سیاست

پولیس کے مقابلہ میں بھیڑ زیادہ بااثر ہے

حفیظ نعمانی

ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ دنوں کی بات ہے کہ ہریانہ کے ایک قصبہ میں جہاں کم تعداد میں مسلمان بھی آباد تھے ایک مسلمان نے ایک اسکول کھولا تھا جس میں پڑھانے والی صرف ایک مسلمان لڑکی تھی باقی سب ہندو تھیں۔ مسلمان ٹیچر کا طریقہ تھا کہ جو تہوار بھی آتا تھا اور دوسرے دن چھٹی ہوتی تھی وہ بچوں کو اس کی حقیقت تفصیل سے بتاتی تھیں اور یہ بھی کہ جب کوئی معلوم کرے کہ کاہے کی چھٹی ہے تو بتا سکو کہ کس تہوار کی ہے اور کوئی معلوم کرے کہ اس میں کیا ہوتا ہے تو بچے بتاسکیں کہ کیا کیا ہوتا ہے۔

عید یا بقرعید کی چھٹی ہونے والی تھی اس ٹیچر نے بچوں کو بتایا کہ عید کیوں منائی جاتی ہے اور اس میں صبح اٹھ کر غسل کیا جاتا ہے جو اچھے سے اچھے کپڑے جو میسر ہوں وہ پہنے جاتے ہیں ہر بڑے اور چھوٹے کی طرف سے فطرہ دیا جاتا ہے پھر نماز پڑھی جاتی ہے اور گھروں میں اچھے اچھے پکوان پکتے ہیں جو عید ملنے کے لئے آنے والے ہر عزیز اور دوست کو کھلائے جاتے ہیں اور گھر کے بڑے بچوں کو عیدی کے نام سے پیسے دیتے ہیں۔

اس قصبہ میں ایک بجرنگی بابا بھی رہتے تھے انکے پوتے پوتیاں بھی اسی اسکول میں پڑھتے تھے۔ بجرنگی بابا نے معلوم کرلیا کہ کل کاہے کی چھٹی ہے۔ بچوں نے ساری تفصیل سنادی جسے سن کر ان کی ہندوتا جوش مارنے لگی انہوں نے اپنے دو چار ساتھیوں کو جمع کرکے کہا کہ اس اسکول کی مسلمان ٹیچر نے سب بچوں کو عید کی نماز پڑھائی ہے۔ انہوں نے سنا اور کہہ دیا کہ اس کے مالک سے شکایت کرنا چاہئے۔ بجرنگی بابا نے کہا کہ نہیں ہم اس سے بچوں کا دھرم بگاڑنے کے جرم میں پانچ لاکھ روپئے لیں گے اور ان روپیوں سے اپنے پاٹھ شالہ کھلوائیں گے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ان سے کون پانچ لاکھ روپئے لے پائے گا اس کے تعلقات اوپر بھی ہیں بابا نے کہا کہ بھیڑ وصول کرے گی اس سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ خبر تو آگئی تھی کہ اس مسلم لڑکی کو جو پڑھاتی تھی نکال دیا گیا لیکن یہ خبر نہیں آئی کہ بھیڑ نے کیا کیا؟

ہم بھی صرف یہ بتانا چاہتے تھے کہ بھیڑ حکومت کی مجبوری ہے اس کا تازہ ترین اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ویڈیو میں ایک نوجوان لڑکے کو دونوں ہاتھوں میں پتھر لئے دیکھا جاسکتا ہے اور جو پولیس والوں کو مارو مارو کی آوازوں میں ساتھ ساتھ ہے اس کے گولی لگتی ہے اور وہ مرجاتا ہے۔ لیکن مرنے والا لڑکا ہندو تھا اور جو بھیڑ کا حصہ تھا اس لئے فوری طور پر پولیس کی طرف سے دس لاکھ روپئے کے معاوضہ کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

اُترپردیش میں بھی راجستھان، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، بہار اور دوسری ریاستوں میں بھیڑ کے ہاتھوں نہ جانے کتنے مسلمان مارے گئے ہیں ان میں سے کسی کو کسی حکومت نے دس روپئے بھی دینے کا اعلان نہیں کیا اور سیانہ بلندشہر میں جو ہندو لڑکا کسی کی گولی سے مرا ہے اس کے خاندان والے شرم سے دروازے بند کرکے گھروں میں بیٹھنے کے بجائے سب کے سب مرن برت پر بیٹھ گئے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ہمارے بیٹے کو بھی وہ سب دیا جائے جو انسپکٹر سبودھ کمار کے گھر والوں کو دیا گیا ہے۔ یعنی اس کے نام سے بھی اسکول بنے سڑک بنے۔ گھر والوں پر جو سرکاری قرضے ہوں وہ حکومت ادا کرے کسی ایک کو نوکری ملے ماں باپ اور دادی کو 60  لاکھ روپئے دیئے جائیں اس لئے پولیس کا انسپکٹر اور بھیڑ کا پتھر باز موجودہ حکومت کی نظر میں برابر ہیں۔ اس لئے اسے شہید کا درجہ بھی دیا جائے۔

