خصوصی

معرکہ ٔحلب: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

ڈاکٹر سلیم خان

حلب ملک شام کا حصہ ہے اس لئے معرکۂ حلب کو مسئلۂ شام سے الگ کرناغلط فہمیاں پیدا کرتا ہے ۔ 1946؁ میں شام ایک آزاد جمہوریہ بنا لیکن مختلف فوجی  بغاتوں کے بعد 1963؁ میں قوم پرست اشتراکی جماعت بعث پارٹیبرسراقتدار ہوئی  ۔ حافظ الاسد  اس حکومت میں  فضائیہ کا کماندارتھا جو 1966 ؁ میں  وزیردفاع بن گیا ۔ 5 سال بعد  اقتدار پر قابض ہونے کے بعد وہ 2000؁ تک ظلم و جبر کے ذریعہ شامی عوام پر مسلط رہا ۔  ملک میں ایمرجنسی نافذ رہی 5 سے زیادہ افراد کا جمع ہونا جرم تھا ہر 7 سال کے بعد حافظ الاسد جعلی ریفرنڈم کرواکرصدر منتخب ہو جاتا تھا۔ سارے اختیارات خود اپنے اور قریبی رشتے داروں کے ہاتھ میں  رکھتا تھا یہی وجہ ہے کہ موت کے بعد اس کی آمریت موروثیت میں بدل گئی اور دوسرا بیٹا بشارلاسد جانشین  ہوگیا۔

اس دوران  ملک میں 3سرکاری اخبار تھے، سیاسی مخالفین پرفوجی عدالت میں مقدمے کیے جاتے اور اکثر بغیر مقدمہ  کے غائب کر دئیے جاتےتھے۔انسانی حقوق  کی  تنظیموں  کے مطابق حافظ کے اقتدار میں 17000 مخالفین بنا کسی مقدمہ کے قتل کر دیئے گئے۔  ظلم کے خلاف بغاوت انسانی فطرت  کا تقاضہ  ہے ۔اس کے جبرو استبداد کے خلاف کئی بغاوتیں ہوئیں  جن میں شہر حماء کا سانحہ بہت مشہور ہے۔اس میں تقریباً 40000ہزار حریت پسندوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ حافظ الاسد نے اپنے اقتدار کی خاطر ہر آواز کوبزور قوت کچل دیا ۔ بشارالاسد کے خلاف 2011؁ میں سالہا سال  کی غلامی اور مظالم کے خاتمہ کی خاطر جہادکا آغازہواجسے غیر ملکی قوتوں کی مدد سے دبا یا جارہا ہے۔ آزادی کی جدوجہد کوعارضی رخنہ تو پڑسکتاہے لیکن اس کی بیخ کنی نا ممکن  ہے ۔

یہ دنیا دو طرح کے لوگوں سے اٹی پڑی ہے ایک مجاہدین اور دوسرے تماش بین ۔ مجاہدین راہِ خدا میں جنگ کرتے ہیں  ۔ اس لئے کہ ’’  بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے 000‘‘(القرآن)۔  مجاہدین اسلام کسی صورت مایوس نہیں ہوتے کیونکہ  فتح و شکست  دونوں کے امکان  سے واقف  ہوتےہیں ۔ اس کے برعکس  حمایت اور مخالفت کرنے والےتماش بینسے شکست برداشت نہیں ہوتی  وہ صدمے سے مرجاتے ہیں  جبکہ   مجاہدین  جام شہادت نوش فرما کر سرخ روہوتے ہیں  ۔روس اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے  کے تحت ہلکے ہتھیار سمیت ادلب کی جانب محفوظ راستوں سے نکل جانے والےچارہزار مجاہدین  بہت جلد کامیابی کا پرچم لہرانے کیلئے  میداں، کارزار میں لوٹ کر آئیں گے۔

