گوالیار سے بھِنڈ اور بھِنڈ سے گوالیار تک

ریان ابوالعلائی

ہندوستان کاہرشہراپنے اندر ناجانے کتنی تاریخ سمیٹے ہوئےبیٹھا ہے، جہاں جایئے وہاں ایک نایاب قصے، کہانیاں اور مختلف قسم کےآثارپائےجاتےہیں، مستندواقعات وحکایات کےساتھ ساتھ ہندوستان میں Mythologyکابڑادخل ہے،اس لیے چھانٹ پرکھ کرنااوراس پر تامل کی نظرڈالنابہت ضروری ہے،اس کا اثردنیامیں کتناہےیہ بتاپانامشکل ہےپرہندوستان میں ہندومسلم کی عمارتوں پرطرح طرح کےقصےایسےشدومدسےسنائےجاتےہیں کہ سامع اسے حقیقت سمجھ بیٹھتاہے۔

                آج تاریخ۲۷؍نومبر۲۰۲۱ء ہے،دہلی سےبذریعۂ ریل گوالیارپہنچے،یہاں ہمیں اسٹیشن پرلینےخلیل احمدآئےہوئےہیں، یہ ہمارے حضرت کےسلسلےمیں داخل ہیں اوربڑےمحبتی ہیں، فوراًہمیں گاڑی پربیٹھایااوراپنے مکان کو لےگئے، یہاں تھوڑے وقفہ آرام کیااور خورد و نوش کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے کو ساتھ لے کر سیرکونکل  پڑے،پہلےپہل ہم لوگ قلعہ کی طرف بڑھے،یہ قلعہ ہماری فرودگاہ سے بہت قریب ہے،چندمنٹوں میں پہنچ گئے،اب قلعہ کے اوپری حصہ پر چہڑنے کے لیے بڑی ہمت اور جذبے کی ضرورت تھی،یہ قلعہ زمین سےتقریباً۳؍سوسے۵؍سومیٹرکی بلندی پرواقع ہے،ابھی سفر تازہ تھا اس لیے فوراً اللہ کا نام لے کر چڑھ گئے، لشتم پشتم اوپر پہنچا اورکچھ وقفہ دیوارکاسہارالیتےہوئےتازہ سانسیں لیں اورپھرآگےبڑھے،یہ قلعہ راجپوت حکمران مان سنگھ تومرنےبنوایاتھا جو ۱۴۸۶ ءمیں تخت نشیں ہوا،اس قلعےپرلودی حکومت،خاندانِ غلاماں، مغلیہ حکومت،برطانوی حکومت اور سندھیاخاندان نےخاصی عمارت تعمیرکرائی ہے۔

                کہتےہیں کہ شہرگوالیارکےدرمیانی حصےمیں ۶؍کیلومیٹراونچاگوپ اَچل نام کا ایک پربت ہے جس پرگوالیارقلعہ قائم ہے،اس کےشمالی علاقہ کیتوراج سورج سین جب شکارکی غرض سےنکلاتووہ اپنے ساتھیوں سےبچھڑگیااور گوپ اچل پربت پرجاپہنچا،جہاں رشی گوالی پا سے اس کی ملاقات ہوئی،رشی کےکہنےپرراجہ نے پربت پرغسل کیا جس پر جُذام کےعارضےسےنجات ملی توراجہ نےپربت کے چاروں جانب احاطے کی دیواراورپختہ حوض بنوایاجوسورج کنڈکےنام سےمشہورہے،راجہ سورج سین کو رشی گوالی پا نےسورج پال نام دیاورکہاکہ جب تک تیرے وارثان میں پال لفظ رہے گاتیری حکومت قائم رہےگی،راجہ سورج پال نے رشی گوالی پا کےنام پر اس علاقے کانام ’’گوالی اَر‘‘رکھا،ہندی لفظ ’اَر‘کےمعنیٰ  گوشہ ہیں، گوالی اَریعنی گوالی کا علاقہ،گوالیار اَرنام کو گوالیّربولاجانےلگا،ہندی رسم الخط میں گوالیّرلکھاجاتاہےجبکہ اردوزبان میں گوالیار،کہتےہیں کہ۸۴؍پال راجاؤں نےگوالیارپرحکومت کی،۱۰۲۱میں محمودغزنوی نےگوالیارکواپنےمحاصرےمیں لےلیا،اس وقت یہاں کےراجہ کیرتی پال نےمحمودغزنوی سے صلح کرلی،اس عہدسےگوالیارمیں مسلمانوں نے رہائش اختیارکی اورتبھی سےگوالیارمیں ملی جلی زبان کےچلن کی ابتداہوئی،اسی درمیان محمد غوری نے ۱۱۹۲میں گوالیارکا رخ کیااورراجہ سارنگ دیونےسخت مقابلےکےبعدمحمد غوری سے سمجھوتہ کرلیا،بعدمیں قطب الدین ایبک نے شمس الدین التمش کوگوالیارقلعہ کاامیر مقررکیا،تذکِ بابری میں ظہیرالدین بابرکےگوالیارآنےکاتذکرہ ملتاہےنیزمان مندراورگوجری محل کی خوبصورتی اوروہاں رکھےمجسمےکاجائزہ لیا،مجسمہ سازی،سنگ تراشی،صنّاعی کی بےحدتعریف کی،صرف برہنہ بُت دیکھنااسےپسندنہیں آئے،کہتےہیں کہ عادل شاہ سوری گوالیارکوراجدھانی بناناچاہا،اسےموسیقی سےخاص شغف تھا،گوالیارمیں اس نےاس فن کو ترقی دی،اس کےدربارمیں بابارام داس،گوپال اور تان سین گلوکارشامل تھے۔

