مذہبی مضامینمعاشرہ اور ثقافت

شراب نوشی اور منشیات کے دینی اور دنیوی نقصانات 

اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کی تعلیم دی اور صالح معاشرہ کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنے کی ترغیب دی۔ حلال وحرام کی تمیز سکھائی، جائز وناجائز کے حدود بتائے، مفید ومضر کے فرق کو واضح کیا، اشیائے خورد ونوش میں  اچھے برے،  طیب وخبیث کو الگ الگ کرکے دکھایا۔جو چیزیں  انسان کی صحت ِ ظاہری و باطنی کے لئے خطرناک ہے ان کی حقیقتوں  کو اجاگر کیا، اور جن چیزوں  سے صرف ایک فرد تباہی کے دہانے پرنہیں  بلکہ پورا معاشرہ بربادی کے گڑھے میں  چلا جاتا ہے ان کو بھی بیان کیا۔کھانے پینے کی کن چیزوں  کا اثر اس کے جسم کے ساتھ روح پر پڑتا ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت کے خسارہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے اس کو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے۔اسلام نے انسانوں  کو دین و دنیا کی زندگی کے بہت بہترین اصول و آداب سے نوازا ہے۔ اور کسی بھی موقع پر بے لگام نہیں  چھوڑا بلکہ پاکیزہ وپیاری تعلیمات کا ایک حسین گلدستہ عنایت کیا اور رہنمائی سے روشن راستہ دکھایا۔ایک مسلمان بلکہ ایک عام انسان بھی کھانے پینے کی چیزوں  کے بارے میں  اسلامی ہدایات اور نبوی ﷺ تعلیمات پر عمل پیرا ہوگا تو یقینا اس کی دنیا وآخرت سنور جائے گی۔

اسلام نے بڑی تاکید کے ساتھ منشیات اور شراب نوشی سے روکا اور اس کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے۔ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال انسان کے لئے دین ودنیا دونوں  اعتبار سے بہت ہی نقصان دہ اور ہلاکت خیز ہے۔ اسلام نے پاکیزہ معاشرہ کا جو تصور پیش کیا ہے اگر اس کو روبہ عمل لانا ہوتو پھر منشیات سے معاشرہ کو پاک کرنا ہوگا، ظلم وجور، بغض وعداوت، قتل وغارت گری، لوٹ کھسوٹ، چوری وڈکیتی، زناکاری وفحاشی، بے غیرتی وبدتہذیبی کا اگرخاتمہ کرنا ہے تو یقینا شراب نوشی ومنشیات سے افراد کو بچانااور علاقوں  کو محفوظ کرنا لازمی ہوگا۔چوں  کہ شراب ہی سارے فساد کی جڑ اور تمام تر گناہوں  کی بنیاد ہے۔نشہ کی وجہ سے بندہ بہت سار ی خرابیوں  میں  مبتلا ہوتا ہے اور غلطیوں  کا ارتکاب کرتا ہے۔تو آئیے ایک مختصرنظر شراب ومنشیات کے استعمال کے نقصانات پر ڈالتے ہیں،  تاکہ مقدور بھر اس کی کوشش کی جاسکے کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارے افراد اس لعنت سے محفوظ رہ سکیں۔

شراب نوشی زمانہ ٔ جاہلیت میں

اسلام سے قبل دنیاجہاں  بہت سی خرابیوں  اور تاریکیوں  میں  ڈوبی ہوئی تھی وہیں  شراب نوشی اور نشہ بازی میں  بھی غرق تھی،  لیکن اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ ہی نشہ کی چیزوں  کی مذمت اور قباحت کو بیان کرتے ہوئے ا س سے انسانوں  کو بچایا۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں  شراب نوشی جس کثرت سے کی جاتی تھی اس کو بیان کرتے ہوئے مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ نے لکھا ہے :اخلاقی اعتبار سے ان کے اندر بہت سی بیماریاں  اور امراض گھرکئے ہوئے تھے،  اور اس کے اسباب واضح ہیں ،  شراب عام طور سے پی جاتی تھی اور ان کی گھٹی میں  پڑی ہوئی تھی،  اس کا تذکرہ ان کی ادبیات اور شاعری کی بہت بڑی جگہ کو گھیرے ہوئے ہے۔عربی زبان میں  اس کے نام جس کثرت سے ہیں  اور ناموں  میں  جن باریک فرقوں  اور پہلوؤں  کا لحاظ کیا گیا ہے اس سے اس کی مقبولیت وعمومیت کا اندازہ ہوسکتا ہے،  شراب کی دکانیں  برسرِ راہ تھیں اور علامت کے طور پر ان پھریرا لہراتا۔( انسانی دنیا پر مسلمانوں  کے عروج وزوال کا اثر:59)

