پرورش کا ابتدائی مرحلہ اور والدین کی ذمہ داریاں

معروف ماہر تعلیم سید تنویر احمد کا’البلاغ‘یوٹیوب چینل کو دیئے گئے ایک تحقیقی انٹرویو پر مبنی مضمون

سید تنویر احمد

(ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ،جماعت اسلامی ہند)

بچوں کی تربیت والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ناقص تربیت اور اس میں کوتاہی سے آنے والی نئی نسل کا مستقبل تباہ و برباد ہوسکتا ہے،  اس لیے والدین کوان کی تربیت اور نگہداشت کے تئیں بہت ہی حساس اور سنجیدہ  ہونے کی شدید ضرورت ہے ۔ عموماً بچوں کی تربیت کے سلسلے میں والدین میں اس وقت فعالیت آتی ہے جب بچہ اپنی توتلی زبان سے بولنے کی ابتدا کرتا ہے۔ یاد رکھیں،یہ کوشش اس وقت سے ہی شروع ہوجانی چاہیے جب والدین رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے ہوتے ہیں۔ رشتہ ازدواج انسانی فطرت کی آسودگی کا ایک صالح طریقہ ہے۔ اس سے انسان کو جہاں ایک طرف نفسیاتی آسودگی حاصل ہوتی ہے وہیں نسلوں کو آگے بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی میسر ہوتا ہے۔اس سے نظامِِ معاشرہ مستحکم ہوتا ہے اور نسل آگے بڑھتی ہے۔  بچے کی اچھی پرداخت و پرورش کرکے معاشرے کا ایک مثالی فرد بنانا والدین کی ذمہ داری ہے جس کے لیے ابتدائی ایام سے ہی نتیجہ خیز منصوبہ بندی ہونی چایئے۔اس منصوبہ بندی کا آغاز بچہ کا ماں کے پیٹ میں آنے سے پہلے ہی ہوجانا چاہیے۔ یعنی زوجین اول ملاقات کے وقت سے ہی ایک نیک، صالح اور معاشرے کا معیاری فردبننے والا بچہ پیدا ہونے کی خواہش کے ساتھ جب باہم ملیں تو صاف ستھرے ہوں، خوش اسلوبی سے ملیں، مسنون دعائیں پڑھیں، اس کے نتیجے میں اللہ جو تحفہ اولاد کی شکل میں عطا کرے گا وہ یقینا آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک  بنے گا۔اس لیے لازمی ہے کہ والدین خود رشتہ ازدواج میں بندھنے سے پہلے ہی بچوں کی تر بیت کے طور طریقے سیکھ لیں۔یہ تربیت مختلف طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے، لائبریریوں، بک اسٹالوں  میں موجود کتابوں اور نیٹ و دیگر مستند ذرائع سے۔ ذریعہ کوئی بھی ہو لیکن معلومات لازمی طور پر لے لینی چاہیے۔

