خطبہ جمعہ کو مؤثر بنائیں

سہیل بشیر کار

خطبہ جمعہ کو اس قدر غور سے سننے کی تلقین کی گئی ہے کہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی دوران خطبہ شور کرے تو اس کو یہ کہنا کہ ” چپ ہوجاؤ بھی مناسب نہیں.” ظاہر ہے خطبہ جمعہ کی کافی اہمیت ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے خطبہ جمعہ کو وہ مرکزی اہمیت نہیں دی. ایک متفق علیہ حدیث ہے؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ” تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔فرشتے اس شخص کا نام اپنے رجسٹر میں نہیں لکھتے ہیں جو خطبہ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد آجائے. رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پرفرشتے کھڑے ہوکر پہلے آنے والے کو پہلے لکھتے ہیں. سب سے پہلے آنے والا شخص اس کی طرح ہے جس نے اونٹ قربان کیا ہو، اس کے بعد اس کی طرح جس نے گائے قربان کیا، اور اس کے بعد جس نے مینڈھا قربان کیا، پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح جس نے مرغی قربان کی ہو پھر اس کے بعد آنے والا اس کی طرح ہے جس نے انڈا صدقہ کیا ہو،اور جب امام نکلے اور منبر پرپہنچ جائے تو وہ اپنے رجسٹر لپیٹ کر ذکر سننے آجاتے ہیں۔” [مسلم850 ]

جس قوم کے پاس خطبہ جمعہ جیسا vibrant نظام ہو اس کے بنیادی اقدار بہترین ہونے چاہیے. وہ بہت زیادہ update ہونے چاہیے، آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت بہت زیادہ ہے بدقسمتی سے مسلمانوں کے پاس میڈیا نہیں ہے لیکن خطبہ جمعہ alternate media کا کام دے سکتا ہے. نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی جن ذرائع سے تربیت کرتے ان میں خطبہ جمعہ کا کلیدی مقام تھا، جب اسلام عرب سے باہر پھیل گیا تو خطبہ جمعہ کو موثر بنانے کے لیے علماء نے یہ طریقہ اپنایا کہ دو خطبوں سے پہلے مقامی زبان میں تقریر ہوتی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اکثریت یہ تقریر نہیں سنتی اور خطبہ جمعہ ہونے سے چند منٹ پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں، اس طرح اس تقریر کی افادیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے. چونکہ لوگ تیسرے خطبہ کو جمعہ خطبہ میں شامل نہیں سمجھتے اور اب بھی جمعہ خطبہ کی اہمیت ان کے نزدیک برقرار ہے اور وہ خطبہ کی اذان شروع ہونے سے ٹھیک پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں تو ایسے میں ضرورت تھی کہ خطبہ کو غیر عرب میں کیسے موثر کیا جائے اس کے لیے بہت جگہوں پر پہلا خطبہ مقامی زبان میں دیا جاتا ہے. اس طرح لوگوں کی رہنمائی بھی ہو جاتی ہے اس سلسلے میں شریعت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی لکھتے ہیں: "امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک غیر عربی زبان میں بھی خطبہ دیا جاسکتا ہے۔ ان کے دونوں شاگردوں امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کے نزدیک جو شخص عربی زبان پر قادر ہو، اسے عربی میں خطبہ دینا چاہیے۔ جو قادر نہ ہو اسے غیرعربی میں بھی خطبہ دینے کی اجازت ہے۔

عموماً فقہائے احناف کا فتویٰ اور عمل صاحبین کے مسلک پر ہے۔ لیکن بعض فقہا نے غیر عربی زبان میں خطبہ دینے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً علامہ عبدالحی فرنگی محلیؒ نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ (مجموعۃ الافتاویٰ،فصل:۲۵) مولانا محمدعلی مونگیریؒ بانی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے بھی اس موضوع پر ایک مفصل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ’القول المحکم فی خطابۃ العجم‘ ہے۔

موجودہ دور میں اس چیز کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ خطبۂ جمعہ کو عوام کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس بنا پر بعض علما کہتے ہیں کہ جمعے کے دونوں خطبے تو عربی زبان ہی میں دئے جائیں البتہ خطبے سے قبل عوام کی زبان میں ان کے سامنے تقریر کی جائے، جس میں انھیں دین کی باتیں بتائی جائیں۔ اس طریقے کو اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس طرح عملاً جمعے کے تین خطبے ہوجاتے ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں موجودہ دور کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کو اختیار کرکے خطبۂ اولیٰ کو اردو میں دینا چاہیے۔

اس موقع پر اسلامی فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ کے پانچویں سمینار منعقدہ 8-16؍ ربیع الثانی 1402ھ مکہ مکرمہ میں منظور شدہ ایک فیصلے کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے :
’’معتدل رائے یہ ہے کہ غیر عرب علاقوں میں جمعہ و عیدین کے خطبے کے صحیح ہونے کے لیے عربی زبان کی شرط نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ خطبے کے ابتدائی کلمات اور قرآنی آیات عربی زبان میں پڑھی جائیں، تاکہ غیر عرب بھی عربی اور قرآن سننے کی عادت ڈالیں اور عربی میں قرآن سیکھنا ان کے لیے آسان ہو۔ پھر خطیب علاقائی زبان میں انھیں نصیحت و تذکیر کرے۔‘‘
(مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے، ایفا پبلی کیشنز نئی دہلی، طبع دوم، 2006ء، ص: 107)”

