کیا یوپی الیکشن سے بدلے گی ملک کی سیاست؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ویسے تو الیکشن پانچ ریاستوں میں ہو رہا ہے لیکن سب کی نگاہ اترپردیش پر ٹکی ہے۔ کیوں کہ دہلی کا راستہ یوپی سے گزتا ہے۔ اس لیے بی جے پی ہر قیمت پر یوپی جیتنا چاہتی ہے۔ مگر اس بار یہاں کی ہوا بدلی ہوئی ہے۔ حکومت کی ناکامی اور عوام کی ناراضگی نے اس کی مشکل اور بڑھا دی ہے۔ وہ اپنے آزمائے ہوئے فارمولے مذہبی نفرت، سماجی تقسیم، مندر مسجد، شمشان، قبرستان، جناح، پاکستان اور راشٹر واد کے سہارے انتخابی کشتی پار لگانا چاہتی ہے۔ لیکن عوام خاص طور پر نوجوان تعلیم، صحت، روزگار، مہنگائی، بھک مری، لاقانونیت، بھگوا غنڈوں کے راج، خواتین کے استحصال، احتجاج کے دوران کسانوں پر ہوئے ظلم، لاک ڈاؤن اور کورونا کے بیچ عوام اور مزدوروں کو نظر انداز کئے جانے کو لے کر سنجیدہ ہیں۔ بی جے پی کے پاس کسی بھی سوال کا جواب نہیں ہے۔ وہ بوکھلاہٹ میں کبھی مظفر نگر فساد کی تو کبھی نقل مکانی کی یاد دلا رہی ہے۔ نوجوان روزگار کی کسان اپنے ساتھیوں کی موت کے معاوضہ اور عوام مہنگائی کی بات کر رہے ہیں۔ کئی انتخابی حلقوں سے بھاجپا امیدواروں کو بھگائے جانے کی خبر بھی آ رہی ہے۔

ریاستی حکومت کے ذریعہ نافذ کی گئی پالیسیوں کے سبب نہ صرف بی جے پی کا 2017 میں بنا محاذ ٹوٹ گیا بلکہ کئی ممبران اسمبلی اور وزراء سماجوادی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ اس کی وجہ سے سماجوادی کنبہ او بی سی ذاتوں کا مرکز بن گیا۔ پانچ سال تک بھاجپا کے ہندوتوادی ایجنڈے پر جارحانہ عمل سے جو اپوزیشن پارٹیاں سڑک پر نظر نہیں آ رہی تھیں۔ انہیں کسان تحریک اور لکھیم پور کھیری واقعہ نے میدان میں کھڑا کر دیا۔ جمہوریت کو قتل کرنے والے اس واقع نے یہ سمجھا دیا کہ برسراقتدار جماعت کی نظر میں قانون، آئین اور عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ اور اس کے حلیف کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کسی لڑکی کی عصمت دری کر قتل کر سکتے ہیں، کسی کمزور کو دوڑا کر پیٹ سکتے ہیں، کسی پالیسی پر سوال یا اختلاف کرنے والوں پر گاڑی چڑھا کر کچل سکتے ہیں۔ کھلے عام نفرت آمیز، گولی مارنے کے نعرے لگانے یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل عام کی قسم دلانے والوں کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ بلکہ انہیں اور ترقی یا بھاجپا میں کوئی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ لیکن غیر بھاجپائی شخص کو اپنے حقوق کی بات کرنے، حکومت کی جوابدہی طے کرنے اور سوال کرنے پر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ تک قائم ہو جاتا ہے۔ اترپردیش حکومت کا رویہ تو اس معاملے میں اور جارحانہ رہا ہے۔ اس نے غیر مطمئن لوگوں یا مسلمانوں کے خلاف کم و بیش وہی کاروائی کی ہے جیسی انگریز حکومت ہندوستانیوں کے خلاف کرتی تھی۔ اس کے نتیجہ میں اترپردیش کے عام لوگ بی جے پی سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

