ابّو جان: شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ بنکویؒ

اُم عبداللہ بنت مولانا محمد الیاسؒ بارہ بنکوی

آج والد صاحب کو دنیا سے رخصت ہوئے ایک ہفتہ بیت گیا۔ وہ یقیناًاس دنیا سے ہزار درجہ بہتر مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ آج یا کل ہم سب کو بھی اس دنیا سے کوچ کرناہے موت سے بھلا کس کو مفر ہے ہر جاندار کو فنا کے گھاٹ اترنا ہے لیکن ہمارا مرنا ایک فرد کا مرنا ہوگااور ایک عالِم کی موت ایک عالَم کی موت ہے۔ اُن کے جانے سے علم کی دنیا میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کو ہم جیسے ہزار لاکھ لوگ بھی پیدا ہو کر پورا نہیں کر سکتے۔ یہ غم کسی فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ یہ غم ملت کا غم ہے۔

والد صاحب ۱۹۳۲  میںبارہ بنکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میلا رائے گنج کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دادا گھر میں ہی چھوٹی سی ایک کرانے کی دکان چلاتے تھے۔ تعلیم سے سے کسی کو دور دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ والد صاحب کا بچپن کنچے کھیلنے میں گذرا۔ بہت کم عمری میں پہلا نکاح ہوااور کپڑا بُن کر گھر بار چلانے لگے۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ دادا جان لوگوں کو پکڑ پکڑ کے اسلم راہی کے تاریخی ناول اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ سنتے تھے جس کو سن کر والد صاحب کو بھی پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور گاؤں کے مکتب میں اردو سیکھنے جانے لگے۔ پھر اُن کی تشنگی وقت کے ساتھ بڑھتی ہی رہی۔ ان کے شوق اور لگن کو دیکھ کر اُن کے استاد نے بہرائچ کے مدرسے نور العلوم جاکر تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن یہ وقت اُن کے لیے گھریلو اعتبار سے آزمائش کا وقت تھا۔ اُن کی پہلی اہلیہ نے انہیں اختیار دیا کہ حصولِ علم کو چنیں یا شادی کوتووالد صاحب نے شادی پر علم کواختیارکیا۔ دادا جان نے بھی بہت مخالفت کی لیکن دادی جان کی قربانیوں اور تعاون کے نتیجے میں والد صاحب نے مدرسے میں داخلہ لے لیا۔ بہرائچ کے بعددورے کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور مولانا فخر الدین صاحب مرادآبادیؒ، علامہ ابراہیم صاحب بلیاویؒ، مولانا وحید الزماں کیرانویؒ، شیخ الادب حضرت عبدالوھاب محمود مصری ؒجیسے اکابر علماء سے استفادہ کیا اور شرف تلمذ حاصل کیا۔

دار العلوم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد والد صاحب اپنے اساتذہ کے مشورے سے جامعہ امداد العلوم زید پورمیں تدریسی خدمات انجام دینے لگے۔ اسی دوران والد صاحب کا نکاح میری والدہ سے ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں بہت خیر و برکت رکھی۔ کچھ دنوں بعد اپنے آبائی وطن بارہ بنکی کے قصبہ بنکی میںـجامعہ دارالرشادکی بنیاد رکھی۔ بنکی کے ایام میں والد ین نے نہایت تنگی اور مشقت کے دن گذارے لیکن جب بھی تنگی حد سے بڑھی تو اللہ کی مدد ایسی کھلی اور واضح طور پر آئی کہ سن کر عقل حیران رہ جاتی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ  کسی طرح کے بھی مصائب و آلام نے والد صاحب کے عزم و استقلال کو متزلزل نہ ہونے دیا اور میری والدہ نے اُن کا ہر قدم پر ساتھ دیا۔  بعد میںکنہی وجوہات کی خاطر اُس ادارے کی ذمہ داری مولانا رشید الدین صاحب کو سونپ کر خود دہلی کے تبلیغی مرکز حضرت نظام الدین چلے آئے اور اپنی محنت اور لگن سے جلد ہی حضرت مولا نا انعام الحسنؒ کے مقرب اور معتمد لوگوں میں شامل ہو گئے۔ حضرت جی نے والد صاحب کی علمی صلاحیت دیکھ کر انہیںمدرسہ کاشف العلوم میں درس حدیث کی ذمہ داری سونپی جووالد صاحب نے آخری سانس تک نبھائی۔