                خیر!ہم اس قلعے میں داخل ہوئےتودیکھاکہ ایک شخص سرخ لباس پہنے’راون ہتھّا‘لیےراجستھانی دُھن بنا رہاتھا،آنےجانے والےٹہرکراسے سنتےاور دس،پانچ روپےاس کی جھولی میں ڈال دیتے،ہمیں اس کا یہ فن بڑااچھامعلوم ہوا،تھوڑے وقفہ سن کرہم آگے بڑھےاور۸۰؍کھمباوالی باؤلی میں داخل ہوئے،کہتےہیں کہ پہلےیہ شِوامندرتھاجسےجہاں گیرنےقیدخانےمیں تبدیل کردیااسی کےمتصل ایک باؤلی ہےاورتھوڑی سی جگہ چہل قدمی کےلیے چھوڑی گئی ہے،یہ قلعہ ہندوستانی اورایرانی تعمیرکابہترین مرقع ہےجہاں مان سنگھ تومرکےعلاوہ مغلیہ حکومت کی تعمیرات کا ایک بڑاحصہ موجودہے،اب ہم لوگ دیوانِ عام کی طرف بڑھ رہےہیں یہ وسیع و عریض پیمانے پرتعمیرہوئی قیمتی عمارت ہے،بلواہی مٹی اور نیلےپیلے رنگ سے رنگی ہوئی دیوانِ عام آج بھی گوالیارکی عمدہ عمارتوں میں سے ایک ہے،غورکیجئےتودیواروں پرمختلف جانوروں کی تصویریں بنی ہیں، قلعےسےپوراشہربالکل صاف نظرآتاہے،چاروں طرف شہرآبادہے،کہتے ہیں کہ انگریزی حکومت کےعہدمیں یہ عمارت مقدوش ہوئی توانیسویں صدی میں سندھیاخاندان نےاسےدوباراتعمیرکرایااس کےعلاوہ مان مندر،سورج کُنڈ،گنگولا تَل،جوہرکُنڈ،کِرن محل،تیلی کامندر،گرودا،شہسترباہومندر،گرودوارہ داتابندی چھور،ہاتھی پول،وِکرم محل، چھتری آف بھیم سنگھ رانا،جہاں گیرمحل،فوج کیمپ اورجیل خانہ بھی دیکھنے کی چیزہے،واضح ہوکہ اب یہ قلعہ قلعہ کم اورقیدخانہ زیادہ معلوم ہوتاہے،خاموش پڑایہ قلعہ اپنی حسرت پرسربسجودہے،اس کااکثرحصہ زیرزمیں ہوچکاہے،بڑےبڑےمکان جواس کی زینت بڑھاتےتھےوہ مقدوش ہوچکےہیں، دوردورتک میدان ہی میدان ہے۔

اب وہ گلیاں وہ مکاں یادنہیں

کون رہتاتھاکہاں یادنہیں

                کہتےہیں کہ جہاں گیرنےمجددالف ثانی شیخ احمدسرہندی کواسی قلعےمیں قیدکیاتھا،دوایک گھنٹےکی سیرکےبعدہم لوگ ہاتھی دروازہ کی طرف سےباہرنکلے۔

