ہر اک جواب کے اندر سوال ہوتا ہے 

مقصود اعظم فاضلی

ہر اک جواب کے اندر سوال ہوتا ہے
سوال کرنا بھی اس کا کمال ہوتا ہے

…

لہو امیر کا ہو یا کسی غریب کا ہو
لہو کا رنگ بہر حال لال ہوتا ہے

…

جہاں سے راستے چاروں طرف نکلتے ہیں
وہاں بھٹکنے کا بھی احتمال ہوتا ہے

…

ذرا سی دیر کو بس موت یاد آتی ہے
کسی کا شہر میں جب انتقال ہوتا ہے

…

خیالِ یار کی رعنائیاں سنبھالتی ہیں
غمِ حیات سے جب دل نڈھال ہوتا ہے

…

ستم تو یہ ہے کہ خود ہی ادیب کے ہاتھوں
قدم قدم پہ ادب پائمال ہوتا ہے

…

کسی کو ایک نوالہ حرام ہے اعظم
کہیں مزار پہ مرغا حلال ہوتا ہے

تبصرے بند ہیں۔