والد صاحب نے کئی تبلیغی سفرکئے جس میں ۱۹۷۵ ؁ میں عرب ممالک،سوڈان اور نائیجیریا کا سفر سب سے اہم ہے۔ اسی سفر میں پہلا حج کیا ۔ میری والدہ صاحبہ کے لیے بھی یہ دن نہایت آزمائشوں بھرے تھے ۔ اُدھر والد صاحب افریقہ کے دور دراز کے قبائل میں اللہ کے دین کا پیغام پہونچانے میں لگے تھے اور اِدھر والدہ صاحبہ گاؤں میں تنہا چار بچوںکی کپڑے سل کر پرورش کر رہی تھیں۔ اُدھر والد صاحب اور اُن کی جماعت کے رفقاء نیل و فرات کے مبارک پانی سے وضو کر کے دعوت و تبلیغ کی کتاب میں نئے ابواب رقم کر رہے تھے اِدھر والدہ صاحبہ اکیلی بچوں کو نہایت محنت و صبر کے ساتھ پال پوس کے بڑا کر رہی تھیں۔ ساتھ میں دادا کا بھی خیال رکھتیں اور تمام رشتے ناتے نبھانے کی ذمہ داری اکیلے ہی پورا کرتی رہیں۔

والد صاحب کی پوری زندگی روز وشب کی محنت اور جہد مسلسل کی داستان ہے۔ ابو جب تک حیات رہے فکرات میں گھرے رہے۔ انہوں نے لا تعداد فکریں پالیں لیکن ان کی کوئی فکر دنیا سے متعلق نہیں تھی انہوں نے کبھی اس کی فکر نہیں کی کہ لباس عمدہ ہو، گھر شاندار ہو یا رہن سہن اعلیٰ ہو۔ ان کی ہر فکر دین و آخرت سے متعلق تھی۔ مرکز کی فکر، بچے بچیوں کی دینی تعلیم کی فکر، مسجد کی فکر، اپنی کتا ب کا کام پورا کرنے کی فکرغرضیکہ ان کی ہر فکر کا سِرا اللہ رسول اور فکرِ آخرت سے جُڑا تھا۔ جب سے مرکز حضرت نظام الدین بند ہوا ہمیشہ اس کے غم میں ڈوبے رہتے اور بار بار بھائیوں سے وہاں کی خبرلیتے رہتے۔ یہاں تک کہ عمران بھائی سے اسپتال میں ہوئی آخری ملاقات میں بھی مرکز اور مرکز کے طلبہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ آخری وقت تک مسجد کی چھت کی فکر کرتے رہے جو کہ ابھی زیرِ تعمیر ہے اور بجٹ کی کمی کے باعث ابو کے سامنے پوری نہ ہو سکی۔ ہارون بھائی سے کہتے تھے چھت کا کام جلد مکمل کراؤ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔

ابو کی انہی فکروں اور کاوشوں کا مظہر۱۹۹۶میں لڑکیوں کامدرسہ جامعۃالبنات الاسلامیہ کا قیام ہے جو دہلی کے اولین مدرسوں میں سے ایک ہے، جس سے اب تک ہزاروں طالبات قرآن و حدیث کا علم حاصل کرچکی ہیںاور اپنے اپنے گھروں و علاقوں میں علم دین کے چراغ روشن کر رہی ہیں۔ اس ادارے کو قائم کرنے اور اُس کو موجودہ صورت میں پہونچانے تک کے سفر میں والد صاحب کی بے شمار قربانیاں شامل ہیں جس کے بیان کے لیے محض ایک مضمون نا کافی ہے۔ ابو کا اگلا منصوبہ مسجد کے اوپر لڑکوں کا ایک معیاری مدرسہ قائم کرنا تھا جس کا آغاز الحمد للہ ان کی حیات میں ہی ہو چکا تھا ۔ اپنے اُسی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کے لیے اخیر سانس تک فکر کرتے رہے۔