بچوں کی تربیت کے سلسلے میںیہ نکتہ بھی بہت اہم ہے کہ جب ماں حاملہ ہوجاتی ہیں تو اسی وقت سے پیٹ میں پل رہے بچے پر ماں کے افکار و خیالات کے اثرات پڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ایک مخصوص مدت کے بعد بچہ خارجی ماحول سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ اس پر متعدد تجربات ہوئے ہیں۔ ایک تجربہ میں کچھ حاملہ عورتوں کو دوران حمل ایک مخصوص قسم کی موسیقی سنائی گئی۔ولادت کے بعد دیکھا گیا کہ بچہ اس مخصوص موسیقی سے اتنا مانوس ہوچکا تھا کہ جب اسے  وہی مخصوص موسیقی سنائی جاتی توبچہ آسودگی اور سکون محسوس کرتا اور جب کوئی دوسری موسیقی سنائی جاتیتووہ بے چینی محسوس کرنے لگتا۔ یہ بات بہت مشہور ہے کہ اسرائیل میں حاملہ خواتین کو تناؤ سے محفوظ رکھنے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ وہاں کی مائیں اپنے بچوں کی تربیت کا آغاز اس وقت سے ہی کردیتی ہیں جب وہ جنین کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس حالت میں ماؤں کو صاف ستھری فضا میں سانس لینے،  خوش رہنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔جب حمل کے تین ماہ گزر جاتے ہیں تو ماؤں کو ہر طرح کے ذہنی دباؤ سے دور رکھنے کے ساتھ اچھا لٹریچر پڑھنے کو دیا جاتا ہے اور انہیں آسان ریاضی (سمپل میتھمٹک پرابلم) حل کرنے کے لیے کہا جاتاہے۔ اس میں حکمت یہہے کہ آج دنیا میں ترقی کرنے کے لیے ریاضی مشق بہت ضروری ہے۔جب ماں ریاضی مشق کرتی ہیں تو ان کییہ صلاحیت بچے میں منتقل ہوتی ہے اورہ وہ بچہ بڑا ہوکر عبقری شخصیت کا مالک بنتا ہے۔آج کے دور میں اسرائیل بڑے بڑے سائنسداں پیدا کررہا ہے۔ظاہر ہے یہ جنین کی اچھی دیکھریکھ کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بھی حاملہ ماؤں کو جہری انداز میں تلاوت قرآن کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس مدت میں مائیں صدقات و خیرات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں۔ خوشگوار ماحول میں رہیں، اچھی باتیں سنیں۔نماز کی پابندی کریں۔نماز سے بچے کی نشو و نما پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ بچہ ماں کے عمل اور اطراف کے خارجی ماحول کے اثرات قبول کرتا ہے۔جب بچہ اپنی ماں سے قرآن کی تلاوت سنے گا تو اس کے اثرات اس پر پڑیں گے۔ وہ انہی چیزوں سے مانوس ہوگاجو ماں کے پیٹ میں سنا یا محسوس کیا ہوگا۔ماؤں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کی اہم شخصیتوں کی تربیت میں ان کے والدین کے طور طریقے اور ان کی گود میں پرورش پانے والی ہستیوں کے کمالات کا مطالعہ کریں۔یہ دیکھا گیا ہے کہ حمل کے دوران کچھ مائیں اپنا وقت موبائل پر لایعنی پروگرامس دیکھنے میں گزارتی ہیں۔موبائل پر عریاں مناظر دیکھنے، غیر اخلاقی مضامین پڑھنے اور نازیبا حرکات و سکنات سے گریز کریں۔آپ آنے والے ایک نئے مہمان کے استقبال کی تیاری میں ہیں،  لہٰذا کوئی ایسا عمل ہرگز نہ کریں جو اس کی تربیت کو منفی سمت میں لے جانے کا موجب بنے۔ بچوں کی معیاری تربیت کے لیے مائیں ٹریننگ لیں۔ان کی کونسلنگ ہونی چاہیے۔ گھر کے تمام افراد، خاص طور پر بزرگ خواتین کی ذمہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ آنے والے نئے مہمان کی تیاری کے لیے بچے کی ماں کو ہر اعتبار سے چست و چوبند رکھنے کی سعی کریں۔اس مدت میں زوجین کے باہمی تعلقات شیریں اور احترام پر مبنی ہونا زیادہ ضروری ہے۔ان کے حمل کو تمام اہل خانہ بالخصوص شوہر خصوصی اہمیت دیں۔ خاندان کے لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ایک نیا بچہ گھر میں آرہا ہے بلکہ بچے کی شکل میں اللہ کی جانب سے ایک نعمت آپ کو مل رہی ہے۔ اس عزم کے ساتھ اس کی تربیت کیجئے کہ وہ بچہ بڑا ہوکر عظیم کارنامہ انجام دے اور نوع انسان کے لیے قیمتی سرمایہ بنے۔غرض ابتدائی مرحلے کی تربیت پرخصوصی توجہ دے کر ایک نوزائیدہ کو مستقبل کا عبقری انسان بنایا جاسکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