مذہبی مضامین

عید الفطر: اجتماعیت کا نقیب اور احتساب کا داعی

عید ا لفطر اور عید الاضحی جملہ انسانیت کے لیے مشترکہ جذبات و روایات کے مظہر ہیں۔

ڈاکٹرمحمد اسلم مبارک پوری

( جامعہ سلفیہ بنارس)

اسلام ایک جامع اور مکمل مذہب ہے، جو انسانی زندگی کے ہر گوشہ کا احاطہ کرتا ہے،اور ہر موقع پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں خوشی اور غم کے مواقع پر شرعی حدود متعین ہیں ۔ جہاں اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ کو ایک خاص رنگ میں ڈھالا ہے اسی طرح اس نے تیوہاروں کو بھی ایک نئی شکل دی ہے، جو دنیا کے دیگر مذاہب کے تہواروں سے مختلف ہیں ۔ اسلامی تہواروں میں تہوار کی سماجی اہمیت اور تہوارکے منانے کے طریقے، اور اس کی اخلاقی روح نمایاں ہے۔ عید ا لفطر اور عید الاضحی جملہ انسانیت کے لیے مشترکہ جذبات و روایات کے مظہر ہیں۔ اس لیے اسلام کی ان دونوں عیدوں میں اللہ کی عبادت اور اس کے بندوں کے ساتھ خیرخواہی اور ایثار و ہمدردی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

عیدالفطر اس اعلیٰ اور ارفع ماہِ عبادت (یعنی رمضان المبارک) کے اختتام پر منائی جاتی ہے جس میں انسان محض اللہ رب العالمین کے لیے روزہ رکھتا ہے۔ ذکرو اذکار کرتا ہے۔ تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتا ہے۔ زکاۃ و صدقات کرتا ہے۔ اسی ماہ مبارک میں قرآن جو دنیائے انسانیت کے لیے بصیرت اور لازوال ربانی قانون ہے، نازل ہوا ہے۔ { شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ } [ البقرۃ: آیت: ۱۸۵] ترجمہ : ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے۔ اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں، اس لیے عیدالفطر کا یہ مبارک دن مسلمانوں کے لیے پاکیزہ مسرت کا موقع‘ تہذیب و شائستگی کا تہوار‘ نہایت عزت و وقار اور فرحت و انبساط کا دن ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، وہ مختلف اقوام و ملل کے افراد تھے۔ مختلف تہواروں سے ان کی وابستگی تھی۔ کسی کا تہوار صرف کھیل کود تھا‘ تو کسی کا لطف و تفریح۔ کہیں مہذب تفریحات تھیں تو کہیں سنجیدہ مراسم اور مشترک جذبات کا اظہار تھا۔ غرضیکہ ان کے تہواروں کے الگ الگ طریقے اور الگ الگ انداز تھے۔

کتبِ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے جو عید منائی گئی وہ آدم علیہ السلام کی بارگاہ رب العزت میں توبہ کی قبولیت کے بعد منائی گئی۔ اور بعض روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہابیل وقابیل کی آپسی لڑائی کے بعد صلح ہونے پر فرحت و انبساط کا اظہار کیا گیا۔ اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی عیدمنائی جاتی تھی اور لوگ شہر سے دور جاکر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے تھے۔

اہل مصر اپنے دیوی دیوتائوں کی پیدائش کے دنوں میں عید مناتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم کو پروردگار عالم نے فرعون جیسے جابر و ظالم حاکم کے ظلم وستم سے نجات دی تو اس کے شکریہ میں ان کی قوم ’’روزہ‘‘ کا اہتمام کرتی تھی، جس دن کو عید کی طرح منایا جاتا تھا۔

یہودی ہر نئے چاند کی پہلی تاریخ کو عید کی طرح خوشی مناتے تھے۔ یروشلم کے معاہدے اور فتح کے دن کو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ قدیم یونان کے باشندگان فصل کاٹنے کے دن کو ’’خوشی کا دن‘‘ مقرر کرتے تھے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر پروردگار عالم نے ان کی قوم کے لیے ’’مائدہ‘‘ کا نزول فرما یا: {  قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکوُنُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ } [المائدۃ: ۱۱۴ ]

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما کہ وہ ہمارے لیے یعنی ہم میں جو اول ہیں اور جو بعد کے ہیں ، سب کے لیے ایک خوشی کی بات اور تیری طرف سے میری نبوت کی صداقت کی نشانی بن جائے۔ ہمیں رزق دے۔ تو بہترین رزق دینے والا ہے۔

