کس نے غنچوں کو نازکی بخشی

افتخار راغبؔ

کس نے غنچوں کو نازکی بخشی

سنگ کو کس نے پختگی بخشی

…

کس نے بخشی زباں کو گویائی

کس نے آنکھوں کو روشنی بخشی

…

کس کے بس میں تھی آتشِ نمرود

کس نے صبر و سلامتی بخشی

…

کس نے پرواز کا ہنر بخشا

کس نے فہمِ شناوری بخشی

…

ابر سے آب کس نے برسا کر

مردہ مٹّی کو زندگی بخشی

…

کون آب و ہوا کا مالک ہے

کس نے پودوں کو تازگی بخشی

…

پنکھ کس نے دیے پرندوں کو

کس نے پھولوں کو پنکھڑی بخشی

…

پیڑ پودے اُگائے ہیں کس نے

کس  نے  دھرتی  کو  دل کشی  بخشی

…

کون خالق ہے سب زبانوں کا

کس نے اردو کو چاشنی بخشی

…

کس نے ایمان کی نمو کے لیے

علم و حکمت کی روشنی بخشی

…

کس نے اشرف بنایا انساں کو

کس نے خاکی کو برتری بخشی

…

کس نے بخشا ہمیں قلم راغبؔ

کس نے تنویرِ آگہی بخشی

1 تبصرہ
  1. اقبال بوکڑا کہتے ہیں

    بہت شاندار!

تبصرے بند ہیں۔