ماحولیاتمذہبی مضامین

زلزلوں اور طوفانوں کی کثرت: اسباب اور نبوی طریقۂ کار

مفتی سید ابراہیم حسامی قاسمیؔ

اس وقت وقفہ وقفہ سے طوفانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، ان ایام میں طوفانوں اور زلزلوں کی آمد کی جواطلاع ومشاہدہ ہے، زمانۂ ماضی میں اتنی کثرت سے طوفانوں کی آمد کا سلسلہ نہیں تھا، دو چار ماہ نہیں گزرتے کہ ایک نئے طوفان کی آمد اوراس کے ذریعہ تباہی وبربادی کی خبریں زور پکڑتی جارہی ہیں، اخبار ورسائل میں اسی کی سرخیاں نمایاں ہوتی ہیں، اس کے ذریعہ ایک بڑی تعداد میں ملت کا جانی ومالی نقصان ہوتا ہے، لوگ تباہی وبربادی کی ایسی صورت حال میں لوگوں کے حالات دگرگوں ہوجاتے ہیں، پریشانیاں قابو سے باہر ہوجاتی ہیں، فی الفور کوئی پر سان حال نہیں ہوتا، سوائے خدائے بزرگ وبرتر کے اور کوئی سہارا نظر نہیں آتا، لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، اوربھی طرح طرح کے مصائب کا شکارہو جاتے ہیں۔
بار بار طوفان کا آنا یہ قہر الہی کی علامت ہے، جو کہ دراصل انسانی کرتوتوں کا نتیجہ ہے، اوریہ بندوں کو راہ راست پر لانے کا پیش خیمہ ہوتا ہے، مگرانسان چوں کہ مشاہدہ کی دنیا کا عادی ہوچکا ہے، اورظاہر پرستی کا دلدادہ ہونے کی بنا پرمادی نفع وضررکو ہی نگاہوں میں سمائے ہوئے ہے، وہ آفات ومصائب اور بگڑتے حالات کا اصل سبب تلاش کرنے کے بجائے، ظاہری اسباب وعلل پرہی تکیہ کئے رہتا ہے، مگر مذہب اسلام نے انسان کی حقیقی آنکھیں ایسے موقع پر کھولی ہیں اور انسان کو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطنی وروحانی خزانوں کا ایک بیش بہا قیمتی ایمانیسرمایہ عطا کیا ہے، جو کہ ظاہر سے زیادہ طاقتوراورمادیت سے زیادہ قوی ترہے۔

طوفانوں کی آمد کا سلسلہ اتنا تیز تر ہوچکا ہے کہ ایک طوفان کا اثر ابھی ختم بھی نہیں ہوتا، دوسرے طوفان کی پیش قیاسی کردی جاتی ہے، جاریہ سال(2018ء)ماہ اگسٹ میں کیرالا میں ایک بدترین طوفان برپا ہوا، جس سے جانی ومالی ہونے والے نقصان نے اپنی تاریخ رقم کرڈالی، مالی اعتبار سے لوگ اتنے متأثر ہوئے کہ ایک ایک کوڑی کے لیے محتاج ہوگئے، گھر کے گھر طوفان کی زد میں بہہ گئے، بستیاں یک لخت زیر آب آگئیں، سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔

ابھی اس کا زخم تازہ ہی تھا کہ انڈونیشیاء میں قیامت خیز زلزلہ اور طوفان نے تباہی مچانی شروع کردی، جس کی ہولناکی نے پوری دنیا کو سکتہ میں ڈال دیا، سونامی کی لہریں بستیوں کو بہا لے جارہی تھیں، آن واحد میں آبی لہر بستیوں کو کھنڈروں میں تبدیل کر رہی تھیں، بڑے بڑے عالی شان محل اور فلک بوس عمارتیں پانی کے بہاؤ میں تنکوں کی طرح بہہ رہی تھیں، صرف اخباری اطلاعات کے مطابق تقریباً 2500 سے زائد جانیں اس زلزلہ کے نذر ہوگئیں، اور ہزاروں لوگ اپنی موت وحیات کی جنگ لڑ رہے ہیں، دواخانے بھرے پڑے ہیں، ضروری ابتدائی طبی امداد بھی میسر نہیں، ہر طرف طوفان ہی طوفان ہے، کچھ دن بعدذرا زلزلہ ختم ہوا، سونامی کی لہریں تھم گئیں، لوگوں نے تھوڑی سی سکون کی سانس لینا چاہا تو فوراً دوسرے زلزلے کے جھٹکوں نے اپنی آمد اور وجود کی گواہی پیش کردی، وہاں کے باشندوں کی حالت زار پر ہر غیور ودردمند انسان چشم کناں ہے، خلق خدا بے چینی کے عالم میں ہے، اضطراب و اضطرار کا عجیب سماں ہے، ابھی یہ سیلاب اپنے اختتام کو پہونچا بھی نہیں، اخباری اطلاعات دوسرے طوفانوں کی پیش قیاسی کر تی نظر آرہی ہیں۔

ماضی قریب میں آئے ہوئے طوفانوں کااگر سرسری جائزہ لیا جائے تو لاہور کے ایک اخبار کی اطلاع کے مطابق صرف امریکہ شہر میں 1900ء سے لے کراب تک 256 چھوٹے بڑے طوفان آچکے ہیں، اوردنیا بھر میں ان طوفانوں کے ذریعہ ہونے والی تباہی کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں 1995ء میں آنے والے طوفانی زلزلہ کی وجہ سے 1310.5بلین ڈالر کا نقصان ہوا، ہیلتھ آرگنائزیشن اورامریکی ریسرج سنٹرسے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق112سال میں امریکہ میں 256 طوفان آئے، جس کے نتیجہ میں 9070 افراد ہلاک ہوئے، اور2.86 ملین افراد متأثرہوئے، اورمالی اعتبار سے 34197 ڈالر کا خسارہ بھگتنا پڑا، اور ایک اطلاع کے مطابق 29 اگسٹ2005ء کو امریکہ میں ایک طوفان آیا، جس میں 26.5 ملین ڈالر، اسی طرح 15ستمبر 2004 ء کو واشنگٹن میں آنے والے طوفان سے، اوراسی ماہ اور ایک طوفان کی آمد سے 16ملین ڈالر کا ریکارڈ نقصان ہو ا، نومبر1970ء میں بنگلہ دیش میں ایک طوفان کے برپا ہونے سے تین لا کھ افراد لقمۂ اجل بن گئے، اسی ملک میں ایک اورخطرناک طوفان1991ء میں آیا، جس نے 138866 (ایک لاکھ اڑتیس ہزارآٹھ سو چھیاسٹھ)افرادکو صفحۂ ہستی سے ہی غائب کردیا، اسی طرح ملک برما میں آنے والے طوفان نے 138366 (ایک لاکھ اڑتیس ہزارتین سو چھیاسٹھ) لوگوں کو ہمیشہ کے لیے خاموشی کی نیند سلادیا، 1992ء میں چین میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد کی جان چلی گئی، ایسے ہی فلپائن ملک جو اپنی خوبصورتی میں اپنا ایک امتیاز رکھتا ہے، جس کا دارالحکومت منیلا ہے، یہ ملک 7107(سات ہزار ایک سو سات) جزائر پر مشتمل ہے، وہاں پربھی طوفانوں کاتسلسل جاری ہے، وہاں 2015 ء میں آنے والے طوفان کو ایک بہت ہی طاقتور طوفان قرارد یا گیا، جس میں تین سو کیلو میٹر فی گھنٹہ تیز رفتار ہوائیں چلیں، اس طوفان کی تباہی پورے عالم میں مشہور ہوگئی، کہ اس طوفان کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کی تعداد 10000(دس ہزار) سے تجاوز کرگئی، جس میں کئی لاکھ افراد متأثر ہوئے اور660000(چھ لاکھ ساٹھ ہزار) افراد بے گھر ہوئے، اوراس طوفان کی تباہی کا اثر اس درجہ بڑھ گیا کہ لوگ کھانے اورپینے کے پانی کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے اورایک بڑا طبقہ اپنی زندگی کی بقاء کے لیے کوڑے دان سے کھانا اٹھا کرکھانے پر مجبور ہوگیا، منیلا میں تباہی مچانے کے بعداس طوفان نے ویتنام کا رخ کیا اوراس کے شمالی صوبہ سے ٹکراتے ہوئے چین کا رخ کیااور وہاں بھی جانی ومالی تباہی مچاڈالی۔