جب اسلام کی سنہری تعلیمات آئیں ،  اور جینے کے قرینے سے آگاہ کیا گیا،  شراب کی مختلف حیثیتوں  سے مذمت کی گئی،  اس کے نقصانات کو بیان کیا گیا، اس کے ناپاک اور حرام ہونے کا حکم نازل ہواتو پھر کایا ایسی پلٹی کہ کل تک جو شراب کے عادی تھے انہی لوگوں  نے اپنے ہاتھوں  سے شراب کے جام توڑے، شراب کو پانی کی طرح نالیوں  میں  بہادیا اور حکم ِ الہی کے آگے سرِ تسلیم کرتے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو قبول کرتے ہوئے دنیا والوں  کے سامنے ایک مثال قائم کی۔ بقول حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ؒ :آں  حضرت ﷺ کے منادی نے جب مدینہ کی گلیوں  میں  یہ آواز دی کہ اب شراب حرام کردی گئی ہے تو جس کے ہاتھ میں  جو برتن شراب کا تھا اس کو وہیں  پھینک دیا،  جس کے پاس کوئی سبو یا خم شراب کا تھا اس کو باہر لاکر توڑدیا۔۔۔مدینہ میں اس روزاس طرح بہہ رہی تھی جیسے بارش کی رَوکا پانی،  اور مدینہ کی گلیوں  میں  عرصہ ٔ دراز تک یہ حالت رہی کہ جب بارش ہوتی تو شراب کی بو اور رنگ مٹی میں  نکھر آتاتھا۔( معارف القرآن :1/525)

 شراب شیطانی عمل ہے

قرآن کریم میں  شراب نوشی کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے اورکہا گیا ہے کہ شیطان اس شراب ہی کے ذریعہ دشمنیاں  اور عداوت کو پیداکرتاہے اور اللہ کی یاد سے غافل کرتا ہے۔چناں  چہ ارشاد ہے:یایہا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب رجس من عمل الشیطن فاجتنبواہ لعلکم تفلحون۔انمایرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون۔( المائدۃ:91)’’اے ایمان والو!شراب،  جوا، بتوں  کے تھان اورجوے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں،  لہذاان سے بچو، تاکہ تمہیں  فلاح حاصل ہو، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی کے بیچ ڈال دے، اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، اب بتاؤ کیا تم ( ان چیزوں  سے ) باز آجاؤگے؟‘‘اس آیت ِ کریمہ میں  اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کو تاکید کے ساتھ بیان کیااور اس کے نہایت قبیح ہونے کو بھی ذکر کیا ہے۔( روح المعانی:7/17بیروت)

ہر نشہ آور چیز حرام ہے

نشہ آور چیزوں  میں  سب سے پہلا درجہ شراب کا ہے جس کی حرمت کو اللہ تعالی نے بیان فرمایا۔نبی کریمﷺ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ شراب کے ساتھ ہر وہ چیز اور مشروب بھی حرام ہے جو نشہ لانے والا ہے۔ چناں  چہ آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے:حرم اللہ الخمر، وکل مسکر حرام۔( نسائی:5633)’’اللہ نے شراب کو حرام قراردیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘اسی طرح آپﷺ کا ایک ارشاد ہے:کل شراب اسکر، فھوحرام۔(بخاری:۲۳۷)’’ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے تو وہ حرام ہے۔‘‘ایک ارشاد میں  فرمایا:کل مسکر خمر، وکل خمر حرام۔( مسند احمد:4506)’’ہر نشہ والی چیزشراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘نشہ آور چیز چاہے کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں  اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ارشاد مبارک ہے:مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام۔( ترمذی:1784)’’جوچیز زیادہ مقدار میں  نشہ پیدا کرے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔‘‘اس سلسلہ میں  اور بھی احادیث نبی کریمﷺ سے منقول ہیں  جس میں  آپﷺ نے صاف فرمایا کہ نشہ آور چیز تھوڑی ہو یا زیادہ بہر صورت اس کااستعمال کرنا ناجائز اور حرام ہوگا۔