آج عیسائیوں میں ۲۵دسمبرکوکرسمس ڈے ( عیسیٰ علیہ السلام کی یوم پیدائش ) کو عید کی طرح نہایت تزک واحتشام سے منایا جاتا ہے۔

ان تناظر میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر قوم و ملت میں عیدکا کسی نہ کسی طرح وجود ہے اور ان میں خوشی و مسرت کے اظہار کا کوئی نہ کوئی طریقہ رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام جو احسن الادیان ہے اور تاقیامت باقی رہنے والا دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور امت مسلمہ خیر امت ہے، ان کے یہاں عید کا کوئی تصور نہ ہو، ایسا ممکن نہیں ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فداہ ابی و امی محسنِ انسانیت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’إن لکل قوم عیداً، و ھذا عیدنا ‘‘  (بخاری: ۹۴۹، ۹۵۲، ۹۸۷، مسلم۶/۱۸۳-۱۸۴)

ہر قوم کی ایک عید ہے، اور یہ ہماری عید ہے۔

دوسری روایت میں ہے :  ’’ ھذا عیدنا أھل الإسلام ‘‘ (بخاری ۲/۴۷۴)

یہ عیدالفطر ہم اہل اسلام کی عید ہے۔

عید کا مطلب اور مفہوم:

قوموں کی تاریخ میں بعض دفعہ مذہبی، سیاسی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی یا اور کسی پہلو سے بعض ایسے ہمہ گیر اور انقلاب آفریں واقعات پیش آجاتے ہیں جو اپنی نوعیت اور اپنی اثر آفرینی کے لحاظ سے اس قوم کی اجتماعی زندگی کا اٹوٹ حصہ، اور اس کے قومی مزاج و کردار کا ایک اہم عنصر بن جاتے ہیں ۔ قوم ایسے واقعات کی یاد میں خوشی مناتی ہے، اور جشن کا اہتمام کرتی ہے۔ یہی جشنِ مسرت جس کا بار بار اہتمام کیا جاتا ہے عربی زبان میں ’’ عید‘‘ کہاجاتا ہے۔ اس اعتبار سے عید ہر وہ قومی اور ملی دن جس میں کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعہ کی یادگار منائی جائے۔

{ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکوُنُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ }  [المائدۃ: ۱۱۴]

ترجمہ:  عیسی بن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما کہ وہ ہمارے لیے یعنی: ہم میں جو اول ہیں ، اور جو بعد کے ہیں سب کے لیے ایک خوشی کی بات ہوجائے، اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے، اور ہم کو رزق عطا فرما، تو رزق عطا کرنے والوں میں سب سے اچھا ہے۔

’’عید ‘‘کے لفظ سے عرفِ عام میں یقینا یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ خوشی کا دن ہے، اورحقیقت بھی یہی ہے۔ اس زریں موقع پر انسان کے لیے مسرت و شادمانی کا اظہار کرنا دینی شعار ہے۔

’’عید‘‘ (ع و د) سے مشتق ہے۔ اس لفظ میں لوٹنے، پلٹنے اور بار بار آنے کا مفہوم شامل ہے۔ عادت بھی اسی مادہ سے ماخوذ ہے۔ جب انسان کسی کام کو بار بار کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کا عادی ہے۔

’’عید‘‘ کو عید اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ دن نئی نئی خوشیوں کے ساتھ ہر سال لوٹ کر آتا ہے۔

علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : عید کے دن ہر انسان اپنی قدرو منزلت، عزت و وقار کی بلندی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ مختلف ہیئت، عمدہ عمدہ لباس، اور نوع بنوع اشیاء خوردونوش اسی عزت و تکریم کے مظہر ہیں ۔ اس دن کچھ لوگ مہمان ہوتے ہیں تو کچھ میزبان، کچھ رحم کرتے ہیں تو کچھ رحم کیے جاتے ہیں۔

 تہوار، اتحاد و اجتماعیت کا نقیب اور احتساب کا داعی ہے:

اسلام کی مقرر کردہ عیدوں اور عبادتوں میں اتحاد و اجتماعیت کا نمایاں پہلو واضح ہوتا ہے۔ عید کے زریں موقع پر مختلف محلوں کے مسلمان ایک عیدگاہ میں جمع ہو کر ایک امام کی اقتدا میں نمازِ عید ادا کرتے ہیں ۔ اس اجتماع سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام کی آواز پر جس طرح ہم عید کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ، اسی طرح ہماری پوری زندگی اتحاد و اجتماعیت، تسلیم و اطاعت، اور اخوت و ہمدردی کا نمونہ ہونی چاہئے۔

اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ عید کے موقع پر مسرت و شادمانی کے ساتھ تہذیب و شائستگی اور سلیقہ مندی کا مظاہرہ کریں ، تاکہ قرب و جوار اور گردوپیش کے لوگ یہ سمجھ سکیں کہ اسلام انسانی فطرت کے ہم آہنگ، ایک پاکیزہ مذہب ہے اور مسلم قوم ایک سنجیدہ قوم ہے۔

تہـذیب و شائستگی، اور صفائی ستھرائی کو ہمارے مذہب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ حدیث شریف میں ہے: ’’ الطھور شطر الإیمان ‘‘  (مسلم ۳/۱۰۰)صفائی و ستھرائی نصف ایمان ہے۔

عید کا دن اجتماعیت کے ساتھ ساتھ احتساب کا بھی دن ہے۔ دنیا کی ہر قوم اپنے کاروبار اور اپنی تجارت کا حساب لگاتی ہے اور دیکھتی ہے کہ ہماری کاوش اور محنت کا ثمرہ کیا ہے؟ دنیا وی معاملہ میں سودوزیاں کا حساب اچھی علامت ہے۔ لیکن اس سے زیادہ ضروری اور بہتر یہ ہے کہ ہم اپنے اخروی معاملے کا حساب لگائیں اور کم از کم ہر سال عید کے زریں موقع پر اپنا جائزہ لیں ۔ اپنے گرد و نواح کا جائزہ لیں ۔ کیوں کہ ہم سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں ۔ اگر ہم محاسبہ کرکے اپنی اصلاح نہ کریں تو ہماری عید کی یہ مسرت حقیقی مسرت نہ ہوگی(روزہ اور عیدالفطر تربیتی نقطہ نظر سے، ص:۹۱-۹۲)

عید، خوشی اور مسرت کا دن:

عید خوشی، فرحت و مسرت اور کھانے پینے کے دن ہیں ۔ اس دن خوشی کا اظہار کرنا دینی شعار ہے۔ لہٰذا اس خوشی کے موقع پر کھانے کی دعوت دینا، رسم و رواج کے مطابق ایک دوسرے کے گھر جاکر کھانا درست ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ -رحمہ اللہ -فرماتے ہیں : إن جمع الناس علی الطعام في العیدین و أیام التشریق سنۃ۔ (مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ ۲۵/۲۹۸) عیدین اور ایام تشریق میں لوگوں کا کھانے کے لیے اکٹھا ہونا سنت ہے۔

نیز فرماتے ہیں :

وھو من شعائر الإسلام التی سنھا رسول اللہ ﷺ۔ (مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ ۲۵/۲۹۸)

یہ اسلامی شعائر میں سے ہے جس کو نبی ﷺنے مسلمانوں کے لیے سنت قرار دیا ہے۔

لیکن یہ حقیقی خوشی اور مسرت اس شخص کے لیے ہے جس نے ایمان اور احتساب اجر کے لیے ماہ صیام کا روزہ رکھا۔ قیام اللیل کیا۔ نماز تراویح پڑھی۔ قرآن پاک کی تلاوت کی۔ گناہوں سے توبہ کی۔ اور دعاء و اذکار‘ صدقہ و خیرات کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیا۔

 ایک شخص عید کے روز امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ خشک نان اور زیتون تناول فرمارہے ہیں ۔ اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین! عید کا دن اور یہ خشک روٹی؟ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص! عید اس کی نہیں جس نے نیا لباس پہنا۔ اور ثرید(عمدہ کھانا) کھایا،بلکہ عید تو اس شخص کی ہے جس کے روزے قبول ہوئے۔ جس کا قیام اللیل قبول ہوا۔ جس کے گناہ معاف کیے گئے، اور جس کی جدوجہد کی قدر کی گئی۔ یہی اصل عید ہے اور ہمارے لیے آج کا دن بھی عید ہے۔ کل کا دن بھی عید ہے، اور ہر ایسا دن جس میں ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں ، وہ ہمارے لیے عید ہے۔

  خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز-رحمہ اللہ- کا قول ہے:

لیس العید لمن لبس الجدید، ولکن العید لمن خاف یوم الوعید۔

عید اس کی نہیں جو عمدہ پوشاک زیب تن کر لے‘ بلکہ عید تو اس کی ہے جو قیامت کے دن سے خوف کھائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close