سیاست

میں اُسے سمجھوں ہوں دشمن جو مجھے سمجھائے ہے

حفیظ نعمانی

جو لوگ خبروں سے باخبر رہنا چاہتے ہیں انہوں نے کل دیکھا ہوگا کہ بڑے بڑے مال جہاں خریداروں کا میلہ رہتا تھا اور سونے چاندی کی وہ دُکانیں جن پر بڑے گھرانوں کی خواتین زیور خریدتی نظر آتی تھیں سونے پڑے تھے۔ ایک منیجر نے جو مال میں لاکھوں روپئے کا سامان ایک گھنٹہ میں فروخت کرتے تھے بتایا کہ اب صرف 30  فیصدی خریداری ہورہی ہے اور زیورات کے تاجروں نے کہا کہ نوراتر اور دسہرہ تو سوکھا گذر گیا اب دیوالی والے خریدار بھی نظر نہیں آرہے۔ ان میں سے کسی نے نہ تو نوٹ بندی کا نام لیا اور نہ جی ایس ٹی کا بس یہ کہا کہ کاروبار خطرے میں ہیں۔

چند دن پہلے ہی بی جے پی کے بزرگ لیڈر یشونت سنہا نے جو 1998 ء میں بننے والی اٹل بہاری باجپئی حکومت میں وزیر مالیات تھے اپنے ایک مضمون میں تفصیل کے ساتھ ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی اور اقتصادی حالت پر ارون جیٹلی کو متوجہ کیا تھا۔ اگر جیٹلی انہیں اپنے سیاسی خاندان کا ایک تجربہ کار بزرگ سمجھ کر اس مضمون کو غور سے پڑھتے اور یشونت سنہا کو دہلی بلاکر مشورہ کرتے تو ہر کسی کی نظر میں یہ آجاتا کہ واقعہ جیٹلی 128  کروڑ ہندوستانیوں کی فکر میں وہ سب کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی زندگی میں کوئی مشکل نہ رہے۔

یشونت سنہا اپنے کہنے کے مطابق 80  سال کے ہیں لیکن وہ پوری طرح صحتمند ہی نہیں چاق و چوبند بھی ہیں چال ڈھال بات چیت اور ملک کی فکر میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا ایک بزرگ کو ہونا چاہئے۔ یہ اندر کی بات تو ہم نہیں جانتے کہ 2014 ء میں مودی نے انہیں ٹکٹ نہ دے کر ان کے بیٹے کو کیوں دیا تھا؟ اور ان کے بیٹے نے ایسی پارٹی کا ٹکٹ کیوں قبول کیا تھا جس نے ان کے باپ کی توہین کی تھی۔ اور پھر مودی جی نے بیٹے کو وزیر بھی شاید اس لئے بنا دیا تھا کہ وہ اپنے باپ کی لگام بن جائے گا۔ لیکن یہ سب اپنی جگہ یشونت سنہا نے اپنی ذمہ داری پوری کی اور کہا کہ ملک کے جیسے حالات ہوگئے ہیں ان میںکوئی سوچنے والا اگر خاموش رہا تو وہ ملک کا دشمن ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کا جملہ دہرایا ہے کہ پارٹی سے بڑا ملک ہے اور جی ڈی پی میں مسلسل گراوٹ خود حکومت تسلیم کررہی ہے۔

یہ ایک بہت بڑی کمزوری ہے کہ جو وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالتا ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی وزارت میں کوئی اس سے زیادہ تجربہ کار، قابل اور محترم نہ ہو۔ اب وہ زمانہ تو رہا نہیں کہ پارٹی سب کچھ ہوتی تھی اور وہی وزیراعظم اور وزیروں کا فیصلہ کرتی تھی حد یہ ہے کہ کون سا محکمہ کس کے پاس رہے گا یہ بھی پارٹی ہی طے کرتی تھی۔ اس روایت کو سب سے پہلے اندرا گاندھی نے توڑا اور وہ کامیاب اس لئے ہوئیں کہ پارٹی بھی وہی تھیں اور وزیر اعظم بھی وہی۔ اس کے بعد راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے اپنی منڈلی کو وزیر بنا لیا اور ارون نہرو نام کے ناکارہ کو دست راست بنا لیا جس نے بابری مسجد کا تالا بھی راجیو سے کھلوا دیا اور اُترپردیش سے تیواری جی کو ہٹاکر سب سے بڑے بے ایمان ویر بہادر کو وزیر اعلیٰ بنایا اور میرٹھ کے مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ نہرو خاندان کی بربادی کا سبب بنا۔ اور راجیو گاندھی ٹکڑوں میں بکھر گئے۔