ہمارے ملک ہندوستان میں بھی طوفانوں کی آمد کا مستقل سلسلہ جاری ہے کہ بیک وقت ایک ہی مقام پر دودو تین تین طوفان آپہونچ رہے ہیں، معمولی سے وقفہ کے بعد دوسرے طوفان کی پیش قیاسی کی جارہی ہے اوروہ پیش قیاسی فوراً حقیقتکی شکل اختیار کررہی ہے، 2014ء میں اتراکھنڈ میں جو طوفان آیا، جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، اسی طرح تاملناڈو، پدوچیری، وغیرہ میں طوفانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، 29 اکٹوبر2009ء کو ضلع کرنول(آندھرا پردیش) میں ایک زبردست طوفان برپا ہوا، جس کی وجہ سے کافی جانی ومالی نقصان کا سامناکرنا پڑا، اسی طرح سال 2015ء میں بیک وقت تین طوفانوں نے حددرجہ تباہی مچائی، جس سے مچھلی پٹنم، کا کیناڈا، وشاکھا پٹنم، اوردیگراضلاع کافی متأثرہوئے، ان طوفانو ں کا سلسلہ روزافزوں ہی بڑھتا جارہا ہے، اوردنیاوالے ان طوفانوں کوجوبھی نام دے دیں، جیسے کسی طوفان کا نام سینڈی، کسی کا نام ہیان تو کسی کا یولانڈا تو کسی کا نام ہیلن توکسی کا فائیلین توکسی کا نام طوفان لہر، تو کسی کا نام طوفان ہد ہد، اوراس کا سائنسی نقطۂ نظرکچھ بھی ہو، اورظاہر پرست حضرات اس کی کچھ بھی وجہِ صدور متعین کرڈالیں، لیکن حقیقت اورلاریب بات بس یہی ہے کہ یہ سب انسانی کرتوتوں اوراعمال بد کا نتیجہ ہے، اس لیے کہ آج بڑی تیزی سے امت کے قدم اعمال سےۂ کی جانب اٹھ رہے ہیں، اورمعصیتِ الہی کی جانب تیز گامی اتنی شدت کے ساتھ بڑھ چکی ہے کہ جس کا اندازہ لگانا واقعۃً مشکل اورتخیل انسانی سے بالاتر ہے، اورگناہ کے ارتکاب میں امت اتنی زیادہ جری ہوچکی ہے کہ والدین کی موجودگی اوران کی نگاہوں کے بالکل سامنے کھلے عام غیر اخلاقی تو غیر اخلاقی ؛بلکہ غیر فطری عمل سے تک گریز نہیں کیا جارہا ہے، والدین کے روبرو ان کی لاڈلی اولاد وہ تمام حرکتیں کرڈالتی ہیں کہ جس کی وجہ سے ان کا سر شرم سے جھک جائے، بلکہبسا اوقات تو ارتکاب جرم پر فخر بھی محسوس کیا جارہا ہے۔

ایک اورتلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض مقامات پر تو والدین خود اپنی حقیقی اولاد کے ساتھ ان تمام جرائم میں شریک ہیں کہ جن کو دیکھ کر یا پڑھ کر بدن میں رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اور شرم کا پیمانہ لبریز ہوجائے، حیا کے فقدان نے تو انسان کو گناہوں کا بازیگر بنا دیا ہے، نبئ اکرم ﷺنے بالکل سچ فرمایا:’’اذا لم تستحیے فاصنع ما شئت۔ ‘‘(بخاری، حدیث نمبر:۳۴۸۴، باب حدیث الغار) اگر تم میں حیا باقی نہ رہے تو جی چاہے کرلو، جیسے ہی انسان نے حیا کا لبادا اپنے بدن سے اتاردیا تو اس نے گویا اپنے آپ کو گناہوں کے دلدل میں پھانس دیا، اب اس سے نکلنے کی کوئی تدبیر سوائے خشیتِ الہی اور عذاب کے احساس کی ضرب کا ری کے سوا کچھ اورنہیں۔

