ماحولیات کا دن اور ماحولیاتی نظام کی بحالی!

شیخ خالد زاہد

بتائے گئے اصولوں پر عمل نا کرنے سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے او روہ اصول یا قواعد قدرت نے طے کئے ہوں اور اسکی خلاف ورزی کی جائے تو نقصان کا تخمینہ لگانا شائد ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ بلکل ایسے ہی ہے کہ انسان کے کسی اعضاء کی پیوندکاری کی جائے عضو کا جڑجانا یا تبدیل ہوجانا تو ممکن ہے لیکن بلکل ویسا ہی جیسا تھا قطعی ناممکن سی بات ہے۔ خالق کائنات کی تشکیل دیئے گئے نظام کائنات میں تقریباًایک چھوٹے سے حصے جسے ہم سب کرہ ارض یا زمین کے نام سے جانتے ہیں انسانوں کے رہنے کیلیے منتخب کیا۔ زمین کو انسانوں کے رہنے کیلیے مکمل طور پر تیار کیا گیا اور مسلسل بہتری کی بنیاد کی گنجائش رکھ کر انسانوں کے جد امجد حضرت آدم ؑ کو زمین پر بطور بنی نوع انسان بھیجا۔ وقت گزرتا گیا انسانوں کی تعداد کے بڑھنے کیساتھ قدرت نے زندگی کے خاتمے کیلیے موت کا بھی ایک عمل شروع کیا تاکہ دنیا کو زیادہ سے زیادہ انسانوں سے روشناس کرایا جاسکے۔ اللہ تعالی چاہتے تو موت کی تخلیق نا کرتے کیونکہ کائنات کی وسعتیں تو تاحال اتنی جدیدیت کے باوجود انسان کے گمان سے بھی باہر ہیں لیکن موت نا ہوتی تو تخلیق کار کی پہچان کیسے ہوتی اور پھر ضابطے اور قاعدے کا درس کیسے ملتا یعنی صرف زمین کو انسان کے رہنے کیلیے چنا گیا تو چنا گیا۔

انسانوں نے طاقت سے یا باہمی رضامند ی سے سرحدوں کا تعین کر لیا اور زمین کی مختلف حصوں میں تقسیم ہوگئی۔انسانوں کے رہنے کیلیے کائنات میں زمین کا چناؤ اسلیے کیا گیا کہ یہاں زمین میں وہ تمام نباتات چھپا کر رکھی گئیں جو انسان کی نشونما سے لیکر اسکی طاقت اور علاج معالجے کیلیے ضروری تھیں پھر یہاں پانی کا بندوبست کیا گیا اور پانی بھی طرح طرح کے، بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی اسی زمین میں ایسی ایسی نایاب مدنیات رکھی گئیں جس کا استعمال بھی قدرت نے انسانوں کو سکھایا، پھر انسان نے طاقت کے بل بوتے پر انہیں اشیاء پر زمین پر قبضے کرنا شروع کئے جس کے پاس طاقت تھی اسنے کمزور کو ناصرف تابعدار بنایا بلکہ زمین سے حاصل ہونے والے اجناس و مدنیات پر بھی قبضہ کیا، اسطرح سے انسان کو یہ بات سمجھ میں آگئی کے اگر طاقت ہوگی تو وہ کسی کو بھی اپنی مرضی کیلیے حکم دے سکے گا۔ اب طاقت بڑھانے کیلیے علم کی ضرورت تھی علم حاصل کیا گیا اور علم سے پتہ چلا کہ کس کس طرح سے انسان، انسان کو زیر کر سکتا ہے کیونکہ جانوروں کو تو وہ غاروں کے زمانے میں ہی زیرکر چکا تھا۔ مخصوص علاقوں پر قبضہ کرنے کا خواب سرحدوں میں قید جنگجؤوں نے دیکھنا شروع کیا۔ جانوروں پر سفر کرنا اور دوبدو جنگ کرنے میں زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوتی تھیں اسلحہ کی ایجاد کی گئی جس سے یہ ہوا کہ جو طاقتور تھا جو مالی طور پر مستحکم تھا اسنے اسلحہ ناصرف بنانا نہیں شروع کیا بلکہ بیچنا بھی شروع کیا اسی طرح سے سفر کی سہولیات میں جدیدت بحری جہازوں سے شروع ہوتی ہوئی ہوائی جہازوں تک پہنچی اور آج دنیا نے تیز ترین ہوائی لڑاکا طیارے بنالیے ہیں۔ انسان نے اس سفر میں درختوں سے بے تحاشہ کام لیے، پہاڑوں کو توڑپھوڑ کی، پانیوں کے راستے بدلی کئے،شکار کئے، آگ جلائی وغیرہ وغیرہ موجود سہولتوں کا بے دریغ استعمال کیا۔ غرض یہ کہ جدیدیت اپنے عروج کی منزلیں طے کرتی ہوئی اکیسویں صدی میں داخل ہوگئی۔ طاقت کے حصول کیلیے انسان نے انسان پر حکمرانی کرنے کیلیے مہلک ترین اسلحہ تیار کرلیا۔ دوسرے پہلو پر بھی نظر ڈال لیتے ہیں جسے ہم جدیدیت کہہ رہے ہیں وہ دراصل ہے کیا، صنعتوں کا جال بچھایا جارہا ہے، زمینی، ہوائی اور بحری ہر طرح کے ذرائع آمد ورفت کو آسان ترین بنانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، زمین سے اجناس کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کیلیے مصنوعی زراعت کے طریقے استعمال کئے جا رہے ہیں، پھر یہی انسان سکون کیلیے طرح طرح کا نشہ استعمال کررہاہے۔قدرت نے طرز زندگی کی بنیادی چیزیں فراہم کردی تھیں لیکن انسان اپنی جلد بازی سے مجبور اور قدرت کی بنائی ہوئی تقریباً اشیاء میں کچھ نا کچھ تبدیل کرنے کی جستجو میں مگن ہے۔

