سیاست

مسلمانوں کو قائد کی ضرورت ہے، دلال کی نہیں

حفیظ نعمانی

ہم نے الیکشن سے چند روز پہلے ہی صورت حال کو دیکھتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا تھا کہ آنے والے الیکشن ملک کی تاریخ کے سب سے اہم الیکشن ہیں اس موقع پر اگر کسی نے مسلمان ووٹ اور مسلمان اُمیدوار کی بات کی تو ہم معاف نہیں کریں گے۔ یہ بات ہم نے اس کے باوجود لکھی تھی کہ ہم سب سے زیادہ قیادت کی کمی کو محسوس کررہے ہیں اور ہم نے ہی 17 مارچ کو لکھا تھا کہ 1948 ء میں مولانا آزادؒ نے لکھنؤ میں مسلم کانفرنس بلاکر مسلمانوں سے کہا تھا کہ اب وہ اپنی کوئی تنظیم نہ بنائیں اور جمعیۃ علماء سے کہا تھا کہ وہ اب سیاست کو چھوڑکر مسلمانوں کی تعلیم پر توجہ دے۔ جس پر عمل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء نے جماعت کے طور پر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور جو سیاست میں ہی رہنا چاہتے تھے جیسے مولانا حفظ الرحمان، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی، مولانا اسماعیل سنبھلی، مولنا عبدالسمیع، مولانا منظور نعمانی خان جہاں پوری وغیرہ وہ سیاست میں رہے۔

اور ہم نے یہ بھی لکھ دیا تھا کہ 18  سال کے بعد ہی مولانا حفظ الرحمان نے اندازہ کرلیا تھا کہ سیاست سے کنارہ کشی اب ٹھیک نہیں ہے اور آل انڈیا مسلم کنونشن بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ مولانا کینسر کے مرض کا مقابلہ نہ کرسکے اور اپنے مولا کے پاس چلے گئے۔ ان حوالوں کے بعد ہم نے جمعیۃ علماء سے درخواست کی تھی کہ وہ اب قیادت اپنے ہاتھ میں لے لے۔ پوری دنیا کو معلوم ہے کہ مولانا ارشد میاں مدنی جو کام کررہے ہیں وہ پورے ملک کے مسلمانوں میں کوئی نہیں کررہا ابھی چند روز ہوئے انہوں نے مظفرنگر کے فساد زدگان کو 80  مکانوں کی چابیاں سپرد کی ہیں اور ان بدنصیبوں کی تعداد بھی 100  سے زیادہ ہوچکی ہوگی جن کو فرضی دہشت گردی کے الزام میں برسوں سے جیل میں ڈال رکھا تھا ان کو مولانا ارشد میاں نے آخری عدالت تک سے رِہا کرانے میں کروڑوں روپئے خرچ کئے ہوں گے اور مولانا نے کبھی نہیں کہا کہ مسلمان کسے ووٹ دیں اور کسے نہ دیں یا کون پارٹی کس مسلمان کو ٹکٹ دے اور کسے نہ دے۔

دو دن پہلے ایک حقیر پارٹی جو اپنے نام کے ساتھ علماء کا تمغہ بھی لگائے ہوئے ہے اور جو برسوں سے سیاسی پارٹیوں کی دلالی کررہی ہے اس نے ہمارے منع کرنے کے باوجود اپنا وہی روپ دکھانا شروع کردیا ہے جس کیلئے وہ بدنام ہے۔ اسے شکایت ہے کہ اُترپردیش میں متحدہ محاذ بناتے وقت کسی مسلمان پارٹی سے معلوم نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کیلئے کتنی سیٹیں مانگ رہی ہے؟ اس لئے اس نے ہمیشہ کی طرح اعلان کردیا ہے کہ وہ 30  سیٹوں پر اُمیدوار کھڑے کرے گی۔ ایک اور پارٹی اتحاد المسلمین ہے جس کے چیف اسدالدین اویسی صاحب ہیں۔ انہوں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ وہ اُترپردیش سے بھی ایک سیٹ پر الیکشن لڑیں گے۔ لیکن ہمارے تیور دیکھ کر یا کسی کے سمجھانے سے انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اُترپردیش میں کسی کو نہیں لڑائیں گے۔ اویسی صاحب خود ممبر پارلیمنٹ ہیں ان کے بھائی ایم ایل اے ہیں تلنگانہ میں ان کی پارٹی کے سات ممبر ہیں ملک میں وہ کئی جگہ الیکشن لڑچکے ہیں اورنگ آباد میں کارپوریشن پر ان کا قبضہ ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔

