صدائے علی گڑھ

ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی

ہمارے واسطے جتنی تمہارے دل میں نفرت ہے

ہمیں اس سے بہت زیادہ، علی گڑھ سے محبّت ہے

…

کرو مشقِ ستم لیکن ڈرا سکتے نہیں ہر گز

کہ ہم کو زخم کھا کر مسکرا دینے کی عادت ہے

…

علی گڑھ ایک گہورا ہے تہزیب و تمدّن کا

جہاں کثرت میں وحدت ہے، جہاں ہر سو اخوّت ہے

…

انہیں معلوم کیا،  کیسے یہاں رہتے ہیں مل جل کر

جہاں ذہنوں میں بس فرقہ پرستی کی غلاظت ہے

…

اسے خونِ جگر سے سینچنے والے ہیں سر سیّد

خلوصِ دل سے جن کے یہ چمن سارا عبارت ہے

…

چراغِ علم یہ، پاگل ہوا کیسے بجھائے گی

خدا کے ہاتھ میں جب دوستو اس کی حفاظت ہے!

…

علی گڑھ میں پڑھی ہوتی تو شاید مختلف ہوتی

ہمارے ملک میں اس وقت جو بھونڈی سیاست ہے

…

نکل آئے ہیں میرے نوجواں اس بار سڑکوں پر

نظام جبر سے سن لو، یہ اعلانِ بغاوت ہے!

تبصرے بند ہیں۔