جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ ایس ٹی کوسیاسی ریزرویشن

گجربکروال قبائل ناخوش کیوں؟

الطاف حسین جنجوعہ

آئین ِ ہند میں درج فہرست ذاتوں (SC)اور درج فہرست قبائل (ST)کے لیے سیاسی ریزرویشن کا تصور اِس لیے رکھاگیا ہے تاکہ اِن سماجی وتعلیمی طور پسماندہ طبقہ جات کے لوگوں کو بھی قانون سازیہ کے ایوانوں میں نمائندگی کا حق ملے۔ اِس کا یہ مقصد بھی تھاکہ خاص طور سے ریزرویشن اُن جگہوں سے دی جائے جہاں پر اوپن زمرہ میں ایس سی یا ایس ٹی آبادی کے اُمیدواروں کو جیت پانا مشکل ہو۔1991میں جموں وکشمیر میں گجر،بکروال، شینہ، گدی ، سپی قبائل کو درج فہرست زمرہ میں شامل کیاگیا لیکن پہلی مرتبہ اُنہیں اب سیاسی ریزرویشن دی گئی ہے جوکہ 5اگست2019کوتقسیم نوکے بعد براہ ِ راست مرکزی قوانین کا اطلاق جموں وکشمیر میں ہونے سے ممکن ہوا ہے۔ 90نشستوں والی اسمبلی میں9نشستیں گجربکروال قبائل کے لیے مخصوص کی گئی ہیں لیکن درجہ فہرست قبائل کو اِس سے زیادہ خوشی نہیں ہوئی کیونکہ جس طرح وہ چاہتے تھے، ایسی ریزرویشن نہ کی گئی ہے اور اِس سے اُنہیں لگتا ہے کہ سیاسی طور کوئی بااختیاری نہیں۔

جسٹس (ر)رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی حد بندی کمیشن نے جب جموں وکشمیر کا دورہ کیا تو اُس وقت گجر بکروال آبادی کی سیاسی قیادت نے مختلف وفود کی صورت میں کمیشن سے ملاقات کے دوران میمورنڈم پیش کئے اور اُن کے سامنے یہ موقف رکھا کہ ایس ٹی کے لیے ایک ضلع سے ایک نشست ریزرو کی جائے تاکہ جموں، سانبہ، اودھم پور،کٹھوعہ یا وادی کشمیر کے اضلاع میں رہائش پذیر آبادی کو بھی سیاسی نمائندگی کا حق حاصل ہو لیکن حد بندی کی عبوری رپورٹ میں توڑ پھوڑ کے بعد جو خاکہ تیار کیاگیا ، اُس سے کشمیر ، وادی چناب ،جموں، اودھم پور ،کٹھوعہ ، سانبہ اضلاع میں رہائش پذیر قبیلہ کی آبادی مایوس ہے جنہیں سیاسی ریزرویشن سے محروم کر دیاگیا ہے۔گجر اینڈ بکروال قبائل کی سیاسی قیادت ہرگز اِس حق میں نہ تھی کہ راجوری اور پونچھ اضلاع سے ہی، اُن کے لیے سبھی نشستیں ریزرو کی جائیں، کیونکہ اُن کا خیال تھاکہ پونچھ وراجوری میں بیشتر اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں وہ ریزرویشن کے بغیر بھی جیت سکتے ہیں ۔سرنکوٹ، مینڈھر، راجوری، درہال، کالاکوٹ حلقوں سے کئی مرتبہ گجر قبیلہ کے اُمیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ سرنکوٹ اور درہال حلقہ سے تو بیشتر الیکشن میں گجر قبیلہ کے اُمیدواروں کو ہی کامیابی ملی ہے۔کشمیر میں ضلع گاندربل کے اسمبلی حلقہ کنگن میں تو آج تک ایس ٹی اُمیدوار کے علاوہ کوئی جیتا ہی نہیں ہے، اُسی کو ہی ریزرو کیاگیا۔ گریز حلقہ بھی جب سے بنا ہے، وہاں سے ایس ٹی آبادی ک اُمیدوار ہی جیتے آئے ہیں۔اُن حلقوں کوریزرویشن دی جانی چاہیے تھی جہاں سے ایس ٹی آبادی کے جیتنے کے امکانات بہت کم ہیں۔سیاسی ریزرویشن دینے کی جب با ت ہوتی توبنی، اندروال، ریاسی، بانڈی پورہ، چنینی، نگروٹہ، پہلگام کی ایس ٹی آبادی کو اُمید جاگتی تھی کہ وہ بھی یہاں سے اپنا سیاسی نمائندہ چُن کر اسمبلی میں بھیجنے کے اہل ہوسکیں گے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔ درج فہرست قبائل کو دی گئی سیاسی ریزرویشن سے دو قبائل گدی سپی محروم رہے ہیں، اِن کی آبادی بھدرواہ، بسوہلی، رام نگر، اودھم پور، بلاور، بٹوت اور رام بن میں ہے۔ کٹھوعہ اور اودھم پور کے حلقوں میں سے ایک حلقہ قائم کیاجاتا تو اُس سے گدی سپی کو بھی نمائندگی کا موقع مل سکتا تھا۔