انقلاب کی خبر کے مطابق یوگیش راج کے خلاف ثبوت نہیں ملے ہیں اس لئے اسے کیسے گرفتار کیا جائے؟ اب تک پورے فساد کا ہیرو اسے ہی مانا جارہا تھا لیکن اب کسی بہت بڑے کا جوتا لہرایا اور وہ پارسا ہوگیا۔ سیانہ کے تحصیلدار جو ہندو ہیں پرسوں ہم نے ان کا بیان چھاپا تھا انہوں نے کہا تھا کہ جن کھیتوں میں گائے کے باقیات سجائے گئے تھے وہاں سب سے پہلے ہم گئے تھے اور ہم نے محسوس کیا تھا کہ یہ کسی نے گوشت یا کھال کے لئے نہیں کیا ہے بلکہ صرف اس کو دکھاکر فساد پھیلانا مقصد ہے چوری سے کرنے والا کھیت کے اندر کاٹتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ دو چار دن کسی کو خبر نہ ہو لیکن یہ تو نمائش کی گئی ہے جانور کا سر اور کھال ایسی جگہ رکھے ہیں کہ آنے والے کی نظر سب سے پہلے ان پر پڑے۔ اور فضا کو خراب کرنے والوں نے اس کو بہانہ بنایا۔

بلندشہر کے آئی جی نے تسلیم کیا کہ یہاں سے کبھی گائے کاٹنے کی خبریں نہیں آئی ہیں۔ یہ نئی بات کیوں ہوئی دیکھنا پڑے گا۔ یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ گائے کاٹنے والا ہندو ہے اسے سجانے والے بھی ہندو ہیں چھوٹے چھوٹے بچوں نے ویڈیو بنائے ہیں ان کو سوشل میڈیا نے خوب پھیلایا ہے لیکن اترپردیش کی پولیس کو شاید ہدایت ہے کہ چھری کسی کی چلے تم مسلمانوں کو گرفتار کرو۔ پولیس کے لئے یہ ڈوب مرنے کی بات ہے کہ ایک انتہائی تجربہ کار ان کا افسر بھیڑ کے ہاتھوں مارا گیا پولیس نے بھیڑ میں 27  غنڈوں کو پہچانا اُن کے خلاف نامزد رپورٹ لکھائی اور گرفتار کسی کو نہیں کیا ہے۔ انسپکٹر کے معاملہ میں اب تک صرف تین کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن یہ سب نے کہا ہے کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یا تو کسی کو پکڑا نہیں جائے گا یا پکڑا گیا تو سزا نہیں دی جائے گی۔

یہ بات تو اعلیٰ افسروں کے درمیان تذکرہ میں آچکی ہے کہ دو دسمبر کو بلندشہر میں بڑے پیمانے پر ایک میٹنگ ہوئی اور اس میں تبلیغی اجتماع کو درہم برہم کرنے کی سازش تیار کی۔ ایک افسر کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہاں کس نے کیا کہا تھا؟ لیکن ہم دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پولیس کے مخبر ہر بات سے واقف ہوتے ہیں اور ہر بات انہوں نے اپنے افسروں کو بتادی ہے لیکن وہ منصوبہ کو عملی جامہ اس لئے نہیں پہناسکے کہ اجتماع دوسرے دن ختم ہوگیا اور یہ ہر اجتماع کا طریقہ ہے کہ سب سے آخری آئٹم اس کی دعا ہوتی ہے جس میں ہزاروں ہزار وہ بھی ہوتے ہیں جو صرف دعا میں شریک ہونے کے لئے آتے ہیں۔ اجتماع کے بڑوں کی نیت جو بھی رہی ہو لیکن جس پروردگار کے نام پر یہ لاکھوں جمع ہوئے تھے اس نے اس کی حفاظت کی اور جو شرارت کرنا چاہ رہے تھے ان کی سازش کو ناکام کردیا اور وہی ہے جس کے بارے میں اس نے خود کہا ہے: ’’انک علی کل شئی قدیر‘‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close