شخصیات

میرے عظیم محسن و مربی شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ

مقبول احمد سلفی

نوٹ : جامعہ سلفیہ بنارس میں زیر تعلیم سابق مدیر المنار جناب خبیب حسن مبارک پوری جن کی سند فضلیت کے مقالے کا عنوان ہے” شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ کی تعلمی خدمات”  جو استاد جامعہ شیخ محمد اسلم مبارک پوری حفظہ کی نگرانی میں ہے۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور استاد محترم کے بارے میں اپنے تاثرات لکھنے کی درخواست کی تو ان کی درخواست پر یہ چند سطور لکھ رہا ہوں۔

جامعہ سلفیہ بنارس اہل حدیث جماعت کا مرکزی ادارہ ہے، اس ادارے میں منہج سلف پربچوں کی تعلیم وتربیت کا بہترین انتظام ہے۔ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے طلبہ دین کی ہمہ جہت خدمت کے قابل ہوجاتے ہیں اور ہراعتبار سے منہج سلف کی ترویج واشاعت کرتے ہیں۔ بیشتر ممالک میں سلفی اخوان دین کی ہمہ جہت خدمات انجام دے رہے ہیں جس کے تعارف کا یہ مقام ہے۔ طلبہ جامعہ سلفیہ ہندوستان کے تمام تر جامعات کے طلباء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور امتیازی حیثیت سے جانےپہچانے جاتے ہیں۔ بایں سبب تحریر و تقریر، دعوت وتبلیغ، درس وتدریس، افہام وتفہیم، افکارونظریات، تحریک وتنظیم اور تعمیرانسانیت ومعاشرہ میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔

طلبہ کی تعمیر میں اساتذہ کی تعلیم وتربیت ہی سب کچھ ہے۔ منتظمین کا بھی رول اس حیثیت سے زیادہ ہے کہ وہ کس قسم کے اساتذہ کی بحالی کرتے ہیں ؟ ان سے کس طرح خدمات حاصل کرتے ہیں ؟ طلباء اور اساتذہ کے ساتھ تعامل کیسا ہے ؟  ان چیزوں کے باوجود طلباء کے بننے یابگڑنے میں اساتذہ کی ہی زیادہ جواب دہی ہے لہذا اساتذہ ہی بچوں کے روشن مستقبل، فکری عروج وارتقاء، علمی پختگی، حکمت وبصیرت اور وہبی صلاحیت کو جلابخشنے والا لاثانی مربی ہے۔

جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کرام کی جماعت ہندوستان بلکہ باعتبار ممالک متعددہ نمائندہ جماعت ہے جن پر فخر کیا جاسکتا ہے۔ مرور زمانہ اور جماعت اہل حدیث کی زبوں حالی کی وجہ سے اس وقت یہ جامعہ اپنا فخر وغرور کھوتا نظر آرہا ہے لہذا منتظمین کو اس حساس پہلو کی جانب شدت کے ساتھ التفاف کرکے گرتی ساکھ  کوسہارا دینے اور تمیزو تفخر کو پھر سے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

جامعہ سلفیہ کے انگنت روشن ستاروں میں ایک بے مثال ودرخشندہ ستارا میرے خاص مربی، مشفق ومحسن اورعظیم کرم گستر شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ ہیں۔ آپ کی سیرت میں حسن خلق،حسن تعامل،نرمی وبردباری، بے لوث شفقت، عادلانہ کردار، بلا اجر وباذوق رہنمائی، حسن تربیت کا انوکھاپن اورالفت وکرم کی دریا دلی   جیسے الفاظ حقیقت کا عملی جامہ ہیں ۔ اس کو ایک سلیس جملہ میں یہ کہہ لیں کہ آپ کی نادرانہ شخصیت کی ندرت نرمی واپنائیت اور باذوق تعلیم وتربیت کے دم سے ہے۔ میں نے آپ کی سیرت سے سیکھا کہ وہ نرمی جہاں خوف کا کوئی سایہ نہ ہواس سے ہربات بآسانی ہر دل میں اتار سکتے ہیں اور اپنائیت کے ساتھ بلاکسی اجر کی امید کئے باذوق انداز میں تعلیم وتربیت سے ادنی سا طالب علم بھی اعلی معیار کا معلم ہوسکتا ہے۔

