خصوصی

مسلمان تحفظ ِ شریعت کے لئے کمربستہ ہوجائیں!

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

ہمارا دین کامل اور مکمل دین ہے جو قیامت تک انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے،زمانہ کی ترقی اور دنیا کا عروج بھی اس کی تعلیمات میں دخل اندازی نہیں دے سکتا ،اور نہ ہی کسی کو یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ حالات اور زمانہ کے لحاظ سے اسلام میں کشش اور جاذبیت نہیں ہے ،اور کوئی یہ بات کہتا بھی ہے تو یہ سراسر جہالت اور لاعلمی کی دلیل ہے ،کیوں کہ اسلام ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جو چاہے اس کی سچی تعلیمات کو تنگ نظری اور تعصبیت سے پاک نگاہوں کے ذریعہ پڑھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے ، حقیقت اور سچائی یہ ہے کہ اسلام نے ،قرآن نے ،اور پیغمبر اسلام نے جو تعلیمات دیں ہیں ہر دور اور ہر زمانہ میں اسی کے اندر یہ خوبی اور کمال ہے کہ وہ انسان کی بہترین رہبری کرتی ہیں،ہمارے قرآن نے آنے والے زمانے کی بہت سی حقیقتوں کو بیان کردیا اور ہمارے نبی ﷺ نے اپنی دوراندیشی اور غیر معمولی حکمت پر مبنی تعلیمات و ہدایات میں ہر شئی کی حقیقت کو واضح کردیا ۔
اسلام کے مکمل ہونے پر اللہ تعالی نے مہر ثبت کردی ہے چناں چہ ارشاد ہے:الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔( المائدۃ:3)’’آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کردیا ،تم پر اپنی نعمت پوری کردی ،اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے طور پر ( ہمیشہ کے لئے)پسند کرلیا ۔( لہذا ا س دین کے احکام کی پوری پابندی کرو)‘‘مسلمانوں کے لئے یہ اتنی بڑی سعادت اور خوش نصیبی کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے ہم کو ایسا دین عطا کیا جو ہر اعتبار سے جامع و کامل ہے ،یہ خصوصیت دنیا میں کسی اور مذہب کو حاصل نہیں ہے ۔ایک مرتبہ ایک یہودی نے آکر حضرت عمر ؓ سے کہا کہ :اے عمر! تم قرآن میں ایک آیت پڑھتے ہو اگروہ آیت ہمارے پاس نازل ہوتی تو ہم جس دن یہ آیت اتری اس کو عید کا دن بنالیتے ،حضرت عمر ؓ نے پوچھا وہ آیت کون سی ہے؟اس نے اسی آیت کو تلاوت کیا۔حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہاں میں زیادہ جانتا ہوں کہ یہ آیت ایک مبارک ترین دن عرفہ کے دن کے نازل ہوئی ہے اوروہ جمعہ کا بھی دن تھا۔( تفسیر ابن کثیر :5/48)
اس وقت ہمارے ملک میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایک سازش’’ یکساں سول کو ڈ‘‘ کی جارہی ہے ، لاکمیشن آف انڈیا نے سولہ سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ جاری کیا ہے جس کے ذریعہ وہ ہمارے ملک میں یکساں سول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں ہے ،دوسری طرف مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں تین طلاق،تعدد ِ ازواج ،نفقہ وغیرہ جیسے خالص اسلامی اور شرعی مسائل کے خلاف حلف نامہ داخل کیا ہے اور اس کا مقصود یہ ہے کہ ہندوستا ن جیسے کثیر المذاہب ملک میں ایک قانون بنادیا جائے اور ہر مذہب والے کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیا جائے ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا دستور اس کے خلاف ہے ،ہمارے ملک کا دستوراور اس کی دفعہ 25 اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ہر مذہب والا اپنے مذہب اور عقیدہ پر عمل کرسکتا ہے اس کو کھلی آزادی حاصل ہے ۔لیکن ملک کے دشمن اور بالخصوص مسلمانوں کے دشمنوں کی یہ سوچی سمجھی سازش ہے کہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذکرکے یہاں کہ ہمہ رنگ تہذیب کو ختم کردیا جائے ،اوراسلامی تشخص اور اس کے امتیاز کو مٹادیا جائے ۔
مسلمان کبھی اپنی تعلیمات کے خلاف نہیں جاسکتا ہے ،وہ اپنے مذہب کا سودا نہیں کرسکتا ،اسے اپنا مذہب اور اپنے نبی کی تعلیمات جان ودل سے زیادہ عزیز اور محبوب ہیں ،وہ کٹ مر سکتا ہے لیکن اسلام پر آنچ آنے نہیں دے سکتا ،ہر دور میں اسلام کے جیالوں نے دین محمدی کی حفاظت کی ہے اور اس پر آنچ آنے نہیں دی ،جو قرآن وسنت نے راستہ بتایا ہے اس کے تحفظ کے لئے اپنی زندگیوں کو قربان کردیا اور کسی طرح کی بھی کمی زیادتی کا موقع کسی کو نہیں دیا ۔