نماز جمعہ اور جمعہ کے خطبے اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہیں جن کا مقصد لوگوں کو وعظ ونصیحت کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ جمعہ کا اہتمام ہو، ہر بستی میں ایک ہی وقت خطبہ جمعہ ہو، سب دوکانیں، کاروباری ادارے اور دفاتر اس وقت بند ہوجائیں. یہ محسوس ہو کہ آج جمعہ ہے. اس کے بعد امام صاحب پہلا خطبہ مقامی زبان میں دے اور دوسرا خطبہ عربی زبان میں دے؛ اس طرح شعائر اسلام کی تعظیم ہو سکتی ہے ورنہ یہ ہوتا ہے کہ آدھے لوگ اس مسجد میں جاتے ہیں جہاں ابتدائی وقت میں خطبہ جمعہ ہوتا ہے اور آدھے لوگ وہاں جاتے ہیں جہاں آخری وقت خطبہ جمعہ ہوتا ہے، اس طرح جمعہ کا اہتمام کہیں نظر ہی نہیں آتا، اب تو زیادہ تر مساجد اس وجہ سے ابتدائی وقت میں خطبہ جمعہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ نماز کے لئے آئیں اور انہیں مسجد کے لئے چندہ ملے. کچھ جگہوں پر جو خطبہ سے پہلے تقریر ہوتی تھی وہ چندہ کی وجہ سے ہی ختم کی گئی. نماز جمعہ کا اہتمام نظر آنا چاہیے. اس دن ہر طرف چہل پہل ہونی چاہیے. قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں:”مومنو! جب جمعے کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید وفروخت ترک کردو، اگر سمجھو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔” [الجمعة:9]

ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:”اذان جمعہ کے بعد خرید وفروخت حرام ہے.” امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار یہ تھا کہ آپ دیگر ایام کے مقابلے مخصوص عبادتوں کے ذریعے جمعہ کے دن کی تعظیم وتکریم کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن۔” [زاد المعاد 1/375

]
اب جبکہ یہ واضح ہوا کہ خطبات جمعہ کی اتنی زیادہ اہمیت ہے تو پھر خطیب مسجد کی ذمہ داری بھی اسی حساب سے بڑھ جاتی ہے، تاکہ اس ہفتہ واری پروگرام سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاسکے. بہتر یہ تھا کہ علاقے میں اہلِ علم کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر جمعہ کو یہ طے کریں کہ اگلے جمعہ کو ہر مسجد میں کس موضوع پر خطبہ ہو، بہتر رہتا کہ اہلِ علم ہر ہفتے ائمہ حضرات کو خطبہ جمعہ کے لیے مواد بھی فراہم کرتے. خطبہ جمعہ مختصر مگر جامع ہوں. بدقسمتی سے خطیب صاحب ایسے بے سروپا قصوں، کہانیوں اور مبالغہ آمیز حکایات کا سہارا لیتے ہیں کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی الجھن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے، بلکہ ایسی کہانیوں کے باعث خطباء سے نفرت پیدا ہونے لگتی ہے. خطبہ جمعہ کو اب اکثر مقامات پر صرف ایک تبرک کی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح خطبہ میں دوسرے مسالک اور جماعتوں پر تنقید بھی کی جاتی ہے جس سے تفرقہ بڑھ جاتا ہے. موجودہ حالات میں جب امت مسلمہ رسوم ورواج میں پھنسی ہوئی ہے؛ ضرورت ہے لوگوں کی رہنمائی کی جائے. جب رزق حلال کے تئیں بیداری کی کمی ہو تو ضرورت ہے رزق حلال پر زور دیا جائے ، رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی، اور ناپ تول پر کمی پر خطبہ دیا جائے تاکہ لوگ ان رذائل سے محفوظ رہے. اسلام نے معاشرتی مسائل پر کھل کر اور تفصیل سے بات کی ہے ضرورت ہے معاشرتی مسائل پر بات چیت کی جائے. بغض، حسد، کینہ، غیبت وغیرہ کو بھی خطبہ جمعہ کا موضوع بنایا جائے. سب سے بہتر ہے کہ قرآن کریم کا درس سورہ فاتحہ سے شروع کیا جائے ہر ہفتہ ایک یا دو آیات کا ترجمہ اور تفسیر بیان کیا جائے، خطبہ جمعہ میں مقررین کو بہترین اسلوب میں اپنی بات رکھنی چاہیے. حضرت جابر بن عبداللہ ؓسے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں، آواز بلند ہوجاتی تھی، اور آپ کا غصہ شدید ہوجاتا تھا ایسا لگتا تھا کہ آپ کسی لشکر کو آگاہ فرمارہے ہیں ” ۔ [مسلم].
آج کل خواتین دفاتر اور اسکولوں میں دن بھر رہتی ہیں. مرد

حضرات جہاں جمعہ پڑھنے کے لیے مساجد کا رخ کرتے ہیں وہیں خواتین نماز جمعہ سے محروم رہ جاتی ہیں، جہاں جہاں کوئی نئی مسجد تعمیر ہو رہی ہو وہاں خواتین کے لیے الگ سے جگہ رکھی جائے. اگر خواتین بھی خطبہ جمعہ پابندی سے سنیں گی تو اس کے معاشرے پر بہترین مثبت اثرات پڑیں گے.

رابط: 9906653927

تبصرے بند ہیں۔