آسائشوں اور طاقت کے پیچھے بھاگتے انسان نے سب سے زیادہ ماحولیات کو تہہ و بالا کردیا اور اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کے اب ماحول کو بچانے کیلیے اقدامات کرنے چاہئیں، اسطرح سے سے مستقبل کو محفوظ بنانے کا خیال آیا اورماحولیات کے متعلق آگاہی فراہم کرنے محفوظ بنانے کیلیے اقدامات کا تعین کرنے کیلیے سن 1972امیں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں ہر سال5 جون کو ماحولیات کا عالمی دن منانے کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس دن کے توسط سے دنیا کو زمینی ماحولیات کو بچانے کیلیے اقدامات کی طرف پیش رفت کرنے کیلیے اکسانا تھااور یاد دہانی کروانی تھی۔ ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ قدرت کی عطاء کردہ کسی بھی چیز کو برباد کرتے ہوئے کسی ملک نے دوسرے ملک سے کوئی باہمی رابطہ نہیں کیا اور نا ہی کسی ماہر سے یا ترقی یافتہ سے مشورہ کیا اسی طرح تقریباً ممالک نے کوئی نا کوئی ایسا عمل ضرور کیا جس کی وجہ سے کرہ ارض کا ماحول تباہی کے داہنے پر پہنچ گیا (اسی لیے کوئی کسی کو الزام نہیں دیتا)۔ اس میں جنگلات کو کاٹنے کا مسلۂ تھا، اس میں خام تیل کا سمندر میں خارج ہونے کیساتھ ساتھ دیگر زہریلے فضلاء کا اس میں شامل ہونا(جو آبی حیات کو بری طرح سے نقصان پہنچا رہاہے)، جنگلی حیات کا ناپید ہونا اور سب سے بڑھ کر ایٹم بم کا جاپان کے شہر پر ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرایا جانا بھی شامل ہے۔ بااختیار اور اثر و رسوخ والے ممالک نے ایسے بڑے اور ہیبت ناک مسائل کو پس پشت ڈال کر عوام کو چھوٹے چھوٹے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ کروا یا جن میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور بوتلیں، مختلف قسم کے ڈبے، سگریٹ نوشی وغیرہ ماحولیات کیلیے زہر قاتل بنا کر پیش کردی گئیں۔ چرندپرند مر رہے ہیں۔