رحلت سے ایک ماہ قبل ہی مرکز کے طلبہ کی صحاحِ ستہ مکمل کرائی صرف چند اخیر کی احادیث چھوڑ دیں تاکہ تبرکاً حضرت مولانا سعد صاحب مد ظلہ العالی کتابیں ختم کرا سکیں۔ ہر اتوار کو رات کے وقت بیرون کے طلبہ کوآن لائن حدیث کا درس دیتے تھے ۔ اخیر کے دنوں میں میں نے اکثر انہیں حدیث کے مطالعے میں مشغول پایا اور رات میں پڑھتے پڑھتے ہی سو جایا کرتے تھے۔

ابو کے علمی خدمات میں سب سے ممتاز کام حیاۃ الصحابہ کے حاشیے کی تدوین و ترتیب ہے۔ اس کے علاوہ الابواب المنتخبہ من مشکاۃ المصابیح کے بارہ ابواب کی تشریح و تحقیق،امام بخاریؒ کی  الادب المفرد کی تشریح و تحقیق، امام نوویؒ کی ریاض الصالحین کی تشریح، اور اخیر میں کتاب جامع عمل الیوم واللیلۃ کی احادیث جمع کر کے اس کی تشریح و تعلیق اور تحقیق کا کام کیاہے۔

زندگی کا قافلہ اسی طرح رواں دواں ہے اور کاروبارِزندگی اُسی طرح جاری و ساری ہے۔ چیزیں معمول پر آنے لگی ہیںلیکن ذہن و دل کے نہاں خانوں میں یادوں کا ایک جہان آباد ہے۔ دل و دماغ اب بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ والد صاحب اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ جانے والے تو چلے جاتے ہیں لیکن اپنے پیچھے یادوں کا ایک لا متناہی سلسلہ چھوڑ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اُن کی ایک ایک بات،ایک ایک عادت سبھی کچھ یاد آرہا ہے ۔ جب بھی ابو کا چہرہ تصور میں آتا ہے تو آنکھوں کے آگے دھند سی چھا جاتی ہے۔ اب ہم اُس ملیح چہرے کو کبھی نہ دیکھ سکیں گے۔ وہ پُر نور داڑھی، کشادہ آنکھیں، ہموار و مضبوط دندانے، دانتوں کی مضبوطی کا یہ عالم کہ جوانوں کو بھی گنّے چھیل چھیل کے دیا کرتے تھے کیونکہ ہمارے کمزور دانتوں سے گنّا چھیلا نہیں جاتا تھا۔ جب بھی ہنستے تو چہرہ سُرخ ہو جاتا۔ بچوں سے اس قدر محبت تھی کہ اخیر وقت میں بھی گھر کے ہر ملاقاتی سے بچوں کا ہی پوچھتے تھے۔ منکسر المزاجی اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ نہایت اہم معاملات کے مشورے بھی ڈرائیور چاچا سے کرنے لگتے جس کے متعلق چاچا کو کچھ بھی معلوم نہ ہوتا تھا،  اُس وقت ہم لوگ اِس بات پر ہنس دیا کرتے تھے لیکن اب سمجھ میں آتا ہے کہ یہ اُن کی عاجزی اور سادہ دلی تھی، وہ سب ہی کو اتنی اہمیت دیتے تھے۔

 کوئی مجلس ابو کے ساتھ ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں وہ کوئی حدیث، کوئی واقعہ یا کوئی اچھی بات نہ سناتے ہوں۔ اُن کی گفتگو علمی اور نصیحتوں سے پُر ہوتی تھی۔ روزِمرہ کی سنتوں کا اہتمام اس قدر تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی اور کو سنتوں کا اس قدر پابند نہیں دیکھا۔ کبھی کوئی چیز ہاتھ میں پکڑاتے اور بایاں ہاتھ آگے کرو تو فوراًہاتھ پیچھے کر لیتے اور دایاں ہاتھ استعمال کرنے کی تلقین کرتے۔ موزے جوتے اُتارتے وقت غلطی سے پہلے دایاں اتارنے لگو تو فوراً روک دیتے۔ چھوٹے بھائی کی اہلیہ جو اخیر دنوں میں ابو کی خدمت میں تھی اُس نے بتایا کہ اخیر وقت میں سنتوں پر عمل پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ اگر ذرا دیر بیٹھے بیٹھے بھی آنکھ لگ جاتی تو کہتے کہ بِٹیا ذرا ہاتھ دھُلا دو ایک سنت پر عمل ہو جائے گا۔

