نقطہ نظر

ملک میں بڑھتی ہوئی شرپسندی ایک لمحۂ فکریہ

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

 ان دنوں ہمارا ملک ہندوستان بڑی عجیب صورت حال سے گزررہا ہے،ایک اضطراب وبے چینی کا ماحول دن بدن بڑھتے ہی جارہا ہے، خوف وہراس، بدامنی ونفرت انگیزی کی فضاہموارہوتی جارہی ہے،شرپسند عناصروفرقہ پرست افراد ظلم وتشدد کا کھیل کھیلنے میں لگے ہوئے ہیں اور اسلام دشمنی کو فروغ دینے کے لئے نت نئی کوششیں کی جارہی ہیں۔ایک طرف حکومتی سطح پر زیادتی اور شریعت میں مداخلت کی منصوبہ بند سازش کی جارہی ہے اور مرکزی حکومت نے باضابطہ شریعتِ اسلامی میںمداخلت کا آغاز طلاق ِ ثلاثہ بل کے ذریعہ کردیا ہے اور وہ اس کو پارلیمنٹ میں منظورکروانے میں کامیاب بھی ہوچکی ہے،اس طرح وہ شریعت میں مداخلت اور مسلم پرسنل لا پر پابندی لگانے کی منظم کوشش میں لگی ہوئی ہے،اورمسلمانوں کی مذہبی آزادی کوسلب کرنے، اسلامی تشخص پر روک لگانے کی فکر میں ہے،جب کہ ہمارے وطن عزیز کا آئین ودستور ہمیں اپنی شریعت پر پوری آزادی کے ساتھ عمل آوری کی اجازت دیتا ہے اور کسی کوبھی کسی کے بھی مذہب اور پرسنل لامیں مداخلت کا حق نہیں دیتا،لیکن آئین وستورکے خلاف،حق وانصاف کے مغائرظالمانہ اور جابرانہ قانون مسلط کرنے کے درپے ہے۔ دوسری طرف مرکزی حکومت کی چشم پوشی کی وجہ سے فرقہ پرست، شدت پسند، شرانگیزتنظیموںکے خون آشام بھیڑئیے مسلمانوں پر ظلم وتشدد کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں۔آئیے دن ملک کے مختلف مقامات پر ظلم وبربریت کے وحشیانہ واقعات رونماں ہورہے ہیں۔راجستھان کے ایک گاؤں میں افرازل نامی مسلمان کو نہایت بے دردی کے ساتھ مارمارکرہلاک کردیاگیا،اس سے قبل بہت سے مسلمانوں کو اسلام دشمن اورملک وطن میں نفرت کے ماحول کو عام کرنے والے درندوں نے اپنے ظلم کا نشانہ بنایااورگاؤکشی وغیرہ کے نام پر اپنی درندگیت کا شکار ہوئے۔اس طرح کے دلخراش واقعات کی مرکز ی حکومت کی جانب سے سخت مذمت نہ کئے جانے اور ان ظالموں کو بے لگام چھوڑدینے کی وجہ سے ان کے حوصلے مزید بڑھ چکے ہیں اور ان کی حیوانیت میں اضافہ ہوچکا ہے اوروہ ان علاقوں میں اپنی درندگیت کو پھیلانا چاہتے ہیں جو کہ امن وامان، باہمی محبت وتعلق میں ایک مثال سمجھتے جاتے ہیں،جہاں فرقہ واریت، مذہنی نفرت کی شدت نہیں تھی۔

 ابھی تازہ او ر نہایت روح فرسا واقعہ آندھراپردیش کے شہر راجسمندری میں پیش آیا۔28 ڈسمبر2017ء کی شب راجمندری سے دس کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں ’’تالہ چیرو‘‘میں مسجد نورانی کے اندر چند فرقہ پرست عناصر داخل ہوئے، مسجد میں آرام کرنے والے مؤذن ونائب امام جناب فاروق حسین صاحب کو بڑی بے دردی اور وحشیانہ انداز میں مارکر ہلاک کردیا،دھاردارہتھیار سے حملہ کرکے بُی طرح قتل کردیااور منبر کے پاس موجود قرآن ویگر حدیث کی کتابوں کو نذرِ آتش کردیا،محمد فاروق صاحب جو 60سال کے تھے، ریاست ِ بہار سے ان تعلق تھا اور وہ گزشتہ چندماہ سے یہاں پر مؤذنی کی خدمات انجام دے رہے تھے،خوش مزاجی وملنساری کی وجہ سے ہر دل عزیز بھی تھے، لیکن ان کے اسلامی وضع قطع ظالموں کو پسند نہیں آئی اور انہوں نے ان کو نے بُری طرح شہید کیا،اورمسجد کی بھی بے حرمتی کی۔