خدائے علیم وخبیر نے قرآن کریم میں صاف الفاظ میں فرمادیا :’’ظہرالفسا دفی البر والبحر بما کسبت أیدی الناس۔ ‘‘(الروم :۴۱)خشکی اورتری میں انسانی حرکتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا، علامہ بغوی ؒ (متوفی :۵۱۰ھ ؁)نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بات لکھی ہے: ظہورِ فساد کی ایک علامت مستقل پانی کا برسنا اورطوفانوں کی آمد ہے۔ (تفسیر البغوی ۲؍۵۲، مطبوعہ :داراحیاء التراث بیروت) اوراس وقت طوفان کی شکل میں جو کچھ قہرِ خداونی کا نزول ہو رہا ہے، وہ بالیقین ہمارے ہی ہاتھوں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے، ایک طرف تو شرک کا بازارگرم ہے، تودوسری طرف خود مذہب اسلام سے وابستہ افراد بھی اسلامی اقدار کی پامالی کرتے ہوئے، اوراسلامی روش کوٹھکراکر اسلام دشمنوں کی تہذیب کو اپنا رہے ہیں، ایسے میں یہ قہر نہ برسے گا تو اورکیا ہوگا، اسی طرح اس آیت کی تفسیر میں حضرت مفتی شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں :قرآن کریم میں جن آفات ومصائب کو گناہوں کے سبب سے قرار دیا گیا ہے، اس سے مراد وہ آفات اور مصائب ہیں، جو پوری دنیا پر، یا پورے شہر پر، یا بستی پر عام ہوجائیں، عام انسان اورجانور اس کے اثرسے بچ نہ سکیں، ایسے مصائب وآفات کا سبب عموماً لوگوں میں گناہوں کی کثرت، خصوصاً علانیہ گناہ کرنا ہی ہوتاہے، اس کے آگے مزید تحریر فرماتے ہیں : عام مصائب وآفات جسے قحط، طوفان اوروبائی امراض، گرانئ اشیاء ضرورت، چیزوں سے برکت کا مٹ جانا وغیرہ اس کا اکثراوربڑاسبب لوگوں کے علانیہ گناہ اورسرکشی ہوتی ہے۔ (معارف القرآن ۶؍۶۵، پ۲۱م اشرفی دیوبند)

ایک دوسری جگہ پر اللہ عز وجل نے اسی طرح کا ایک مضمون بیان فرمایاہے:’’ وماأصابکم من مصیبۃ فبما کسبت أیدیکم ویعفو عن کثیر۔ ‘‘(الشوری :۳۰)تمہیں جو کچھ مصیبت پہونچتی ہے، وہ تمہارے ہی ہا تھوں کی کمائی کے سبب سے ہے، اوراللہ تعالی تو بہت ساری لغزشوں کو معاف بھی کرڈ التا ہے، اللہ انسان کی ہربرائی اورہر گناہ پر پکڑ نہیں فرماتے بلکہ بے شمار گناہوں کونظرانداز فرمادیتے ہیں، بلکہ جب بند ے گناہ کرتے کرتے حد سے تجاوز کرجاتے ہیں تو ایسے مواقع پر اللہ اپنے بندوں کو متوجہ ومتنبہ کرنے کے لیے ذرا سی مصیبت بھیجتے ہیں تاکہ بندہ فوراً اللہ کی جانب متوجہ ہوجائے، اس کی رحمت کا طلبگار ہوجائے، اوراپنے گناہوں پر ندامت وشرمندگی کے ساتھ توبہ واستغفار کرے۔