ابو پانی اور بجلی ضائع نہ کرنے کی بہت تاکید کیا کرتے تھے۔ اگر ہم بھول جاتے تو رات میں اُٹھ اُٹھ کر بیت الخلاء اور باورچی خانے کی لائٹیں بند کیا کرتے تھے۔ ابو کا کوئی طالب علم جب بھی کسی کام سے گھر آتا اور ابو کوئی پھل وغیرہ کھا رہے ہوتے تو اُس میں سے تھوڑا طالب علم کو ضرور بھجواتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک کیلا، ایک آم،آدھا سیب یا مُٹھی بھر مونگ پھلی دینے میں شرم بھی آتی لیکن ابو کا حکم ہوتا تھا ٹال کیسے سکتے تھے۔ ابو کے اِس عمل سے بعد میں یہ سیکھ مِلی کہ ضروری نہیں ہے اپنے رزق میں دوسروں کو شریک تبھی کیا جائے جب چیز زیادہ ہو، چیز تھوڑی ہو تو تھوڑا ہی بانٹ لیا جائے۔

ابو گھر کی بہو بیٹیوں کو ہمیشہ بِٹیا کہ کر ہی مخاطب کرتے اور امّی کو اس قدر عزت دیتے تھے کہ ہم نے آج تک اُن کو امی کا نام لیتے نہیں سنا۔ بہو بیٹیوں میں کبھی فرق نہیں کیا، چھوٹا ہو یا بڑا سبھی سے نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے ۔ جب بھی سب جمع ہوتے سب کے کھانے کا اس قدر خیال رکھتے کہ علاحدہ علاحدہ سب سے کھانے کا پوچھتے۔ محفلوں میں مردو عورتوں کے اختلاط کو سخت نا پسند کرتے تھے جس کی وجہ سے بعض رشتہ دار ناراض بھی رہتے لیکن ابو نے اس معاملے میں کبھی کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔

کھانے پینے میں اس قدر سادگی تھی روٹی کے ساتھ صرف سرکہ پیاز یا چٹنی بھی ہوتی تو نہایت شوق سے کھاتے۔ کبھی کوئی سالن یا سبزی کھانے کو طبیعت نہ چاہتی تو زیتون کے تیل کے ساتھ ہی روٹی کھا لیتے۔ کھانے میں کبھی عیب نہ نکالتے اور نہ کسی کو نکالنے دیتے۔ لَوکی اس قدر مرغوب تھی کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر بھی کہتے کہ لوکی گوشت کا سالن بنوا لو جس پر ہم لوگ چپکے چپکے ہنس دیا کرتے تھے۔ آم کے موسم میں ابو کے دسترخوان پر آموں کی بہار رہتی تھی، آپ کھانے سے کم آم سے پیٹ زیادہ بھرتے تھے اور باقی سب کو بھی اصرار کر کے آم کھلاتے تھے۔ کھانا ہمیشہ صرف ایک وقت کا ہی کھاتے جو کہ عصر اور مغرب کے درمیان ہوتا تھا۔ رات میں صرف پھل اور دودھ وغیرہ ہی نوش فرماتے۔ ہم نے سالوں سے ابو کا یہی معمول دیکھاہے۔