حافظ الاسدکو اپنے خلاف  برپا ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے میں جو کامیابی ملی  تھی  وہ بشار الاسد کے حصے میں  نہیں آئی ۔ مجاہدین نے  اس کے قبضے سے  ملک شام کا ایک بڑا علاقہ آزاد کرانے میں کامیاب ہوگئے ۔ حلب ان میں سے ایک ہے۔ بشار نے اقتدار کو بچانے کی خاطرروس سے گہار لگائی  ۔ مشرق وسطیٰ میں روس کا واحد فوجی اڈہ شام میں ہے اس لئے وہ اپنے مفاد کی خاطر دوڑ کر آیا۔ روس اور بشار سے بیزارمغربی ممالک مجاہدین آزادی کی حمایت میں آگے آئے ۔  اس زمانے میں  مشرق وسطیٰ  کے اندرامریکہ کا سب سے بڑا حلیف سعودی عرب تھا اس لئے وہ بھی مجاہدین کی حمایت میں پہنچا اورسعودی کے خلاف ایران اور حزب اللہ بھی میدان میں کود پڑے ۔اس طرح یہ معاملہ پیچیدہ ہوتا چلا گیا ۔  سوئے اتفاق سے بشار الاسد اور ایران ہم مسلک ہیں اور ان سے برسرِ جنگ مجاہدین اور سعودی عرب کا مسلک یکساں ہے اس لئے اس معاملے کو بڑی آسانی سے مسلکی اختلاف کا رنگ دے دیا گیا  ۔

 یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں سعودی عرب یمن کے غیر مسلک صدر علی عبداللہ صالح  کو نہ صرف اپنے ملک میں پناہ دےکرعلاج بھی کرواچکا ہے۔اس وقت علی عبداللہ صالح  کی سعودی سے قربت کے سبب ایران اس کا مخالف تھا ۔ جب سے صالح اور سعودی کے تعلقات خراب ہوئے ایران اس کا ہمنوا بن گیا۔  ایران نے ایک زمانے تک مخالفت کے  بعد طالبان سے تعلقات استوار کرلئے حالانکہ دونوں  کے مسلک مختلف ہیں ۔ وہ غزہ میں غیر مسلک حماس کی حمایت کرتا ہے ۔مصر میں اپنے ہم مسلک صدر ڈاکٹرمحمدمورسی کا تختہ الٹنے میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔اس سے ظاہر  ہے  کہ  عرب و ایران مسلک پر ابن الوقتی کو فوقیت دیتے ہیں ۔ صدر السیسی کو اقتدار پر فائز کرنے کے بعد جس طرح سعودی عرب مبارکباد دیتا ہے اسی طرح ایران کی جانب سے بشارالاسد کو  بھی مبارکباد کا پیغام موصول ہوتا ہے حالانکہدونوں ظالم و سفاک آمروں  کے ہاتھ اسلام پسندوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں  ۔ سچ تو یہ ہے کہ  ایران اور سعودی کی حمایت نہ دین کی بنیاد پر ہے ا ور نہ مخالفت   مسلکی  ہے ۔

 ایران یمن میں حوثیوں کی بغاوت کوحق بجانب ٹھہراکر ان کی مدد کرتا ہے مگر حلب میں بشارالاسد کے خلاف لڑنے والوں کو دہشت گرد قراردے کر ان کے خلاف فوج کشی کرتا ہے۔سعودی عرب یمن کے صدر  عبد ربہ منصور ہادی  کا اقتدار باقی رکھنا چاہتا ہے مگر بشارالاسد کو بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے برعکس ایران ہادی کی حکومت باطل قراردیتا ہے مگر بشارالاسد کی پشت پناہی کرتا ہے۔بشارالاسد  کے ظالمانہ اقدام کا جواز اس طرح فراہم کیا جاتا ہے کہ  شام کا وجود حلب کے بغیر کیوں کر ممکن ہے؟اگر  جنوبی سوڈان کی علٰحیدگی کے باوجود سوڈان کا وجود ممکن ہے، مشرق پاکستان کے الگ ہوجانے بعد بھی پاکستان باقی رہ سکتا ہے ، برطانیہ آئرلینڈ کو علٰحیدگی کیلئے ریفرنڈم  کی اجازت دے سکتاہے تو حلب سے کیا مشکل ہے؟  ویسے بھی بشارالاسد کا اقتدار  ملک شام میں مختصر سے علاقہ تک محدودہے ۔ایک بڑاعلاقہ داعش اور مجاہدین کے  قبضے میں ہے ۔