جامعہ میں آپ کے زیرسایہ پھلنے پھولنے کا موقع ملا، آپ سے قربت کی اصل وجہ مزاج کی نرمی ہے۔ سخت مزاجی طلبہ میں دوری پیدا کرتی ہے۔ آپ سے فکروفن کی تعلیم وتربیت لینےمیں ہمیشہ آپ کی تلاش میں سرگرداں رہا، باربار ملتا رہا، پوچھتا رہا حتی کہ گھر پہ بھی چلاجایاکرتا۔ کبھی آپ نے ناگواری کا اظہار نہیں کیا بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ محبت کے پھول نچھاور کئے۔ آپ کی اسی خوبی سے ہزاروں طلباء جامعہ سلفیہ کو روشن مستقبل نصیب ہوا، ہزاروں طلباء محض آپ کی بے لوث تحریری، فکری، معاشی، تعلیمی، اصلاحی، رفاہی اور عصری ودینی گوناگوں ارشاد وتوجہ سے آج لاکھوں کی تعلیم وتربیت اور روشن مستقبل کے معمار بنے ہیں۔

حسن اتفاق کہ 2002 میں عالمیت کا مقالہ بعنوان ” اسلام کا معاشی نقطہ نظر” آپ کے زیر نگرانی لکھنے کا موقع ملا۔موضوع منفرد  تھا اور اس پہ اردو میں علمائے اہل حدیث کی خدمات بھی کم ہیں۔ جامعہ کی لائبریری کی کتابیں مقالہ کے لئے ناکافی تھیں تو میں نے دیوبند، لکھنؤ، دہلی اور ممبئ سے بہت ساری کتابیں منگوایا۔ اب کتابیں اس قدر ہوگئیں کہ مقالہ طویل ہونے لگا  اور ہوبھی گیا۔ شیخ محترم میری تحریر پہ رشک بھری نگاہیں ڈالتے اور مجھے رئیس الاحرام کا لقب دیتے۔ یہ مشفق ومحبوب استاد کی طرف سے خاکسار کے لئے سراپا خلوص سے بھری شفقت ومحبت تھی ورنہ میں اس قابل کہاں ؟ ۔ اسی طرحدکتور رضاء اللہ محمد ادریس رحمہ اللہ مجھے خطیب اسلام اور شیخ عبدالوہاب حجازی حفظہ اللہ پیار سے  شاعر اسلام کہتے۔ یہ سب خلوص ومحبت ہیں ورنہ دور طالب علمی میں کوئی ایسے القاب کا کیسے مستحق ہوسکتا ہے؟

بہرکیف! اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف تحریری رہنمائی سے مستفید ہونے کا موقع ملا بلکہ میں نے مستقبل کی تعمیر، فراغت کے بعد کی منصوبہ بندی، دینی اور عصری ہر دومحاذ پہ کام کرنے کی سوچ اور ٗٗبطور خاص بچے معاشیات کو لیکر زمانہ طالب علمی سے ہی فکر مند رہتے ہیں اور  گراں تنخواہ کی حصولیابی اور اونچے منصب کی چاہ میں بسا اوقات بہک بھی جاتے ہیں ۔ الحمدللہ آپ کی مصاحبت میں ان سب مسائل پہ گفت وشنید اور رہنمائی حاصل کرکے تخرج سے پہلے بہت سارے منصوبوں اور باتوں پر دل مطمئن تھاپھر فراغت کے بعد احساس کمتری کا شکار ہوئے بغیر ترقی کی منزل طے کرتا رہے۔

آج آپ کی شاگردی پر مجھے بیحد ناز ہے اور آپ کے لئے صمیم قلب سے پرخلوص دعائیں نکلتی ہیں۔ جامعات ومدارس کے تجربات کی روشنی میں وثوق سے یہ کہنے کے قابل ہوں کہ آپ جیسی  مرنجا مرنج صفات کے حامل استاد کو ہر کسی مدرسے میں ضرورت ہے۔ مدرسہ صرف پڑھنے پڑھانے کی جگہ اورمحض پڑھ لینے کا نام نہیں ہونا چاہئے بلکہ طلبہ کو حالات زمانہ سے آگاہی، دین کے ساتھ فکری شعور کی واقفیت، مسائل کا علم ہونے کے ساتھ معاملات کا ادراک، زبان کے ساتھ اظہاربیان کا مؤثر اسلوب اورموجودہ وسائل اعلامسے شناسائی اور ان کا صحیح استعمال، وقت کی نزاکتیں اور اس کی ضرورتوں کی سوجھ بوجھ بھی طلباء کے لئے تعلیم کی طرح بنیادی ضروریات میں شامل ہونا چاہئے اور ان  ساری ضرورتوں میں روح پھونکنے کا کام استاد محترم کیا کرتے تھے۔

