مسیحائے قوم کے نام

مولانا محمد الیاس گھمن

انسان کے لیے اس کا اپنا جسم اللہ کی طرف سے عطا کردہ عظیم امانت ہے ، اس لیے حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم کو راحت پہنچانے،اسے تندرست رکھنے اور صحت مند بنانے کے لیے ان الفاظ میں تلقین فرمائی ہے : ان لجسدک علیک حق کہ تیرے اوپر اپنے جسم کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے اپنے جسم کو بیماریوں سے دور اور چاق و چوبند رکھنا جہاں طبی نقطہ نظر سے ضروری ہے وہاں اسلامی نقظہ نظر سے اس سے بڑھ کر ضروری ہے۔
یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ انسانی جسم کو علاقائی آب وہوا ،قدرتی وبائیں ، حفظانِ صحت کے اصولوں سے ہٹ کر غیر معیاری خوراک اورمضر صحت اشیاء سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے ا مراض لاحق ہوتے ہیں ، ان امراض کی صحیح تشخیص اور موثر علاج معالجے کے لیے علم طب و حکمت اور میڈیکل سائنس وجود میں آئے۔
اس میدان میں ڈاکٹرز اور اطباء نے ہر دور میں نت نئے علاج دریافت کیے،بالخصوص ماضی قریب میں لاعلاج ،جان لیوا اور مہلک بیماریوں کے جدید طریقہ علاج نے بہت سے مریضوں کو "نئی زندگیاں” بخشی ہیں،یوں یہ طبقہ بجا طور پر "انسانیت کا مسیحا ” کہلانے کاصحیح معنوں میں حقدار ہے۔
خدمت خلق کے سارے پہلو اپنی جگہ پر بہت اہمیت کے حامل ہیں،مثلاًبھوکوں کو کھانا کھلانا ، محتاجوں کو کپڑے پہنانا اور اپاہج ومعذور افراد کے کام میں ہاتھ بٹانا اور ضرورت مند کی حاجت پوری کرنا وغیرہ۔ لیکن ان سب سے زیادہ خدمت کا محتاج ایک مریض ہوتا ہے بسا اوقات اس کی بیماری اسے مقام پر پہنچادیتی ہے جہاں وہ بے بس ہو جاتا ہے کھانا موجود ہونے کے باوجود نہیں کھا سکتا ، کپڑے پہننے کے باوجوداس کاجسم اذیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ تب وہ ڈاکٹروں اور تیمارداروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ چونکہ عموماًایسے موقع پر مریض مایوسی کا شکاربہت جلد ہو جاتا ہے اس لیے شریعت نے بیمار پرسی اور تیمارداری کا حکم دیا ہے اور اس پر بہت اجر وثواب کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرمائی ہے آپ علیہ السلام کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا، اے ابن آدم میں مریض تھا تو نے میری تیمارداری کیوں نہ کی؟ بندہ عرض کرے گا :اے اللہ! میں آپ کی عیادت کیسے کرتا حالانکہ آپ رب العالمین ہیں ( یعنی آپ بیمار ہونے سے پاک ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا کہ میرا فلاں بندہ مریض تھا تو نے اس کی تیمارداری نہیں کی کیا تجھے پتہ نہیں کہ اگر تو اس کی تیمارداری کرتا تو مجھے اسی کے پاس پاتا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ نے حضرت ابو ہریرہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی مریض کی تیمارداری کے لیے جاتا ہے تو اللہ تعالی75000 فرشتوں کو مقرر فرماتے ہیں جو اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، (یہ تیمارداری کی غرض سے جانے والا شخص ) جب قدم زمین سے اٹھاتا ہے تو اس کے لیے نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جب قدم زمین پر رکھتا ہے تو اس کا گناہ مٹادیاجاتا ہے اور اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مریض کے پاس (تیمارداری) کے لیے جابیٹھتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس وقت تک اللہ کی رحمت میں ڈھکا رہتا ہے جب تک(مریض کی تیمارداری کر کے )واپس نہیں آجاتا۔
امام ابو داود رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے جائے تو اس کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کردیا جاتا ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ تیمارداری کرنے والا مریض کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا کرے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء عطاء فرماتے ہے: اَسئَلْ اللہَ العَظِیمَ رَبَّ العَرشِ العَظِیمِ اَن یَّشفِیکَ۔ اس کے علاوہ بھی دعائیں احادیث میں آئی ہیں۔
اس لیے ڈاکٹر( بشرط ایمان)ان سب اجر وثواب کا اس وقت حقدار ہوتا ہیجب وہ نیک نیتی اور خدمت خلق کے جذبے سے یہ امور سرانجام دے مریض کو تسلی کے کلمات کہناہی عیادت ہے جو کہ عبادت ہے اس کے بعد اس کے علاج معالجے کرنا مزید باعث اجر ہے۔ اگر خدانخواستہ ڈاکٹر مریض سے محض پیسے بٹورنے کے لیے کام کر رہا ہے تو وہ دھندا تو کہلایا جاسکتا ہے خدمت خلق کا نام دینا ناانصافی ہے۔
