افسانوں کامجموعہ’عید گاہ سے واپسی‘‘پر مذاکرہ

 دہلی2؍ ستمبر2016ء

        ’’ اسلم جمشیدپوری1980 میں ابھرنے والے افسانہ نگاروں میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ اسلم جمشید پوری نے اردو فکشن کی تشکیک آلود فضا میں اپنی راہ خود متعین کی اور اردو کے صالح افسانوی ادب سے اپنا رشتہ استوار کیا، یعنی ایک طرف حقیقت پسندی کی اہمیت کو سمجھا اوردوسری طرف فکشن میں شفاف بیانیہ کی ضرورت کا ادراک کیا۔ ‘‘ یہ الفاظ معروف افسانہ نگار،ناقد اور عالمی افسانہ فورم کے بانی محترم ابرار مجیب کے تھے۔ وہ غالبؔ انسٹی ٹیوٹ، میں نئی نسل کے معروف افسانہ نگارو ناقد ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے افسانوں کامجموعہ’عید گاہ سے واپسی‘‘پر منعقدہ مذاکرہ میں اظہار خیال کر رہے تھے۔

         انہوں نے مزید کہا  ’’اسلم جمشید پوری کے افسانوں میں الجھائو ہے نہ وہ معروضی معلومات کی وضاحت کرتے ہیں۔ زندگی کی رنگا رنگی کو اصل شکل میں دکھانا ان کی خاصیت ہے۔ اسلم جمشیدپوری کا افسانہ عید گاہ سے واپسی ایک بڑے کینوس پر لکھا گیا ایسا افسانہ ہے جو سیاست اور تاریخ دونوں کے جبر پر سوالیہ نشان لگاتا نظر آتا ہے۔ ‘‘

        غالبؔ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کی جانب سے نئی نسل کے معروف افسانہ نگارو ناقد ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے افسانوی مجموعہ ’’عید گاہ سے واپسی ‘‘کے دوسرے ایڈیشن پر 6؍ بجے شام بمقام غالبؔ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے آڈیٹوریم میں ایک شاندار مذاکرہ کا اہتمام کیا گیاجس کی صدارت عہد حاضر کے معروف شاعرپروفیسرشہپر رسول (صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی )نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف افسانہ نگار جناب رتن سنگھ اور مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر ارتضیٰ کریم (ڈائریکٹر،قومی کونسل برائے فروغ اردو، زبان،نئی دہلی )نے شرکت کی۔ استقبالیہ ڈاکٹر رضا حیدر( ڈائریکٹر،غالبؔ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی)،نظامت محترم معین شاداب اور شکریے کی رسم ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ادا کی۔

        استقبالیہ اور پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر رضا حیدر نے کہا کہ شام شہرِ یاراں ، اب خاصا مقبول پروگرام ہو گیا ہے ،اس کی مقبولیت  ہندوستان ہی نہیں بین الاقوامی ہو گئی ہے۔ اس میں ہونے والے مذاکرے اب عوامی دلچسپی کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ آج اسلم جمشید پوری کے تازہ افسانوی مجموعے ’’ عید گاہ سے واپسی‘‘ پر مذاکرہ ہے۔ اسلم جمشید پوری نئی نسل کے منفردافسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانے روایت کی توسیع بھی ہیں اور اردو افسانے کا نیا منظر نامہ بھی۔

        مہمان ِ خصوصی معروف افسانہ نگار رتن سنگھ نے کہا کہ آج نئی نسل کہاں ہے؟ افسانوں کی محفل میں مجھے نئے لکھنے والوں کی تلاش ہوتی ہے۔ نگار عظیم ، ا سلم جمشید پوری کے بعد کی نسل کہاں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب افسانے کے لئے ہم نوجوانوں میں جنون ہوتا تھا۔ میں ریڈیو اسٹیشن میں ڈائریکٹر کے عہدے تک صرف افسانہ نگاری نے ہی پہنچایا۔

اسلم جمشید پوری کی کہانیاں ہمارے آس پاس کی کہانیاں ہیں جو ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ ان کو میں دو سال بعد مبارکباد دوں گا جب ان کا اگلا مجموعہ منظر عام پر آئے گا۔

        مہمان ذی وقار پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اسلم جمشید پوری کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ مذاکرہ معروف فکشن نگار کی موجودگی میں تاریخی اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔ اسلم نے کئی اچھے افسانے لکھے ہیں ،لیکن ابھی انہوں نے وہ کہانی نہیں لکھی ہے جس کے لیے خدا نے انہیں افسانہ نگاری عطا کی ہے۔

         صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پرو فیسر شہپر رسول نے کہا کہ اسلم جمشید پوری کی افسانہ نگاری، ’’افق کی مسکراہٹ‘‘  سے’’ عید گاہ سے واپسی‘‘ تک فنی پختگی کا سفر ہے۔ یوں تو مجمو عے کی کئی کہانیوں پر گفتگو ہونی چاہئے، لیکن  خاص کر عید گاہ سے واپسی کی بات کی جائے تو اس میں شک نہیں کہ اسلم نے آج کے منظر نامے میں ایک شاندار افسانہ قلم بند کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس افسانے پر خاصی بحث ہو چکی ہے،پھر بھی بحث کے مزید امکانات ہیں۔ دراصل یہ متن کی توسیع نہیں ہے بلکہ کردار اور مناظر کی تو سیع ہے۔ اسلم جمشید پوری نے عید گاہ سے واپسی لکھ کر قابلِ تحسین کام کیا ہے۔

        اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ اسلم جمشید پوری کی کہانیاں حقیقی کہانیاں ہیں۔ یہ روزمرہ کے فسانے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ کبھی ہنساتی ہیں ،تو کبھی رلاتی ہیں۔ کبھی ہمیں غم و اندوہ میں ڈبوتی ہیں تو کبھی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ کا سبب بنتی ہیں۔ انہوں نے اسلم جمشید پوری کے کئی افسانوں بدلتا ہے رنگ آسماں ، پانی اور پیاس،عید گاہ سے واپسی وغیر ہ پر بھر پور تجزیہ کیا۔ اور اپنے موضوع پر لکھی گئی بہترین کہانیاں قرار دیا۔ پانی اور پیاس  کے موضوع پر مین اتنی اچھی کہانی اردو میں نہیں پڑھی۔ عید گاہ سے واپسی بھی اپنے موضوع اور اندازِ تحریر میں بے نظیر ہے۔ یہ کہانی دراصل ترقی پسندی کے مینو فیسٹو کی توسیع ہے۔

        انجم عثمانی نے کہا کہ عید گاہ سے واپسی، میں کچھ اچھے افسانے ہیں ،کچھ بہت اچھے اور کچھ غیر معمولی افسانے ہیں۔ ہر افسانے پر خاصی طویل گفتگو ہو سکتی ہے۔ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو جوہری بھی ہے اور جوہر بناتا بھی ہے۔ ان کے افسانوں کے کئی کردار حامد، جفرو،شادمانی بیگم ،لینڈرا  شبراتی یاد رہ جانے والے کردار ہیں۔

        پروفیسر کو ثر مظہری نے اپنے منفرد اندز میں کہا کہ اسلم جمشید پوری اب افسانہ نگاری کی باریکیوں سے نہ صرف واقف ہو گئے ہیں بلکہ ان کا بہتر استعمال بھی کرنے لگے ہیں۔ ان کے اندر بھر پور ارتقائی عناصر موجوود ہیں۔ اس سے قبل بھی انہوں نے لینڈرا اور دیگر بہتر کہانیاں تحریر کی ہیں۔ عید گاہ سے واپسی  reconstruction  کی کہا نی نہیں ہے بلکہ پریم چند کی توسیع ہے۔ بڑے قلم کار کی تخلیق کی توسیع آسان نہیں۔ یہ وقت طے کرے گا یا اسلم خود بتائیں کہ کیا وہ اس سے مطمئن ہیں۔ اسلم جمشید پوری سے توقع ہے کہ وہ مزید بہتر افسانے اردو کو دیں گے۔

        ڈاکٹر ابو بکر عباد نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کئی کہانیوں پر بھر پور روشنی ڈالی۔ انہون نے ’’ لمبا آدمی‘‘ کا خصوصی طور پر ذکر کیا کہ یہ ایک منفرد موضوع پر تحریر کردہ عمدہ کہانی ہے۔ ،ڈاکٹر آصف علی کہانی ’’ راستہ ‘‘ کا تجزیہ پیش کر تے ہوئے کہاکہ انسان کی حرص وطمع کو عمدگی سے اس کہانی میں برتا گیا ہے۔ جناب ذاکر فیضی  نے اسلم جمشید پوری کی کہانیوں کو موجودہ عہد کی ترجمان بتایا۔

 ڈا کٹر شاداب علیم نے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا مختصر تعار ف پیش کرتے ہوئے ان کی ادبی،تعلیمی اور صحافتی خدمات کا احاطہ کیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر حنیف ترین، نصرت ظہیر ،عذرا نقوی ،ڈاکٹر عابد زیدی، ڈا کٹر نشا زیدی،ڈاکٹر علا ء الدین خاں ، ڈا کٹر نعیم صدیقی، ڈا کٹر شاہد حسنین، ڈا کٹرہاشم رضا، ڈا کٹر آمرین،ڈاکٹر اسلم قاسمی ،قاضی عقیل احمد، آفاق خاں ، محمد ریاض عادل،علی شیر سیفی،سید سبط ِحسن ،محمدمنتظر علیگ، عزنما پروین ،امجد خان ، شہلا نواب ،ذیشان احمد، نوازش مہدی، علیم اختر، سلمان عبد الصمد ،محمد تابش،ظہیر انور، سمیع خان،ارقم شجاع، اکرام بالیان، مختار صدیقی،محمد آصف، سائرہ اسلم، مدیحہ اسلم، شنا ور اسلم،شوقین علی،محمدسہیل، محمد عامر، افرا خاتون،ارشاد سیانوی، عامر نظیر ڈار،حشمت علی، شاداب علی، طا ہرہ پروین اور کثیر تعداد میں عمائدین شہر اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

تبصرے بند ہیں۔