مولانا ڈاکٹر اقبال نیرؒ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

 امارت شرعیہ بہار اڈیشہ کی مجلس شوریٰ کے رکن، مدرسہ خیر العلوم بالو ماتھ ضلع لاتی ہار کے مہتمم ، جامعہ رشید العلوم چترا جھارکھنڈ کی مجلس شوریٰ کے صدر اور مؤطین کے استاذ، آل انڈیا ملی کونسل کے رکن، ماہر طبیب، مشہور داعی، نامور مقرر مولانا ڈاکٹر محمد اقبال نیر بن خورشید عالم (م ۱۹۹۲) بن محی الدین کا رانچی کے ایک ہوسپیٹل میں ۱۸؍ مارچ ۲۰۲۲ء مطابق ۱۴؍ شعبان ۱۴۴۳ھ شب جمعہ دو بجے انتقال ہو گیا، وہ بہت دنوں سے صاحب فراش تھے، برین ہیمریج کے پہلے حملے نے ایک طرف کے اعضا کو متاثر کیا تھا اور مفلوج سے ہو گیے تھے، ایک ہفتہ قبل دو بارہ برین ہیمریج ہوا، اسپتال لے جائے گئے، علاج پر بھر پور توجہ دی گئی، لیکن وہ اس دوسرے حملہ کی تاب نہ لاسکے اور داعی اجل کو لبیک کہا، ان کی نماز جنازہ ان کے بڑے صاحب زادہ حافظ الفاتح نے بعد نماز جمعہ کوئی ساڑھے تین بجے پڑھائی، اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، پس ماندگان میں اہلیہ تین لڑکے اور پانچ لڑکیوں کو چھوڑا، ایک لڑکی اور دو لڑکے ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔

 ڈاکٹر اقبال نیر صاحب کی ولادت ۱۹۵۸ء میں ان کے آبائی گاؤں بالو ماتھ موجودہ ضلع لا تی ہار میں ہوئی، ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں حاصل کرنے کے بعد وہ اپنی نانی ہال چترا آگیے، مولانا سراج رشیدی ان کے ناناتھے، انہوں نے جامعہ رشید العلوم چترا میں ان کا داخلہ کرا دیا، چنانچہ پوری دل جمعی کے ساتھ  متوسطات تک کی تعلیم یہیں حاصل کی ، وہاں سے مظاہر علوم سہارن پور تشریف لے گیے اور وہیں سے ۱۹۷۸ء میں سند فراغ حاصل کیا، ۱۹۷۹ء میں انہوں نے دار العلوم دیو بند کا رخ کیا اور طب کی تعلیم کے لیے دار العلوم کے طبیہ کالج میں داخلہ لیا اور یہاں سے چار سالہ طب کا کورس مکمل کیا اور ۱۹۸۲ء میں فراغت حاصل کی دار العلوم کے قیام کے آخری سال میں وہ سجاد لائبریری کے صدر منتخب ہوئے اور میںنے ان کے ساتھ ناظم کی حیثیت سے کام کیا، فراغت کے بعد وہ اپنے گاؤں بالو ماتھ لوٹ آئے اور یہاں اپنا مطب کھول کر مریضوں کی خدمت کرنے لگے، اللہ نے دست شفا دیا تھا اس لیے جلد ہی آپ کا شمار علاقہ کے بہترین ڈاکٹروں میں ہونے لگا، اس طرح خدمت کے ساتھ معاشی استحکام بھی حصے میں آگیا، ۱۹۸۳ء میں آپ نے چترا کی ایک یتیم بچی سے نکاح کرلیا، اورازدواجی زندگی سے وابستہ ہو گیے، ۱۹۸۴ء میں آپ مدرسہ خیر العلوم بالو ماتھ کے مہتمم منتخب ہوئے اور اپنی جد وجہد اور کامیاب قیادت سے اس مدرسہ کو ترقی کی طرف گامزن کیا، ہرجمعہ کو بالو ماتھ کی جامع مسجد میں آپ کا خطاب ہوتا، ڈاکٹر صاحب کے خطاب سے علاقہ میں اصلاح معاشرہ کا بڑا کام ہوا، انہوں نے جامع مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا اور اسے پایۂ تکمیل تک پہونچا کر دم لیا۔ تزکیہ نفس کے لیے انہوں نے حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒ کا ہاتھ تھاما تھا، ان کے بتائے ہوئے اوراد وظائف پر وہ سختی سے عامل تھے، صحت اچھی تھی تو اوراد واذکار کے ساتھ تلاوت قرآن اور نوافل نمازوں کا اہتمام بھی خوب کرتے تھے، ان کے اندرمسلکی شدت نہیں تھی، ان کی تقریریں طویل ہوتی تھیں، لیکن معلومات کی فراوانی، بولنے کے انداز، تجزیہ کی صلاحیت کی وجہ سے لوگ اُوبتے نہیں تھے، ان کے مطالعہ میں گہرائی اور گیرائی تھی ، ان کی مجلسی گفتگو زعفران زار ہوتی تھی،وہ اپنی بات کہنے کے عادی تھے، دوسروں کی بُرائی اور غیبت سے پر ہیز کرتے تھے۔انہوں نے اپنے علاقہ میں رجال سازی پر بھی توجہ دی اور مختلف میدان میں افرادِ کار تیار کیے۔