آندھراپردیش میں پیش آنے والے اس المناک واقعہ سے پورے ملک میں غم والم برپاہوگیا،جنوبی ہند کے حالات اوربالخصوص تلنگانہ وآندھراپردیش کے حالات دوسری ریاستوں کے مقابلے بہتر اور پر امن سمجھتے جاتے رہے اوریہاں مسلمانوں کے روابط غیر مسلموں سے اچھے رہے ہیںمسلمان اور غیر مسلم ایک ساتھ خوشی اور اطمینان کے ساتھ رہتے ہیں،دلوں مین ایک دوسرے کے خلاف غیض وغضب بھی نہیں ہوتا، لیکن نہ جانے کب سے فرقہ پرست عناصرکی آنکھوں کو یہ خوش گوار ماحول کھٹک رہاتھااور وہ یہاں کی محبتوں والی فضاء کو بھی زہر آلود کرناچاہ رہے تھے۔ چناںچہ اس واقعہ نے سب کو حیران کردیااور تشویشناک صورت پیداکردی کہ آخر یہ انسانیت دشمن عناصر کہاں کہاں پنپ رہے ہیں اور کس طرح موقع کی تلاش میں رہ رہے ہیں اور اپنے کالے کرتوں سے علاقوں کی پُرامن فضااور خوشگوارماحول کو تاریک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔مسلمانوں نے اس واقعہ کے بعد بالخصوص آندھراپردیش میں شدید احتجاج کیاتویہ تیقن دیا گیا کہ48 گھنٹوں میں خاطیوں اور قاتلوں کو پکڑاجائے گا،اور چیف منسٹرآندھراپردیش چندرابابونائیڈواس واردات کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کرنے کاتیقن دیا ہے۔

 اس افسوس ناک واقعہ کے دوسرے دن یعنی29 ڈسمبر کی رات تلنگانہ کے علاقہ جگتیال کے منڈل ’’ملاپور‘‘ کی ایک مسجد میں بھی شرپسندوں نے مسجد کی بے حرمتی کی اور قرآن مجید وجائے نماز کو جلاڈالا،صبح فجر کی اذان دینے جب مؤذن صاحب مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ جائے نماز اور قرآن کریم کے نسخے جل رہے ہیں،تب انہوں نے مقامی ذمہ داروں کو اطلاع دی اور پھر آنا فانا پورے علاقے اور اطراف واکناف اور شہر کریم نگر کوبھی اس واقعہ کی خبر پہنچ گئی، مسلمان اس واقعہ سے مشتعل ہوگئے،نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اوراحتجاج کیاگیا، پولیس نے فوری قابو پانے کے لئے کاروائی شروع کی اور24 گھنٹوں میں خاطیوں کو گرفتارکرنے کے تیقن پر مسلمانوں کواطمینان دلایا۔ان دونوں واقعات کا تعلق تلنگانہ وآندھرا سے ہے،اچھے ماحول کو خراب کرنے اوردلوں میں نفرتوں کو پیداکرنے،ہندومسلم تفریق کوجنم دینے، باہمی خلوص ومحبت کو مذہب کے نام پر بانٹنے کی یہ ایک گہری اورمنصوبہ بند سازش ہے۔