شراب نوشی کے دینی نقصانات

جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے،  چاہے وہ شراب ہو یا شراب کی طرح نشہ پیداکرنے والی ہو تو اب یہ دیکھنا چاہیے کہ نشہ آورچیزکے استعمال کرنے کی وجہ سے بندہ کس قدر دینی نقصانات سے دوچار ہوتا ہے،  کیا پھٹکار اور لعنتیں  اس پر برستی ہیں  اور کس طرح کو خیر اور بھلائی سے محروم رہ جاتا ہے۔

شراب تمام خرابیوں کی جڑہے

 نبی کریمﷺ نے شراب کو تمام برائیوں  اور خرابیوں  کی کنجی اور جڑ قرار دیا ہے،  اس کے استعمال کرنے کی وجہ سے وہ برائیوں  کے دروازوں  کو کھول بیٹھتاہے اور گناہوں  ونافرمانیوں  میں  مبتلا ہوجاتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:لاتشرب الخمر، فانھا مفتاح کل شر۔( ابن ماجہ:337۰)’’کہ شراب نہ پینا،  کیوں  کہ وہ ہر شر کی کنجی ہے۔‘‘آپﷺ نے شراب کو ’’ام الفواحش‘‘ یعنی برائیوں  اور بے حیائیوں  کی ماں  قراردیا ہے۔ارشاد ہے:الخمر ام الفواحش اکبر الکبائرمن شربھا وقع علی امہ وعمتہ وخالتہ۔( دارقطنی:4052)’’کہ شراب فواحش کی ماں  ہے،  اور اکبر الکبائر( کبیرہ گناہوں  میں  بہت بڑا) ہے، جو اس کو پیتا ہے وہ اپنی ماں  اور پھوپھی اورخالہ کے ساتھ بھی بدکاری میں  مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:لاتشربن الخمر،  فانہ راس کل فاحشۃ۔( مسند احمد:21503)کہ تم ہر گز شراب نہ پینا،  اس لئے کہ یہ ہر برائی کی جڑہے۔‘‘

شراب نوشی کی وجہ سے محرومیاں

شراب نوشی کے دینی نقصانات بے شمار ہیں  اور حقیقت یہ ہے کہ بندہ جب خدا کے منع کرنے کے باوجود کسی چیز کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ عمل خود محرومی کا باعث ہوتا ہے او رجب ان چیزوں  میں  مصروف ہوجائے تو ہلاکت اور مردودیت میں  اضافہ ہی ہوگا۔آپ ﷺ نے شراب نوشی کی مختلف زاویوں  سے مذمت بیان کی اور مئے نوشی کی بناپر دینی اعتبارسے ایک مسلمان جس درجہ نقصان اٹھانے والا ہوتا ہے اس کو بہت ہی اہتمام کے ساتھ ذکر فرمایا،  چناں  چہ ان ارشادات میں  سے چند یہاں  ذکر کئے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا :من شرب الخمرثم لم یتب منھا،  حرمھا فی الاخرۃ۔( بخاری:5172)’’کہ جس نے دنیا میں  شراب پی، پھر ا س سے توبہ نہیں  کی، تو وہ آخرت کی شراب سے محروم کردیا گیا۔‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:مدمن الخمر کعابد وثن۔( ابن ماجہ:3374)’’کہ شراب کے عادی شخص کی مثال بت پرست کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ایک جگہ ارشاد فرمایا:لایدخل الجنۃ مدمن الخمر۔( ابن ماجہ:3375)’’کہ شراب پینے کاعادی جنت میں  داخل نہیں  ہوگا۔‘‘آپ ﷺ کا ایک ارشاد ہے کہ:الخمر ام الخبائث ومن شربھا لم یقبل اللہ منہ صلاۃ اربعین یومافان مات وھی فی بطنہ مات جاھلیۃ۔( دارقطنی:4050)’’کہ شراب خبائث کی جڑ ہے اور جس نے شراب کو پیا تو اللہ تعالی اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں  فرمایا، اور اگر کوئی شخص اس حال میں  مرگیا کہ شراب اس کے پیٹ میں  تھی تووہ جاہلیت کی موت مرا۔