ایسی ناگہانی صورتحال میں ایک ایمان والے کے لیے راہِ عمل صرف یہی ہے کہ وہ اپنے بے مثال قائد، حقیقی مربی ورہنما، اوراس رہبرِ کامل کی تعلیمات اوراس کے اسوہ کو دیکھے، کہ جس کے اسوہ اورطریقہ کو اپنانے اوراپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کواللہ نے تا قیام قیامت کا میابی کا معیاربنایا ہے : ’’ لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ۔ ‘‘(الأحزاب:۲۱)رسول اللہﷺ کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے بہترین نمونہ موجودہے، حضورﷺ کی زندگی میں ہرموقع کے لیے نمونہ رکھا گیا ہے، سنت رسول میں ٹوٹا پن نہیں ہے کہ کسی موقع پر رہبری کردی اور کوئی موقع ایسا آجائے کہ جس میں رسول اللہ ﷺکا اسوہ موجو دنہ ہو، بلکہ زندگی کے موڑپر اللہ نے نبیﷺکی زندگی کو امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بنادیا ہے، لہذا ایسے موقع پر حضورﷺ کا طرزِ عمل ہمارے نگاہوں میں ہونا چاہئیے اوراسے اپنانا چاہئیے۔

جب کبھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سخت آندھی چلتی یا کوئی سخت معاملہ پیش آجاتا تو رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ آپﷺ نماز کی جانب متوجہ ہوجایا کرتے تھے اوراللہ کی رحمت کو طلب فرمایا کرتے تھے، ’’ کا ن رسول اللہ ﷺ اذا حزبہ أمرصلی۔ ‘‘(ابوداؤد، حدیث نمبر:۱۳۱۹، عن حذیفہ، باب وقت قیام النبیﷺ)حدیث شریف کی تشریح کرتے ہوئے حضرت ملاعلی قاریؒ (متوفی:۱۰۱۴ھ ؁)فرماتے ہیں :جب کوئی ناگوار واقعہ پیش آجاتا تو نبئ اکرم ﷺنماز کی طرف متوجہ ہوجایاکرتے تھے، اس لیے کہ نمازتمام اذکارو ادعیہ کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، نماز ہر مصیبت سے راحت دلاتی ہے، ہرغم سے خلاصی نصیب کرتی ہے، تنگیوں میں آسانی پیدا کرتی ہے، اسی وجہ سے حضورﷺ فرمایا کرتے تھے :’’أرحنا بھا یا بلال۔ ‘‘اے بلا ل نماز کے ذریعہ ہمیں راحت پہونچاؤ۔ (مرقاۃ المفاتیح۳؍۱۰۹۳م دارالفکر بیروت)

ایسے حالات میں نبئ اکرم ﷺ کا ایک معمول مبارک حضرت علامہ ابن الہمام ؒ (متوفی:۸۶۱)نقل کرتے ہیں :ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی مصیبت یا امر شدید لاحق ہوتا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے ان کلمات کے پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ ’’لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ رب السمٰوت والأرض ورب العرش العظیم، اورایک روایت میں ہے :لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ رب السمٰوت والأرص ورب العرش الکریم۔ ‘‘کے الفاظ بھی و ارد ہوئے ہیں، (فتح القدیر۱۱؍۱۲۴م دارالفکربیروت) اسی طرح علامہ ابن حجرؒ نے ایسے مواقع پررسول اللہ ﷺ سے منقول ایک دعا کا ذکرکیاہے، کہ رسول اللہﷺ ایسے موقع پر اس دعا کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے :’’ألہم اصرف عنی شرہ۔ ‘‘(فتح الباری ۱۱؍۱۴۷م دارالمعرفۃ بیروت)

بلا شبہ بارش کی گرج، بجلی کی کڑکڑاہٹ اورسمندری طوفان کا تموج اللہ کے جلال کا مظہر ہے، اورجب خدا پرست بندہ ان چیزوں سے دوچارہوتا ہے تواسے چاہئیے کہ وہ پوری عاجزی وانکساری کے ساتھ اللہ کے رحم وکرم کا طلبگار ہوجائے، اور اسی سے عافیت مانگے، اورخوب اللہ سے دعا کرنی چاہئیے، یہی رسول اللہ ﷺ کا اسوہ ہے، رسول اللہ ﷺ ایسے موقع پر یہ دعا فرمایا کرتے تھے :’’أللہم لا تقتلنا بغضبک ولا تہلکنا بعذابک وعافنا قبل ذلک۔ ‘‘(معارف الحدیث۵؍۲۴۳) اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا، اوراپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کرنا اورہمیں اس سے پہلے ہی عافیت بْحش دینا۔