چونکہ یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے اوراسلام انسانیت سے مکمل ہمدردی کا نام ہے اس لیے شریعت نے اس بارے مکمل رہنمائی کی ہے۔اور ڈاکٹر کی ضرورت ، معیار ، ذمہ داریاں اور اس کی معاشرتی حیثیت کو اہمیت سے بیان کیا ہے۔چنانچہ سنن ابو دائود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے سوا ہربیماری کی دوا پیدا کی ہے۔
مفتاح السعادہ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصل علم دو ہی ہیں : علم فقہ ،تاکہ زندگی گذارنے کا آسان طریقہ معلوم ہو اورعلم طب تاکہ انسانی جسم بیماریوں سے محفوظ اور صحت مند رہے۔
شریعت جعلی ڈاکٹروں کو معاشرے میں برداشت نہیں کرتی اور پابندی لگانے کا حکم دیتی ہے چنانچہ سنن ابو دائود میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد موجود ہے کہ جو شخص علم طب کے بغیر کسی کا علاج کرے تو وہ ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہے۔
الفقہ الاسلامی و ادلتہ میں ہے کہ جعلی ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جو بیماری اور اس کی دوا کو سمجھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ، دوائوں کی تاثیر اور نقصان سے واقف نہ ہو ،جس کی دوائیں ری ایکشن کر جائیں اور مرض مزید بڑھ جائے اور اسے کنٹرول نہ کر سکتا ہو۔
فقہ اسلامی میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ جعلی ڈاکٹر کو فی الفور گرفتار کیا جائے ، سزا دی جائے اور ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس سے جرمانہ وصول کیا جائے اور اگر ا س کی تجویز کردہ دوائی سے مریض فوت ہوجائے تو اسے قصاصاً ختم کر دیا جائے۔
آج کل ہمارے ہسپتالوں میں ایسے ذمہ دار ڈاکٹروں کی کمی ہے ، مریض تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار جاتا ہے اور ڈاکٹرز صاحبان ہسپتال کے باہر سڑکوں پر اپنی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کے لیے احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔غریب اور متوسط طبقے کے لوگ منہ مانگی فیسوں اور مہنگی ادویات خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ یہاں سرکاری ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر صاحبان ان مریضوں کو اپنے پرائیوٹ کلینکوں کی راہ دکھلاتے ہیں جہاں ان سے منہ مانگی فیس وصول کرتے ہیں اور مفت ادویات کوان کے ہاتھوں مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ، ایک طرف مریضوں کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں جبکہ دوسری طرف ڈاکٹرصاحبان انتہائی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کا ثبوت دیتے ہوئے باہمی خوش گپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ غریب ، مسکین اور نادار افراد کو ہسپتالوں میں "شفا” کی بجائے زندگی سے "نجات” مل جاتی ہے۔
مریض اور ڈاکٹر کے درمیان حساس رشتہ ہوتا ہے اور یہ اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک اسے صیغہ راز میں رکھا جائے اور جب اس راز کو افشا کردیا جائے تو وہ غیر اخلاقی ،غیرمذہبی اورغیر انسانی ناقابل معافی جرم بن جاتا ہے اور یہ جرائم آئے دن بڑھ رہے ہیں ، نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ آپریشن تھیٹرز میں مریضوں کی نیم برہنہ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں اور ظلم بالائے ظلم یہ کہ اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایسا ایک واقعہ سرگودھا کے ہسپتال میں پیش آیا جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔
آپ خود سوچیے کہ جب حالات یہاں تک پہنچ جائیں تو بھلا ایک خاندانی اور شریف شخص کس طرح اپنی فیملی کو ہسپتالوں میں علاج کے لیے لائے گا۔ لوگ ہسپتال جانے کے بجائے مرجانے کو ترجیح دیں گے۔ اس لیے حکومت وقت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہسپتالوں کے نظام کا ازسر نو جائزہ لیں اور موجودہ خرابیوں کو دور کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرکے اسے نافذ العمل کریں ، ڈاکٹروں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا پابند کیا جائے ، ہسپتالوں میں مریضوں کی نگہداشت ، دیکھ بھال کا بلا امتیاز خیال رکھا جائے ، مہنگی ادویات پر سبسڈی کی سہولت دی جائے ، سستا اور معیاری علاج فراہم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر مریضوں کی پرائیویسی کو یقینی بنایا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