شراب نوشی کے دنیوی نقصانات

شراب نوشی اور منشیا ت کے استعمال کی وجہ سے بندہ دینی اعتبار سے توبہت بڑا خسارہ اٹھانے والا ہوتاہی ہے،  اس کے اعمال قابل ِ قبول نہیں  ہوتے،  اور وہ بہت سارے گناہوں  میں  اس کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے۔اسی کے ساتھ شراب ومنشیات کے اثرات خود انسان کی زندگی اور اس کے ظاہر پر بھی بہت برُے پڑتے ہیں،  اور رفتہ رفتہ اس کی وجہ سے انسان قبر اور جہنم کے قریب ہوتا چلاجاتا ہے۔ شراب کو عربی میں  خمر کہتے ہیں ،  خمر کے معنی عقل کو ڈھانپ لینے کے ہے،  شراب نوشی کی وجہ سے انسان کی عقل پر غفلتوں  کے پردے پڑجاتے ہیں،  اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور انسان نہ اپنے حواس اور اعضا ء پر قابو رکھ پاتا ہے اور نہ ہی زبان وجسم کنٹرول میں  ہوتا ہے۔جو چاہے بکتا ہے اور جیسا چاہے کرتا ہے۔نہ زبان پاک رہتی ہے اور نہ ہی خیالات میں  طہارت ہوتی ہے،  نہ عادات و اطوارٹھیک ہوتے ہیں  اور نہ ہی فکر وعمل میں  درستگی ہوتی ہے،  اوررشتوں  کے تقدس کو بھی شرابی بھول جاتا ہے،  اسی وجہ سے معاشرہ میں  شراب نوش کو عزت کی نگاہوں  سے نہیں  دیکھا جاتا اور کوئی اس سے تعلق رکھنے کو پسند نہیں  کرتے،  شراب نوش نہ اچھا باپ بن سکتا ہے،  نہ اچھا بیٹا بن سکتا ہے،  نہ اچھا شوہر بن سکتا ہے،  نہ اچھا دوست بن سکتا ہے،  نہ معاشرہ کا اچھا فرد بن سکتا ہے اور نہ ہی اپنے پیداکرنے والے رب کا اچھا بندہ بن سکتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لا تشربوا مایسفہ احلامکم،  ومایذھب اموالکم۔(مصنف ابن ابی شیبہ :23288)’’کہ تم ایسی چیز نہ پیوجو تمہاری عقلوں  میں  فتور پیداکردے اور تمہارے مال کو ضائع کردے۔‘‘شراب نوشی و منشیات کے استعمال کی وجہ سے انسان قدر واحترام کے قابل بھی نہیں  رہتا اور جسمانی اعتبار سے بیماریوں  میں  لت پت ہوجاتا ہے،  اعضائے انسانی صحیح کام کرنا چھوڑدیتے ہیں اور ایک ڈھانچہ بن کر عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔ڈاکٹر برنٹ اپنی کتاب ’’علاج ومعالجہ کے چند مقامات‘‘جو 1971ء میں  لندن کے کنگ کالج سے شائع ہوئی ہے،  میں  لکھتے ہیں :’’وقتی طورپر سرور پیداکرنے والی شراب جیسی کسی اور چیز کو انسان دریافت نہیں  کرسکا، لیکن صحت کو تباہ کرنے کی جو تاثیر شراب میں  ہے کسی اور میں  نہیں  ہے۔خطرناک زہر اور بدترین سماجی شر ہونے میں  اس کا کوئی ثانی نہیں  ہے۔‘‘دماغی اور نفسیاتی شفاخانوں  کی رپوٹیں  بتاتی ہیں  کہ%۵۰ سے زیادہ امراض ایسے ہیں  جن کی توانائی وتندرستی اور صحت وقوت کو منشیات نے غارت کردیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت W.H.Oنے 80 ملکوں  کے احوال وکوائف کا جائزہ لے کر یہ بتایا کہ امریکہ،  برطانیہ، مغربی جرمنی، روس اور جاپان میں  نفسیاتی،  ذہنی اور اعصابی امراض میں  بیش ازبیش اور روز افزوں  افزائش کا واحد سبب نشے بازی ہے۔ماہرین اطباء نے منشیا ت سے پیدا ہونے والی مختلف نفسیاتی بیماریوں  کی نشاندہی کی ہے۔ منشیات سے متعلق تحقیق وریسرچ کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کے مطابق منشیات سے درج ذیل عوارض لاحق ہوتے ہیں۔ (1)قوت ِ حافظہ میں  22 فیصد کمی آجاتی ہے۔(2)حساسیت میں  92 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔(3)آدمی 80 فیصد اختلال کا شکار ہوجاتا ہے۔(4)61فیصد پریشانی اور بے چینی میں  اضافہ ہوجاتا ہے۔(۵) ۸۸ فیصدمنشیات کا عادی انسان سب سے الگ سوچ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔( مستفاد:ازمنشیات اور اسلام: 38)فسادِ معدہ،  خواہش ِ طعام کا فقدان،  اعضائے جسم کی ساخت میں  خرابی،  نشہ کے عادی لوگوں  کی شکلیں  جلد خراب ہوجاتی ہیں ،  آنکھیں  باہر نکل آتی ہیں،  رنگ ہیئت بدل جاتی ہے اور پیٹ بھاری ہوجاتا ہے۔بلکہ بعض جرمنی اطباء کا بیان ہے کہ چالیس سال کے نشہ کے عادی شخص کی ہیئت ساٹھ سال کے انسان کی سی ہوجاتی ہے، اور وہ جسم وعقل ہر اعتبار سے بڑھا ہوجاتا ہے۔(شراب اور نشہ آور اشیاء کی حرمت ومضرت :92)

لمحہ ٔ فکریہ:

    منشیات کے استعمال اور شراب نوشی کے دینی اور دنیوی نقصانات پر بہت اختصار کے ساتھ چند باتیں  پیش کی گئیں  ہیں ،  احادیث ِ رسول ﷺ میں  بڑی تاکید اور بہت اہتمام کے ساتھ نشہ آور چیزوں  کی مذمت اور قباحت کو بیان کیا گیا ہے اور اس لعنت کے سبب انسان دنیا وآخرت میں  کس نقصان سے دوچار ہوتا ہے اس کو بیان کیا گیا،  اسی طرح چند اقوال دنیوی خرابیوں  کے سلسلہ میں  ذکر کئے گئے،  باقی یہ ہے کہ اس وقت ماہرین اور اطباء کی جدیدتحقیقات اس سلسلہ میں  ہوش ربا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر صالح اور پاکیزہ معاشرہ تعمیر کرنا ہو اور انسانوں  میں  حیاواخلاق کے جوہر کو آراستہ کرنا اوران کو تہذیب سے مزین کرنا ہو تو لازمی طور پر منشیات اور شراب نوشی سے معاشرہ کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔اس کے بغیر پاکیزہ معاشرہ تشکیل نہیں  ہوپائے گا۔منشیات کے استعمال نے انسانی معاشرہ کو کھوکھلاکرکے رکھ دیا ہے۔ شراب کے دنیوی لحاظ سے کس درجہ نقصانات ہے اس سلسلہ میں  ایک جرمن ڈاکٹر کا یہ قول نہایت چشم کشا ہے کہ:’’تم شراب کی دوکانوں  میں  سے آدھی دوکانوں  کو بند کردو میں  تم کو آدھے شفاخانوں ،  پناگاہوں  اور جیل خانوں  سے مستغنی ہونے کی ضمانت لیتا ہوں۔ ‘‘اسی طرح ہمیں  یہ بھی نہیں  بھولنا چاہیے کہ ہمارے اندرون سے حرارتِ ایمانی کو سلب کرنے اور غیر ت ِ اسلامی کو نیست ونابودکرنے اور مسلم نوجوانوں  کو عیاش و دین بے زار بنانے کے لئے دشمنوں  نے شراب کو بھی بطور آلہ و ہتھیار کے استعمال کیا ہے۔ چناں  چہ ہنری فرنسی نے اپنی کتاب ’’خواطر اوسوانح فی االاسلام ‘‘ میں  لکھا ہے کہ:’’وہ تیز ہتھیار جس کے ذریعہ اہل ِ مشرق کو ختم کیا جاسکتا ہے اور وہ مؤثر تلوار جس کے ذریعہ مسلمانوں  کا صفا یاکرسکتے ہیں  وہ شراب ہے۔(نشہ آور چیزوں  کی حرمت ومضرت :99)اسی طرح ان کا یہ بھی یقین ہے کہ ’’شراب کا ایک جام اور مغنیہ کا ایک گانا وہ کام کرسکتے ہیں  جوبڑے بڑے توپ وبندوق سے ممکن نہیں  ہے۔‘‘

اس لئے ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معاشرہ کو منشیا ت کی لعنت سے پاک کریں،  اس کے نقصانات کو لوگوں  کے سامنے صاف اندازمیں  پیش کریں، نوجوانوں  کو بچائیں اور تباہی کے دلدل میں  پھنسنے سے ان کو روکیں،  بچوں  پر کڑی نظر رکھیں،  ان کی صحبت اور دوستی کا جائزہ لیتے رہیں،  منشیات کی قبیل کی تمام چیزوں  سے سختی کے ساتھ روکیں اوردینی ودنیوی،  ظاہری وباطنی،  روحانی وجسمانی نقصانات اور خطرات سے آگاہ کرتے رہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close