ابو ہر معاملے میں مشورے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی مشورے کے بعد ہی فیصلہ کرتے تھے۔ اپنے بزرگوں سے بے انتھا محبت کرتے تھے خاص طور پرحضرت مولانا عمر پالنپوریؒ، حضرت مولانا اظہار الحسنؒ اور حضرت جی انعام الحسن ؒ کا تذکرہ بارہا کرتے ہوئے سنا۔ جو محبت اور اعتماد حضرت جی ؒنے ابو کو دیا تھا اُس کو یاد کر کے آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ اپنے طالب علمی اور اسفار کے بے شمار واقعات سنایا کرتے تھے۔ نائیجیریا میں گذارے دنوں کو جب بھی یاد کرتے توآنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ یہ میری بد نصیبی اور محرومی رہی جو میںنے ان واقعات کو کہیں قلمبند نہیں کیا۔ اگر وہ ساری باتیں کہیں لکھ لی ہوتیں تو یقینا ایک کتاب بھی نا کافی ہوتی۔

اللہ نے والد صاحب سے دین کا بہت کام لیا لیکن انہوںنے خود کو ہمیشہ نام و نمود اور نمائش سے دور رکھا۔ اگر کوئی منھ پر تعریف کرنے لگتا تو فوراً روک دیتے اور فرماتے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا سب اللہ نے کیا۔ ہم لوگوں کو بھی ہمیشہ یاد دلاتے رہتے کہ جو نعمتں ہمیں میسر ہیں سب اللہ کے کام کی برکتیں ہیں اس میں کسی کا کوئی کمال نہیں ہے۔ ۲۰۰۶ میںمجھے والدہ صاحبہ اور عمران بھائی کے ساتھ حج کا موقع نصیب ہوا اور حسن اتفاق سے اس سفر میں ہمیں ملک شام کے مشہور شہر دمشق میں تین دن قیام کا موقع ملا۔ ہم نے اُس دور دراز ملک میں والد صاحب کی مقبولیت اور ان کے کام کی برکتوں کو محسوس کیا۔ کئی بیرونی ممالک میں حیاۃالصحابہ مدرسوں کے نصاب میں شامل ہے ۔

۸ فروری ۲۰۲۲ بروز منگل وہ قیامت خیز گھڑی بھی آپہینچی جس کے تصور سے بھی ہماری روح کانپتی تھی۔ میری بڑی بہن نے ۲۵ سال قبل ایک خواب دیکھا تھا کہ وہ ایک میدان میں کھڑی ہیں تبھی آسمان میں کچھ روشنی سے بھرے چمکیلے بادل نمودار ہوئے اور اُن پر کچھ قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ پھر ان بادلوں سے ایک ہاتف بلند ہوئی اور والد صاحب کے انتقال کی خبر دی گئی جس کو سن کر باجی زور زور سے رونے لگیں تو یہ آواز آئی کہ ابھی رونے کا وقت نہیں آیاہے، تمہارے والد صاحب اُس وقت تک دنیا سے نہیں جائیں گے جب تک وہ اپنے مشن کو پورا نہیں کر لیں گے اُن کو ابھی بہت سارے کام کرنے ہیں۔ اس خواب کو یاد کر کے ہم سب ہی دعا کرتے کہ خدارا ابو کے کام ہمیشہ چلتے رہیں اور اُن کی عمر بڑھتی رہے۔ ہم لوگوں کو خوش فہمی ہو گئی تھی کہ ابھی تو ابو کے بہت سارے کام باقی ہیںابھی ابو نہیں جا سکتے لیکن اذا جاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون کی تلخ حقیقت سے تو سب کو دوچار ہونا ہے۔ کل نفس ذائقۃ الموت کی اٹل سچائی سے سابقہ سب کا ہی ہونا ہے جس کودنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ٹال نہیں سکتی۔

انتقال سے تقریباً ایک ماہ قبل والد صاحب کو سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی جس کے لیے انہیں قریب کے ہی اسپتال الشفا میں داخل کرایا گیا۔ اُس وقت سانس کی تکلیف میں کچھ آرام ہو گیا تو گھر آگئے لیکن ایک ہفتہ بعد پھر سے سانس اکھڑنے لگی اور ہنگامی طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاںانہیں آئی سی یو میں رکھا گیا۔ والد صاحب ۱۸ دن اسپتال میں داخل رہے جس میں دو بار وینٹی لیٹر پر گئے۔ یہ وقت والد صاحب کے لیے بے حد تکلیفوں بھرا تھا۔ اس دوران ہم سب ہی امید و یاس کی کیفیتوں سے گزرتے رہے۔ رو رو کے اللہ سے والد صاحب کی زندگی و صحت کے لیے دعائیں مانگتے رہے لیکن اللہ کو اس مرد جلیل کو اپنے پاس بلانا تھا انہیں دنیا کی تکالیف سے راحت دے کردائمی آرام و راحتوں والی دنیا کی طرف منتقل کرنا تھاسو اللہ نے ہماری دعاؤں کو دنیا میں قبول نہ کر کے اُس کا اجر آخرت کے لیے محفوظ کر لیا۔

