ممالک کے سروں پر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کو مسلط کرنا ہے۔ لیبیا، مصر، عراق، سیریا،بحرین اور یمن کو جنگ کی آگ میں جھونک کر استعماریت کے خداؤں نے اب ایران کو اپنا ہدف بنالیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، سعودیہ، اور دیگر اسلامی ریاستیں ایران کے خلاف لامبند ہوچکی ہیں عالمی ذرائع ابلا غ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کسی بھی وقت ایران پر حملہ ہوسکتا ہے۔ ماہر تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ایسا ہوا تو ایشیا میں تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہوجائے گا، اور اس جنگ کی آگ صرف ایران تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے ایشیائی ممالک کے ساتھ یورپ کے بہت سے ممالک کو بھی اپنے زد میں لے سکتی ہے۔ جس کا انجام بہت ہی خطرناک ثابت ہوگا۔ امریکہ ڈھائی لاکھ فوجی اور بحیرہ عرب میں اپنے جنگی بیڑے بھیج چکا ہے۔ اور دیگر عرب ممالک نے بھی اپنے سمندری حدود کے استعمال کے لئے امریکہ کو اجازت دیدی ہے۔ ایران نے اپنے سمندری اور فضائی حدود کے دفاع کے لئے اپنے جدید سے جدید تر عسکری آلات نسب کردیئے ہیں۔ خاص کر خلیج فارس کی نگرانی میں ایران نے اپنے جنگی بیڑوں کے ساتھ کم رینج کی میزائیلوں سے لیس سمندری کشتیوں کی گشت بڑھا دی ہے۔ دونوں طرف سے جنگیں مشقیں تیز کردی گئیں ہیں۔ اس وقت پورا بحیرہ عرب میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ عرب کی تمام اسلامی ریاستیں امریکہ اور اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، اور ان کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کسی بھی صورت ایک بار ایران پر حملہ کردے۔ جس کے لئے،سعودی عرب کے نواجوان ولی عہدمحمدبن سلمان امریکہ و اسرائیل کی طرف بڑی امید کے ساتھ اپنی نگاہیں جمائیں بیٹھے ہیں۔ ایران پر اس طرح کے عجلت پسند جارحانہ اقدام کی توقع بالکل غلط ہے۔ چونکہ امریکہ اور اسرائیل نے سعودیہ بادشاہت کو ایرانوفوبیہ کے ایک ایسے نفسیاتی مرض میں متبلا کردیا ہے، کہ وہ اپنے سب سے بڑے دشمن کے ہاتھ میں اپنی پوری حکومت کی باگ ڈور دے رکھی ہے۔ اور ان کے دماغ پر تخت و تاج ہوس ایسے حملہ آور ہوچکی ہے کہ ان کی عقلوں کی پیشانیاں الٹ چکی ہیں، اور آنکھیں اپنے اصل دشمن کی شناخت کرنے میں انھیں مسلسل فریب دے رہی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی یہ تمام تر جنگی تیاریاں ایک دھوکہ ہے۔ اس جنگ کا اصل شاخشانہ دراصل سعودی عرب کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے بنا گیا ہے۔ چونکہ امریکہ کو سعودی عرب نام کی ایک ایسی گاے مل گئی ہے، جس کا سارا دودھ  وہ بغیر کسی مزاحمت کے کشید کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ اسوقت امریکہ کسی بھی طرح کی جنگ کا متحمل نہیں ہے، اس لئے کہ وہ ابھی عراق اور سیریا میں ہونے والی دہشت گردانہ جنگ میں عراق اور سیریا کی مزاحمتی قوتوں سے زبردست زخم کھا چکا ہے،اور افغانستان میں چلنے والی ایک طویل جنگ بھی ہار چکا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ اپنی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ پوری دنیا پر اپنے سپر پاور ہونے کی دھونس جمانے والے کوسیریا اور عراق میں زبردشت شکست مل چکی ہے۔ جس میں امریکہ کا بلین وڈالر اور کثیر تعداد میں جنگی سازوسامان کا نقصان ہوچکا ہے۔ موجودہ دور میں امریکہ کی اقتصادی صورت حال بھی بڑے نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اس لئے اپنا کھویا ہوا وقار اور اپنے اقتصادی نقصان کی بھرپرائی کے لئے، ایران پر ایک نفسیاتی جنگ مسلط کرنا چاہتاہے، ایسا کرنے کی صورت میں امریکہ خاص کرسعودی عرب سے کروڑوں ڈالر کی فیروتی وصول رہا ہے، اس کے ساتھ سعودیہ کے دفاع کے نام پرکھربوں روپیہ کے ویپنس پروجیکٹ پر معاہدہ بھی لے رہا ہے۔ چونکہ امریکہ کو اپنا خسارہ پورا کرنے کے لئے ان بدو عربوں کو بیوقوف بنانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔

        ایشیا میں ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے گھبرائے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کا سینچری ڈیل کا خواب بھی پورا ہوتا ہوا نہیں دکھ رہا ہے۔ چونکہ خطہ میں مزاحمتوں طاقتوں کے بڑھتے ہوئے دبدبے کی وجہ سے صیہونی طاقتوں کو اپنا مستقبل خطرے میں پڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لئے سینچری ڈیل کا سہارا لیا جارہا ہے۔ سینچری ڈیل کے حوالے سے ابھی تک کی آنے والی رپوٹوں سے اس بات کا انکشاف ہوتاہے کہ اس بدترین معاہدے میں سعودیہ عرب جیسا ملک بھی شامل ہے۔ سعودیہ عرب کی اس ڈیل میں حصہ داری تمام مسلمانوں کے لئے ذلت و رسوائی کا سبب ہے،ریاض حکومت کو چاہئے اسلام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا بند کردے، ورنہ جس دن عالم اسلام کی غیر ت بیدار ہوگئی وہ پاسبان حرم کو ان کے تخت و تاج سمیت اُن کے سروں کو بھی ہَوا میں اچھال دے گی۔

        لیکن اسوقت پوری دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ کیا واقعی امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے جارہا ہے، تو میرے نظریہ کے مطابق اس طرح کی کوئی جنگ فی الحال متوقع ہوتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہی۔ لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان آپسی ڈائلاگ سے ایشیا کا درجہ حرارت ضرور بڑھ گیا ہے۔ ادھر ایران نے بھی خلیج فارس کی ناکہ بندی کرنے میں کسی طرح کے امکان کی گنجائش نہیں رکھی ہے۔ ایران نے خلیج فارس میں غیر علاقی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کے آپسی تعاون سے عدم جارحیت کے ساتھ مشراکت کی پیشکش ضرور کی ہے۔ عرب دنیا کے ایک بڑے تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے ایران کے حوالے سے اس بات کا انکشاف ضرور کیا ہے کہ ایران کے خفیہ اسلحوں کے حوالے سے ایرانی کمانڈروں کی طرف سے دی جانے والی دھکمیوں کو امریکہ بڑی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ چونکہ امریکہ کو اس بات کا مکمل علم ہے کہ یہ افغانستان، عراق، سیریا، لبیا اور بحرین جیسا ملک نہیں ہے بلکہ یہ ایران ہے۔ خود آٹھ سال تک امریکہ اورعراق سے جنگ لڑ چکا ہے۔ لہذا ایران کی عسکری طاقت کو کسی بھی صورت سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس بات کو ابھی تک عرب ممالک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جس کے لئے بہت پہلے سے مفکرین نے پیشین گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ میں علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی بات کا اختتام چاہتا ہوں۔

ایران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا

شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close