                عصربعدسیدھےموتی مسجدکی طرف بڑھے،اب مغرب کی اذاں ہورہی ہے،مسجددومینارہ ہے،باہرایک خوشنماباغ اورچندلامبی کرسیاں لگی ہیں، موسم خوشگواراورفضامعطرہے،اب برسےکےتب برسے،یہ مسجدلبِ شاہ راہ اسٹیشن سے قریب اپنی قطع کی عمدہ مثال ہے،مادھوراؤسندھیاکےعہدمیں سیّداحمدشفیع نےتعمیرکرائی ہے،صدروازہ پر یہ عبارت اورقطعہ کندہ ہیں۔

  ’’مسجداحمدشفیع

لاالہ الاللہ محمدالرسول اللہ

  ہیں سری سرکارمادھوراؤعالی جاہ نبیل

جب اسے بنواچکےتب صدآئی جلیل

 موتی مسجدموتیوں والےنےبنوادی جمیل

 شکل کیاہی اچھی ہوئی ہے عکس تعمیرِخلیل‘‘

 اندرونی حصےمیں مضطرؔخیرآبادی کا قطعہ درج ہے۔

’’سری سرکارمادھو راؤنےاس کی بناڈالی

 کسی خلق نہ دربارعالی جاہ کہنی ہے

  سنِ تعمیر اس کا میں نےیہ موزوں کیامضطرؔ

کہ ایں مسجدکودنیاعکس بیت اللہ کہتی ہے‘‘

                واقعییہ مسجد دلکش نظارے پیداکررہی ہے،مغرب کی نمازکےبعدہم لوگ اپنی فرودگاہ پرآئے،اب کچھ لوگ ملنےکےلیےآئےہیں، جونہی انہیں معلوم ہواکہ حضرت صاحب کےپوتےآئےہیں توبڑی عقیدت سےپیش آئےاوربعض ضروری مسائل پوچھنےلگے،پرانےقصےنکلے،واقعات کی چھانٹ پرکھ ہوئی،تاریخ سےگردےجھاڑےگئےاوربعض ضروری معلومات ان تک پہنچائے،چائے چل رہی ہےرات کے۱۲؍بج رہےہیں کہ ایک صاحب کو پتاچلاکہ مجھےکل صبح بھنڈجاناہےتووہ لوگ اٹھ کرچلےگئے۔

                آج۲۸؍نومبراتوارکادن ہے،صبح فارغ ہوکربھنڈکی طرف روانہ ہوئے،یہاں ایک بڑے بزرگ حضرت سبحان علی نامی صوفی کاآستانہ ہے،کہتےہیں کہ خواجہ معین الدین چشتی سےقبل چندلوگوں کےہمراہ ہندوستان تشریف لائےاور گوالیارمیں قیام کیا،یہاں آپ کےعلاوہ تقریباًبائیس شہداکے مزارات ہیں، اس کی ذمہ داری حضرت شاہ ظفرسجادابوالعُلائی اوران کے خانوادہ کےافرادکرتےچلےآرہےہیں، حسبِ معمول اب حضرت کےچھوٹےصاحبزادےحضرت شاہ نصرسجادابوالعُلائی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دےرہےہیں، مختلف گاؤں، محلےکی سیرکرتاہوابھنڈکےمؤبازارواقع بس اسٹینڈپہنچا،یہ چوراہامختلف رنگ برنگ کےسازوسامان لیے چمک رہاہے،ہرطرف چھوٹے بڑےبچےبچیاں بازارکی رونق دیکھنے جمع ہیں، مولاناجلال الدین رومیؔاورامیرخسروؔکاکلام قوال پڑھ رہےہیں، میوہ،حلوہ،پراٹھے کی دکان گھی اور تیل میں لبالب ہے،جہاں دیکھئےوہاں لوگ عرس کی تیاریوں میں مصروف ہیں، کچھ لوگ ہمیں لینےکےلیےپہلےسےوہاں کھڑےتھے،سلام وکلام کےبعدجھٹ پٹ ہمارے ہاتھ سےسامان لیااوربڑے ادب سےآستانہ کی طرف چلنےکااشارہ کیا،حضرت سبحان علی کاآستانہ مؤکےصدربازارچوراہاپرلبِ سڑک واقع ہے،وہاں حضرت شاہ نصرسجادابوالعُلائی ہماری راہ دیکھ رہےتھے،تسلیمات بجالایااورسفرکی مختصررودادسنایا،بات ہی بات میں لوگ چائےاورکچھ مٹھائیاں لےآئے،بھلاایک آدمی کتناکھاسکتاتھا، ہم نے تھوڑی مٹھائیاں لی اورلوگوں میں تقسیم کردی،ابھییہاں عرس کی تیاریاں چل رہی ہیں، لوگ انتظامی امور میں مصروف ہیں، ظہرکی نمازسے فارغ ہوئےتومحفلِ سماع شروع ہوا،قوال نے سراجؔ اورنگ آبادی کی غزل چھیڑی،تھوڑی دیرمحفل چلی پھربستی کےاندرٹیلےپرمحفل گرم ہوئی،شاہ نیازاحمدبریلوی کاکلام پڑھاگیااورچادرکی رسم شروع ہوئی’’خواجۂ خواجگاں کی چادرہے‘‘کی رٹ لگائے قوال بستی سےآستانہ کی طرف چل پڑے،نمازکےبعدصندل پوشی کی رسم اداکی گئی،بستی کے تمام افراداس رسم میں موجودرہتےہیں، فاتحہ کےبعدحجرےمیں گفت وشنیدکاسلسلہ چلا،اب عشاکی نمازکےبعدمحفلِ تذکیرشروع ہےچندلوگوں نےنعت خوانی کی اوراخیرمیں راقم نےتقریرکی،تقریباًایک گھنٹےکےبعدسلام ودعاپرمحفل ختم ہوئی،سامعینآآکرمجھےدادوتحسین دینےلگےاورسب ایک دوسرےسےیہ کہتے کہ ’’ہم نے صوفیائے کرام کےحوالےسےیہ گفتگوتوسنی ہی نہیں ‘‘ہم نےاپنے نفس کوجھٹ سے مارااورکہاکہ میں اپنے کلام کو بہترنہیں سمجھتایہ سب بزرگوں کی دعاؤں کانتیجہ ہے،اب تھوڑی دیربعدمحفل گرم ہوئی اورغزل گانےوالے نےبہترین غزل سنائی،سفرکی تھکان اوردن بھرکی مصروفیت نےدستک دی اور ہم نےآرام کیا۔