افغانستان  کی حکومت بھی کابل کے اطراف میں سمٹی ہوئی ہے تو کیا  مندرجہ بالا ضابطے کے تحت  اس کو کسی  دشمن کےساتھ مل کر اپنی عوام پر کیمیائی بم برسانے حق حاصل ہے؟ دنیا کا کوئی دستور یا ضابطہ اسکی اجازت نہیں دیتا ۔حقیقت تو یہ ہے کہ ظالم کی حمایت کو جائز ٹھہرانا  ایران اور سعودی دونوں کیلئے  بے حد مشکل ہے ۔ اپنے عوام کے قاتل بشارالاسد سے یہ توقع کرنا کہ وہ اسرائیل کے چنگل سے فلسطین کو آزاد کرانے میں معاون ثابت ہوگا دیوانے کا خواب ہے۔ اس باپ بیٹے نے تواپنی ساری توانائی اقتدار بچانے پر صرف کی  ہے ۔صہیونی استعمارکے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی ان سے نہیں ہوئی۔   مغرب کا شیوہ  ہے کہ وہ ایسے طاقتور حلیف تلاش کرتا ہے جن سے اس کا نظریاتی تصادم نہ ہو۔ مغرب روایتی اسلام سے نہیں بلکہ انقلابی اسلام سے گھبراتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مسلمان بھی خدا پرستی چھوڑ کرقومی مفادات کے پرستار بن جائیں ۔

شاہ ایران  سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن جب ایرانی  انقلاب  کے بعد لاشرقیہ لاغربیہ  اسلامیہ اسلامیہ کا نعرہ بلند ہوا تو روس و امریکہ کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف   جنگ میں صدام حسین  کو دونوں کی حمایت  حاصل تھی۔ ایران نے جب مستکبرین اور مستضعفین کی کسوٹی پر لوگوں کو تقسیم کیا تو مغرب پریشان ہوگیا ۔   ایران سے اٹھنے والے اسلامی اتحاد کے نعرے نے منتشر مغرب کی نیند اڑا دی   اسلئے وہ ایران کے خلاف برسرِ پیکار ہوگیالیکن  شام کی کشمکش میں ایران کے کردار نے مغرب کی رائے بدل دی ۔اسلام دشمن   ملحد بشار کی حمایت کا فیصلہ اسلام کے بجائے قومی مفاد میں کیا گیا تھا۔  مستضعف  مجاہدین کے بجائے  روس کے شانہ بشانہ مستکبر حکمراں کی مدد کی جارہی  تھی ۔ اسلامی اخوت و ہمدردی کا درس  دینے والے  سفاک روس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے بجائے امن معاہدے میں رخنہ ڈال رہے تھے۔ اس دوران ایران نےاپنے قومی مفاد میں حزب   اللہ کو استعمال کرکے اس   کے کارناموں پر خاک ڈال دی ۔ سچ تو یہ ہے شام کے اس تنازع نے ایران کے ساتھ حزب اللہ  کا شناخت وامتیاز کا خاتمہ  کردیا۔

ایک زمانے تک مغرب کے اشارے پر سعودی عرب ملت کو شیعہ اور سنی کے خانے میں تقسیم کرکے ایران کو دہشت گردوں کا سرغنہ  قرار دیتا تھا اب یہی کام ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے نیویارک ٹائمز میں مضمون لکھ کر کیا ہے۔ ’ چلیں دنیا کو وہابیت سے نجات دلائیں‘ کے عنوان پر مضمون لکھ کر انہوں نےامریکی  خوشنودی حاصل کرنے  کیلئے دنیا بھر میں رائج مغربی دہشت گردی  کا ٹھیکراوہابیت کے سر پھوڑ دیا۔اس طرح ملت کی تفریق و تقسیم کا جو کام پہلے سعودی کرتا تھا اب  ایران  کرنے لگا  ہےاور وہ شیطان اکبر کا حلیف خاص بنتا جارہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ایران کے سیاسی اور مذہبی رہنماوں نے حلب سانحہ کو مسلمانوں کی منافقین پر بڑی فتح  قرار دیا  لیکن  وہ بھول گئے کہ جب بشار کے والد حافظ الاسد نے یہی رویہ اختیار کیا تھا تو علامہ خمینی نے اس کو شیطان بزرگ کے لقب سے نوازہ تھا ۔ علامہ خمینی کے پیروکار شیخ الطفیلی  جیسے علماء آج بھی لبنان و ایران میں موجود ہیں ۔

