غریب طلبہ کو ٹیکنالوجی میں ماہر بناتا ایک گمنام ہیرو

متھیلا نائک

(مہاراشٹر)

سنیش کلکرنی مجھے صبح دس بجے ٹھانے واقع اپنے ڈیجیٹل سینٹر پر بلاتے ہیں، بغیر مجھے یہ سیاق و سباق بتائے کہ ہم دن بھر کے لیے کہاں جا رہے ہیں، وہ اسے ”آن فیلڈ“ کہتے ہیں۔ مکمل انکشاف، فیلڈ ورک ہمیشہ میرا سناشا راستہ رہا ہے۔ لہذا میں خوشی سے اتفاق کر لیتی ہوں!ہم ایک رکشے پر سوار ہوئے تب سنیش نے بتایا کہ ہم کلیان، ویٹھل واڑی جا رہے ہیں – جو ٹھانے سے تقریباً ایک گھنٹے کی دوری پر ہے۔ راستے میں انھوں نے مجھے اس بات کا پس منظر بتایا کہ کس طرح گڈو* (تبدیل شدہ نام) کی کہانی ان کی کامیابی کی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ گڈو سنیش کا ابتدائی دنوں کا طالب علم ہے جو ڈیجیٹل اسکل ٹریننگ پروگرام کا حصہ تھا۔ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سنیش فخر سے جھوم اٹھتے ہیں۔ سنیش بتاتے ہیں ”وہ یوٹیوب پر میوزک ویڈیوز دیکھنے میں بہت زیادہ وقت صرف کرتا تھا – ہماری ٹیم نے بصری میڈیم کی طرف اس کا اس قدر جھکاؤ دیکھ کر اسے ایڈیٹنگ سکھائی۔ ٹریننگ کے چھ ماہ بعد اس نے اپنا پہلا ریپ میوزک ویڈیو ایڈٹ کیا اور اب یہ یوٹیوب پر موجود ہے!“

 گڈو نے یہ ہنر 12 ماہ کے اس تربیتی کورس میں سیکھے جسے سنیش نے ڈیزائن کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں ”ہم نے ٹیکنیکل ٹریننگ کے ساتھ اس کی شروعات کی،“ہمیں جلد ہی احساس ہوا کہ ہمیں ذہنی صحت کے سیشنز اور ورکشاپس کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہمارے کورس میں ایڈیٹنگ بھی شامل تھی، اس لیے ہم نے بچوں کو دیکھنے اور سیکھنے کے لیے فلم کی اسکریننگ شامل کی۔“ ممبئی کا مشہور ادارہ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے گولڈ میڈلسٹ اورسابق طالب علم سنیش نے مٹھی بھر ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایڈوکیٹنگ یوتھ ایٹ رسک تھرو نرچرنگ اینڈ سپورٹ ہب فاؤنڈیشن، تشکیل دیا تھا، جو پسماندہ نوجوانوں کو روزی روٹی کے مختلف مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ہی انھیں تعلیم دینے اور بااختیار بنانے کے لیے ایک فل پروف ایکشن پلان ہے۔

ابتدائی دنوں سے ہی سنیش ایسے نوجوانوں کی مدد کرنا چاہتے تھے جو استحقاق سے محروم ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قانون سے متصادم بچوں کے تئیں ان کی ہمدردی اس خیال سے پیدا ہوئی،“۔وہ کہتے ہیں کہ ”میں بہت خوش قسمت ہوں کہ جب میں زندگی کے چوراہے پر کھڑا تھا، مجھے صحیح لوگ ملے۔میری بڑی بہن نشیتا اور میرے اسکول کے اساتذہ۔ جنہوں نے مجھے صحیح راستے کی طرف بڑھایا اور غلط کاموں سے دور رکھا۔ نہیں تو مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں کہاں ہوتا؟ میں ایک پرجوش طالب علم تھا، لیکن میرے اندر کی شمع  ابھی تک روشن نہیں ہوئی تھی۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہمیں کوئی راہ دیکھانے والا تھا۔لیکن یہ بچے جو پسماندہ پس منظر سے آتے ہیں ایسا نہیں کرپاتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں، خیال ایک مساوی معاشرہ تشکیل دینا تھا جہاں خطرے میں پڑنے والے تمام نوجوانوں کو کام پر مبنی تعلیم اور تربیت کے قابل بنایا جائے جو انہیں ملاز متو ں، خود روزگار یا حتیٰ کہ کاروبار کے لیے بھی تیار کرے۔آیانش کا ہنر پر مبنی تربیتی ماڈل سنیش کے پسماندہ نوجوانوں کی ترقی اور ان کے لیے روزی روٹی کا راستہ بنانے کے پختہ عزم سے پیدا ہوا ہے۔