                آج ۲۹؍نومبرپیرکادن ہے،کل سےزیادہ چہل پہل ہے،لوگوں کاآناجانا،ہماہمی،قوالوں کی دھن اوربازاروں کی رونق میں تین گونااضافہ ہوا،اب اشراق کےوقت سے محفل شروع ہوئی،آگرے،سنبھل اورناگپورکےقوالوں نےایسی دُھن بنائی کہ کیابچہ کیابوڑھاکیاجوان ہرکوئی دل ہی دل میں جھوم رہاتھا،محفل میں جب حضرت شاہ اکبرؔداناپوری کا کلام’’اےآگرےوالے‘‘پڑھاگیاتوگویامحفل میں قیامت برپاہوگئی،ہرایک سامع جوبیٹھاتھاوہ چندلمحےکےلیےکھڑاہوگیا،قبلِ ظہرتک محفل گرم رہی،اب فاتحہ کاوقت ہوچکا،لوگ آستانہ کےچہارجانب جمع ہوگئے، دعاکاسلسلہ شروع ہےاورامن و امان اورخیرسگالی کی دعائیں مانگی جاری ہے،ہرشخص اپنادامنِ مرادپھیلائےآنسوؤں سےفریادکررہاہے،نوجوان روزگار کی بھیک مانگ رہاہے،مائیں نیک اولادکی تمنائیں ظاہرکررہی ہیں، باپ اپنی بیٹیوں کی سلامتی اور تحفظ کی دعائیں مانگ رہاہےاوربچےہرایک کی صداپرآمین کی رٹ لگارہےہیں، اب ایسےپُرفتن دورمیں دعاؤں کاسہاراہی رہ گیاہے،ہمارے ملک میں فرقہ پرستی کی آگ روزبروزبڑھتی چلی جارہی،مسلمانوں کی سات سوسالہ شان وشوکت کاعظیم پرچم خطرے کی راہ پرڈگمگارہاہے،اب ایسےدورمیں خداکےعلاوہ کس کےسامنےجھولی پھیلائی جائے،حفیظ جالندھرییادآرہےہیں کہ

  کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا

 کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

                آج چوتھاروزہے،دوپہرکےوقت نامعلوم حضرت شہیدکےمزارپرفاتحہ اورنذرونیازکااہتمام ہواپھربستی کےچندمکانات پر محفل کا سلسلہ شروع ہوا،تھوڑی تھوڑی دیرکےلیےہرایک کےیہاں گئے،لوگوں نےبڑی محبتوں سےنوازااب ہم آستانہ کےحجرےمیں آرام کررہےہیں، لوگ آرہے ہیں ملاقات کاسلسلہ جاری ہے،طرح طرح کی باتیں اورماضی کےجھروکوں سےپردہ اٹھایاجارہاہے،آج کی نشست بھی بہترین رہی،ابھییہ سلسلہ چل ہی رہاتھاکہ موریناکےمکھیاآئےاوربڑی خندہ پشانی سےملے۔

                آج ۱؍دسمبرکوصبح روانگی ہے،فجرکی نمازکےبعدبھنڈسےگوالیارآگئے،ریل شام کو ہےلہٰذاوقت پورامل گیا،ہم لوگ جامع مسجدکی طرف نکلے،یہ مسجدعالم گیربادشاہ کےعہدمیں معتمدخاں نےتعمیرکرایا،صدردروازہ پر یہ عبارت درج ہے۔

  ’’الصلوٰۃ جاالمسجدالافی المسجد

دراواں شاہ عالم گیر عادل دین پناہ

معتمدخاں یافت چوں توفیق باخود رفیق

 حاصل ایں جاہ وایں حمّام وہم ایں حجرہا

وقف شدبرخدمہ مسجدبےمان و نوا

خواہم از شان وازحکام عادل روزگار

تانیایا لید دست ازخالص بہرِخدا

باددائم یارب ایں مسجدبفضل اہلِ دہر 

تابودگیتی ومہروماہ وہم ارض وسما

کِزفروغِ عدل اوعالم پذیرفتہ ضیا

ساخت ایں مسجدمقدس رازصدقِ دل بنا‘‘

                اندرداخل ہونےپردرمیانی دروازہ کی بلندی پریہ عبارت اورقطعہ درج ہے۔

 ’’افضل الذکرلاالہ الااللہ محمدرسول اللہ

 درزمانِ شاہِ عالم گیرآنکہ

بردہ فیض ازلطف عامش بفریق

آں شہنشاہی کہ پیشِ جوداو

بحردرآبِ حیاباشدغریق

 معتمدخاں مصدرنورِیقیں

شدزفضلِ حق جوتوفیقِ رفیق

کردبرپامسجدی عالی اساس

روطلب کن وضعش ازفلزِدقیق

 سالِ تاریخ بنائش  خواستم

پیردانش گفت کالبیت العتیق‘‘

                یہ مسجدگوالیارکی سب سےقیمتی اورتاریخی مساجدمیں سےایک ہے،درمیان میں حوض ہے،چاروں طرف بہترین پھول لگے ہیں، محراب پرقرانی آیات کند ہ ہیں، یہاں دل خوب لگاظہرپڑھ کرحضرت عبدالغفورعرف باباکپورکےآستانہ کی طرف بڑھے،یہ بزرگ حضرت بدیع الدین مدارکےسلسلےسے وابستہ گوالیارکےمتقدمین صوفیوں میں شمارہوتےہیں، اندرداخل ہونےپردائیں طرف حضرت صوفی عبداللہ،بائیں جانب حضرت مرادعلی اورحضرت امان اللہ شہبازکامزارہےیہ سب حضرت عبدالغفورکےمریدومجازہیں، جگہ کشادہ ہے،چہارجانب بڑے بڑے کمرےاوردالان بنےہوئےہیں۔

                جانناچاہیئےکہیہاں شمشیرخاں بھیّاکی تعمیرکردہ مسجدبھی آبادہے،یہ گوالیارکےرئیس اورفوج کےبریگیڈیررہ چکےہیں، حضرت شاہ اکبرؔداناپوری سے نہایت درجہ اعتقادرکھتے ہیں، اپنی صاحبزادی کےہمراہ ہمیشہ ملاقات کرنےآتے،معمول کے موافق خاموشی سےدوایک گھنٹے بیٹھ کرچلےجاتے،گوالیاراورہمارےبزرگوں کےقصےاتنےہیں کہ لکھناشروع کروں توگویاایک مستقل رسالہ تیارہوجائے۔