سابقہ وزیر اور گجر قبیلہ کے سنیئرلیڈرچوہدری ذوالفقار علی کا کہناتھاکہ صرف راجوری پونچھ میںایس ٹی کے لیے ریزرویشن دیکر یہاں حکومت نے ایک طبقاتی لڑائی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ بہتر تھاکہ Rationalizedطریقہ سے نشستیں ریزرو کی جاتیں تاکہ جموں، اودھم پور، وادی چناب اور کشمیر میں بھی رہائش پذیر گجر بکروال قبائل کی آبادی کو اِس کا فائیدہ ملتا۔ اُن کا کہناتھاکہ ایس سی کے لیے بھی ایک ہی علاقہ سے بیشتر نشستیں ریزرو کر دی گئی ہیں۔ نوجوان سیاسی کارکن زاہد پرواز چوہدری نے کہاکہ وادی کشمیر میں گجر بکروال آبادی کو صرف دو نشستیں دی گئیں جوکہ سر اسر نا انصافی ہے۔ بانڈی پوری کے لولاب میں اچھی خاصی ایس ٹی آبادی تھی، جس کو تقسیم کردیاگیا۔ پہلگام اور نور آباد میں بھی اچھی آبادی تھی کی بھی جوڑ توڑ کر دی گئی ۔قبائلی آبادی کے سیاسی وسماجی حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اِس سے آئینی مجبوری کے تحت اگر چہ ریزرویشن دی گئی ہے لیکن قبائل کو سیاسی طور بااختیار بنانے کے مقصد سے نہیں، اگر ایسا ہوتا تو پھر دیگر مستحق حلقوں کو ریزرو کیاجاتا۔

ریزرویشن تو ایک قسم کا سہارا ہے تاکہ کسی قبیلہ کو کھڑا کیاجائے، قبیلہ کا جو حلقہ پہلے ہی اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہے اور اپنے دم پر الیکشن لڑنے کی طاقت رکھتا ہے، کو ہی سہارا دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔نگروٹہ اسمبلی حلقہ میں اچھی خاصی آبادی تھی جس میں کی گئی توڑ پھوڑ کے بعد وہاں کے سیاسی لیڈروں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ منگل کے روز جموں میں ایک پریس کانفرنس میں سیاسی لیڈران نے کہاکہ ”ہم حد بندی کمیشن کی طرف سے جاری حالیہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور خاص طور پر جس طرح نگروٹہ نشست کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حد بندی کمیشن کو اس رپورٹ پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔نہوں نے کہا: ’نگروٹہ نشست کو اگر ٹھیک کرنا تھا تو اور بھی طریقے تھے اس کو ٹھیک کرنے کے لیے،کمیونٹی کے بنیاد اس کو تقسیم نہیں کرنا چاہیے تھا‘۔ان کا کہنا تھا: ’بھائی چارے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہم اس کو نہیں مانیں گے یہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے‘۔اُن کے مطابق یہ رپورٹ بند کمرے میں تیار کی گئی ہے اور لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور ڈی ڈی سی ممبر سرنکوٹ شاہ نوازچوہدری نے کہاکہ یہ رپورٹ غیر منصفانہ، غیر منطقی،متعصبانہ، یکطرفہ اور ایک مخصوص نظریہ کی آبیاری ہے۔

سرنو حد بندی کے بعد اسمبلی حلقوں میں ایس ٹی آبادی کے جو اعدادوشمار حد بندی کمیشن نے پیش کئے ہیں، اُس کے مطابق گریز میں 81.84 فیصد، درہال میں 52.11فیصد، کنگن میں42.63فیصد، تھنہ منڈی میں40.84فیصد، سرنکوٹ میں 39.72فیصد، مہو ر میں39.27فیصد، مینڈھر میں36.52فیصد، لارنو اورحویلی پونچھ میں 34.17فیصد، راجوری میں33.84فیصد، کالاکوٹ سندر بنی میں29.48فیصد، بنی میں25.20فیصد، مغل میدان میں25.02فیصد، ریاسی میں24.17فیصد، بانڈی پورہ میں 23.20 فیصد، چنینی میں 19.66فیصد ، بھلوال نگروٹہ میں19.41فیصدہے۔ اس کے علاوہ 14اسمبلی حلقوں میں  10 سے 17 فیصدایس ٹی آبادی ہے۔ 18حلقے ایسے ہیں جن میں 1فیصد سے کم آبادی ہے۔ بیرواہ واحد اسمبلی حلقہ ہے جس میں ایس ٹی کی آبادی نہیں۔ اس کے علاوہ کنزر، چھان پورہ، زین پورہ، بڈگا، جنوبی سرینگر، عید گاہ، کولگام، سینٹرل شالٹنگ، اننت ناگ، پٹن، سوپور، سونہ وار، پلوامہ، رام گڑھ، چاڈورہ، خانیار، جموں ویسٹ حلقوں میں بھی0.+فیصد آبادی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