معراج کے پیغام میں ایک فلاحی ریاست کا منشور

مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

(حیدرآباد دکن)

سرکار دو عالمؐ نے رب تعالیٰ کے حکم کے عین مطابق دعوت اسلامی کو بندگانِ خدا تعالیٰ تک پہنچانے میں شب و روز منہمک ہوتے ہوئے مکمل 12 سال صرف فرماچکے جس میں ہر طرح کی مشکلات پیش آتی رہیں اور اس دوران صرف آپؐ کو ہی نہیں بلکہ آپ کی ندائے حق پر لبیک کہنے والی سعید روحوں (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کو بھی بہت ستایا گیا لیکن آقائے نامدارؐ اور آپ کے اصحابؓ کے صبر و تحمل کا ایک بہترین ثمرہ سامنے آیا کہ آپ کی دعوت کا تعارف سارے عرب میں ہوچکا تھا اور ایک قابل لحاظ تعداد آپؐ کی دعوت کے سلسلہ میں ہم خیال بھی ہوچکی تھی۔

رسول اللہ ﷺ جس دین حق و دین فطرت کی طرف لوگوں کو بلاتے ہوئے 12 سال گذار چکے ان ہی اصولوں پر ایک صالح ریاست و فلاحی اسٹیٹ کے قیام کا وقت قریب آچکا قبل اس کے اس کا شاندار افتتاح سرور دو جہاں کے دست مبارکہ سے مدینہ طیبہ میں ہو، اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کو شرف ملاقات کیلئے اور تجربات و مشاہدات اور اس سلسلہ میں کچھ اصولی احکام عطا فرمانے کیلئے ارتقائی سفر سے گذار کر رات کے ایک قلیل عرصہ میں سدرۃ المنتہی سے بھی کچھ آگے بلایا اور ہم کلامی کا شرف بخشا جسے عرف عام میں ’’معراج‘‘ کہتے ہیں اور یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں بہت نمایاں ہے۔

اس ارتقائی سفر کی روداد جو آپ ﷺ کی احادیث میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ جسے ہم ہر سال تقاریر کے ذریعہ سنتے اور مضامین میں پڑھتے رہتے ہیں، جو ہمارے لئے عبرت کا سامان فراہم کرتے ہیں لیکن ’’واقع معراج‘‘ میں جو پیغام ہمیں ملتا ہے الاما شااللہ بہت کم لوگوں کی اس جانب نظر رہتی ہے۔

قرآن مجید کی ایک مشہور سورۃ ’’سورۃ بنی اسرائیل‘‘ میں یہ پیغام محفوظ کردیاگیا کہ انسانی معاشرے کی اٹھان کن بنیادوں پر قائم کی جائے۔

علامہ پیر محمد کرم شاہؒ نے اس سورۃ بنی اسرائیل کے رکوع ۲ تا ۳ کے سلسلہ میں یوں تحریر فرمایا کہ :

’’رکوع ۲تا۳ میں اس نظام حیات کی تفصیلات بیان کردی گئی ہیں جو اسلام، اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے اور دنیائے انسانیت میں رائج کرناچاہتا ہے۔ اس سے بھی صاف معلوم ہورہا ہے کہ مظلومیت کا دورختم ہونے کے قریب ہے۔ شاندار مستقبل کا آغاز ہونا چاہتا ہے جبکہ اسلام ایک قوت حاکم کی حیثیت سے نمودار ہوگا ‘‘۔ (ضیا القرآن جلد دوم)

معراج کے حوالے سے نازل شدہ مذکورہ سورہ میں ایک فلاحی ریاست کیلئے 14 اصول بتلا دیئے گئے اگر اس سورہ کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور خاص طور پر آیات 32 تا 37 کا مطالعہ کرنے سے جن میں وہ 14اصول بیان فرما دیئے گئے ہیں، ہر صاحب عقل شخص کیلئے مانے بغیر چارہ نہیں ہے کیونکہ ان اصولوں میں صرف اور صرف نوع انسانی کیلئے فلاح و کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان اصولوں کی تشریح حضرت مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ نے عام فہم انداز میں پیش فرمانے کی سعادت حاصل کی ہے ’’تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اس کی ‘‘ یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ اور صرف انفرادی طرز عمل کیلئے ایک ہدایت ہی نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام اخلاق و تمدن و سیاست کا سنگ بنیاد بھی ہے جو مدینہ طیبہ پہنچ کر نبی  ﷺ نے عملاً قائم کیا۔ اس کی عمارت اسی نظریے پر اٹھائی گئی تھی کہ اللہ جل شانہ ہی ملک کا مالک اور باشاہ ہے اور اسی کی شریعت ملک کا قانون ہے۔