ہماراملک جہاں بہت سارے مسائل درپیش ہیں، بے روزگاری،مہنگائی نے پریشان کر رکھا ہے، اورملک کے باشندوں کی بہت ساری ضرورتیں حل طلب ہیں،ان تمام کو پس ِ پشت ڈال کر ایک خاص ماحول کوپروان چڑھانے اور ایک مخصوص نظریہ اور سوچ کی ترویج واشاعت میں فرقہ پرست تنظیمیں لگی ہوئی ہیں۔ملک کی ترقی اور کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے شہریوں کو امن وسکون فراہم کیا جائے،مسائل ومشکلات کو دورکرنے کی کوشش وفکر کی جائے، ملک کی نیک نامی اور بین الاقوامی شہرت وپذیرائی کے لئے ملک کو پرامن بنانااور ایک کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے ورنہ ملک بھی بدنام ہوگا،لوگ بھی پریشان رہیں گے اور ہر طرح کا امن وسکون غارت ہوگا،ایک دوسرے کے خلاف غیض وغضب کی چنگاریاں بھڑکتے رہیں گی۔

جو لوگ آج مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک اور سوتیلا برتاؤ کرنے کی کوشش میں ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے اس ملک کی تعمیر وترقی میں دل وجان سے مسلمان شریک رہے ہیں،اور روزِ اول ہی اس کی آزادی، ترقی، کامیابی کے لئے جدوجہد کرنے میں مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں، اپنے خون ِ جگر سے مسلمانوں نے گلشن ِ ہند کی آبیاری کی، جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس کا تحفظ کیا،مال ومتاع کو لٹاکر آزادی کے خواب پورے کئے، دیوارِ آہنی بن کر انگریزوں کے سامنے جمے اور ڈٹے رہے، اس ملک کی طرف نگاہِ بد اٹھانے والوں کے خلاف ہر وقت سینہ سپر رہے، بلاتفریق مذہب وملت سب کے لئے اس چمن کو سجانے، گلہائے رنگارنگ سے آراستہ کرنے، دیدہ زیب وخوش نما بنانے اور لٹیروں کے ہاتھ سے اپنے آباء واجداد کی پونجی وسرمایہ کوبچانے کے لئے مسلمان میدان ِعمل میں شروع سے کوششیں کرتے رہے،یہ ملک کسی ایک کی جاگیر نہیں اور نہ ہی مٹھی بھرفرقہ پرست اس کے ہرطرح کے مالک ہیں۔ لیکن ان نفرت کے سوداگر اور امن ومحبت کے دشمن خوف ودہشت کا ایک ہیبت ناک ماحول قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں،اورمسلمانوں پر عرصہ ٔ حیات کو تنگ کرنے کی فکر میں ہے،شریعت میں مداخلت اور زندگی سے چین وسکون کو ختم کرکے بے چین رکھنا چاہتے ہیں، ان کے دل انسانی ہمدردی سے خالی اور ان  کے ذہن ودماغ میں حیوانیت بسی ہوئی ہے،جو خون ِ مسلم سے اپنی پیاس بجھانا چاہتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات اور واردات پر سخت ردِ عمل ظاہر کرے،مجرموں، قاتلوں،شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کرے،شرانگیزی کرنے والوں اور نفرت پھیلانے والوں پر لگام کسے، زبان وعمل سے جو مسلمانوں کے خلاف بلکہ اقلیتوں کے خلاف ہیں زہر اگل رہے ہیں ان پر پابندی عائد کی جائے، اور امن وامان، سکون واطمینان کے لئے ہر ممکنہ کوشش کرے۔

 اور اس بات کو فراموش نہ کریں کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو پھر اس کے مٹنے کے دن بھی قریب آجاتے ہیں،بے قصور وں کا خون رائیگاں نہیں جاتا،مظلوموں کی آہیں اپنا اثرضرور رکھتی ہیں، اورظالموں کے ظلم وجور سے اللہ غافل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں مہلت دی ہے اور وہ ضرور ظالموں کواور اپنے بندوں کے ساتھ جبر و تشدد کرنے والوں کو سخت پکڑ میں لے گا۔ان حالات میں مسلمانوں کو مایوس اور ناامید بھی نہیں ہونا چاہیے۔ دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے،سیکولراور صاف ذہن لوگوں سے روابط وتعلقات استوارکرنا چاہیے،اسلام کی حقانیت اور پیام ِ انسانیت کو پیش کرنا چاہیے، اورملک کی سلامتی وتحفظ، امن وامان کے لئے دعا کے ساتھ عملی اقدامات کی بھی کوشش کرنا چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close