تحریک آزادی میں اتول چندر کمار کا اہم کردار

سومیاجیت ٹھاکر

(ناگپور)

 مجاہدین آزادی نے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی میں نیتا جی سبھاش چندر  بوس انقلابی شخصیات میں سے ایک تھے۔  اس مشن میں انھیں بہت سے ازادی کے لیے لڑنے والوں کی مدد حاصل ہوئی جن کا کردار بھی بیمثال تھا ۔ایسے ہی ہیں ایک آزادی کے لیے لڑنے والے تھے اتل چندر کمار ۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی کا پوتا سومیاجیت ٹھاکر ناگپور میں پروفیسرکی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ انہیں تحریک آزادی میں اپنے عظیم دادا کے کردار پر فخر ہے۔

  اتول بابو کی پیدائش 5 اپریل 1905 میں مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے اڈای ڈانگا گاؤں میں دینناتھ کمار اور  کاتیاینی دیوی کے گھر ہوا ۔  بچپن سے ہی ان میں قائدانہ خوبیاں دکھنے لگیں تھیں ۔  1921 میں انہوں نے مہاتما گاندھی کے”اسہیوگ آندولن” تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

  میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے بیرہم پور کے کرشناتھ کالج میں داخلہ لیا۔  یہاں انہوں نے ایک طلبہ تنظیم کا قیام کیا اور اس کے سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔  اس دوران انہوں نے سروجنی نائیڈو  اور چترنجن داس جیسے رہنماؤں کو طلباء میں حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے دعوت دی۔

  بیرہم پور میں ایک  میٹنگ کے دوران بنگال کے گورنر سٹینلی جیکسن نے  ہندوستان کے خلاف بیان دیے تھے اس کے جواب میں اتل بابو نے ان پر جوتا پھینکا ۔ جس کے سبب انہیں کالج سے بے دخل کردیا گیا اور انہیں اپنی وکالت کی تعلیم بنگباشی کالج کلکتہ سے  مکمل کرنا پڑی۔

اس کے بعد انہوں نے "آل بنگال اسٹوڈنٹس یونین” کے اسسٹنٹ سکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔   1928 میں اڈای ڈانگا کیمپس میں اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر "دینناتھ بھولا ناتھ ماڈل اکیڈمی پاٹھشالا ” کا قیام کیا۔  اڈای ڈانگا جیسے دور دراز علاقے میں جدید تعلیم کے پھیلاؤ میں ان کا یہ ایک قابل تحسین تعاون رہا۔ 1930 میں بنگال میں انہوں نے  "نمک ستیہ گرہ آندولن”  کی قیادت کی۔  اسلیے انہیں ایک سال کی قید ہوی۔  اس کے بعد انہوں نے "سائمن کمیشن” کے خلاف طلباء کی تحریک کی قیادت کی اور مالدہ ضلع کانگریس کمیٹی میں کام کرتے ہوئے "اسہیوگ آندولن” تحریک کی پھر سے قیادت کی۔  اس کے لیے انہیں کئی سال تک جیل میں رہنا پڑا اور 1936 میں انہوں رہائی ملی۔ اس قید کے دوران  انگریزوں نے انہیں نیتا جی اور ان کے ساتھیوں کے مقام اور منصوبے کو جاننے کے لیے انہیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا ۔ باوجود اس کے انہونے کچھ نہیں بتایا۔

   1937 سے 1946 تک انہوں نے بنگال میں ایم ایل اے کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1938-39 کے دوران انہوں نے نیتا جی کے  ہری پورہ اور تریپوری کانگریس اجلاسوں کے منصب کو یقینی بنایا۔ اگست 1938 میں انہوں نے نیتا جی کے ساتھ مل کر چین – جاپان جنگ کے دوران چین میں ایک طبی وفد بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔  یہ طبی مشن "بھارتیہ نیشنل کانگریس” کا چین کے عوام کے لیے حمایت کی علامت تھا۔ 1942-43 کے دوران انہوں نے اے۔ کے۔ فضل الحق اور خواجہ ناظم الدین کے کابینہ میں کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں ۔

   ہندوستان میں درس و تدریس کی فرقہ واریت یہ محمد علی جناح کا ناپاک ارادہ تھا۔  اتل بابو نے فضل الحق اور شرت چندر بوس کے ساتھ مل کر انکے منصوبوں کو کالعدم کردیا۔ اکتوبر 1943 میں نیتا جی نے برما مورچہ سے ایک جاپانی پن ڈوبی میں مدراس کے ٹی۔ کے۔ راؤ کے ہاتھوں تحریک آزادی کے لیے کچھ اہم دستاویزات اور معلومات  اتول بابو اور ان کے ساتھیوں کے لیے بھیجا ۔  لیکن ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی وجہ سے صرف اتول بابو ہی نیتا جی کی ہدایت پر عمل کر سکے اور نیتا جی کا وہ مشن کامیاب ہوا ۔1940 کی دہائی کے آخر میں نیتا جی ہندوستانی سیاست سے کنارہ کش ہوتے ہی انہوں نے  سماجی کاموں کی طرف رخ کر لیا ۔  سماجی شعبہ میں بھی اتل بابو نے نمایاں کردار ادا کیا ۔  وہ بنگال کے لوگوں سے بے حد پیار کرتے تھے اور  سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران انہوں نے لوگوں کی بہت مدد کی۔  کئی برسوں تک انہوں نے سالانہ سیلاب کے وقت مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر سیکڑوں افراد کی جان بچائیں۔  1950 کی دہائی کے آخر میں انہوں نے کانگریس چھوڑ کر سی راجگوپالاچاری کے "سواتنترا پارٹی” میں شامل ہوگئے۔  1955 میں دربھنگہ کے مہاراجہ کامیشور سنگھ کے کہنے پر  انہوں نے ‘متھیلا ان انڈیا’ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔  آچاریہ ونوبا بھاوے کے 1962 کے مالدہ کے دورے کے دوران انہوں نے ان کی میٹنگوں اور سرگرمیوں کو مربوط کیا۔  اپنی زندگی کے آخری سالوں میں انہوں نے کسانوں کو ظالم زمینداروں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور کسانوں کو انصاف فراہم کیا۔

 16 ستمبر 1967 کو ملک کے اس عظیم بیٹے نے کولکتہ میں آخری سانس لی۔  مغربی بنگال حکومت نے ان کی بے پناہ قربانیوں کے پیش نظر مالدہ میں واقع مکدم پور مارکیٹ کو ‘اتول مارکیٹ’ کے نام سے موسوم کیا۔  سومجیت اپنے دادا کے نظریات پر بھی عمل پیرا ہیں اور معاشرے میں نمایاں کارکردگی کے لیے کوشاں ہیں۔  ان کے پاس نیتاجی اور اتل بابو کے خطوط ، آڈیو ریکارڈ اور تصاویر کا ایک مجموعہ ہے جو انہوں نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