اترپردیش کے الیکشن میں یہ بھی صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی کے کشکول میں مذہبی نفرت، ذاتوں کی بنیاد پر سماج کو بانٹنے، جھوٹ، فریب کے ذریعہ گمراہ کرنے، جملہ اچھالنے اور مندر مندر کھیلنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بی جے پی کا انتخابی منشور بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ اپنی تشہیر میں یہ بتانے پر زور دے رہی ہے کہ اگر بی جے پی کی حکومت نہیں بنی تو کیا ہو سکتا ہے۔ مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کے پانچ سالہ دور حکومت میں کیا کیا ہوا۔ وقت پر کسانوں کو کھاد نہیں ملا۔ کھاد کی لائن میں لگے لگے کئی کسانوں کی موت ہو گئی۔ گنا کسانوں کا بھگتان نہیں ہوا۔ زرعی قانون تو واپس ہو گئے لیکن احتجاج کے دوران جو مقدمات درج ہوئے تھے وہ واپس نہیں ہوئے۔ بجلی بل اب بھی کسانوں کے نام آ رہے ہیں۔ آوارہ جانور کھیتوں کو روند رہے ہیں۔ ان کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ کورونا کی پہلی لہر میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک کروڑ 75 لاکھ مزدوروں کو ملک کے مختلف حصوں سے یوپی آتے ہوئے دیکھا گیا۔ کہیں انتظامیہ نے ان پر سینی ٹائزر چھڑکا تو کہیں پولیس نے ڈنڈے برسائے۔ کورونا کی دوسری لہر میں گنگا کے کنارے دفن اور دور تک بہتی ہوئی لاشیں مہابھارت کے کروچھیتر جیسا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس وقت انتظامیہ کمروں میں بند اور پولس مدد کرنے والوں پر مقدمات قائم کر رہی تھی۔

کورونا کے دوران اترپردیش کے کالج اور یونیورسٹیز میں آن لائن کلاسوں کا معقول انتظام نہیں تھا۔ ایک اندازہ کے مطابق قریب 69 فیصد طلبہ و طالبات تعلیم سے محروم رہے۔ اگر اس میں آنگن واڑی اور بارہویں تک کے اسکولوں کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 82 فیصد ہو جاتی ہے۔ اس دور میں بہت سے لوگوں کا روزگار چھن گیا۔ مگر اترپردیش میں پولس، فوج، سرکاری محکموں، اسکول کالج کی خالی آسامیوں یہاں تک کہ پی ایس یو میں بھی بھرتی نہیں ہوئی۔ ریلوے امتحان میں گڑبڑ اور نوجوانوں کو پولس کے ذریعہ پیٹے جانے کا دل خراش منظر کس نے نہیں دیکھا۔ جبکہ کئی سال کے انتظار کے بعد ریلوے میں بھرتی کے لیے امتحان کی نوبت آئی تھی۔ حکومت مفت میں غریبوں کو اناج، نمک، تیل تک ملاوٹ کے بغیر مہیا نہیں کرا سکی۔ نمک میں کنکر ملے ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے۔

خواتین کے خلاف اناؤ، ہاتھرس، بلند شہر اور لکھنؤ میں ہوئے سنگین واقعات اب بھی لوگوں کو یاد ہیں۔ جس رام مندر کے لیے آستھا کے نام پر ساری حدیں پار کی گئیں اس کے لیے لی گئی زمین میں بھی گھوٹالہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی طرف سے تو مرکز اور ریاستی حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ان تمام سوالات کی طرف سے دھیان ہٹانے کے لیے بی جے پی متھرا، کانسی اور سماجوادی پارٹی کے کرمنل پس منظر والے امیدواروں کی بات کر رہی ہے۔ مگر اسے کانسی کوریڈور کے لیے اجاڑے گئے ہزاروں خاندانوں کی یاد نہیں آ رہی۔ رہا سوال کرمنل پس منظر والے امیدواروں کا تو سب سے زیادہ کرمنل بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ پہلے مرحلے کی 58 سیٹوں کے لیے بی جے پی نے 31، ایس پی نے 21 اور کانگریس نے 9 کرمنل کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس وقت یوپی اسمبلی میں بی جے پی کے 312 ممبران میں سے 114 کرمنل پس منظر والے ہیں۔ اس کے باوجود اسے اپنے داغی نظر نہیں آ رہے۔

اپوزیشن اترپردیش میں یہ تمام سوال مضبوطی سے اٹھا رہی ہے۔ مغربی بنگال کی طرح اترپردیش میں بھی بی جے پی کا مقابلہ سخت ہے۔ اس کی بوکھلاہٹ اس وقت دیکھنے کے لائق ہے۔ اسدالدین اویسی پر حملہ اور نئے نئے وعدے اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اویسی اور بی ایس پی بڑی تعداد میں ووٹ کاٹ لیں تاکہ اس کا راستہ صاف ہو جائے۔ لیکن عوام سب کچھ سمجھ رہے ہیں اس لیے وہ کسی بھی بات پر مشتعل نہیں ہو رہے۔ یہ ملک کی سیاست کے بدلنے کا اشارہ ہے۔ یوپی الیکشن نہ صرف ملک کی تصویر بدلے گا بلکہ اس کی تقدیر بھی لکھے گا۔ کیوں کہ اترپردیش ان مدوں کا گراونڈ زیرو ہے جن پر آنے والے وقت میں ملک کو کھڑا ہونا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