خاندانی نظام کا محور و الدین کا ادب و احترام

 (2) انسانی حقوق میں سب سے اہم اور مقدم مقام والدین کا ہے اولاد کو والدین کا مطیع خدمت گذار اور ادب شناس ہونا چاہئے۔ معاشرے کااجتماعی اخلاق ایسا ہوناچاہئے جس میں اولاد والدین سے بے نیاز اور سرکش نہ ہو بلکہ ان سے نیک سلوک کرے۔ ان کا احترام ملحوظ رکھے اور بڑھاپے میں ان کی وہی ناز برداری کرے جو کبھی بچپن میں وہ اس کی کرچکے ہیں۔

انسانی حقوق کی ادائیگی

(3) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق‘‘

اجتماعی زندگی میں تعاون، ہمدردی اور حق شناسی و حق رسانی کی روح جاری و ساری رہے۔ ہر رشتہ دار اپنے رشتہ دار کا مددگار ہو، ہر محتاج انسان دوسرے انسانوں سے مدد پانے کا حق دار ہو۔ ایک مسافر جس بستی میں بھی جائے اپنے آپ کو مہمان نواز لوگوں کے درمیان پائے۔ معاشرے میں حق کا تصور اتنا وسیع ہوکہ ہر شخص ان سب انسانوں کے حقوق اپنے اوپر محسوس کرے جن کے درمیان وہ رہتا ہے۔ ان کی کوئی خدمت کرے تو یہ سمجھے کہ وہ ان کا حق ادا کررہا ہے نہ کہ احسان کا بوجھ ان پر لاد رہا ہے اور کسی خدمت کے قابل نہ ہو تو معذرت کرے اور خدا سے فضل مانگے تا کہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔

فضول خرچی نہ کرو

(4) ’’فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نا شکرا ہے ‘‘ لوگ اپنی دولت کو غلط طریقوں سے ضائع نہ کریں۔ فخر اور ریا اور نمائش کے خرچ، عیاشی اور فسق و فجور کے خرچ جو انسان کی حقیقی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف ہونے کے بجائے دولت کو غلط راستوں میں بہادیں، دراصل خدا کی نعمت کا کفران ہیں۔

جو لوگ اس طرح اپنی دولت کو خرچ کرتے ہیں وہ حقیقت میں شیطان کے بھائی ہیں اور ایک صالح معاشرے کا فرض ہے کہ ایسے بے جا صرفِ مال کو اخلاق تربیت اور قانونی پابندیوں کے ذریعہ سے روک دے۔

کنجوسی و فضول خرچی سے اجتناب ضروری

(5)لوگوں میں اتنا اعتدال ہونا چاہئے کہ وہ نہ تو بخیل بن کر دولت کی گردش کو روکیں اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی معاشی طاقت کو ضائع کریں۔ معاشرے کے افراد میں توازن کی ایک ایسی صحیح حس پائی جانی چاہئے کہ وہ بجا خرچ سے باز بھی نہ رہیں اور بیجا خرچ کی خرابیوں میں مبتلا بھی نہ ہو۔

رزق کی تقسیم

(6) تیرا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کیلئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔

خدا نے اپنے رزق کی تقسیم کا جو نظام قائم کیا ہے۔ انسان اپنی مصنوعی تدبیروں سے اس میں دخل انداز نہ ہو۔ اس نے اپنے سب بندوں کو رزق میں مساوی نہیں رکھا ہے بلکہ ان کے درمیان کم و بیش کا فرق رکھا ہے۔ اس کے اندر بہت سی مصلحتیں ہیں جن کو وہ خود ہی بہتر جانتا ہیلہٰذ ایک صحیح معاشی نظام وہی ہے جو خدا کے مقرر کئے ہوئے طریقوں سے قریب تر ہو۔ فطری نا مساوات کو ایک مصنوعی نامساوات میں تبدیل کرنا یا نا مساوات کو فطرت کے حدود سے بڑھا کر بے انصافی کی حد تک پہنچادینا دونوں یکساں غلط ہیں۔

نسل کشی کا میلان ہر گز پیدا نہ ہو

(7) اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، درحقیقت ان کا قتل ایک بڑی خطا ہے‘‘ نسلوں کی افزائش کو اس ڈرسے روک دینا کہ کھانے والے بڑھ جائیں گے تو معاشی ذرائع تنگ ہوجائیں گے۔ ایک بہت بڑی غلطی ہے جو لوگ اس اندیشے سے آنے والی نسلوں کو ہلاک کرتے ہیں وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ رزق کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہے۔