ہمارے سامنے جس پارٹی کی خبر ہے اس کا نہ کوئی ایم پی ہے نہ ایم ایل اے اور شاید اعظم گڑھ کا چیئرمین بھی نہیں۔ اعظم گڑھ کے کئی ممتاز حضرات نے اس پارٹی کے بنانے والوں کی پوری تفصیل بتادی ہے اور ہر الیکشن میں وہ جو کرتے ہیں وہ بھی سامنے آجاتا ہے اس کے باوجود پھر یہ کہنا کہ اتنے یہاں سے اور اتنے وہاں سے کھڑے کریں گے جن میں وہ اکھلیش بھی ہیں جن کو شری عامر رشادی کی حقیقت بتانے والے سیکڑوں ہیں ان کے مقابلہ پر کھڑا کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ بڑے لیڈر ہیں وہ ڈرکر موٹی رقم دے دیں گے۔

ہم ان سے یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اب الیکشن کو کاروبار بنانے کے بجائے کوئی کاروبار کرلیں اور اپنے عظیم والد ماجد کی روح کو نہ تڑپائیں۔ مولانا ارشد مدنی نے آج تک کبھی نہیں کہا کہ انہوں نے مظفرنگر میں کتنے مکان بناکر دیئے ہوسکتا ہے وہ دو سو سے بھی زیادہ ہوں اور کتنے کروڑ روپئے خرچ کرکے کیرالہ کے قیامت خیز سیلاب میں کتنے مکان بناکر دیئے اور کتنے مکانوں کی مرمت کرائی نہ انہوں نے کبھی اس کا ذکر کیا کہ انہوں نے پورے ہندوستان میں کتنے مسلمانوں کو باعزت رِہا کرانے میں کتنے روپئے خرچ کئے اور کتنے مقدمے زیرسماعت ہیں اور نہ یہ کبھی بتایا کہ بابری مسجد کے مقدمہ میں کتنے کروڑ روپئے وہ خرچ کرچکے۔ شری عامر یہ بتائیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے اور مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے سے پہلے اپنی صورت آئینہ میںدیکھ لیں۔

ہم بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں کو قیادت کی ضرورت ہے لیکن قائد گلی گلی آواز لگاتے نہیں گھومتے ہیں کہ قیادت کرالو یہ تاریخ ہے کہ مسٹر جناح مایوس ہوکر لندن چلے گئے تھے پھر جب مسلم لیگ کے تمام لیڈروں نے محسوس کیا کہ جناح صاحب کو بلایا جائے تب ان کے بلانے پر وہ آئے اور قیادت ہاتھ میں لی یہ فیصلہ ٹھیک تھا یا غلط بہرحال حقیقت ہے۔ کبھی کسی کو مانگنے سے قیادت نہیں ملا کرتی مودی کو آر ایس ایس نے قیادت دی ہے۔ مسلمان بھی جب تک اجتماعی طور پر درخواست نہیں کریں گے مولانا ارشد میاں تیار نہیں ہوں گے۔ اور وہ اب تک اگر خاموش ہیں تو اس لئے کہ ہر شہر میں چھوٹے چھوٹے دلال بیٹھے ہیں اور دشمنوں سے پیسے لے کر ووٹ فروخت کرتے ہیں یا دوسرا کام یہ ہے کہ اُمیدوار کھڑے کرو اور مسلمانوں کے ووٹ متحدہ محاذ کے بجائے خود لے لو اب اگر مسلمان نے مسلمان آزاد کو یا کانگریسی مسلمان کو ووٹ دیا تو اس نے اپنے خلاف ووٹ دیا۔ ہر مسلمان کو آنکھ کھول کر ووٹ دینا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