 لبنان میں حزب اللہ  کےسابق سکریٹری جنرل شیخ صبحی الطفیلی نے حلب میں ہونے والے ظلم  کی مذمت میں  جمعہ کا خطبہ دیتے  ہوئے  کہا روسی جنگی جہاز امت محمدیہ پر بمباری کررہے ہیں ۔ بدقسمتی ہم مسلم نونہالوں  کے قتل پر خوش ہورہے ہیں۔  شیخ طفیلی پہلے بھی شام میں  ایران اور حزب اللہ کے ملوث ہونے پر تنقید کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ساری کوشش، دباو ، فوج اور جنگ شام کے جائز حزب اختلاف  کے خلاف ہے جبکہ شامی حکومت داعش کے ساتھ ہے ۔ داعش کو کوئی نہیں چاہتا اس لئے حکومت  عوام کوآئی ایس آئی ایس  سے ڈرا کر اپنا ہمنوا بنا رہی ہے۔ طفیلی نے اپنے خطبہ کے اختتام میں فرمایا اسدنواز کہتے ہیں ہم دہشت گردوں (داعش)سے لڑ رہے ہیں  جبکہ تم  خود ان کے مائی باپ ہو۔  تم نے ان کی پرورش کی ہے۔تم خود دہشت گرد ہو ۔ تم کھلے اور چھپے قاتل ہو ۔ انہوں نے کہامیں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر تم سیکڑوں حلب پر  بھی قابض ہوجاو تب  بھی  شکست تمہاری ہی ہوگی۔  شیخ  نے حلب کی بمباری کا موازنہ کربلا سے  تک کردیا اور ٹویٹ کیا اس سال کربلا حلب میں ہے اور امام حسین ؓ کے بچے اپنے گھروں کے ملبے تلے ہیں ۔

ایران میں سابق وزیراعظم میر حسین موسوی کے بھائی میر محمود موسوی  نے اخبارشرق  کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا  کہ یہ صرف دورات کی خوشی ہے لیکن اس کیلئے تہران کو آئندہ 30 سالوں تک پریشان ہونا پڑے گا۔ 3  لاکھ لوگوں کا قتل ایک کروڈ 20 لاکھ لوگوں کے بے خانماں ہوجانے سے نفرت اور تشدد میں اضافہ ہوگا۔ اس معاملے کو سنبھلنے میں دودہائیاں لگیں گی ۔لبنان کے شیعہ مبصر حارث سلیمان نے لکھا تم نے موت ،تباہی، بربریت  اور نفرت کا بیج بویا ہےتواب اس کی بہار کا انتظار کرو۔ انہوں حلب کے واقعات کو انسانیت کے لئے شرمناک اور انسانی تقدس کا انحطاط قرار دیا ۔وہ لکھتے ہیں  تمہاری فتح تمہارے لئے نہ آج کامیابی کی ضامن ہوگی اور نہ کل  ۔

شام کے ظلم  وجبرکا اولین مجرم بشارالاسد خود ملحد ہے اس لئے مغرب نواز سیکولر دانشور اس پر تنقید سے گریز کرتے ہیں  اور اس کے قتل عام کو اپنے نظریہ سے اس طرح نہیں جوڑتے جیسے کہ اسلام پسندوں کو آئے دن کٹہرے میں کھڑاکیا جاتاہے۔ اشتراکی دانشور جو امریکی دہشت گردی کے خلاف بولتے نہیں تھکتے ان کی زبان پر بھی روس کی شمولیت نے تالا لگادیا ہے۔ سلفوج زیزک  اس جنگ آزادی کو سماجی اور اقتصادی جدوجہد قرار دینے پر اکتفاء کرتا ہےناوم چومسکی مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار دینے سے نہیں چوکتا ۔ شام کے قدیم اشتراکی رہنما صادق جلال العظم کا کہنا تھاکہ روس اور چین بھی عالمی سرمایہ دارانہ استعماریت  کا حصہ بن گئے ہیں اس کے باوجود یہ اشتراکی ان کے وفادار ہیں ۔صادق اس کشمکش کو خانہ جنگی نہیں بلکہ حریت پسندوں کے خلاف حکومت کا جبر قراردیتے تھے ۔ روس کا معاملہ بھی عجیب ہے کہ وہ 35 ہزار مجاہدین کو شہید کرنے پر فخر جتاتا ہے اور اپنے سفیر کے انقرہ میں قتل کو دہشت گردی قرار دیتا ہے۔آندرے کارلوف کے قتل سےفتح کا جشن منانے والے روس اورایران کے ساتھ امریکہ کا چہرا بھی اتر گیا۔