یہ ایک غیر سیاسی فیچر ہے لیکن اسکے باوجود قابل ذکر کام کا ذکر کیا جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان نے ماحولیات کے حوالے سے اقتدار میں آنے سے قبل ہی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا پھر ماحول سے شناسائی کی مناسبت سے،ماحول کی بحالی کیلیے بغیر کسی تختی لگاؤ تحریک کے دس ارب درخت لگانے کی مہم کا بھرپور آغاز کیا اور اسکے لیے عملی طور پر میدا ن میں برسر پیکار ہوئے، خان صاحب کی شخصیت کا ایسا سحر تھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم خیبر سے کراچی تک اس کارِ خیر میں شامل ہوگیا، لق و دق میدانی علاقے اور بے تحاشہ ایسے مقامات جہاں شجر کاری مہم کی جاسکتی تھی بھر پور طریقے سے کی گئی، اول تو اس تحریک کا حسب ِ معمول سیاسی مذاق بنایا گیا لیکن خان صاحب اپنے کام سے کام رکھنے والے آدمی ہیں وہ جو ٹھان لیتے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں، وقت کیساتھ ساتھ میدان سرسبز و شاداب ہوتے دیکھے جانے لگے اور دس ارب درختوں کا خواب عملی طور پر زمینوں پر دیکھائی دینے لگا اور ایک بار پھر سیاسی مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی،بات یہاں ختم نہیں ہوئی، وزیر اعظم بننے کے بعد یہ درخت لگاؤ مہم پورے ملک میں شروع کردی گئی تمام وزارتیں اور انکے ذیلی ادارے درخت لگاؤ مہم کا حصہ بن گئے، طالب علموں نے اس عمل میں بھرپور حصہ لیا اور پاکستان نے سرسبز پاکستان کی طرف تیزی سے پیش قدمی شروع کردی۔ اسی بنیاد پر پاکستان کو اس سال 2021 ماحولیات کے عالمی دن کی میزبانی کا شرف ملا ہے۔

ایک طرف تو ماحولیات کی تباہی کا عالمی سطح پر ماتم کیا جارہا ہے تو دوسری طرف مہلک ہتھیاروں کا استعمال بے دریغ ہورہاہے، دھماکے کئے جارہے ہیں کبھی زیر زمین تو کبھی سمندروں میں یہ مہلک آلودگی پیدا کی جاتی ہے،مصنوعی کھاد بنائی جا رہی ہے جو یقینا انسانی غذائی آلودگی کا سبب بن رہی ہوگی، ذرائع آمد ورفت میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہاہے، صنعتوں کوبڑھانے پر زور دیا جارہاہے، پلاسٹک کی اشیاء بڑھ چڑھ کر بازار میں دستیاب ہیں۔ ہم اسے کھلا تضاد کہہ سکتے ہیں۔ یہاں یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جنہوں نے ماحولیات کی بہتری کیلیے یقینی اقدامات کر رکھے ہیں سوائے اسکے کہ پاکستان نے دس ارب درخت لگانے کا منفرد منصوبہ دنیا کو دیا ہے۔ نیوزی لینڈ وہ ملک ہے جہاں فیضائی آلودگی نا ہونے کے برابر ہے، بجلی کی پیداوار ایسے ذرائع سے کی جاتی ہے جو آلودگی کا کم سے کم سبب بنتے ہیں، سنگاپور وہ ملک ہے جس نے 2008 میں اس خطرے کو بھانپ لیا تھااور اپنے لیے طے کیا تھا کہ وہ بہت جلد فضلہ سے پاک ملک بن جائینگے اور یہ سب سرکاری سطح پر کر رہے ہیں، اسی طرح سویڈن، ڈینمارک، برطانیہ وغیرہ ماحول دوست حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ کہیں کچرے کو زمین میں دبانے یا پھر آلودگی بننے کی بجائے دوبارہ سے استعمال کے قابل مختلف اشیاء بنائی جا رہی ہیں، اسی طرح سے بجلی سے بننے والی گاڑیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں پیدل چلنے یا ایسے ذرائع استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے جن سے دھواں خارج نا ہو، بین الاقوامی ادارے ماحول کی محفوظ اور اسکی حفاظت کیلیے کسی نا کسی کی تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں، جن میں ساحلوں کی صفائی ایک انتہائی اہم عمل ہے، اب اسی طرح کے کاموں کی ضرورت شمالی علاقاجات میں بھی کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں میں آگاہی کی مہم بہت ضروری ہے گوکہ اب تو اسکول کے نصاب میں بھی ماحولیات سے متعلق علم فراہم کیا جارہا ہے۔ قدرت کی فراہم کردہ سہولیات جن میں سورج کی روشنی، ہوا اور پانی سے بجلی کبھی بھی بنائی جاسکتی تھی لیکن سب تباہ برباد کرنے کے بعد یہ خیال آیا کہ کیوں نا ماحول دوست توانائی بنائی جائے۔ کوورنا کے توسط سے قدرت نے اپنی طرف انسانوں کی بھرپور توجہ دلوائی اور اپنی دی گئی نعمتوں کی اہمیت کا اعتراف کروایالیکن انسان نے کب ہار ماننی تھی حالات کی بہتری نے ایک دفعہ پھر سرکشی میں مصروف کردیا۔

