بچوں کی اچھی صحت اور لمبی زندگی میں معاون ہے ویکسین 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ہر سال 24 سے 30 اپریل کو عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ منایا جاتا ہے۔ اس سال کے عالمی ٹیکہ کاری ہفتہ کی تھیم "لانگ لائف فار آل” ہے۔ اسے intensive مشن اندر دھنش 4.0 کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں لمبی عمر، صحت مند زندگی کی اہمیت اور ویکسین کی غیر جانبداری کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ عالمی امیونائزیشن ہفتہ کا مقصد ویکسین کے بارے میں لوگوں کو بیدارکرنا، اس کے فائدے بتانا، غلط فہمیاں دور کر ہر بچے تک ٹیکہ پہنچانے کے عہد کو دوہرانا ہے۔ یونیسیف انڈیا نے اس موقع پرمرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود کے ساتھ مل کر ہیلتھ رپورٹس کو آئندہ کے منصوبہ سے واقف کرانے کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیا۔ جس میں آن لائن اور آف لائن پورے ملک سے صحت صحافیوں نے حصہ لیا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود کی ایڈیشنل کمشنر ڈاکٹر وینا دھون نے یونیورسل امیونائزیشن پروگرام (یو آئی پی) اور انٹینسیو مشن اندردھنش (آئی ایم آئی) 4.0 کی تازہ معلومات شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ یو آئی پی کے تحت ملک میں قریب 2.9 کروڑ حاملہ خواتین اور 2.7 کروڑ بچوں کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکوں کی وجہ سے ہر منٹ 5 بچوں کی زندگی بچتی ہے۔ پوری دنیا میں گزشتہ 30 سال کے دوران ٹیکوں نے 9.2 کروڑ زندگیاں بچائی ہیں۔ بچوں کو زندگی کے پہلے سال میں زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ایک سال تک کے بچوں کو پورے ٹیکے لگ جائیں اس کے لیے مشن اندر دھنش چلایا جا رہا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ 90 فیصد بچوں کی مکمل ٹیکہ کاری ہو۔ قومی خاندانی صحت سروے 5 کے تازہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 12 سے 23 ماہ کی عمر کے مکمل ٹیکہ کاری کی شرح میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ یہ شرح قومی سطح پر 62 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد ہو گئی ہے۔ مشن اندر دھنش کے تحت نقل مکانی کرنے والے افراد، تعمیراتی سائٹ، اینٹ کے بھٹوں، کھیت کھلیان میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچوں کو کور کیا جا رہا ہے۔ اسے رفتار دینے کے لیے تمام ریاستوں کے امیونائزیشن افسران کی دو روزہ ورکشاپ کی گئی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونیسیف انڈیا کی ایڈوکیسی کمیونیکیشن اینڈ پارٹنرشپ کی سربراہ جعفرین چودھری نے کہا کووڈ 19 کی ٹیکہ کاری نے سنگین بیماریوں کی روک تھام میں امیونائزیشن کی اہمیت کو بتا دیا ہے۔ کووڈ کی سب سے بڑی عالمی ٹیکہ کاری مہم نے ویکسین اور ویکسین لگانے کی وسیع طاقت ہمیں دکھا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران معمول کی ٹیکہ کاری پر فوکس کم ہوا تھا۔ اب اسے بڑھانا اور ہر بچے تک ٹیکے پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ 95 فیصد پبلک ہیلتھ سروس میں ویکسین فراہم کیا جاتا ہے۔ بھارت میں یونیسیف ٹیکوں کی حفاظت اور اس کو بچوں تک پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو جو ٹیکے ملنے چاہئیں وہ دیئے جائیں۔ کیوں کہ یہ ان کا حق ہے اس سے بچے صحت مند رہیں گے اور ان کی عمر زیادہ ہوگی۔ اس کا اثر لوگوں کی معیشت پر پڑتا ہے۔ بچوں کے بیمار ہونے پر ایک طرف والدین کا کام چھوٹتا ہے اور دوسری طرف علاج میں پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جن بچوں کو پورے ٹیکے لگے ہیں ان کی کارکردگی اسکول دوسرے بچوں سے میں بہتر ہوتی ہے۔