2 تبصرے

  1. معزرت کے ساتھ جناب آپ تو خود اکھیلیش کی دلالی کر رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے. دوسروں کو دلال اور بکاؤ کہنے سے کام نہیں چلنے والا.
    آپ ہی کوئی حل بتاؤ.
    ابھی کل تک آپ بھی رونا رو رہے تھے اور ارشد مدنی صاحب بھی کہ کانگریس سمیت کوئ بھی سیاسی پارٹی اب مسلمانوں کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی، سیاسی طور سے اچھوت بنا دیا گیا ہے. آپ ہی بتا دیں کہ قوم کب تک ان سو کالڈ سکولر پارٹیوں کو فری میں ووٹ دے، اور وہ ہمارا کوئ کام تو چھوڑیئے نام تک لینا پسند نہ کریں.
    یہ قوم اپنی بھلائی، اپنی سیاسی اہمیت، یا بالا دستی کے لیے کیا کرے؟ ہے کوئ فارمولہ آپ کے پاس تو بتائیے.
    آپ ہی جیسے نا عاقبت اندیش لوگوں کی وجہ سے قوم مسلم کا یہ حا ل ہے. جب کبھی کسی درد مند قوم نے اپنی پارٹی یا اپنی قیادت کی بات کی، اپنی حصہ داری کی بات کی تو غیر تو بعد میں پہلے آپ جیسے لوگوں نے ہی اسے قوم کا دلال، ووٹ کٹوا، بی جے پی کا ایجنٹ اور نہ جانے کیا کیا بولا. اگر آپ کو انکی غلامی منظور ہے تو کریں ہم تو کسی کی غلامی نہیں کرنے والے، ہم آزاد ہیں. اور نہ ہی خیرات کی طرح ووٹ بانٹنے والے.

  2. ستر سال سے مسلمان ووٹ بی جے پی کو ہرانے کے لیے ہی کانگریس کو یا دوسری سکیولر پارٹیوں کو ووٹ دے رہا ہے. لیکن نتیجہ؟ بی جے پی 2 سیٹ سے 280 سیٹ تک اور 17 اسٹیٹ تک جیت گئی. من حیث القوم انکو ووٹ دے کر ہم نے حاصل کیا کیا. سوائے بربادی، تباہی، ذلت و رسوائی، دنگے فساد.
    قوم کی دلالی اور غلامی ان سو کالڈ سکولر پارٹیوں میں شامل مسلمان کر رہے ہیں. نہ کہ آزاد امیدوار. یوپی میں آپ کے اکھیلیش نے 2013 میں دنگا کروایا اس وقت تقریبا 69 مسلم MLA تھے کتنوں کی آواز بلند ہوئ. یہ لوگ قوم کے دلال اور سکیولر پارٹیوں کے غلام ہیں. مسلم مسائل کو لیکر اسمبلی میں کتنی آواز بلند کی؟ ایک بار بھی نہیں اگر چاہتے تو ملکر اس وقت پوری اکھیلیش حکومت کو ہلا دیتے.
    اسی طریقے سے مسلم مسائل کو لیکر پارلمنٹ میں سکیولر پارٹیوں کے مسلم امیدوار نے کتنی آواز بلند کی؟ ایک بھی نہیں. کیونکہ سب اپنی پارٹی کے غلام ہیں. کو ئ ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، کسی کو پارٹی بولنے نہیں دیتی.
    آپ جنکو قوم کا دلال، بی جے پی کا ایجنٹ بول ریے ہیں نہ انہوں نے ہی ہماری آواز بلند کی. پتہ ہے آپ کو انہیں قوم کے دلالوں نے (اویسی. اجمل) پارلمنٹ میں سب سے زیادہ بار سوال کیا اور ہماری آواز کو بلند کیا.
    اس لئے ہمیں یہ دلال ہی پسند ہیں. نہ کہ آپ کی سو کالڈ سکولر پارٹیاں.
    خدا را اب آپ کانگریس کی اور اکھیلیش کی دلالی بند کرئیے اور مسلم قیادت کو دلال، بکاؤ، بی جے پی کا ایجنٹ کہ کر قوم کو گمراہ نہ کریں.

متعلقہ

Back to top button
Close