جب ہم ویٹھل واڑی کی تنگ گلیوں میں چل رہے تھے، سنیش نے مجھے بتاتا کہ یہ سب کیسے ہوا،”آیانش شروع کرنے سے پہلے، میں اور میری ٹیم نوجوانوں کو پینٹنگ، کارپینٹری، ہاؤس کیپنگ جیسی مختلف مہارتوں میں تربیت دینے کے لیے ایک پہل میں مصروف تھے۔“تاہم، بچوں کے ساتھ کافی وقت گزارنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ یہ نوجوان خواہش مند تھے اور نئی سافٹ ویئر ٹیکنالوجی سے متعلق کورسز کا مطالعہ کرنے کی طرف زیادہ مائل تھے۔میں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ سنیش کو ایسا کرنے کی ترغیب کس چیز سے ملی تو انھوں نے بتایا”میرا تعلیمی پس منظر ماس کمیونیکیشن میں ہے۔ لہذا میں نے طلباء کو گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، اور دیگر ڈیجیٹل سافٹ ویئر میں تربیت دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کی وجہ سے ہم نے جولائی 2018 میں ٹھانے میں اپنا پہلا ڈیجیٹل ٹریننگ سینٹر کھولا۔“

نصاب کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا”اسے انڈسٹری کی ضروریات کے لحاظ ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ طلباء کو کمپنی میں شامل ہونے سے پہلے تجربہ حاصل ہو۔ ہم اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ سافٹ ویئر ٹریننگ شروع کرنے سے پہلے ان طلباء کو بنیادی تربیت فراہم کی جائے جن کا کمپیوٹر یا انٹرنیٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔“مہارت کے ساتھ ساتھ، انہوں نے نوجوانوں کو انگریزی زبان بولنے اور پڑھنے کے لیے تیار کرنے کی اہمیت کو سمجھا۔”ہم نے ڈیجیٹل کورس کے دوران انہیں انگریزی زبان میں تربیت دینے کے لیے اپنی ٹیچنگ میں توسیع کی، اس سے طلباء کو ملازمت کے انٹرویو کے لیے کوچنگ کرتے ہوئے خوداعتمادی حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔“

آیانش کے پہلے بیچ میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے چھ طالب علم تھے اور گڈو ان میں سے ایک تھا۔ آج آیانش تقریباً 500 نوجوانوں کی زندگی کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ سنیش یہ ماننا پسند کرتے ہیں کہ فاؤنڈیشن اور اس کا کام ایک تحریک کی طرح ہے جس میں متحرک افراد رہنمائی کرتے ہیں اور اسے آگے بڑھنے میں مدد کرتے ہیں!  سنیش مزید کہتے ہیں،“ہم طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے کر پسماندہ اور مواقع کے درمیان کے فرق کو ختم کرنا جاری رکھیں گے۔ میں ایک ایسی لہر پیدا کرنا چاہتا ہوں جہاں گڈوجیسا نوجوان اپنے سے چھوٹے نوجوانوں کی خودرہنمائی کے قابل بن سکے۔

سماج میں تبدیلی لانے اور چھوٹے طبقہ کے نوجوانوں کی بہتر زندگی کے لیے کوشاں سنیش مستقبل میں بھی اپنا کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں ”ہم ہمیشہ اپنے نوجوانوں کا مستقبل نہیں بنا سکتے، لیکن ہم اپنے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے بنا سکتے ہیں“۔حقیقت میں سنیش جیسے لوگ عام انسان کے روپ میں رہتے ہوئے سماج میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔وہ سماج کے ایک ایسے گمنام ہیرو ہیں جو خاموشی سے ہر روز دوسروں کو ہیرو بنا رہے ہیں۔ (چرخہ فیچرس)

تبصرے بند ہیں۔