مودی جی کی یہ توہین نہیں ہے کہ اڈوانی جی، جوشی جی، یشونت سنہا کے مقابلہ میں ان کی تعلیمی حیثیت بہت کم ہے۔ مودی اگر ان تینوں کو بھی وزارت میں لے لیتے تو ایسی من مانی نہیں کرسکتے تھے جیسی وہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کی یہ بات صرف کہنے کی ہے کہ پارٹی سے ملک بڑا ہے۔ ان کا عمل یہ ہے کہ سب سے بڑے وہ خود ہیں یا آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اس کے بعد سنگھ جس کا مکھوٹا بی جے پی ہے اور اس کے بعد ملک ہے۔ ان کا نوٹ بندی کا فیصلہ ہو یا جی ایس ٹی ایک بھی ملک کو سامنے رکھ کر نہیں لیا گیا۔ نوٹ بندی صرف اترپردیش میں حکومت بنانے کے لئے لیا اور جی ایس ٹی ان چھوٹے کاروباریوں کی کمر توڑنے کے لئے نافذ کی جو علاقائی سیاسی پارٹیوں اور علاقائی لیڈروں کی مدد کرتے تھے۔ انہوں نے بہت سوچ کر وہ کیا ہے جس سے حکومت کا خزانہ ابلنے لگے اور ان کے 13  رتن یا بابا رام دیو ملک کی باقی دولت سمیٹ لیں۔

بابا رام دیو کا نہ خاندان صنعت کار ہے نہ ان کی تعلیم وہ ہوئی لیکن پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ بابا ہر دن 13  اور 15  جڑی بوٹیوں سے ایک ایسی چیز بناکر ٹی وی کے ذریعہ ملک کو دکھا رہے ہیں جس کی ہر غریب اور امیر کو ہر وقت ضرورت ہے۔ اور وہی اس کا تعارف کراتے ہیں اور اس کا فائدہ بتاتے ہیں۔ کیا ان کی حیثیت جھولا چھاپ ڈاکٹر کی نہیں ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر وزارت میں یہ بزرگ ہوتے تو وہ ضرور اس کی فکر کرتے کہ رام دیو یا دو کیسے بابا آسارام کی طرح یا رام رہیم کی طرح ہر صوبہ اور ہر شہر میں کارخانے لگاتا چلا جارہا ہے اور کون ہے جس نے اسے خزانہ پر بٹھا دیا ہے کہ جتنا چاہو لے لو۔

وزیر مالیات جیٹلی کو جواب دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے تھا کہ وہ عمر میں ہی بزرگ نہیں ہیں سیاست میں بھی بزرگ ہیں وہ ہمیشہ الیکشن جیت کر آئے اور وزیر بنے جبکہ جیٹلی اٹل جی کی حکومت میں بھی چور دروازہ سے آئے تھے اور اب کی بار تو امرتسر میں ہارکر آئے ہیں۔ ایسے وزیر کو سر جھکاکر صرف کام کرنا چاہئے اس لئے کہ اس کی حیثیت وزیر کی نہیں پرائیویٹ سکریٹری کی ہے جس کی پشت پر عوام نہیں ہیں۔ انہیں مودی جی نے شاید وزیر مالیات بنایا ہی اس لئے ہے کہ فیصلہ مودی جی کریں اور اس کا نفاذ وزارتِ مالیات کی طرف سے ہو جی ایس ٹی کانگریس بھی نافذ کرنا چاہ رہی تھی اس لئے وہ اس کی مخالفت نہیں کررہی بلکہ یہ کہہ رہی ہے کہ جلدی کردی اور یشونت سنہا نے بھی یہی کہا ہے کہ تیاری کے بغیر نافذ کردیا۔ اور ہمارا خیال یہ ہے کہ وزیر مالیات کی ناتجربہ کاری اس کی ذمہ دار ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ جن لوگوں نے ٹیکس حکومت کو دے دیا وہ روپئے کا انتظار کررہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close