عراق  اور افغانستان کے اندربراہِ راست فوجی  مداخلت   کی ناکامی کے بعد امریکہ نے ایک نیا حربہ  استعمال کیا ۔ اس نے داعش کے نام پر اپنے کرائے کے دہشت گرد عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں اتار دیئے۔ ان احمقوں نے ایسی سفاکی کا مظاہرہ کیا کہ پوری ملت اسلامیہ اور سارے اسلامی ممالک   ان کے خلاف ہوگئے۔ داعش کے ذریعہ مغرب نے اسلام کو بدنام کرنے کا بڑا کام لیا اور بشار کے خلاف شکست کی بدنامی سے بھی بچ گیا۔ داعش کا کھیل عراق اور شام میں ا ختتام  پذیر ہے۔ اس تجربے  کی ناکامی کے بعد امریکہ مشرق وسطیٰ میں  ایران کا قائل ہوگیا  ہے۔ یمن میں حوثیوں  کی کامیابی  کے بعد امریکہ  کا اعتماد  سعودی عرب سے اٹھ گیا  اس لئے  وہ ایران  کا ہمنوا بن گیا ہے ورنہ ایران کی اقتصادی پابندیوں کا اٹھنا تو ممکن تھا مگر امریکی ایوان میں11ستمبر کےمتاثرہ خاندانوں کیلئے سعودی عرب سے حرجانہ وصول کرنے کی اجازت کےقانون کا  منظور ہونا ممکن نہیں  تھا۔

حلب کا معرکہ   جنگ    مُوتہکی یاد دلاتا ہے جس میں مسلمانوں کو بظاہر شکست ہوئی تھی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کے تین سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ ؓ،  حضرت  جعؓفر طیاراور حضرت  عبداللہ بن رواحہؓ جیسے جلیل القدر صحابہ  نےبے مثال شجاعت کے مظاہرہ  کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا مگر کامیابی ہاتھ نہ آئی  بالآخر حضرت خالد بن ولید ؓکو ہنر مندی کے ساتھ واپس لوٹنے کا فیصلہ کرنا پڑا لیکن آگے چل کر  وہی ناکامی یرموک کی جنگ میں رومی سلطنت کے خاتمہ  کا شاخسانہ بنی۔اہل ایمان شکست سے دوچار تو ہوتے ہیں مگر اس کو  فراموش نہیں کرتے ۔ نبیٔ کریم ؐ نے رحلت سے قبل 26صفر 11ھ کو سریہ جہاد روم کے لیے تیار فرمایا جس میں حضرت صدیق اکبر ؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابوعبیدہ ؓ جیسے اکابر شامل تھے۔آپ ؐ نےحضرت زید بن حارثہ ؓ کے نوجوان بیٹےحضرت اسامہ بن زیدؓ  کواس آخری لشکر کا سپہ سالارمقرر کیا۔فوج کی روانگی سے قبل آپؐ کا وصال ہوگیا مگراسی لشکر نےشام کی فتوحات کے سلسلے کا آغاز کیا اوررمضان 16ھ میں حضرت ابوعبیدہؓ اور خالدبن ولیدؓ کی سربراہی میں  حلب پر چڑھائی کی  گئی جس کے بعد رومی جنرل یواخم  نے اسلام قبول کر لیا  اور اس کے چار ہزار سپاہیوں کو امان مل گئی۔  ان شاءاللہ  بہت   جلدمجاہدین اسلام پھر اپنی تاریخ دوہرانے کیلئےنئے حوصلے اور تیاری کے ساتھ  میدان ِمیں اترکر اپنی کامیابی کا پرچم لہرائیں گے ۔  بقول اقبال ؎

میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو             شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہوگا

مسئلہ شام کے بنیادی فریق ظالم حکمراں اور ان کے ظلم و ستم کا شکارمظلوم عوام ہیں۔ دیگر سارے فریقین کی ثانوی درجہ میں آتے ہیں ۔  بنیادی مسئلہ  46 سالہ جبرو استبداد کےنظام سے نجات ہے اس کے علاوہ باقی سارے مسائل فروعی ہیں ۔ شام کی  عوام کےاس بنیادی  حق  کو دنیا کی کوئی طاقت مسترد نہیں کرسکتی ۔ کسی غیر جانبدار اور ذی ہوش انسان  کیلئے اس سے انکار ممکن نہیں ہے۔   اپنے اس  بنیادی  حق کو حاصل کرنے کیلئے شام کے حریت پسند مجاہدین نے ماضی میں بھی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں اور مستقبل میں بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے یہاں تک کہ کامیابی ان کے قدم چومے گی۔ اس لئے کہ  ارشادِ ربانی ہے’’  یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا‘‘ْ۔   روس کی بے دریغ بمباری نے فی الحال مجاہدین کوایک محاذ پر عارضی طور پر پسپا ضرور کیا ہے مگر بقول مولانا ظفرعلی خان  ؎

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن               پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close