انسانی معاشرے میں استاد اور تعلیم کی اہمیت 

سید رونق

(صدر مدرس، مرول اردو پرائمری اسکول)

کووڈ کے ماحول میں جس طرح بچے ٹیچر کی غیر موجودگی میں صرف ایک دوسرے کی تصویر دیکھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ بچے کسی طرح ذہنی طور پر کچھ کتابی اور نصابی علوم سے تو مستفید ہو سکتے ہیں لیکن بچوں کیلیے گھر سے اسکول تک کے سفر اور اسکول میں مختلف ذہن اور مزاج کے بچوں کے ساتھ مخلوط کلچر میں ہنسی مذاق شرارت  کھیل کود اور پھر اسکول کے ڈسپلن کے ماحول میں جو سبق ملتا ہے اور وہ ذہنی طور پر تازہ محسوس کرتے ہیں آن لائن تعلیم سے نہ صرف یہ کہ یہ ممکن نہیں ہے بلکہ بچوں کو موبائل اسکرین پر خطاب کر کے پڑھائی سے بیزار کرنے جیسا بھی ہے۔ اس کے علاوہ معلم کلاس میں بچوں کو پڑھاتے وقت کچھ قصے کہانیوں کے ذریعے بچوں کی جو تربیت کرتا ہے یا اس کے کتابی اور نصابی سبق کو واضح  کرنے کیلیے کچھ تفریحی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو نہایت ضروری ہے۔ آن لائن تعلیم نے بچوں کو اس رومانس سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اسکول کے ماحول میں بچوں کو جو ادب  احترام اور ڈسپلن کا ماحول ملتا ہے یہ ساری باتیں بچہ کسی حد تک اسی گھر میں سیکھ پاتا ہے جہاں والدین تعلیم یافتہ ہوں۔ مگر والدین کتنے بھی تعلیم یافتہ ہوں وہ کسی حد تک تو اپنے بچوں کے ٹیچر ہوتے ہیں لیکن پیشہ ورانہ استاد نہیں ہوتے یہ صلاحیت کچھ خاص لوگوں میں قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے یا آجکل ٹیچر ٹرینگ کورسس کے ذریعے یہ صلاحیت پیدا کی جاتی ہے۔ ماضی قدیم میں یہ صلاحیت قدرتی طور پر سقراط ارسطو افلاطون اور حکیم لقمان میں تھی اور انہوں نے اپنی تعلیم سے معاشرے کو ایک رخ دیا یا وہ باتیں جو انسانیت کو نبوی تحریک سے حاصل ہوئی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہر نبی کو قدرت نے ایک صحیفہ اور کتاب دیا اور دنیا میں بھیجا گیا، اس طرح ہر نبی اپنی امت کا معلم تھا۔ قرآن میں بھی انبیاء علیہم السلام کیلیے آتا ہے کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا۔

تہذیب و تمدن اخلاق اور ترقی کی یہ عمارت جس پر دنیا کو ناز ہے یہ اسی استاد کی بدولت ہے جو کبھی سقراط اور ارسطو کے نام سے مشہور تھے۔ دنیا جسے سکندر اعظم کہتی ہے وہ ارسطو کا شاگرد تھا اور یہ ارسطو ہی تھا جس کے سامنے سکندر اعظم کا سر ہمیشہ ادب سے جھکا رہتا تھا۔ ہم جس یوروپ کی ترقی پر فخر کرتے ہیں اسی یوروپ کی عدالت کا ایک واقعہ ہے کہ "ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ایک شخص وقت پر جرمانہ نہیں بھر سکا تو اسے عدالت میں حاضر ہونا پڑا۔ جج نے پوچھا کہ کیا آپ وجہ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے وقت پر چلان کیوں نہیں بھرا جس کی وجہ سے آپ پر مزید جرمانہ کیوں نہ بڑھایا جاۓ ؟ اس شخص نے کہا میں ایک پروفیسر ہوں اور اکثر مصروف رہتا ہوں اس لیے میں وقت پر چلان نہیں بھر سکا۔ یہ سنتے ہی جج نے کہا The teacher is in the court

اور پھر جج سمیت کمرہ عدالت میں بیٹھے ہوۓ سبھی لوگ اس پروفیسر کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جہاں لوگ اپنے بڑوں اور ٹیچروں کا احترام ہوتا ہے۔ سکندر اعظم اور اقبال وہی ہوتا ہے جو اپنے استاد کو خود سے زیادہ مرتبہ دے۔ معلم کی اہمیت کیا ہوتی ہے علامہ اقبال کے ایک واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نےیہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔ ’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔

’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے…؟‘‘

یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔

’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے‘‘

 یہ سن کر انگریز گورنر نے حضرت علامہ اقبالؒ کی بات مان لی اور اْن کے کہنے پر مولوی میر حسن ؒ کو’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اقبال کہتے ہیں کہ

حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے 

جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا 

 غرض کہ استاد وہ چاہے اس نے آپ کو کسی ایک فن سے ہی کیوں نہ واقف کرایا ہو فنکار اس فن سے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہوجاۓ وہ اپنے استاد کی عظمت کو نہیں چھو سکتا۔ دنیاۓ انسانیت کو نئی جہت دینے والے مسلمانوں کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ مجھے تمہارے پاس معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ایک بار کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کو امیرالمومنین اگر آپ خلیفہ نہ ہوتے تو آپ کی حسرت کیا ہوتی۔ عمر نے کہا "کاش میں معلم ہوتا "۔۔!

تبصرے بند ہیں۔