2003 میں بچوں کے میگزین المنار کا ایڈیٹر تھا۔ یہ موقع بھی آپ سے سیکھنے، سمجھنے، بننے، کرنے، پھلنےاور پھولنے کابہترین موقع میسر ہوا۔ سال بھر مضامین، مقالے اور تحریری رہنمائی کے علاوہ آپ کی کئی خوبیوں سے فیضیاب ہونے کا سنہرا موقع دستیاب ہوا۔ یہ دو مواقع ایسے تھے جہاں نہ صرف سیکھنے کا موقع ملا بلکہ یہ سمجھنا بھی آسان بنادیا کہ استاد کسے کہتے ہیں، استادی کا ہنر کیا ہے، استاد کی رہنمائی کیا رنگ لاتی ہے اور کیسے استاد طلبہ میں تعمیرفکروفن کی روح پھونک سکتے ہیں ؟

آپ دوران گفتگو فرماتے کہ مجھے منبر پر چڑھنے سے ڈر لگتا ہے جیسے کوئی اوپر سے مجھے دھکیل دے گا اس لئے کبھی میں ممبر پر نہیں چڑھا۔ ویسے مجھ سے جتنا بولنے کو کہو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ جامعہ میں کبھی آپ کو ممبر سے خطبہ دیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا مگر آپ مسند علم پر بیٹھے دوسروں کو بولنے کا ہنراور لکھنے کا جادوجو سر چڑھ کر بولے سکھاتے رہے۔  آپ جامعہ سلفیہ سے رٹائرڈ ہوگئے، ذمہ داران کو پھر بھی  جامعہ میں رکھنا چاہئے تھا۔ زندگی کی کتنی  بہاریں دیکھ چکے مگر آج بھی آپ کی تحریروں میں وہی جاذبیت وشگفتگی اور فکروخیال میں ندرت وانوکھاپن پایا جاتا ہے۔آج میں جو کچھ بھی ہوں اس میں جامعہ سلفیہ کے تمام اساتذہ کرام کا خون جگر شامل ہے مگر وہ لہو جس سےقندیل علم شعلہ زن رہا، علم کوحکمت وبصیرت کا پر لگا، فکروخیال کو بالیدگی کا ہنر ملا، خامہ فرسائی کو سلیقہ تحریرکا ادبی ذوق ملا، زندگی کے پیچ وتاب کو سلجھانے کی قدرت وملکہ ملی۔ وہ مہربان وکرم گستر ومربی خاص شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ جامعہ سلفیہ کے تمام  وفات یافتہ اساتذہ کرامکی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں انہیں اعلی مقام دے، جو باحیات ہیں ان کی عمریں خدمت دین کے لئے درازکرے،اللہ تعالی میرے مربی خاص شیخ محمد ابوالقاسم فاروقی حفظہ اللہ کی زندگی میں برکت دے، آپ کی دینی کوششوں کو شر ف قبولیت سے نوازے، آپ کے زیر سایہ تعلیم وتربیت حاصل کرنے والے تمام طلباء کی خدمات میں آپ کا اجر نصیب کرے اور تادیر آپ کو امت کی رہنمائی ذریعہ بنائے۔ آمین

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

ایک تبصرہ

  1. شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ سوشل سائٹس میں کافی مقبول ہیں ۔عصری دینی مسائل پر کتاب وسنت کی روشنی میں موجود آپ کی تحریروں سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں ۔زیر نظر یہ تأثراتی مضمون بہت پسند آیا ۔انہوں نے اپنے استاد خاص شیخ محمد ابو القاسم فاروقی حفظہ اللہ کے تئیں اپنے جس عقیدت و احترام کا اظہار کیا ہے اس سے تلامذہ کو بہت زیادہ عبرت حاصل ہوسکتی ہے ۔یقینا آج کل ایسے مخلص اساتذہ کی بڑی کمی ہے اور اس سے بڑھ کر کہنے دیجئے کہ ایسے قدر شناس شاگردوں کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔اس استادی خلوص اور اس شاگردی جذبے کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں ۔

متعلقہ

Close