حالانکہ رازق وہ خدا ہے جس نے انسانوں کو زمین میں بسایا ہے پہلے آنے والوں کیلئے بھی رزق کا سامان اسی نے کیا تھا اور بعد کے آنے والوں کیلئے بھی وہی سامان کرے گا۔ جتنی آبادی بڑھتی ہے خدا اسی نسبت سے معاشی ذرائع بھی وسیع کردیتا ہے۔ لہٰذ لوگ خدا کی تخلیقی انتظامات میں بے جا دخل اندازی نہ کریں اور کسی قسم کے حالات میں بھی ان کے اندر ’’نسل کشی ‘‘ کا میلان پیدا نہ ہونے پائے۔

(8) زنا کے قریب نہ پھٹکو

آیت 32 میں ارشاد فرمایا

’’زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی بْرا راستہ ہے ‘‘ زنا عورت اور مرد کے تعلق کی بالکل ایک غلط صورت ہے۔ اس کو نہ صرف بند ہونا چاہئے بلکہ معاشرے کے اندر اْن اسباب کا بھی سدباب کیا جانا چاہئے جو انسان کو اس کے قریب لے جاتے ہیں۔

(9) انسانی جان کا احترام

آیت 33 میں یہ اصول بنادیاگیا کہ

’’قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ‘‘ انسانی جان کو اللہ تعالیٰ نے قابل احترام ٹھہرایا ہے۔ کوئی شخص نہ اپنی جان لینے کا حق رکھتا ہے اور نہ کسی دوسرے کی جان۔ خدا کی مقرر کی ہوئی یہ حرمت صرف اسی صورت میں ٹوٹ سکتی ہے جبکہ خدا ہی کا مقرر کیا ہوا کوئی حق اس کے خلاف قائم ہوجائے۔ پھر حق قائم ہوجانے کے بعد بھی خونریزی صرف اسی حد تک ہونی چاہئے جہاں تک حق کا تقاضا ہو۔

قتل میں اسراف کی تمام صورتیں بند ہوجانی چاہئیں۔ مثلاً جوش انتقام میں مجرم کے علاوہ دوسروں کو قتل کرنا جن کے خلاف حق قائم نہیں ہوا ہے یا مجرم کو عذاب دے دے کر مارنا، یا مار دینے کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی کرنا، یا ایسی ہی دوسری انتقامی زیادتیاں جو دنیا میں رائج رہی ہیں۔

(10) یتیموں کے مفاد کی حفاظت

آیت 34 میں حکم ہوا کہ

’’مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔

یتیموں کے مفاد کی اس وقت تک حفاظت ہونی چاہئے جب تک وہ خود اپنے بل بوتے پر کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوجائیں، ان کے مال میں کوئی ایسا تصرف نہ ہونا چاہئے جو خود ان کے مفاد کیلئے بہتر نہ ہو۔

(11) عہد کی پابندی لازمی

عہد کی پابندی کے سلسلہ میں تاکید کردی گئی کہ

’’عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی، عہد و پیماں خواہ افراد ایک دوسرے سے کریں یاایک قوم دوسری قوم سے کرے، بہر حال ایمانداری کے ساتھ پورے کئے جائیں۔ معاہدوں کی خلاف ورزی پر خدا کے ہاں باز پرس ہوگی۔

(12) ’’ناپ تول میں ڈنڈی نہ ماری جائے ‘‘

آیت 35 میں بے ایمانی اور حق تلفیوں کا سدباب فرما دیا گیا

’’پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو، اور تو لو تو ٹھیک ترازو سے تولو یہ اچھا طریقہ ہے او ربلحاظ انجام بھی یہی بہتر ہے۔

(13) کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔

یقیناً آنکھ، کان، اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے۔

(14) طاقت کے گھمنڈ میں آکر زمین پر مت اکڑو۔

 ’’زمین میں اکڑکر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو ‘‘

یہ بھی محض ایک واعظانہ بات نہ تھی بلکہ درحقیت اس میں مسلمانوں کی پیشگی تنبیہہ کی گئی تھی کہ ایک حکمراں گروہ بننے کے بعد وہ غرور و تکبر میں مبتلا نہ ہو۔ یہ اسی ہدایت کا فیض تھا کہ جو حکومت اس منشور کے مطابق مدینہ طیبہ میں قائم کی گئی اس کے فرما نراوں اور سپہ سالاروں کی زبان و قلم سے نکلا ہوا ایک جملہ بھی آج ہمیں ایسا نہیں ملتا جس میں ادائے تکبر کاادنی شائبہ تک پایا جاتا ہو۔

حتی کہ جنگ میں بھی انہوں نے کبھی فخر و غرور کی کوئی بات زبان سے نہ نکالی ان کی نشت و برخواست، چال ڈھال اور عام برتائو، ہر چیز میں انکسار و تواضع کی شان پائی جاتی تھی اور وہ فاتح کی حیثیت سے کسی شہر میں داخل ہوتے تھے اس وقت بھی اکڑ و غرور سے کبھی اپنا رعب جمانے کی کوشش نہ کرتے۔ ( تفہیم القرآن و معراج کا پیغام )