جہاں ماحولیات ساری دنیا کا مسلۂ ہے اور دنیا نے اسکے لیے بڑے بڑے فورم بنائے ہوئے ہیں قاعدے قانون طے کر رکھے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان پر عمل واجبی سا ہوتا رہا، یہ انسان کی فطرت میں جب تک کام چلتا ہے وہ چلاتا رہتا ہے اورجیسے ہی جان پر بننا شروع ہوتی ہے تو وہ دوسروں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بظاہر تو دنیا ماحولیات کو سازگار بنانے کے ایک نقطے پر متفق ہے یکجا ہے لیکن ٹھنڈے کمروں میں کھڑے ہوکر تقریر کرنے سے جب بات آگے بڑھتی ہے اور دنیا آپ کی تقریر کو عملی طور پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے تو آپ کا سیاسی نظام سب کچھ تہس نہس کردیتا ہے۔ کیونکہ یہاں تو سب کچھ دیکھاوے کیلیے اور تختیاں لگانے کیلیے ہوتا چلا آرہا ہے۔ ذاتی طور پر حکومت وقت سے کافی توقع رکھتا ہوں کہ یہ ماحولیات کے لیے بنائی گئی وزارت کی چھتری کے نیچے اتنے اقدامات طے کردے گی کہ آنے والوں کے ساتھ عوام خود نمٹ لے گی۔

 ہمیں اس ایک نقطے پر تمام سیاسی ناچاقیاں بالائے طاق رکھ دینی چاہئیں، ماحول دوست اقدامات کسی ملک کیلیے نہیں ہیں، کسی خطے یا براعظم کیلیے نہیں ہیں یہ کائنات میں زمین کے وجود کو زندہ رکھنے کیلیے اور شائد قیامت سے پہلے قیامت کو روکنے کیلیے کئے جا رہے ہیں، قدرت نے جو قدرتی ماحول دیاتھا ہمیں اب کہیں جاکر سمجھ آرہا ہے کہ وہی ماحول انسانوں کے رہنے کیلیے سب سے بہترین ہے آخیر میں کورونا وبا ء کو دیکھ لیجئے اس نے بھی انسانیت کو انسانیت کا سبق یاد کروادیا ہے۔ ماحول کی آلودگی کسی بھی قسم کی ہو ناقابل ِ برداشت ہی ہوتی ہے۔ اسلیے تہیہ کیجئے ہر طرح کے ماحول کو انسانی بقاء کیلیے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کیلیے بہترین بنانے کیلیے سب ساتھ مل کر کام کرینگے۔

اپنی ایک درد مندانہ تجویز کیساتھ مضمون کا اختتام کرونگا کہ خدارا ہر قسم کا اسلحہ بنانے اور چلانے کی خواہش کو ختم کردیں، بھائی چارے کو فروغ دینے کیلیے حکمتِ عملیاں ترتیب دیں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے ہر ملک کا آسمان ایک دم نیلا فضائی آلودگی سے پاک دیکھائی دے گااور کورونا جیسی موذی وبائیں خود ہی دم توڑ جائینگی۔ انشاء اللہ۔

تبصرے بند ہیں۔