آج جب حکومت کی زہر آلود اور نفرت انگیز نگاہیں ’’مسلم پرسنل لا‘‘ پر پڑیں تو ہماری متحدہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ‘‘ کے ذمہ داروں نے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا،اور حکومت کے اس ناروا رویہ کے خلاف پُرزور مذمت بھی کی اور اس کے دفاع کے لئے میدان ِ عمل میں آگئے،چناں چہ اس کے لئے انہوں نے ’’دستخطی مہم ‘‘ شروع کی کہ مسلمان خواتین اور مرد اسلامی شریعت اور مسلم پرسنل لاپر اتفاق کرتے ہیں اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی کسی کو اجازت نہیں دیتے اس کا اقرار کرکے اپنی دستخط ثبت کریں ،الحمد للہ پورے ملک میں یہ ’’دستخطی مہم‘‘ پورے زور و شور سے جاری ہے اور مسلمان جذبۂ ایمانی سے لبریز ہوکر اس میں حصہ لے رہے ہیں ۔اللہ ہمارے اکابر اور بزرگوں کو جزائے خیر دے جو ہمارے لئے اور اس ملک میں دین کے تحفظ کے لئے اپنی نیندوں کو قربان کرکے ،اپنی صحت اور عمر کا خیال کئے بغیر دیوانہ وار اسی فکروں میں لگے ہوئے ہیں اور ہرممکن اس کا دفاع اور تحفظ میں مصروف ہیں۔
ان حالات میں جہاں ہمیں اپنے پرسنل لا کی حفاظت کے لئے میدان ِ عمل میں زبردست جد وجہد کرنے کی ضرورت ہے ،احقاقِ حق اور ابطال ِ باطل کا وقت ہے ،وہیں ہماری ایک ذمہ داری یہ بھی ہے ہم زبانی دعوؤں کے بجائے عملی طور پر اپنی شریعت پر عمل پیرا ہوجائیں ، اسلام کے جو احکام ہیں ان سے زندگیوں کو آراستہ کریں ،معاشرہ کی بے دینی کو ختم کرنے کے لئے آگے آئیں ،نوجوانوں کی بے راہ روی دور کرنے کی فکر کریں ،لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی بے حیائی کو روکنے کی تگ ودو کریں ،ہمارے گھرانے شریعت ِ اسلامی کا حسین گلشن بن جائیں اس کے لئے کوشش کریں ،اس کڑوی حقیقت کو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم لوگوں نے اپنی شریعت سے بے پرواہی برتی ،ہمارے گھر سے دین نکل رہا ہے اور ہم خاموش ہیں ،شادیوں کے نام پر اسراف ،فضول خرچی ،گانا بجانا، جہیز ،جوڑے کی رقم ،سامان کا مطالبہ ہم کرتے ہوئے اپنے مذہب کو پیارے آقا کی تعلیمات کو سرِ بازار نیلا م کرتے رہیں ،عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی اور بغیر سوچے سمجھے طلاق کا استعمال کرنے میں ہم پیش پیش رہیں ،لڑکیوں کو شادی کرواکر لائے تو بڑے ناز سے لیکن ان پر ظلم ڈھانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے،بہوؤں کے ساتھ ناانصافی ،بہنوں کو وراثت سے محروم رکھنا یہ سب آج ہمارے معاشرہ میںرائج ہے اور معاشرہ کا ناسور بناہوا ہے ،ہماری شادیاں لاکھوں اور کروڑوں کی ہوگئیں جب کہ ہمارے نبی نے فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ سب سے ہم ہو،جس معاشرہ میں نکاح مشکل ہوجاتا ہے یاد رکھیں اس معاشرہ میں زنا عام ہوجاتا ہے ،بے حیائی پھیلنے لگتی ہیں ،جہاں حقوق ضائع کئے جاتے ہوں وہاں عداوت اور دشمنی پنپنی لگتی ہے ،غریب باپ بے چارہ اور دکھوں کی ماری ماں اپنی جوان بیٹی کی شادی کی فکروں گھلتی رہی اور مالدار مسلمان اپنے پیسوں کی نمائش میں مصروف ؟؟؟بے قصور لڑکیوں کے رشتے توڑے جارہے ہیں اور معمولی معمولی باتوں کو بہانہ بناکر ہنستے کھیلتے گھروں کو اجاڑا جارہا ہے،طلاق کو گویا لڑکی کو ڈرانے کا ایک ہتھیار سمجھ لیا گیا ،اور جب چاہے اس کے نام پر ڈرانا دھمکا نا ایک رواج بن گیا ،اور دوسری طرف ماں باپ کی غلط تربیت نے لڑکیوں کو بھی باغی بنادیا اور وہ بھی چھوٹے چھوٹے بہانے پر خلع لینے پر تلی ہوئی ہیں،ان کو رشتوں کی نزاکت نہیں سمجھائی گئی ، خاندانی نظام کے عظمتوں سے واقف نہیں کروایا گیا ،اسلامی تہذیب وشریعت سے آگاہ نہیں کیا گیا نتیجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ ایک بے دینی کے دہا نے کھڑا سسک رہاہے ،جس کا حکومتیں فائدہ اٹھارہی ہیں ،اور ہماری غیر اسلامی حرکتوں کے بہانے اسلام کے خلاف تیر چلانے اور اس کو بدنام کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں ،اپنی کوتاہیوں دور کریں ،غلطیوں کا مداوا کریں ،شریعت کو پامال ہونے نہ دیں ،نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو دین تعلیمات سے آراستہ کریں ،حقوق بتائیں ،زندگی کے حقائق سمجھائیں ،رشتوں کے تقدس کو اجاگر کریں ،ایثار وقربانی کا خوگر بنائیں ،سادگی کے ساتھ نکاح کی تقریبات کا انعقاد کریں ،لین دین ،جوڑا گھوڑا ،جہیز ان تمام خلاف ِ شریعت کاموں کا بائیکاٹ کریں ،اور ہر قدم پر ایک سچے مسلمان بننے کا عہد کریں ان شاء اللہ جب تک ہم خدا کی شریعت پر عمل پیرا رہیں گے ہمارے دشمن ہمارا بال بھی بیگا نہیں کر پائیں گے،اور ذرہ برابر بھی ہمارا نقصان نہیں ہوگا ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close