والد صاحب کی نماز جنازہ حضرت مولانا سعدصاحب مد ظلہ العالی نے حضرت نظام الدین چونسٹھ کھمبے کے احاطے میں ادا کرائی جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ حضرت نظام الدین کے ہی قبرستان پنچ پیران میں منشی بشیرؒکے قدموںاور اپنے والد یعنی کہ ہمارے دادا جان کے پہلو میں میں مدفون ہوئے۔ یہاں بھی والد صاحب کی نیک بختی اوران کی بزرگوں سے حد درجہ محبت کام آئی اورمنشی اللہ دتہؒ، منشی بشیرؒ اور مولانا شبیرؒجیسے جلیل القدر اکابر کا جیران نصیب ہوا۔

والد صاحب نے نوے سال کی عمر پائی اور اپنی ساری زندگی علم و دین کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ہم نے کبھی انہیں فارغ نہ پایا۔ کبھی کبھی امی اگر شکایت کر دیتیں تو مسکرا کے یہ شعر سنا دیتے اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا۔ وہ بیک وقت مدرس بھی تھے، محقق بھی۔ مربی بھی تھے اور منتظم بھی۔ منصوبہ ساز بھی تھے اور اور اُن منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے والے بھی۔ انہیں دیکھ کر حیرانی ہوتی تھی کہ کوئی انسان ایک وقت میں اتنی ساری ذمہ داریوں کا بار بنا تھکے، بنا کسی چوں و چراں کے کیسے اٹھا سکتا ہے ۔ بے شک اللہ کے خاص بندوں کو ہی ایسا عزم اور حوصلہ عطا ہوتاہے۔ رات و دن کی ہزار کروٹوں کے بعد ہی ایسی مسعود روحیں پیدا ہوتی ہیں جنہیں اللہ نے صرف اور صرف اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کر لیا ہوتا ہے۔ والد صاحب تو اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن علم وتبلیغ کی دنیا میں ان کی گراں مایہ خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے لیے صدقہ جاریہ کا کام کریں گی(ان شاء اللہ)۔

نوٹ :میں کوئی مضمون نگار نہیں ہوں نہ ہی آج سے قبل کسی موضوع پر لکھنے کی ہمت کی ہے ۔ اپنی علمی پس مانگی اور در ماندگی کے باوجود اپنی ڈائری سے شروع ہوئی سطروں کومضمون کی شکل دینے کی کوشش کی ہے ۔ جذبات کی رو میں بہ کر اپنے منتشر خیالات کو یکجا کرنے کی اس کوشش میں یقیناً بہت ساری لغزشیں سر زد ہوئی ہوں گی جس کے لیے میں قارئین سے معافی کی طلبگار ہوں۔ امید کرتی ہوں کہ والد صاحب کے طلبہ، محبین یا ان کی اولاد میں سے ہی کوئی قابل انسان اٹھے گا اور اُن کی زندگی کے حالات و واقعات پوری تفصیل و تحقیق کے ساتھ لکھے گا تاکہ اس مرد مجاہد کی پوری زندگی سے لوگ واقف ہو سکیں اور استفادہ کر سکیں، تاکہ سرد دلوں میں پھر سے زندگی کی رمق دوڑ سکے اور اللہ کی راہ میں قربانیاں دینے کا جذبہ پیدا ہو سکے۔

1 تبصرہ
  1. بنت اسلام کہتے ہیں

    ما شاء ﷲ

تبصرے بند ہیں۔