بنایا ہے بتِ پندار کو اپنا خدا تو نے

اکثر سوچتا ہوں کہ یہ صوفی درویش قلندر صفت لوگ اتنے مختلف کیوں نظر آتے ہیں؟ ان کے لباس مختلف. رہن سہن مختلف. نشست و برخاست مختلف. معاملہ صرف صوفی درویشوں کا ہی نہیں. انبیا کی زندگی بھی دیکھیں تو سادگی سے عبارت نظر آئے گی. خود ہمارے سرکار کی زندگی کا مطالعہ کیجیے. آپ کا کھانا…. آپ کا لباس…. آپ کا رہن سہن…. ایسا تو نہیں ہے کہ آپ اچھا پہننے… اچھا کھانے… اچھے مکان میں رہنا چاہتے تو ممکن نہ ہوتا….. آپ کے ایک اشارے پر دنیا آپ کے قدموں میں پیش کر دی جاتی۔ آپ نے انہیں ناجائز و ناپسندیدہ بھی نہیں کہا…. تو آخر معاملہ کیا ہے….؟
بات وہی ہے کہ کچھ باتیں اسرار کی ہوتی ہیں. یہ آپ کو کتابوں میں نہیں ملیں گی…. کتابوں میں دلائل ملیں گے…. جواز ملے گا…. آپ کی روح جس چیز کی متلاشی ہے وہ براہ راست کتابوں سے ملنی آسان نہیں…. یہ توفیق کا معاملہ ہے….. عشق کی بات ہے…. ہاں توفیق مل گئی…. عشق کے چند قطرات میسر آ گئے تو پھر آنسوؤں کے چند موتی، کسی صاحبِ نظر کی ایک نظر…. کوئی ایک حادثہ یا واقعہ یا کوئی بھی حیلہ اور بہانہ اسرار حق تک رسائی کروا سکتا ہے…. پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہی کتابیں جنہیں آپ دلائل اور جواز کے لیے پڑھتے تھے، آپ کو عشق کے اسرار و رموز بتانے لگ جائیں
ہاں تو بات ہو رہی تھی انبیا و صوفیا کی طرز زندگی کی. بات دراصل یہ ہے کہ انبیا و صوفیا کی ساری توجہ اور تگ و دو ذات حق تک رسائی پر مرکوز ہوتی ہے. جو شئے یا خیال انسان کو خدا کی یاد سے غافل کر دے وہ اسے بت تصور کرتے ہیں بلکہ بت سے بھی زیادہ خطرناک "معبودِ باطل”….. بت تو پھر بھی نظر آتے ہیں اس لیے ان کی پرستش سے بچ پانا آسان ہے لیکن حرص و ہوس کے بت نظر نہیں آتے اور مسلسل یاد خدا سے غافل کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ دنیا انسان کی قدر و منزلت کا تعین اس کے لباس، عہدہ و منصب اور ظاہری وضع قطع سے طے کرتی ہے۔ آپ اتنہائی قیمتی لباس پہن کر کسی محفل میں جائیں اور حاضرین محفل کا تاثر نوٹ کریں اور کسی دوسری محفل میں انتہائی بوسیدہ اور گندہ لباس پہن کر جائیں اور یہاں بھی حاضرین محفل کا تاثر اور رویہ نوٹ کریں۔ کیا دونوں جگہ لوگوں کا رویہ اور تاثر ایک جیسا ہوگا؟ کسی ادارہ کا سربراہ، صدر، سکریٹری، منتظم، افسر جب تک اپنے عہدہ و منصب پر فائز ہوتا ہے اس کی اہمیت ایک خاص نوعیت کی ہوتی ہے، جیسے ہی وہ اپنے عہدہ سے الگ ہوتا ہے اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ دنیا کے اس اصول کو دیکھ کر عقل تقاضا کرتی ہے کہ ہم اچھا لباس زیب تن کریں، ہماری اچھی طرزِ رہائش ہو، ہم دانشور کہلائیں، افسر کہلائیں، صاحب کہلائیں۔۔۔۔۔ یہ ساری تمنائیں ناجائز ہرگز نہیں ہیں ۔۔۔۔ یہ بس پتھر ہیں۔۔۔ ہم اپنے گھروں میں پتھر کی بڑی بڑی سلیں رکھ لیں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن ان سلوں کو جیسے ہی تراش خراش کر صورت دے دی گئی یہ بت بن جاتے ہیں۔۔۔۔ پھتر اپنی اصل میں جائز تھا۔۔۔ بت بن کر ناجائز ہو گیا۔۔۔۔۔ یہی حال ہماری تمناؤں کا ہے۔۔۔ ہمارے لباس کا ہے۔۔۔ ہماری طرز رہائش کا ہے۔۔۔ ہماری دانشوری کا ہے۔۔۔ ہمارے علم و کمال کا ہے۔۔۔۔ انہیں بھی ہم تراش خراش کر بت بنا لیتے ہیں۔۔۔ پھر ہمارا نفس تقاضا کرتا ہے کہ دنیا والوں کی نظر ہمارے لباس پر ہو، ہمارے اونچے اونچے مکانات پر ہو، ہماری طرز رہائش پر ہو، ہمارے عہدہ و منصب پر ہو، علم و کمال پر ہو ۔۔۔ ان کمالات کی ستائش کی جائے۔
یہی وجہ ہے انبیا و صالحین، صوفیا و فقرا نے کبھی ظاہری وضع قطع کی نمائش پر توجہ نہیں دی لیکن کسی کو جائز آرائش و زیبائش
سے منع بھی نہیں کیا بلکہ کہیں کہیں تو رغبت بھی دلائی گئی کہ اللہ نے دیا ہے تو اس کا شکر بجا لاؤ، اچھا کھاؤ، اچھا پہنو۔۔۔۔ لیکن
مسئلہ یہی ہے کہ بتوں کے بیچ میں رہ کر "ابراھیم” بننا سب کے بس کی بات نہیں۔۔۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
براھیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
(اقبال)

تبصرے بند ہیں۔