یونیسیف کے ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر وویک وریندر سنگھ نے بھارت میں ٹیکہ کاری کوریج کو رفتار دینے اور ہر بچے کو مکمل ٹیکے دیئے جانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے عہد کی تعریف کرتے ہوئے قومی و ریاستی صحافیوں سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ مشن اندر دھنش 4.0 کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اضلاع کی حکومت نے میپنگ کی ہے۔ ٹیکہ کاری بچوں کو بچانے کا محفوظ، کفایتی اور موثر طریقہ ہے۔ پہلے محدود ٹیکے بچوں کو دیئے جاتے تھے۔ اس وقت معمول کی ٹیکہ کاری میں نو اور تین کچھ ریاستوں میں دیئے جاتے ہیں۔ اس طرح کل بارہ بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین موجود ہے۔ بچوں کی سب سے زیادہ جانیں ڈائریا، نمونیا سے جاتی ہیں۔ گزشتہ دو سال کووڈ کے دوران معمول کی ٹیکہ کاری کی طرف سے عدم توجہی کی وجہ سے اب اس طرف توجہ دینا ضروری ہے۔ بھارت نے effective vaccine information system تیار کیا ہے۔ اس تکنیک کو وہ پوری دنیا کو برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے سو فیصد ٹیکہ کاری کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے میڈیا کی بھاگیداری کو اہم قرار دیا۔

مشن اندر دھنش 4.0 کے ان تمام بچوں تک پہنچنے کا منصوبہ ہے۔ جن کو ایک بھی ٹیکہ نہیں لگا ہے۔ اس کے لیے ہفتہ وار لگنے والے بازاروں میں بھی ٹیکہ کاری کیمپ لگائے جائیں گے۔ ملک کئی ایسے دشوار گزار علاقے ہیں جہاں آج بھی پہنچنا مشکل ہے۔ ان علاقوں میں قبائلی بستیاں آباد ہیں۔ وہ عام طور پر ہفتہ وار بازاروں میں اپنی ضرورت کے سامان لینے آتے ہیں۔ یونیسیف کی تکنیکی مدد سے ایسے صحت کارکنان تیار کئے گئے ہیں۔ جو سردی، گرمی، برسات، سیلاب، جنگلات اور سواری کا انتظام نہ ہونے کے باوجود بچوں تک ویکسین پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ لوگوں کو صحت مند رہنے کے طریقے بتاتے ہیں۔ یہ دور دراز کے لوگوں کو صاف صفائی، حاملہ خواتین کی دیکھ بھال، بچے کی ولادت اسپتال میں کرانے اور ماں کا پہلا گاڑھا دودھ پلانے کے فائدے سے واقف کراتے ہیں۔ حکومت نے سب کو صحت مند رکھنے کے لیے ٹیکہ کاری پروگرام کو تعلیم، پنچایتی وغیرہ گیارہ وزارتوں سے جوڑا گیا ہے۔ بچوں تک پہنچنے کے لیے مائکرو پلاننگ کی گئی ہے۔ تاکہ کوئی بھی بچہ چھوٹنے نہ پائے۔

پبلک ہیلتھ پروگرام کو دھیرے دھیرے ملک میں عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ اسی کی بدولت بھارت نے فروری 2014 میں پولیو سے نجات حاصل کی۔ 2017 میں ٹٹنس کو ملک سے نکال دیا۔ اس کی وجہ سے ہر سال کتنی ہی زندگیاں موت کے منھ میں چلی جاتی تھیں۔ خسرہ روبیلا ویکسینیشن مہم بھی کامیابی سے مکمل ہوئی۔ کووڈ ویکسین کو لے کر کئی طرح کی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہوئی لیکن اسی اعتماد کی بنیاد پر کووڈ جیسی عالمی وبا کو ہرانے میں ملک کامیاب ہوا۔ عوامی صحت کی مہم میں مذہبی، سماجی رہنماؤں، کمیونٹی لیڈران، سول سوسائٹی کارکنان اور حکومت کی جانب سے لیے جانے والے بروقت فیصلہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ملک اور اس کے عوام صحت کو لے کر اپنی سنجیدگی کو بار بار ثابت کر چکے ہیں۔ امید اب بھی یہی ہے کہ مشن اندر دھنش 4.0 بھی پہلے کی مہم کی طرح کامیاب ہوگا۔ کیوں کہ آج ہر شخص یہ جان چکا ہے کہ بچوں کی اچھی صحت اور لمبی عمر کے لیے ویکسین ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا