اُس نے کہا کہ لہجہ پہلے سنبھال اپنا

کاشف لاشاری

اُس نے کہا کہ لہجہ پہلے سنبھال اپنا

اور اپنے پاس رکھ تُو، اُلٹا سوال اپنا

…

اُس کو کہا یہ مَیں نے: میرا جواب تُم ہو

تُم فکر میری چھوڑو، رکھّو خیال اپنا

…

آنکھیں ترس گئی ہیں، جانے کہاں ہے دلبر

دیکھا ہے مدّتوں سے، ہم نے زوال اپنا

…

زندہ ہیں جی رہے ہیں، تیرے بغیر بھی ہم

اِس سے بھی بڑھ کے ہوگا، پھر کیا کمال اپنا؟

…

اِک رات دیر سے ہی، لَوٹ آئے گھر کو جب ہم

غصّے سے کوئی بولا: دیکھیں تو حال اپنا !

…

مُجھ میں وجود میرا موجود ہی نہیں ہے

کچھ بھی نہیں ہے اپنا، بس ہے وبال اپنا

…

مَیں نے ترے سبھی غم، کاشف!سنبھال رکھّے

تُو بس سنبھال کر رکھ، حسن و جمال اپنا

تبصرے بند ہیں۔