تیز وتند آندھیاں اورطوفان اکثر غضب الہی کا مظہر ہوتے ہیں، اس لیے خدا شناس بندے کو چاہئیے کہ وہ ایسے وقت میں جلال خداوندی کے خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے اللہکی رحمت کا طلبگارہوجائے کہ یہ ہوائیں رحمت کا سبب بنیں نہ کہ عذاب کا ذریعہ بن جائیں، یہی رسول اللہﷺ کا معمول تھا کہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب تیز ہوائیں چلتیں اورآندھی آتی تو رسول اللہ ﷺ اپنے زانؤوں کے بل اللہ کے حضور جھک جاتے تھے اوردعا کرتے تھے :’’أللہم اجعلہا رحمۃ ولا تجعلہا عذاباً، أللہم اجعلہا ریاحا ولا تجعلہا ریحا۔ ‘‘، اے اللہ!اس کو ہمارے حق میں رحمت اورسامان عافیت بنااورعذاب اورسامان ہلاکت نہ بنا، اوراس کو ہمارے حق میں ریاح بنا، ریح نہ بنا۔

اس دعا کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مولاما منظور نعمانیؒ تحریرفرماتے ہیں :قرآن مجید کی بعض آیات میں اس ہوا کوجو کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے اللہ کی طرف سے بھیجی گئی، اس کو ریح کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، اوربعض ان ہواؤں کے لیے جو لوگوں کے لیے رحمت بن کرآئی تھی، ریاح کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اس بنا پر رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! ریح یعنی عذاب والی ہوا نہ ہو بلکہ ریاح یعنی رحمت والی ہو۔ (معارف الحدیث۵؍۲۴۳)

حضرت مفتی شفیع صاحب ؒ نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا ایک عارفانہ قول نقل کیا ہے، جس میں انہوں نے طوفان وحوادث کے رحمت یا عذاب ولعنت ہونے کی وجہ بیان کی ہے، لکھتے ہیں :سیدی حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے ایک پہچان یہ بتلائی کہ جب مصیبت کے ساتھ انسان کو اللہ تعالی کی طرف توجہ اوراپنے گناہوں پر تنبہ اورتوبہ اوراستغفا رکی رغبت زیادہ ہو جائے تو وہ علامت اس بات کی ہے کہ یہ قہر نہیں، بلکہ مہراورعنایت ہے، اورجس کی یہ صورت نہ بنے، بلکہ جزع فزع اورمعاصی میں زیادہ انہماک بڑھ جائے تو یہ علامت قہر الہی اورعذاب کی ہے۔ واللہ اعلم (معارف القرآن ۶؍۶۷م اشرفی )

اب ذرا ہم غور کرلیں کہ ایسے مواقع پر ہمار ا طرزِ عمل کیا ہے، کیا واقعی ہم ایسی صورتحال میں اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اورنبوی طرزِعمل کو اختیار کرتے ہوئے اللہ کی رحمت کوطلب کرنے کے لیے نماز کا سہارا لیتے ہیں ؟ اسی طرح حضورﷺسے منقول دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں؟ یاپھر اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کراحوال عالم کا جائزہ لینے کے بہانے ہاتھ میں ریموٹ لے کرٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں؟ یا پھر موقع واردات کے جائزہ کے نام پر انٹرنیٹ کے حوالہ ہوکررہ جاتے ہیں؟ ایسے مواقع میں اعمال نبوی ﷺکواپنانا تو دورکی بات ہے، ہم فرائض کوبھی نظرانداز کردیتے ہیں، ہماری آنکھوں میں ندامت کے دوچار آنسو ں بھی نہیں آتے، غرض ایسے حالات میں اپنی غیرت ایمانی کو جگانے کی ضرورت ہے اورسرکاردوعالم ﷺ کے اسوہ اورنمونہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

سید ابراہیم حسامی قاسمیؔ

استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close