 تقریر کے ساتھ اللہ نے ا نہیں لکھنے کا بھی ملکہ عطا کیا تھا، مطب کی پیشہ وارانہ مشغولیت کے ساتھ انہوں نے تصنیف وتالیف کا کام بھی جاری رکھا، ان کی مشہور کتابوں میں سیرت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت (مولانا ذو الفتار صاحب) کی یادیں، مولانا رحمت اللہ ؒ حالات زندگی کا شمار ہوتا ہے۔

 مولانا اقبال نیر مرحوم سے میری ملاقات دوران طالب علمی ہی سے تھی، مظاہر علوم سے فراغت کے بعد جب انہوں نے دیو بند کے طبیہ کالج میں داخل لیا تو ۱۹۸۱ء میں وہ سجاد لائبریری کے صدر منتخب ہوئے اور مجھے ناظم چنا گیا، یہ زمانہ دار العلوم کے طلبہ وانتظامیہ کے لیے آزمائش کا تھا، اس لیے بہت بڑے پیمانے پر کام کی شکل تو نہیں بن سکی، لیکن سجاد لائبریری کی سر گرمیوں کو باقی رکھنے کا کام ہم لوگوں نے کیا، اگلے سال وہ گھر لوٹ گیے اور میں ان کی جگہ سجاد لائبریری کا صدر چن لیا گیا اور سجاد لائبریری کے لیے زمین کی خریداری اور تعمیر کا کام میرے دور صدارت میں شروع ہوا۔

مولانا کو اللہ رب العزت نے علمی رسوخ، انتظامی صلاحیت کے ساتھ قدورقامت اور چہرے مہرے کے اعتبار سے بھی انتہائی وجیہ بنایا تھا، وہ بغیر کالر کا کرتا اور اس پر کرتے کے رنگ کی دیدہ زیب اور خوشنما صدری پہنا کرتے تھے، ٹوپی عموما کھڑی پٹی کی مخملی یا بال والی پہنتے ، بہت کم میں نے انہیں گول ٹوپی میں دیکھا، ڈاڑھی ہلکی اور بہت بڑی نہیں تھی، سفیدی آنے کے بعد لال مہندی کا خضاب ڈاڑھی اور سر کے بالوں میں لگا یا کرتے تھے، پیشانی کشادہ ، آنکھ بڑی اور چہرہ روشن تھا، کہنا چاہیے کہ وہ خوش خصال، خوش جمال اور خوش لباس تھے، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ خوش خوراک بھی تھے۔

 دیو بند سے آنے کے بعد نہ جانے کتنی میٹنگوں اور جلسوں میں ہم لوگ ساتھ ساتھ رہے، امارت شرعیہ، آل انڈیا ملی کونسل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگوں میں بھی وہ مختلف حیثیت اور جہتوں سے شریک ہوتے اور ہر جگہ اپنی اصابت رائے کا نقش جمیل چھوڑتے ، وہ بات کے دھنی نہیں ، کام کے آدمی تھے، ملی سر گرمیوں میں وہ پیش پیش رہتے تھے، غریبوں کی مدد اور یتیموں کی کفالت کے سلسلے میں بھی وہ بہت حساس تھے، ان کا چلا جانا ملی اور علمی خسارہ ہے۔ اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ۔ للہ ما اخذ ولہ ما اعطیٰ وکل شئی عندہ لاجل مسمیٰ

تبصرے بند ہیں۔