محترم قارئین کرام ! ہم نے ابھی جو 14 اصولوں پر روشنی ڈالی ہے دراصل یہ معراج النبی ﷺ کا پیغام ہے جس میں ایک ویلفیر اسٹیٹ کا منشور اور فلاحی ریاست کا لائحہ عمل بتایا گیا ہے اور اسی منشور کے عین مطابق ایک فلاحی ریاست کی (معراج کے واقعہ کے یک سال بعد آپ  ﷺ نے) بنیاد رکھی اور کامیابی آپ کے قدم چومی

حاصل کلام

آج ہم اپنے چاروں طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جن اصولوں کو لے کر نبی کریم ﷺ نے اپے کام کو آگے پڑھایا اور نسل انسانی کو نقصان عظیم سے بچایا تھا آج ان اصولوں کو انسان فراموش کر بیٹھا، غیر تو غیر ہیں ان کا ذکر ہی کیا مگر وہ گروہ بھی جس کا شمار خیر امت میں کیا جاتا ہے، اسے ایک سیاسی عمل کا نام دے کر چھوڑ دیا جسکا لازمی نتیجہ یہ نکلا کے ہر طرف ظلم و بربریت کا دورہ ہے۔ انسان انسان کا غلام بنا ہوا ہے، اس زمین پر خدائے تعالیٰ سے علانیہ بغاوت ہورہی ہے، یہ آئے دن عصمت دری کے واقعات، زنا بالجبر و زنابالرضا کا چلن ڈاکہ زنی، قتل و خون غارتگری، انسانوں کے درمیان بغض و عداوت، قرض حسنہ کا فقدان، سودی کاروبار کا عروج، خود غرضی، خودپسندگی والدین کی نافرمانی، ازدواجی زندگی میں عدم اعتماد و عدم اطمینان کی کیفیت چور بازاری، رشوت کا عام چلن، شراب کشیدگی و شراب فروشی، عصبیت و مذہبی جنون، انسان کاقتل نا حق، مخالف مذہب رجحان، دیگر مذاہب کی اندھی مخالفت میں ان کے خواتین کی عزت و آبرو تار تار کرنا اوران کے برہنہ جلوس نکالنا، صاحب اقتدار لوگوں کے کالے کرتوت، بڑے بڑے اسکنڈل و اسکیام، غریبوں کا سطح غربت پر ہی ہمیشہ قائم رہنا اور امیروں کا اور بھی امیر ترین ہوتے دکھائی دینا، قومی دولت کو ضائع کردینا صاحب اقتدار گروہ کی شاہ خرچی و فضول خرچی، اقتدار کے نشہ میں چور ہوکر ہر طرح کا ظلم کرنا وغیرہ یہ اور اس طرح کی باتیں خیرامت کے افراد کو لمحہ فکر یہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے معراج کے پیغام میں جو منشور نبی ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایاتھا اسے اجاگر کریں تا کہ ایک فلاحی ریاست وجود میں آئے۔

اللہ تبارک تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل کرم ہے کہ ہم جس نظام کے تحت زندگی بسر کررہے ہیں اگرچہ کہ یہ ایک باطل نظام ہے لیکن اس میں جو کچھ مذہبی آزادی، تبلیغ کی آزادی، اظہار رائے کی آزادی ابھی موجود ہے، اس جمہوری نظام میں جو کچھ ابھی سہولتیں باقی ہیں اسے غنیمت جانتے ہوئے ایک ویلفیر اسٹیٹ کے قیام کی راہیں تلاش کی جائیں۔ اگر معراج کے پیغام کے ایک ایک جز کو اہل ملک کے سامنے کھول کھول کر بیان کیا جائے تو یہ بات عین ممکن ہے کہ یہ ہمارا ملک عزیز بھی ایک فلاحی ریاست کی طرف گامزن ہوسکتا ہے، اس کے لئے جہاں پر یہاں کے رہنے والے برادران وطن، بالخصوص پست کردہ اقوام و درج فہرست قبائل و دیگر برادریوں کی ذہن سازی ضروری ہے وہیں پر ان سب سے اولاد آدم کی حیثیت سے رابطہ بڑھایا جائے تا کہ مندرجہ بالا 14 اصولوں پر انہیں متفق بنایا جائے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ایک فلاحی ریاست کے قیام کی جدوجہد کیلئے اقتدار کے ایوانوں میں ان 14 اصولوں کی گونج پیدا کرنے کیلئے باکردار و بالغ فکر و نظر کے حامل نمائندوں کو روانہ کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔

تبصرے بند ہیں۔