                اب ہم لوگ حضرت شاہ محمدغوث شطاری کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہم نےاپنےبڑوں سےآپ کےقصےسنےہیں، نہایت کشادہ باغ کےدرمیان میں آپ کاپُرشکو آستانہ جلوہ بکھیررہاہے،یہ مقبرہ افغانی اور گوالیاری تعمیرسازیکےامتزاج کاخوبصورت نمونہ ہے،پتھروں میں تراشےگئے نقش ونگاراورپتھرکیخوبصورت جالیوں والایہ مقبرہ اپنی مثال آپ ہے،اس فن کا دوسرا حصہ بہارکی ریاست پٹنہ میں واقع منیرشریف میں حضرت دولت منیری کا مقبرہ ہےجسے ابراہیم کانکرنےبنوایاتھا،یہ بزرگ عبدالرحیم خان خاناں کےپیرومرشدہیں، پہنچتےہیں نمازکاوقت ہوااذاں دی گئی اورلوگوں نےمجھے آگےکردیا،اب ان بیچاروں کو کیاپتاکہ ہرعباچوغہ والاصاحبِ منصب نہیں ہوتا،خیر!ہم نےفاتحہ پڑھی اورباغ کالطف اٹھایا،باہری حصےمیں درجنوں مزارات ہیں جس کےمتعلق یہ کہاگیاکہ بعض اندرونی قبریں حضرت کے خانوادہ کے افرادکی ہیں، چندقدم کےفاصلےپرآپ کی والدہ بھی آرام فرماہیں، زیارت کرتےکرتےشام کا وقت ہوگیا،چڑیوں کی چہچہاہٹ،بلبلوں کی سحرانگیزآوازیں، درختوں کاایک دوسرے سےمل کرتازگی ہواپیداکرنااور اس پر ہلکی سی بارش کےاثرات گویاہمیں جنت کانظارہ دکھلارہاہے،یہیں حضرت کے پائیں تھوڑے فاصلےپرتان سین اوران کےصاحبزادےبھی آرام فرماہیں، ہندوستان میں موسیقی اور اس کے چاہنے والوں کےلیےیہ ایک بڑانام ہے،کہتے ہیں کہ اس فن کوعروج بخشنے والے تان سین بادشاہ محمد اکبرکے نورتنوں میں سےایک تھے،آخرعہدمیں حسبِ وصیت حضرت کی صحبت میں رہنے لگے اوریہیں دفن ہوئے۔

                یہاں سےنکل کر سیدھے خواجہ سعیدالدین احمدخانون چشتی کےمزارپرفاتحہ پڑھا۔

سخائے خواجہ خانون کا ہے تذکرہ گھر گھر

کوئی خالی نہیں جاتا ہے اس دربار میں آکر

(ناظرؔ)

                یہ بزرگ مان سنگھ تومرکےعہدِحکومت میں گوالیارآئے،خانقاہ قائم کی اور معرفت و وحدانیت کی تلقین فرمائی،یہاں ہمارے شیخِ اجل خواجہ ابوالبرکات ابوالعُلائی کی صاحبزادی کی قبربھی ہے،کچھ وقفے یہاں بیٹھے،متولی راشدصاحب سےملاقات ہوئی،ابیہ ضعیف ہوچکےہیں۔

                اب ہم یہاں سےسیدھافقیرمنزل کی طرف بڑھے،یہاں حضرت علی غمگینؔ کامزاراوران کی خانقاہ ہے،مرزاغالبؔ آپ کابڑامعتقدتھا،قادری نسبت کےعلاوہ خواجہ ابوالبرکات ابوالعُلائی کےمجازہیں، یہی رنگ ہمیں یہاں کھینچ لایاہے،یہ جگہ پہاڑی پرواقع ہے،لوگ انہیں حضرت جی کےنام سےبھی جانتےہیں، فاتحہ پڑھ کر حضرت علی غمگین کے پرپوتےسےملاقات ہوئی،یہ بزرگ بھی اب کافی ضعیف ہوچکےہیں، گفتگوطویل ہوگئی ہمارے ساتھی جوساتھ آئے ہیں وہ ایک دوسرے سےیہ باتیں کررہےہیں کہ’’ریل کاوقت ہوچکاہےپریہاں توگفتگوختم ہی نہیں ہوتی‘‘

 کوچہ سے ان کےجب میں چلادل نےیہ کہا

اب آپ جائیں یاں سےمگرمیں یہیں رہا

(غمگینؔ)

                چندایک گھنٹےکےبعدہم لوگ یہاں سےنکل کرسیدھاحضرتِ گوالیاراسٹیشن پہنچے،وقت کےمطابق ہمارے گاڑی جاچکی ہوتی پر پتاچلاکہ دہلی جانےوالی گاڑی ایک گھنٹے کی تاخیرسے آئےگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا